WWW.PAKLIGHT-SHARING.COM

ASIA & PAKISTAN NO 1 DIGITAL SATELLITE NETWORK FORUM
It is currently January 23rd, 2017, 9:50 pm

All times are UTC + 5 hours



Advertisements

Telecom Updates

telecom news

jazz

Zong

Telenor

Ufone


DISHTVHD,SD SUNHD,SD DAILOGE BIGTVHD,SD 85E 56E,URDU1,HBO ALL EUROPEN PACKAGE 100% FULL OK CALL,0301 8331640


SHOKAT SUPER FAST SERVER DISHTV SUN DAILOGE 85E 56E URDU1 ALL EURPEN PAKAGE 100% OK CALL 03073088742&03463264573



Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page 1, 2, 3, 4, 5  Next
Author Message
PostPosted: February 22nd, 2016, 9:38 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

Advertisements

Telecom Updates

telecom news

jazz

Zong

Telenor

Ufone



';SALAM''';;;;; آپ کی وفات کے بعد آپ کے مقام دفن میں سخت اختلاف پیدا ہو گیا۔ ہر محلے والے حصولِ برکت کے لئے اپنے ہی محلہ میں دفن پر اصرار کرنے لگے۔ آخر اس بات پر سب کا اتفاق ہو گیا کہ آپ کو بیچ دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ دریا کا پانی آپ کی قبر منور کو چھوتا ہوا گزرے۔ اور تمام مصر والے آپ کے فیوض و برکات سے فیضیاب ہوتے رہیں۔ چنانچہ آپ کو سنگ مرمر کے صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کے بیچ میں دفن کیا گیا۔ یہاں تک کہ چار سو برس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ کے تابوت شریف کو دریا سے نکال کر آپ کے آباؤ اجداد کی قبروں کے پاس ملک شام میں دفن فرمایا۔ بوقت وفات آپ کی عمر شریف ایک سو بیس برس کی تھی اور آپ کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام نے ۱۴۷ برس کی عمر پائی۔ اور آپ کے دادا حضرت اسحٰق علیہ السلام کی عمر شریف ۱۸۰ سال کی ہوئی اور آپ کے پردادا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی عمر شریف ۱۷۵ سال کی ہوئی
(روح البیان،ج۴،ص۳۲۴، پ۱۳، یوسف:۱۰۰)

Advertisements

Telecom Updates

telecom news

jazz

Zong

Telenor

Ufone



_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: February 22nd, 2016, 3:56 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;; عتبہ بن ربیعہ جو قریش کا بڑا سردار مانا جاتا تھا، ایک دن قریش کی ایک جماعت کے ساتھ مسجد حرام میں بیٹھا ہوا تھا۔ دوسری طرف رسول اللہ صلی اللہ وسلم مسجد کے گوشہ میں اکیلے بیٹھے تھے۔ عتبہ نے اپنی قوم سے کہا کہ اگر آپ لوگوں کی رائے ہو تو میں محمد صلی اللہ وسلم سے گفتگو کروں اور ان کے سامنے کچھ ترغیب کی چیزیں پیش کروں کہ اگر وہ ان میں سے کسی کو قبول کرلیں تو ہم وہ چیزیں انہیں دیدیں تاکہ وہ ہمارے دین و مذہب کے خلاف تبلیغ کرنا چھوڑ دیں۔ یہ اس وقت کا واقعہ ہے جبکہ حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوچکے تھے اور مسلمانوں کی قوت روربروز بڑھ رہی تھی۔ عتبہ کی پوری قوم نے بیک زبان کہا کہ اے ابو الولید( یہ اس کی کنیت ہے) ضرور ایسا کریں اور ان سے گفتگو کرلیں۔
عتبہ اپنی جگہ سے اٹھ کر رسول اللہ صلی اللہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ گفتگو شروع کی کہ اے ہمارے بھتیجے آپ کو معلوم ہے کہ ہماری قوم قریش میں آپ کو ایک مقام بلند نسبت اور شرافت کا حاصل ہے۔ آپ کا خاندان وسیع اور ہم سب کے نزدیک مکرم و محترم ہے۔ مگر آپ نے قوم کو ایک بڑی مشکل میں پھنسا دیا ہے۔ آپ ایک ایسی دعوت لے کر آئے، جس نے ہماری جماعت میں تفرقہ ڈال دیا، ان کو بے وقوف بنایا، ان کے معبودوں پر ان کے دین پر عیب لگایا اور ان کے جو آباء و اجداد گزر چکے ہیں ان کو کافر قرار دیا۔ اس لیے آپ میری بات سنیں، میں چند چیزیں آپ کے سامنے پیش کرتا ہوں، تاکہ آپ ان میں سے کسی کو پسند کرلیں۔ رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے فرمایا۔ ابوالولید کہیئے جو کچھ آپ کو کہنا ہے، میں سنوں گا۔
عتبہ ابوالولید نے کہا کہ اے بھتیجے، آپ نے جو تحریک چلائی ہے اگر اس سے آپ کا مقصد مال جمع کرنا ہے تو ہم وعدہ کرتے ہیں کہ آپ کے لیے اتنا مال جمع کردیں گے کہ آپ ساری قوم سے زیادہ مالدار ہوجائیں۔ اور اگر مقصد اقتدار اور حکومت ہے تو ہم آپ کو سب قریش کا سردار تسلیم کر لیں گے اور آپ کے حکم کے بغیر کوئی کام نہ کریں گے۔ اور اگر آپ بادشاہت چاہتے ہیں تو ہم آپ کو اپنا بادشاہ تسلیم کرتے ہیں اور اگر یہ صورت ہے کہ آپ کے پاس آنے والا کوئی جن یا شیطان ہے جو آپ کو ان کاموں پر مجبور کرتا ہے اور آپ اس کو دفع کرنے سے عاجز ہیں تو ہم آپ کے لیے ایسے معالج بلوائیں گے جو آپ کو اس تکلیف سے نجات دلادیں اس کے لیے ہم اپنے اموال خرچ کریں گے کیونکہ ہم جانتے ہیں کہ بعض اوقات کوئی جن انسان پر غالب آجاتا ہے جس کا علاج کیا جاتا ہے۔ عتبہ یہ طویل تقریر کرتا رہا اور رسول اللہ صلی اللہ وسلم سنتے رہے۔
اس کے بعد فرمایا کہ ابوالولید آپ اپنی بات پوری کرچکے؟ اس نے کہا ہاں آپ نے فرمایا کہ اب میری بات سنیئے ۔ عتبہ نے کہا کہ بے شک میں سنوں گا۔
رسول اللہ صلی اللہ وسلم نے اپنی طرف سے کوئی جواب دینے کے بجائے سورہ فصلت کی تلاوت شروع فرما دی۔
تو عتبہ خاموشی کے ساتھ سننے لگا اور اپنے ہاتھوں کی پیٹھ پیچھے ٹیک لگا لی تاکہ غور سے سن سکے، یہاں تک کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس سورت کی آیت سجدہ پر پہنچ گئے اور آپ نے سجدہ کیا۔ پھر عتبہ کو خطاب کر کے فرمایا۔
اے ابو الولید۔تو نے سن لیا، جو کچھ سنا، اب تجھے اختیار ہے جو چاہو کرو۔ عتبہ آپ کی مجلس سے اٹھ کر اپنی مجلس کی طرف چلا تو یہ لوگ دور سے عتبہ کو دیکھ کر آپس میں کہنے لگے کہ خدا کی قسم ابوالولید کا چہرہ بدلا ہوا ہے۔ اب اس کا وہ چہرہ نہیں جس میں یہاں سے گئے تھے۔ جب عتبہ اپنی مجلس میں پہنچا تو لوگوں نے پوچھا کہو ابوالولید کیا خبر لائے۔ عتبہ ابوالولید نے کہا کہ میری خبر یہ ہے کہ
میں نے ایسا کلام سنا کہ خدا کی قسم اس سے پہلے کبھی ایسا کلام نہیں سنا تھا، خدا کی قسم نہ تو یہ جادو کا کلام ہے نہ شعر یا کاہنوں کا کلام ہے (جو وہ شیاطین سے حاصل کرتے ہیں)۔ اے میری قوم قریش تم میری بات مانو، اور اس معاملہ کو میرے حوالے کردو، میری رائے یہ ہے کہ تم لوگ ان کے مقابلہ اور ایذاء سے باز آجاؤ اور ان کو ان کے کام پر چھوڑ دو کیونکہ ان کے اس کلام کی ضرور ایک خاص شان ہونیوالی ہے۔ تم ابھی انتظار کرو، باقی عرب لوگوں نے ان کو شکست دیدی تو تمھارا مطلب بغیر تمھاری کسی کوشش کے حاصل ہوگیاا ور اگر وہ عرب پر غالب آگئے تو ان کی حکومت تمھاری حکومت ہوگی، ان کی عزت سے تمھاری عزت ہوگی اور اس وقت تم ان کی کامیابی کے شریک ہوگے۔
اس کے ساتھی قریشیوں نے جب اس کا یہ کلام سنا تو کہنے لگے کہ اے ابوالولید تم پر تو محمدﷺ نے اپنی زبان سے جادو کردیا ہے۔ عتبہ نے کہا کہ میری رائے تو یہی ہے جو کچھ کہہ چکا آگے تمھیں اختیار ہے جو چاہو کرو۔

( معارف القرآن جلد۷ صفحہ۶۲۷، سورۂ حٰم السجدہ: آیت۱)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: February 22nd, 2016, 4:07 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;; دو نوجوان سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کی محفل میں داخل ہوتے ہی محفل میں بیٹھے ایک شخص کے سامنے جا کر کھڑے ہو جاتے ہیں اور اسکی طرف انگلی کر کے کہتے ہیں یا عمر ؓ یہ ہے وہ شخص!

سیدنا عمر ؓ ان سے پوچھتے ہیں ، کیا کیا ہے اس شخص نے؟

یا امیر المؤمنین، اس نے ہمارے باپ کو قتل کیا ہے۔

کیا کہہ رہے ہو، اس نے تمہارے باپ کو قتل کیا ہے؟ سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔

سیدنا عمر ؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر پوچھتے ہیں، کیا تو نے ان کے باپ کو قتل کیا ہے؟

وہ شخص کہتا ہے : ہاں امیر المؤمنین، مجھ سے قتل ہو گیا ہے انکا باپ۔

کس طرح قتل کیا ہے؟ سیدنا عمرؓ پوچھتے ہیں۔

یا عمرؓ، انکا باپ اپنے اونٹ سمیت میرے کھیت میں داخل ہو گیا تھا، میں نے منع کیا، باز نہیں آیا تو میں نے ایک پتھر دے مارا۔ جو سیدھا اس کے سر میں لگا اور وہ موقع پر مر گیا۔

پھر تو قصاص دینا پڑے گا، موت ہے اسکی سزا۔ سیدنا عمرؓ کہتے ہیں۔



نہ فیصلہ لکھنے کی ضرورت، اور فیصلہ بھی ایسا اٹل کہ جس پر کسی بحث و مباحثے کی بھی گنجائش نہیں، نہ ہی اس شخص سے اسکے کنبے کے بارے میں کوئی سوال کیا گیا ہے، نہ ہی یہ پوچھا گیا ہے کہ تعلق کسقدر شریف خاندان سے ہے، نہ ہی یہ پوچھنے کی ضرورت محسوس کی گئی ہے کی تعلق کسی معزز قبیلے سے تو نہیں، معاشرے میں کیا رتبہ یا مقام ہے؟ ان سب باتوں سے بھلا سیدنا عمر ؓ کو مطلب ہی کیا ہے!! کیوں کہ معاملہ اللہ کے دین کا ہو تو عمر ؓ پر کوئی اثر انداز نہیں ہو سکتا اور نہ ہی کوئی اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ کو روک سکتا ہے۔ حتی کہ سامنے عمرؓ کا اپنا بیٹا ہی کیوں نہ قاتل کی حیثیت سے آ کھڑا ہو، قصاص تو اس سے بھی لیا جائے گا۔



وہ شخص کہتا ہے ا ے امیر المؤمنین: اس کے نام پر جس کے حکم سے یہ زمین و آسمان قائم کھڑے ہیں مجھے صحراء میں واپس اپنی بیوی بچوں کے پاس جانے دیجیئے تاکہ میں انکو بتا آؤں کہ میں قتل کر دیا جاؤں گا۔ ان کا اللہ اور میرے سوا کوئی آسرا نہیں ہے، میں اسکے بعد واپس آ جاؤں گا۔
سیدنا عمر ؓ کہتے ہیں: کون تیری ضمانتدے گا کہ تو صحراء میں جا کر واپس بھی آ جائے گا؟

مجمع پر ایک خاموشی چھا جاتی ہے۔ کوئی بھی تو ایسا نہیں ہے جو اسکا نام تک بھی جانتا ہو۔ اسکے قبیلے، خیمےیا گھر وغیرہ کے بارے میں جاننے کا معاملہ تو بعد کی بات ہے۔

کون ضمانت دے اسکی؟ کیا یہ دس درہم کے ادھار یا زمین کے ٹکڑے یا کسی اونٹ کے سودے کی ضمانت کا معاملہ ہے؟ ادھر تو ایک گردن کی ضمانت دینے کی بات ہے جسے تلوار سے اڑا دیا جانا ہے۔

اور کوئی ایسا بھی تو نہیں ہے جو اللہ کی شریعت کی تنفیذ کے معاملے پر عمرؓ سے اعتراض کرے، یا پھر اس شخص کی سفارش کیلئے ہی کھڑا ہو جائے۔ اور کوئی ہو بھی نہیں سکتا جو سفارشی بننے کی سوچ سکے۔

محفل میں موجود صحابہ پر ایک خاموشی سی چھا گئی ہے، اس صورتحال سے خود عمر ؓ بھی متأثر ہیں۔ کیوں کہ اس شخص کی حالت نے سب کو ہی حیرت میں ڈال کر رکھ دیا ہے۔ کیا اس شخص کو واقعی قصاص کے طور پر قتل کر دیا جائے اور اس کے بچے بھوکوں مرنے کیلئے چھوڑ دیئے جائیں؟ یا پھر اسکو بغیر ضمانتی کے واپس جانے دیا جائے؟ واپس نہ آیا تو مقتول کا خون رائیگاں جائے گا!

خود سیدنا عمرؓ سر جھکائے افسردہ بیٹھے ہیں ہیں اس صورتحال پر، سر اُٹھا کر التجا بھری نظروں سے نوجوانوں کی طرف دیکھتے ہیں، معاف کر دو اس شخص کو۔

نہیں امیر المؤمنین، جو ہمارے باپ کو قتل کرے اسکو چھوڑ دیں، یہ تو ہو ہی نہیں سکتا، نوجوان اپنا آخری فیصلہ بغیر کسی جھجھک کے سنا دیتے ہیں۔

عمرؓ ایک بار پھر مجمع کی طرف دیکھ کر بلند آواز سے پوچھتے ہیں ، اے لوگو ، ہے کوئی تم میں سے جو اس کی ضمانت دے؟

ابو ذر غفاری ؓ اپنے زہد و صدق سے بھر پور بڑھاپے کے ساتھ کھڑے ہو کر کہتے ہیں میں ضمانت دیتا ہوں اس شخص کی!

سیدنا عمرؓ کہتے ہیں ابوذر ، اس نے قتل کیا ہے۔

چاہے قتل ہی کیوں نہ کیا ہو، ابوذر ؓ اپنا اٹل فیصلہ سناتے ہیں۔

عمرؓ: جانتے ہو اسے؟

ابوذرؓ: نہیں جانتا اسے۔

عمرؓ: تو پھر کس طرح ضمانت دے رہے ہو؟
ابوذرؓ: میں نے اس کے چہرے پر مومنوں کی صفات دیکھی ہیں، اور مجھے ایسا لگتا ہے یہ جھوٹ نہیں بول رہا، انشاء اللہ یہ لوٹ کر واپس آ جائے گا۔

عمرؓ: ابوذرؓ دیکھ لو اگر یہ تین دن میں لوٹ کر نہ آیا تو مجھے تیری جدائی کا صدمہ دیکھنا پڑے گا۔

امیر المؤمنین، پھر اللہ مالک ہے۔ ابوذر اپنے فیصلے پر ڈٹے ہوئے جواب دیتے ہیں۔

سیدنا عمرؓ سے تین دن کی مہلت پا کر وہ شخص رخصت ہو جاتا ہے، کچھ ضروری تیاریوں کیلئے، بیوی بچوں کو الوداع کہنے، اپنے بعد اُن کے لئے کوئی راہ دیکھنے، اور اس کے قصاص کی ادئیگی کیلئے قتل کئے جانے کی غرض سے لوٹ کر واپس آنے کیلئے۔



اور پھر تین راتوں کے بعد، عمر ؓ بھلا کیسے اس امر کو بھلا پاتے، انہوں نے تو ایک ایک لمحہ گن کر کاٹا تھا، عصر کے وقت شہر میں (الصلاۃ جامعہ) کی منادی پھر جاتی ہے، نوجوان اپنے باپ کا قصاص لینے کیلئے بے چین اور لوگوں کا مجمع اللہ کی شریعت کی تنفیذ دیکھنے کے لئے جمع ہو چکا ہے۔

ابو ذرؓ بھی تشریف لاتے ہیں اور آ کر عمرؓ کے سامنے بیٹھ جاتے ہیں۔

کدھر ہے وہ آدمی؟ سیدنا عمرؓ سوال کرتے ہیں۔

مجھے کوئی پتہ نہیں ہے یا امیر المؤمنین، ابوذرؓ مختصر جواب دیتے ہیں۔

ابوذرؓ آسمان کی طرف دیکھتے ہیں جدھر سورج ڈوبنے کی جلدی میں معمول سے سے زیادہ تیزی کے ساتھ جاتا دکھائی دے رہا ہے۔

محفل میں ہو کا عالم ہے، اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا کہ آج کیا ہونے جا رہا ہے؟

یہ سچ ہے کہ ابوذرؓ سیدنا عمرؓ کے دل میں بستے ہیں، عمرؓ سے ان کے جسم کا ٹکڑا مانگیں تو عمرؓ دیر نہ کریں کاٹ کر ابوذرؓ کے حوالے کر دیں، لیکن ادھر معاملہ شریعت کا ہے، اللہ کے احکامات کی بجا آوری کا ہے، کوئی کھیل تماشہ نہیں ہونے جا رہا، نہ ہی کسی کی حیثیت یا صلاحیت کی پیمائش ہو رہی ہے، حالات و واقعات کے مطابق نہیں اور نہ ہی زمان و مکان کو بیچ میں لایا جانا ہے۔ قاتل نہیں آتا تو ضامن کی گردن جاتی نظر آ رہی ہے۔

مغرب سے چند لحظات پہلےوہ شخص آ جاتا ہے، بے ساختہ حضرت عمرؓ کے منہ سے اللہ اکبر کی صدا نکلتی ہے، ساتھ ہی مجمع بھی اللہ اکبر کا ایک بھرپور نعرہ لگاتا ہے۔

عمرؓ اس شخص سے مخاطب ہو کر کہتے ہیں اے شخص، اگر تو لوٹ کر نہ بھی آتا تو ہم نے تیرا کیا کر لینا تھا، نہ ہی تو کوئی تیرا گھر جانتا تھا اور نہ ہی کوئی تیرا پتہ جانتا تھا!

امیر المؤمنین، اللہ کی قسم، بات آپکی نہیں ہے بات اس ذات کی ہے جو سب ظاہر و پوشیدہ کے بارے میں جانتا ہے، دیکھ لیجئے میں آ گیا ہوں، اپنے بچوں کو پرندوں کے چوزوں کی طرح صحراء میں تنہا چھوڑ کر، جدھر نہ درخت کا سایہ ہے اور نہ ہی پانی کا نام و نشان۔ میں قتل کر دیئے جانے کیلئے حاضر ہوں۔ مجھے بس یہ ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے وعدوں کا ایفاء ہی اُٹھ گیا ہے۔

سیدنا عمرؓ نے ابوذر کی طرف رخ کر کے پوچھا ابوذرؓ، تو نے کس بنا پر اسکی ضمانت دے دی تھی؟

ابوذرؓ نے کہا، اے عمرؓ، مجھے اس بات کا ڈر تھا کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ ابلوگوں سے خیر ہی اٹھا لی گئی ہے۔

سید عمرؓ نے ایک لمحے کیلئے توقف کیا اور پھر ان دو نوجوانوں سے پوچھا کہ کیا کہتے ہو اب؟

نوجوانوں نے روتے ہوئے جواب دیا، اے امیر المؤمنین، ہم اس کی صداقت کی وجہ سے اسے معاف کرتے ہیں، ہمیں اس بات کا ڈر ہے کہ کہیں کوئی یہ نہ کہہ دے کہ اب لوگوں میں سے عفو اور درگزر ہی اُٹھا لیا گیا ہے۔
سیدناؓ عمر اللہ اکبر پکار اُٹھے اور آنسو انکی ڈاڑھی کو تر کرتے نیچے گر رہے تھے۔۔۔۔

اے نوجوانو! تمہاری عفو و درگزر پر اللہ تمہیں جزائے خیر دے۔

اے ابو ذرؓ! اللہ تجھے اس شخص کی مصیبت میں مدد پر جزائے خیر دے۔

اور اے شخص، اللہ تجھے اس وفائے عہد و صداقت پر جزائے خیر دے۔

اور اے امیر المؤمنین، اللہ تجھے تیرے عدل و رحمدلی پر جزائے خیر دے۔

محدثین میں سے ایک یوں کہتے ہیں، قسم ہے اس ذات کی جس کے قبضے میں میری جان ہے، اسلام اور ایمان کی سعادتیں تو عمرؓ کے کفن کے ساتھ ہی دفن ہو گئی تھیں۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: February 23rd, 2016, 9:00 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عمر رضی اللہ عنہ


سیدنا عمر اور ابوبکر رضی اللہ تعالیٰ عنہم کے درمیان پیش آنے والے اس واقعہ میں، جو لوگ غور و فکر اور تدبر کرنا چاہتے ہوں، اُن کی عبرت کے لئے بہت سی باتیں پوشیدہ ہیں۔

ابن القیم رحمۃ اللہ علیہ اپنی کتاب (روضۃ المُحبین و نزھۃ المشتاقین) میں لکھتے ہیں کہ عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ روزانہ صبح کی نماز کے بعد سیدنا ابو بکر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو غائب پاتے۔

وہ دیکھ رہے تھے کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نماز کی ادائیگی کیلئے تو باقاعدگی سے مسجد میں آتے ہیں مگر جونہی نماز ختم ہوئی وہ چپکے سے مدینہ کے مضافاتی علاقوں میں ایک دیہات کی طرف نکل جاتے ہیں۔

کئی بار ارادہ بھی کیا کہ سبب پوچھ لیں مگر ایسا نہ کر سکے ۔ ایک بار وہ چپکے سے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پیچھے چل دیئے۔

سیدنا ابو بکر رضی اللہ عنہ دیہات میں جا کر ایک خیمے کے اندر چلے گئے۔

کافی دیر کے بعد جب وہ باہر نکل کر واپس مدینے کی طرف لوٹ چکے تو حضرت عمر رضی اللہ عنہ اُس خیمے میں داخل ہوئے، کیا دیکھتے ہیں کہ خیمے میں ایک اندھی بُڑھیا دو چھوٹے چھوٹے بچوں کے ساتھ بیٹھی ہوئی ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے بڑھیا سے پوچھا؛ اے اللہ کی بندی، تم کون ہو؟ بڑھیا نے جواب دیا؛ میں ایک نابینا اور مفلس و نادار عورت ہوں، ہمارے والدین ہمیں اس حال میں چھوڑ کر فوت ہو گئے ہیں کہ میرا اور ان دو لڑکیوں کا اللہ کے سوا کوئی اور آسرا نہیں ہے۔

حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے پھر سوال کیا؛ یہ شیخ کون ہے جو تمہارا گھر میں آتا ہے؟ بوڑھی عورت (جو کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی اصلیت نہیں جانتی تھی) نے جواب دیا کہ میں اس شیخ کو جانتی تو نہیں مگر یہ روزانہ ہمارے گھر میں آکر جھاڑو دیتا ہے، ہمارے لئیے کھانا بناتا ہے اور ہماری بکریوں کا دودھ دوہ کر ہمارے لئیے رکھتا اور چلا جاتا ہے۔

حضرت عمر یہ سُن کر رو پڑے اور کہا؛ اے ابو بکر، آپ نے اپنے بعد کے آنے والے حکمرانوں کیلئے ایک تھکا دینے والا امتحان کھڑا کر کے رکھ دیا ہے

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: February 24th, 2016, 4:14 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
تاریخ کے جھروکے سے۔۔

ملکہ خیزران بڑی شان وشوکت کے ساتھ اپنے محل میں بیٹھی ہوئی تھی کہ اس کی لو نڈی نے آکر عرض کی ملکہ عالم !محل کی ڈیوڑی پر ایک نہایت ہی خستہ حال غریب عورت کھڑی ہے اور آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر کچھ کہنا چاہتی ہے۔ ملکہ نے کہا اس عورت کا حسب نسب دریافت کرو اور یہ بھی معلوم کرو اسے کس چیز کی ضرورت ہے لونڈی نے باہر آکر اس غریب عورت سے بہت پو چھا اس نے اپنا نام نسب اور خاندان کا پتہ سب کچھ بتا دیا لیکن اس نے یہ نہ بتایا کہ وہ ملکہ سے کیوں ملنا چاہتی ہے اس کا بس ایک ہی جواب تھا کہ جو کہنا چاہتی ہے ملکہ سے بس زبانی ہی کہے گی ۔لونڈی نے اندر آکے ملکہ کو عورت کا جواب سنایا تو وہ بہت حیران ہو ئی اس وقت حضرت عبد اللہ ابن عباس رضی اللہ تعالی عنھما کی پڑپوتی زینب بنت سلمان بھی ان کے پاس بیٹھی تھیں وہ بنو عباس کی خواتین میں بہت دانا تسلیم کی جا تی تھیں ملکہ نے ان سے مشورہ کیا کہ کیا اس عورت کو اندر آنے کی اجازت دوں یا ملنے سے انکار کر دوں ۔انہوں نے فرمایا ضرور بلواؤ دیکھیں تو سہی کیا چاہتی ہے ۔چنانچہ ملکہ نے لونڈی کو حکم دیا کہ اس کو اندر آنے کی اجازت دے دی جائے ۔چنانچہ تھوڑی دیر میں ایک پھٹے پرانے کپڑے پہنے ایک انتہائی شکستہ حالت عورت کھڑی ہے اس کے دل کش خدوخال سے معلوم ہو تا تھا کہ کو ئی شریف زادی ہے لیکن میل کچیل اور بوسیدہ کپڑوں نے اس کی حالت گداگروں جیسی بلکہ اس سے بھی ابتر بنا رکھی ہے ،وہ عورت پہلے تو ملکہ کا کرو فر دیکھ کر ٹھٹکی پھر فورا ہی جرأت کر کے ملکہ کو سلام کیا اور کہنے لگی ’’اے ملکہ !میں مروان بن محمد کی بیٹی مزنا ہوں جو خاندان بنو امیہ کا آخری تاجدارتھا۔جوں ہی یہ بات اس کے منہ سے نکلی تو ملکہ خیزران کا چہرا ہ فرط غضب سے سرخ ہو گیا اور اس نے اکڑ کے کہا
’’اے بدبخت عورت! تجھ کو یہ جرأت کیسے ہو ئی کہ تو اس محل کے اندر قدم رکھے ؟

کیا تو نہیں جا نتی کہ تیرے خاندان نے عباسیوں پر کیسے ظلم ڈھائے اے سنگ دل کیا تو وہ دن بھول گئی ہے کہ جب بنو عباس کی بوڑھی عورتیں تیرے پاس التجاء لے کر گئیں تھی کہ تو اپنے باپ سے سفارش کر کہ میرے شوہر (مہدی) کا چچا امام محمد بن ابراھیم کی لاش دفن کرنے کی اجازت لے دے۔ کم بخت عورت خدا تجھے غارت کرے تو نے ان معزز اور مظلوم خواتین پر ترس کھانے کی بجائے انہیں ذلیل کر کے محل سے نکلوا دیا تھا ۔کیا تیری یہ حرکت انسانیت کی توہین نہیں تھی ؟مانا کہ آپس میں دشمنی تھی لیکن پھر بھی ایک بے بس اور لاچار دشمن کے ساتھ ایسا سلوک جائز نہ تھا۔ خدا کا شکر ہے کہ اس نے تم سے حکومت چھین لی اور تمہیں ذلیل کیا ۔مزنا! خیریت اسی میں ہے کہ تم فورا یہاں سے چلی جا ؤ ۔‘‘
مزنا؛ ملکہ کی باتیں سن کر بالکل مرعوب نہ ہو ئی بلکہ اس نے ایک زور دار قہقہہ لگایا اور بولی ’’بہن! اپنے آپ سے باہر نہ ہو جو کچھ میں نے کیا خدا سے اس کی سزا پا لی ۔خدا کی قسم جو کچھ تم نے کہا وہ سچ ہے اسی کی پاداش میں خدا نے مجھے ذلیل کر کے تمہارے سامنے لا کھڑا کیا۔کیا تمہیں معلوم نہیں کہ کسی وقت میں تجھ سے زیا دہ شوخ اور شریر تھی دولت اور حشمت میرے گھر کی لونڈی تھی مجھے اپنے حسن پہ ناز تھا اور تکبر نے مجھے اندھا کر دیا تھا مگر تم نے دیکھا کہ جلد ہی زمانے نے اپنا ورق الٹ ڈالا خدا نے اپنی تمام نعمتیں مجھ سے چھین لیں اور اب میں ایک فقیر سے بدتر ہو ںکیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو ؟اچھا خوش رہو، میں جاتی ہو ں۔اتنا کہہ کر مزنا نے تیزی سے باہر کا رخ کیا لیکن ابھی چند قدم جا نے ہی پائی تھی کہ خیزران نے دوڑ کر اسے پکڑ لیا اور چاہا کہ گلے سے لگا لے لیکن مزنا نے پیچھے ہٹ کر کہا خیزران سنو! تم ملکہ ہو اور میں ایک غریب اور بے کس عورت… میرے کپڑے بوسیدہ اور غلیظ ہیں میں اس قابل نہیں کہ ملکہ مجھ سے بغل گیر ہو ۔خیزران نے آبدید ہ ہو کرلو نڈیوں حکم دیا کہ مزنا کو نہلا دو اور اعلی درجہ کی پو شاک پہنا دو اور پھر اسے عطر میں بسا کر میرے پاس لے آؤ۔لونڈیوں نے ملکہ کے حکم کی تعمیل کی اس وقت مزنا کو دیکھ یوں معلوم ہو ا کہ چاند بادل سے نکل آیا ہے خیزران بے اختیا ر مزنا سے لپٹ گئی ، پاس بیٹھایا اور پوچھا دستر خوان بچھواؤں ؟مزنا نے کہا ملکہ آپ پوچھتی کیا ہیں آپ کے محل میں مجھ سے زیا دہ کوئی بھوکا ہو گا فوراً دستر خواں بچھا دیا گیا ،مزنا سیر ہو کر کھا چکی تو ملکہ نے پوچھا ۔آج کل تمہارا سرپرست کون ہے؟ مزنا نے سرد آہ بھر کر کہا! آج کس میں ہمت ہے کہ میری سرپرستی کرے مدتوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں کوئی رشتہ دار بھی دنیا میں موجود نہیں کہ اس کے ہاں جا کر پڑوںبس کچھ قرابت ہے تو وہ اسی گھرانے (بنو عباس )سے ہے ۔خیزران نے فوراً کہا مزنا! آزردہ مت ہو آج سے تم میری بہن ہو میرے بہت سے محل ہیں تم ان میں سے ایک محل پسند کر لو اور یہیں رہو جب تک میں جیتی ہو ں تمہا ری ہر ضرورت پو ری کروں گی۔چنا نچہ مزنا نے ایک عالی شان محل پسند کیا اور خیزران نے اس میں تمام ضروریا ت زندگی اور لو نڈیاں غلام مہیا کر دیے ساتھ ہی پانچ لاکھ درہم نقد بھی اس کے حوالے کر دیے کہ جس طرح جی چاہے خرچ کر ۔شام کا خلیفہ مہدی حرم میں آیا اور دن بھر کے حالات پو چھنے لگا ملکہ خیزران نے اسے آج کا واقعہ تفصیل سے سنانا شروع کیا جب اس نے بتایا کہ میں نے مزنا کو اس طرح جھڑکا اور وہ قہقہہ لگا کر شان بے نیازی سے واپس چلی گئی تو خلیفہ فرط غضب سے بے تاب ہو گیا اور اس نے ملکہ کی بات کاٹ کر کہا ’’خیزران تم پہ ہزار افسوس ،کہ خدا نے جو تمہیں نعمتیں عطاء کی ہیں تم نے ان کا شکریہ ادا کرنے کا ایک بیش بہا موقع ہاتھ سے کھو دیا تمہاری یہ حرکت ایک ملکہ کے شایان شان نہیں تھی ۔‘‘
خیزران نے کہا ’’امیر المومنین! میری پو ری بات تو سن لیں اس کے بعد اس نے جب مزنا سے اپنے حسن سلوک کی تفصیل بتائی تو مہدی کا چہرہ چمک اٹھا اس نے خیزران کی عالی ظرفی کو بہت سراہا اور کہا آج سے میری نظر میں تمہاری قدر دو چند ہو گئی ہے ۔پھر اس نے اپنی طرف سے بھی مزنا کو اشرفیوں کے سو توڑے بھیجے اور ساتھ ہی کہلا بھیجا کہ آج میری زندگی کا سب سے بڑا یوم مسرت ہے کہ اس نے ہمیں تمہاری خدمت کی تو فیق دی ،اب تم اطمینان سے یہاں رہو ۔

اس کے بعد مزنا طویل عرصہ تک زندہ رہی مہدی کی وفات ۱۶۹؁ھ بمطابق ۷۸۵؁ء ہوئی اس کے بعد اس کا بیٹا ہادی بھی اس کی خدمت کرتا تھا ہا دی کے بعد۱۷۰؁ھ۷۸۶؁ء میں ہارون الرشید خلیفہ بنا تو اس نے بھی مزنا کو ماں کے برابر سمجھا ،اس کے عہد خلافت کی ابتدا میں مزنا نے وفات پائی تو ہارون الرشید بچوں کی طرح بلک بلک کے رویا اور اس کے جنازہ کو شاہانہ شان شوکت سے قبرستان پہنچایا ۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: February 26th, 2016, 3:04 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
ایمان کا اعلان

حضرت علی رضی اللہ عنہ نےایک دفعہ خطبہ دیا اور فرمایا: اے لوگو !سب سے زیادہ بہادر کون ہے ؟ لوگو ں نے کہا : اے امیر المؤمنین وہ آپ ہیں ، تو انہوں نے فرمایا : جہاں تک میر ا تعلق ہے ، مجھ سے جس نے بھی مقابلہ کیا تو میں نے اس سے بدلہ لیا ہے ۔ لیکن سب سے زیادہ بہادر ابوبکررضی اللہ عنہ ہیں ، ہم نے غزوہِ بد ر کے موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے لئے ایک سائبان بنایا اور ہم آپس میں کہنے لگے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ آج کون ہوگا، تاکہ مشرکین میں سے کوئی آپ کی طرف نہ آسکے ! پس بخدا ہم میں سے ابوبکر کے سوا کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہیں گیا ۔ وہ تلوار تانے ہوئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سرپر کھڑے ہوگئے ، اور جو مشرک بھی آپ کی طرف آتا، آپ اس کے سامنے کھڑے ہوجاتے ۔ یہ سب لوگوں میں زیادہ بہادر ہیں ۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ میں نے قریش کو دیکھا کہ انہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پکڑا ہوا ہے ، کوئی آپ کو مار رہاہے ،کوئی برا بھلا کہہ رہا ہے، کوئی دھکے دے رہا ہے اور کہہ رہے ہیں : تو نے اتنے معبودوں کو چھوڑ کر صرف ...ایک معبود چن لیا ہے ؟ پس بخدا !ہم میں سے کوئی بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب نہیں آیا سوائے ابوبکررضی اللہ عنہ کے ، وہ آئے اور کسی کو ماررہے ہیں ، کسی سے لڑ رہے ہیں اور کسی کو دھکادے رہے ہیں ، اور کہہ رہے ہیں : تم ہلاک ہوجاؤ، تم ایسے شخص کو قتل کرنا چاہتے ہو جو یہ کہتا ہے کہ میرا رب اللہ ہے ؟!
پھر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے اپنے اوپر سے چادر اتاری اور رونے لگے ،یہاں تک کہ ان کی داڑھی آنسوؤں سے تر ہوگئی ۔پھر فرمانے لگے کہ مجھے بتاؤ کہ فرعون کے خاندان کا مؤمن بہتر ہے یا ابوبکر؟ لوگ خاموش ہوگئے تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا : بخدا ابوبکر کی ایک گھڑی فرعون کے خاندان کے مؤمن سے زمین بھر جائے ،ان سے بہتر ہے ۔ کیونکہ فرعون کے خاندان کے شخص نے ایمان چھپا رکھا تھا اور ابوبکر وہ ہیں جنہوں نے اپنے ایمان کا اعلان کیا تھا ۔

بزّار رحمہ اللہ تعالی نے حضرت علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ سے یہ روایت نقل کی ہے صحیح بخاری میں حضرت عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہما سے بھی مختصر روایت نقل ہے

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: February 28th, 2016, 8:57 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ


حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے زمانے میں ایک شخص تھا جو خوش الحان تھا۔ وہ مختلف محفلوں میں اشعار وغیرہ سنا کر (گانا نہیں) کچھ پیسے کما یا کرتا تھا۔ وہ شخص بوڑھا ہو گیا۔ آواز بیٹھ گئ۔ کمائی کا ذریعہ ختم ہو گیا۔ نوبت فاقوں پر پہنچ گئی۔

ایک دن بھوک کے عالم میں جنت البقیع کے قبرستان میں ایک درخت کے سائے تلے بیٹھ گیا اور اللہ سے باتیں کرنے لگا۔ “اے اللہ جب تک جوان تھا۔ آواز ساتھ دیتی تھی۔ کماتا تھا
اور کھاتا تھا۔ اب آواز بیٹھ گئی ہے۔ بھوک لگی ہے ۔ پہلی بار تیرے در پہ آیا ہوں۔ مایوس نہ لوٹانا۔“

حضرت عمر رضی اللہ تعالی مسجد نبوی کے صحن میں سوئے ہوئے تھے۔ خواب میں آواز آئی “اٹھ میرا ایک بندہ جنت البقیع میں مجھے پکار رہا ہے۔ اس کی مدد کو پہنچ، عرش ہل رہا ہے۔۔۔“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ ننگے پاوں بھاگے۔ اس بوڑھے نے جب حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ کو آتے دیکھا تو اٹھ کر بھاگا کہ شاید مجھے مارنے آرہے ہیں۔ حضرت عمر رضی اللہ تعالٰی نے فرمایا۔ “مت بھاگ میں خود نہیں آیا بلکہ بھیجا گیا ہوں۔“ بوڑھے نے پوچھا “کس نے بھیجا ہے۔؟“ حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ نے فرمایا “ اسی ذات نے بھیجا ہے جس کو پکار رہے تھے“

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: February 28th, 2016, 9:07 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ

خلیفہ ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے چوبیس لاکھ مربع میل کر حکومت کی ۔ راتوں کو اٹھ اٹھ کر پیرا دیتے تھے اور لوگوں کی ضرورت کا خیال رکھتے تھے۔ کہتے تھے اگر فرات کے کنارے ایک کتا بھی پیاسا مر گیا تو کل قیامت کے دن عمر (رضی اللہ عنہ )سے اس بارے میں پوچھ ہو گی۔

ایک دفعہ آپ رضی اللہ عنہ دربار کا وقت ختم ہونے کے بعد گھر آئے اور کسی کام میں لگ گئے۔ اتنے میں ایک شخص آیا اور کہنے لگا۔ امیر المومنین آپ فلاں شخص سے میرا حق دلوا دیجئے۔ آپ کو بہت غصہ آیا اور اس شخص کو ایک درا پیٹھ پر مارا اور کہا، جب میں دربار لگاتا ہوں تو اس وقت تم اپنے معاملات لے کر آتے نہیں اور جب میں گھر کے کام کاج میں مصروف ہوتا ہو ں تو تم اپنی ضرورتوں کو لے کر آ جاتے ہو۔

بعد میں آپ کو اپنی غلطی کا اندازہ ہوا تو بہت پریشان ہوئے اور اس شخص کو (جسے درا مارا تھا) بلوایا اور اس کے ہاتھ میں درا دیا اور اپنی پیٹھ آگے کی کہ مجھے درا مارو میں نے تم سے زیادتی کی ہے ۔ وقت کا بادشاہ ،چوبیس لاکھ مربع میل کا حکمران ایک عام آدمی سے کہہ رہا ہے میں نے تم سے زیادتی کی مجھے ویسی ہی سزا دو ۔ اس شخص نے کہا میں نے آپ کو معاف کیا۔

آپ رضی اللہ عنہ نے کہا نہیں نہیں ۔۔۔۔۔۔!! کل قیامت کو مجھے اس کا جواب دینا پڑے گا تم مجھے ایک درا مارو تا کہ تمہارا بدلہ پورا ہو جائے۔ آپ رضی اللہ عنہ روتے جاتے تھے اور فرماتے۔ اے عمر تو کافر تھا ۔ ظالم تھا۔ بکریاں چراتا تھا۔ خدا نے تجھے اسلام کی دولت سے مالا مال کیا اور تجھے مسلمانوں کا خلیفہ بنایا۔ کیا تو اپنے رب کے احسانوں کو بھول گیا۔ آج ایک آدمی تجھ سے کہتا ہے کہ مجھے میرا حق دلاو تو تو اسے درا مارتا ہے۔ اے عمر کیا تو سمجھ بیٹھا ہے کہ مرے گا نہیں۔ کل قیامت کے دن تجھے اللہ کو ایک ایک عمل کا حساب دینا پڑے گا۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اسی بات کو دھراتے رہے اور بڑی دیر روتے رہے

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: February 28th, 2016, 9:15 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم


حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم اور ایک اعرابی کے درمیان گھوڑے کی خریداری طے پائی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے یہ گھوڑا خرید لیا ۔بات چیت کے بعد یہ اعرابی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے پیچھے چل دیا تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے گھوڑے کی قیمت وصول کرلے۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم جلدی جلدی چل رہے تھے اور اعرابی آہستہ آہستہ چل رہا تھا ۔ راستہ میں لوگوں کو معلوم نہیں تھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس اعرابی سے اس کا گھوڑا خرید لیا ہے ۔ چنانچہ لوگ اس گھوڑے کی قیمت لگانے لگے اور اعرابی سے گھوڑے کی خریداری کے سلسلے میں بات چیت شرو ع کردی ۔گھوڑے کی زیادہ قیمت لگنے پر اس اعرابی نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم کو آواز دی اور کہا کہ اگر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس گھوڑے کو خریدنا چاہتے ہیں تو معاملہ طے کرلیں ، ورنہ میں اس گھوڑے کو فروخت کردوں گا۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ، کیا تمہیں معلوم نہیں کہ تم نے یہ گھوڑا مجھے فروخت کردیا ہے۔ اس اعرابی نے کہا کہ اللہ کی قسم میں نے تو یہ گھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت نہیں کیا ۔ اور اس اعرابی نے انکار کرتے ہوئے کہا کہ کیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس کوئی گواہ ہے کہ میں نے یہ گھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو فروخت کیا ہے۔ جب یہ معاملہ ہوا تو اس وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم اور اعرابی کے پاس اور کوئی بھی موجود نہ تھا اس لیے گواہ کاتو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا
اس وقت جہاں سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم گزر رہے تھے وہاں پرموجود لوگوں میں حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ موجود تھے جب انھوں نے اعرابی کو یہ پکارتے سنا ۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا میں گواہی دیتا ہوں کہ یہ گھوڑا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تم سے خریداہے۔ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے خزیمہ رضی اللہ عنہ سے فرمایا کہ تم کس وجہ سے گواہی دے رہے ہو ؟جب ہمارے درمیان اس گھوڑے کی خریداری کا معاملہ طے پایا تم وہاں موجود نہیں تھے۔ حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ نے عرض کیا ”یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق کی وجہ سے جب میں آپ کی بتائی ہو ئی، آسمانی خبروں کی تصدیق کرتا ہوں ، آئندہ ہونے والے واقعات کی تصدیق کرتا ہوں تو کیا میں اس گھوڑے کی خرید اری میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصدیق نہیں کرسکتا “۔
حضرت خزیمہ رضی اللہ عنہ کے اس جواب پر حضور صلی اللہ علیہ وسلم بے حد خوش ہوئے اور فرمایا اے خزیمہ آج سے تم دوگواہوں کے قائم مقام ہو(یعنی تمہاری گواہی دو گواہوں کے برابر ہے)، اورفرمایا” جس کے حق میں یا جس کے خلاف خزیمہ گواہی دے دیں ، ان کی تنہا گواہی ہی اس کے لئے کافی ہے
(ماخود ۔ ابو داؤد ، نسائی )

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: February 29th, 2016, 12:26 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
نبیﷺ کے ہاتھ کی برکت


حضرت ابو ہریرہ رضی اللہ تعالی عنہہ ایک مرتبہ فاقوں کی وجہ سے بھوک کی شدت سے تنگ آ کر رستے میں بیٹھ گئے لیکن خودداری کی وجہ سے کسی سے بھی سوال نہ کیا
اتنے میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہہ کا ادھر سے گزر ہوا حضرت ابو ہریرہ نے اس خیال سے ان سے بات کی کہ شاید وہ کھانے کاکہہ دیں لیکن حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہہ نے بات کا جواب دیا اور اپنے گھر کی طرف چلے گئے
کچھ دیر بعدحضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہہ گزرے تو حضرت ابو ہریرہ نے ان سے بھی کوئی بات کی اور وہ بھی ان کی بات کا جواب دے کر گھر تشریف لے گئے
اتنے میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور حضرت ابو ہریرہ کا چہرہ دیکھ کر ماجرا سمجھ گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم انہیں اپنے ساتھ گھر لے آئے ، گھر میں کہیں سے دودھ کا پیالہ ہدیہ آیا ہوا تھا
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت ابو ہریرہ سے فرمایا کہ جاؤ اصحاب صفہ کو بلا لاؤ
حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میرے دل میں خیال آیا کہ ایک پیالہ دودھ ہے تو اسے کون کون پی لے گا اور میرے حصے میں تو کچھ بھی نہیں آئے گا کیونکہ اصحاب صفہ مہمان ہونگے تو پہلے انکو ہی پلایاجائے گا
لیکن بھوک پر حکم مقدم تھا چنانچہ اصحاب صفہ کو بلا لائے
اللہ کے نبی نے حضرت ابو ہریرہ کو حکم دیا کہ سب کو دودھ پلاؤ حضرت ابو ہریرہ نے باری باری سب کو دودھ پلایا اور سب نے سیر ہوکر پیا
جب سب لوگ پی چکے تو اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے پیالے پر ہاتھ رکھا اور مسکراتے ہوئے فرمایا کہ ابو ہریرہ اب تو میں اور تم ہی باقی ہیں بیٹھو اور پیو ، حضرت ابو ہریرہ فرماتے ہیں کہ میں نے خوب دودھ پیا اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اور پیو میں نے اور پیا اللہ کے نبی نے فرمایا کہ اور پیو میں نے اور پیا اور یہاں تک کہ میرا پیٹ بھر گیا میں نے کہا کہ اللہ کے نبی بس اب گنجائش نہیں رہی میں نے سیر ہوکر پی لیا اس کے بعد حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے بسمہ اللہ پڑھی اور باقی دودھ پی لیا
یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھوں کی برکت تھی کہ ایک پیالہ اتنے لوگوں کو کافی آگیا

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 2nd, 2016, 10:58 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
حضرت سعد بن مالک رضی اﷲ عنہ کا واقعہ

حضرت سعد بن مالک رضی اﷲ عنہ فرماتے ہیں کہ میں اپنی ماں کی بہت خدمت کیا کرتا تھا اور ان کا پورا اطاعت گزار تھا جب مجھے اﷲ نے اسلام کی طرف ہدایت کی تو میری والدہ مجھ پر بہت بگڑیں اور کہنے لگیں:'' بچے نیا دین تو کہاں سے نکال لیا ہے . سنو ! میں تمہیں حکم دیتی ہوں کہ اس دین سے دست بردار ہوجاؤ ورنہ میں نہ کھاؤں گی نہ پیوںگی اور یونہی بھوکی مرجاؤں گی.'' میں نے اسلام کو نہ چھوڑا، میری ماں نے کھانا پینا ترک کردیا اور چوطرف سے لوگ مجھ پر آوازے کسنے لگے کہ یہ اپنی ماں کا قاتل ہے. میرا بہت دل تنگ ہوا . میں نے اپنی والدہ کی خدمت میں بار بار عرض کیا، خوشامدیں کیں، سمجھایا کہ اﷲ کے لئے اپنی ضد سے باز آجاؤ . یہ تو نا ممکن ہے کہ میں دین محمد صلی اﷲ علیہ وسلم کو چھوڑ دوں اسی بحث و تمحیص میں میری والدہ پر تین دن کا فاقہ گزر گیا اور اس کی حالت بہت ہی خراب ہوگئی تو میں اس کے پاس گیا اور میں نے کہا: میری اچھی ماں جان، سنو! تم مجھے میری جان سے زیادہ عزیز ہو لیکن میرے دین سے زیادہ عزیز نہیں ہو. واﷲ! ایک نہیں تمہاری ایک سو جانیں ہوں اور اسی بھوک پیاس میں ایک ایک کرکے سب نکل جائیں ، تو بھی میں آخری لمحہ تک اپنے سچے دین اسلام کو نہ چھوڑوں گا. واﷲ! نہ چھوڑوں گا. اب میری ماں مایوس ہوگئیں اور کھانا پینا شروع کردیا.

(تفسیر ابن کثیر ، جلد4 )
( ''صحیح اسلامی واقعات ''، صفحہ نمبر 62-61)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 5th, 2016, 9:35 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
یاجوج ماجوج


یہ انسانوں ہی کے دو بڑے وحشی قبیلوں کے نام ہیں جنکی تعداد ساری انسانی دنیا سے زائد ھے-
(معارف القرآن)

قیامت کی تیسری بڑی علامت یاجوج ماجوج کا نکلنا ہے جو یافت بن نوح کی نسل سے ہیں-
(ابن کثیر)

حضرت نوح کے تین بیٹے تھے- جو جد اعلی بھی ہیں-
۱- سم
۲- حام(کعنان کا باپ)
۳- یافت

حضرت نوح ع نے یافت کو دعا دی تھی کہ خدایا یافت کو بہت ساری زمین کا مالک بنا-

یافت کی اولاد:
۱- جمر
۲- ماجوج
۳- مادی
۴- یاوان
۵- توبل
۶- مسک
۷- تیراس

ان کی کثرت سے اولاد ہوتی تھی کہ کہا جاتا ھے مخلوقات میں ملائکہ کے بعد انکی کثرت ہے-
یاجوج ماجوج خونخوار وحشی قبیلے تھے جو ارد گرد کے لوگوں پر ظلم و زیادتی کرتے- جنگجو اور ڈاکو قسم کے تھے-

یہ بھی کہا جاتا ھے کہ یہ تین اقسام کے تھے-
ایک تاڑ (کجھور کی قسم کے ایک لمبے درخت کا نام) سے زیادہ لمبے
اور
ایک لمبے چوڑے برابر(جنکی مثال ہاتھی سے دی جا سکتی ہے،
ایک کان بچھاتے اور دوسرا کان اوڑھتے، انکے آگے پہاڑ، پتھر کچھ نہ تھے-)

واللہ اعلم!

ذوالقرنین(سکندر اعظم) ایک صالح عادل بادشاہ تھے جو مشرق و مغرب اور شمال میں پہنچے، ممالک فتح کیے-
اللہ کی طرف سے انکو ہر قسم کے سامان اپنے مقاصد پورا کرنے کے عطا کر دیئے گئے تھے-
اس بادشاہ نے لوگوں کو انکے فساد سے بچانے کے لئے یاجوج ماجوج کو دو پہاڑوں کے درمیان ایک آہنی(لوہے کی بنی) دیوار کے ذریعے بند کیا-

(معارف القرآن )

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 5th, 2016, 9:37 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
علامات قیامت:
یاجوج ماجوج کا نکلنا

دجال کے قتل کے بعد لوگ امن و چین کی زندگی بسر کر رہے ہوں گے کہ یا جوج ماجوج کی دیوار ٹوٹ جاۓ گی اور یاجوج ماجوج نکل پڑیں گے-
(مسلم شریف)

ان کے نکلنے کے بعد اللہ کی طرف سے حضرت عیسی ع کو حکم ھو گا کہ وہ مسلمانوں کو طور کی طرف جمع کر لیں کیونکہ انکا مقابلہ کسی کے بس میں نہ ھو گا-
(علامات قیامت اور نزول مسیح)

یاجوج ماجوج اتنی تعداد میں تیزی سے نکلیں گے کہ ہر بلندی سے پھسلتے ہوۓ معلوم ہوں گے-
(مسلم،ابوداؤد،ترمذی،ابن ماجہ)

قیامت کی تیسری بڑی اور اہم علامت یاجوج ماجوج کا نکلنا ہے جو یافت بن نوح کی نسل سے ھیں-
(ابن کثیر)

مستدرک حاکم میں حضرت عبداللہ بن عمر ر.ض سے روایت ہے کہ رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا کہ-

"اللہ نے تمام انسانوں کے دس حصے کیے ان میں سے نو حصے یاجوج ماجوج کے ہیں اور باقی ایک میں باقی ساری دنیا کے انسان ہیں"

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 6th, 2016, 8:03 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
تاریخ کے جھروکوں سے

حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے غلام حضرت اسلم رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ میں ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کیساتھ حرہ کی طرف جارہا تھا ۔ ایک جگہ آگ جلتے ہوئی جنگل میں نظر آئی۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے فرمایا کہ شاید یہ کوئی قافلہ ہے جو رات ہو جانے کی وجہ سے شہر میں نہیں گیا باہر ہی ٹھہر گیا ۔ چلو اس کی خیر خبر لیں۔ رات کو حفاظت کا انتظام کریں ۔ وہاں پہنچے تو دیکھا کہ ایک عورت ہے جس کیساتھ چند بچے ہیں جو رو رہے ہیں اور چلارہے ہیں ، اور ایک دیگچی چولہے پر رکھی ہے جس میں پانی بھرا ہوا ہے اور اس کے نیچے آگ جل رہی ہے۔ انہوں نے سلام کیا اور قریب آنے کی اجازت لیکر اس کے پاس گئے اور پوچھاکہ یہ بچے کیوں رورہے ہیں۔ عورت نے کہا کہ بھوک سے لاچار ہو کر رورہے ہیں۔دریافت فرمایا کہ اس دیگچی میں کیا ہے۔ عورت نے کہا کہ پانی بھر کر بہلانے کے واسطے آگ پر رکھدی ہے کہ ذرا ان کو تسلی ہو جائے اور سو جائیں ۔امیرالمومنین عمر رضی اﷲ عنہ کا اور میرااللہ ہی کے یہاں فیصلہ ہوگا کہ میری اس تنگی کی خبر نہیں لیتے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ رونے لگے اور فرمایا کہ اللہ تجھ پر رحم کرے بھلا عمر رضی اﷲ عنہ کو تیرے حال کی کیا خبر ہے۔ کہنے لگی کہ وہ ہمارے امیر بنے ہیں اور ہمارے حال کی خبر بھی نہیں رکھتے۔ اسلم رضی اﷲ عنہ کہتے ہیں کہ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ مجھے ساتھ لیکر واپس ہوئے اور ایک بوری میں بیت المال میں سے کچھ آٹا اور کھجوریں اور چربی اور کچھ کپڑے اور کچھ درہم لئے۔ غرض اس بوری کو خوب بھر لیا۔ اور فرمایا کہ یہ میری کمر پر رکھدے۔ میں نے عرض کیا کہ میں لے چلوں ۔ آپ ؓنے فرمایا نہیں میری کمر پر رکھدے۔ دو تین مرتبہ جب میں نے اصرارکیا تو فرمایا کیا قیامت میں بھی میرے بوجھ کو تو ہی اٹھائے گا اس کو میں یہ اٹھاؤں گا اسلئے کہ قیامت میں مجھ ہی سے اسکا سوال ہوگا۔ میں نے مجبور ہو کر بوری کو آپکی کمر پر رکھدیا۔ آپ نہایت تیزی کے ساتھ اسکے پاس تشریف لے گئے۔ میں بھی ساتھ تھا۔ وہاں پہنچ کر اس دیگچی میں آٹا اور کچھ چربی اور کھجوریں ڈالیں اور اس کو چلانا شروع کیا اور چولہے میں خود ہی پھونک مارنا شروع کیا۔ اسلم ؓ کہتے ہیں کہ آپ کی گنجان داڑھی سے دھواں نکلتا ہوا میں دیکھتا رہا، حتیٰ کہ حریرہ سا تیار ہوگیا۔ اسکے بعد آپ نے اپنے دست مبارک سے نکال کر ان کو کھلایا۔ وہ سیر ہو کر خوب ہنسی کھیل میں مشغول ہوگئے اور جوبچا تھا وہ دوسرے وقت کے واسطے ان کے حوالے کر دیا۔ وہ عورت بہت خوش ہوئی اور کہنے لگی اللہ تعالیٰ تمہیں جزائے خیر دے، تم تھے اسکے مستحق کہ بجائے حضرت عمر رضی اﷲ عنہ کے تم ہی خلیفہ بنائے جاتے۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ نے اس کو تسلی دی اور فرمایا کہ جب تم خلیفہ کے پاس جاؤگی تو مجھ کو بھی وہیں پاؤگی ۔ حضرت عمر رضی اﷲ عنہ اسکے قریب ہی ذرا ہٹ کر زمین پر بیٹھ گئے اور تھوڑی دیر بیٹھنے کے بعد چلے آئے اور فرمایا کہ میں اسلئے بیٹھاتھا کہ میں نے انکو روتے ہوئے دیکھا تھا۔ میرا دل چاہا کہ تھوڑی دیر ان کو ہنستے ہوئے بھی دیکھو ں ۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 7th, 2016, 9:32 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
لقب فاروق

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے میں نے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ سے دریافت کیا کہ کس وجہ سے آپ کا لقب فاروق پڑا؟
انہوں نے کہا مجھ سے تین دن پہلے حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے پھر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ان کے اسلام لانے کا واقعہ بیان کرکے آخر میں کہا۔ جب میں مسلمان ہوا تو میں نے کہا اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم! کیا ہم حق پر نہیں ہیں خواہ زندہ رہیں خواہ مریں؟
آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کیوں نہیں۔ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے تم لوگ حق پر ہو خواہ زندہ رہو یا موت سے دوچار ہوجاؤ
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کہتے ہیں ہیں کہ اُسی وقت میں نے کہا پھر چھپنا کیسا؟ اس ذات کی قسم! جس نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا ہے ہم ضرور باہر نکلیں گے چنانچہ ہم دو صفوں میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہمرال لے کر باہر آئے ایک صف میں حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ تھے اور ایک میں، میں تھا ہمارے چلنے سے چکی کے آٹے کی طرح ہلکا ہلک غبار اڑ رہا تھا۔
یہاں تک کہ ہم مسجد حرام میں داخل ہوگئے اور وہاں عبادت کی
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا بیان ہے کہ قریش نے مجھے اور حمزہ رضی اللہ عنہ کو دیکھا تو اُن کے دلوں پر ایسی چوٹ لگی کہ اب تک نہ لگی ہوگی وہ لوگ مرجھا کررہ گئے بس اس دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میرا لقب فاروق رکھ دیا۔ "

الاصبابۃ مختصر جلد ١ صفحہ٥١٩

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 9th, 2016, 4:49 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
اسلام کی پہلی شہید خاتون

مکہ میں اسلام کی صدا بلند ہوئی تو حضرت سمعیہ رضی اﷲعنہ نے اس دعوت پر لبیک کہا، حضرت سمعیہ رضی اﷲعنہ کا اسلام قبول کرنے والوں میں ساتواں نمبرتھا۔ حضرت سمعیہ رضی اﷲعنہ خباط کی بیٹی اور حضرت عمار بن یاسر رضی اﷲعنہ کی والدہ تھیں۔کچھ دن اطیمنان سے گزرتے تھے کہ قریش کا ظلم وستم شروع ہوگیا اور یہ آئے دن بڑھتا ہی چلاگیا۔چنانچہ جو شخص جس پر قابو پاتا اسے سخت تکلیفیں دیتا۔ حضرت سمعیہ رضی اﷲعنہ کے ایمان کا جب قریش والوں کو علم ہوا تو انہوں نے شرک پر مجبور کرنا شروع کردیا لیکن وہ اپنے ایمان پر نہایت شدت سے قائم رہیں۔جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ مشرکین مکہ نے کو جلتی اور تپتی ریت پر لوہےکی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کردیا،لیکن ان کے عزم و استقلال میں فرق نہ پڑتا اور ان کے عزم کے سامنے یہ آتش کدہ سرد پڑجاتاتھا۔نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم ادھر سے گزرے تو فرماتے آل یاسر!صبرکرو اس کے عوض تمہارے لیے جنت ہے۔
اس طرح دن بھر مشقت میں رہ کر شام کو نجات ملتی تھی۔ایک مرتبہ شام کو کھرآئیں تو ابوجہل نے ان کوگالیاں دینی شروع کردیں پھر اس کا غصہ اس قدر بڑھا کہ اس نے ایسی پرچھی ماری کہ حضرت سمعیہ رضی اﷲعنہ شہید ہوگئیں۔یہ واقعہ ہجرت نبوی صلی اﷲعلیہ وسلم سے قبل کاہے،اس بنا پر حضرت سمعیہ رضی اﷲعنہ اسلام میں سب سے پہلے شہید ہوئیں۔
غزوہ بدر میں جب ابوجہل ماراگیا تو نبی کریم صلی اﷲعلیہ وسلم نے حضرت عمار رضی اﷲعنہ سے فرمایا:
"دیکھو تمہاری ماں کے قاتل کا اﷲ نے فیصلہ کردیا"
اﷲتعالی ان سے راضی وہ اپنے اﷲ سے راضی۔​

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 11th, 2016, 10:24 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
حضرت زیدؓ بن سعنہ شہیدؓ


نام ونسب: زید نام، بنی اسرائیل سے تھے اور یہود میں بہت بڑے حبر (عالم) شمار ہوتے تھے، آنحضرتﷺمدینہ تشریف لائے تو صورت دیکھتے ہی ان کو آپ کی نبوت کا یقین ہوگیا۔
تورات میں نبوت کی جو علامات مذکور ہیں، ان سے تطبیق دی تو صرف دو باتوں کی کمی محسوس ہوئی جن کا تعلق اخلاق سے تھا اور انہی کی تحقیق پر ان کا ایمان لانا موقوف تھاچنانچہ ایسا اتفاق ہوا کہ ایک روز دربار نبویﷺمیں ایک سوار پہنچا کہ فلاں گائوں کے لوگ مسلمان ہوگئے ہیں لیکن قحط زدہ ہیں، آپ سے کچھ امداد ہوسکے تو دریغ نہ کیجئے۔ شہنشاہ مدینہ کے پاس نام خدا کے سوا اور کیا تھا، زیدؓ کو اب آزمائش کا موقع ملا، تورات میں پیغمبر کی دو علامتیں مذکور ہیں، ایک یہ کہ اس کا حلم اس کے غیظ وغضب پر سبقت کرتا ہے اور دوسری یہ کہ جاہلانہ حرکتوں کا جواب تحمل سے دیتا ہے۔
زیدؓ علم کے ساتھ مال و دولت سے بھی بہر مند تھے۔ حضورﷺکی خدمت میں آئے اورکہا محمد(ﷺ) اگر چاہو تو فلاں باغ کے چھوہارے اتنی مدت کے لیے میرے ہاتھ رہن کردو، آپ ﷺ نے ۸۰ دینار (۴۰۰ روپے) پر چھوہاروں کی ایک معین مقدار رہن کردی اور روپیہ سوار کے حوالہ کیا۔
ایک روز آنحضرتﷺایک انصاری کے جنازہ پر تشریف لائے، حضرت ابو بکر وعمرؓ بھی ساتھ تھے، نماز سے فارغ ہوئے تو زید نے میعاد ختم ہونے سے قبل ہی تقاضا شروع کیا اور نہایت سختی کی، چادر اور قمیض کا دامن پکڑا، پھر آپ ﷺکی طرف گھور کر دیکھا اور کہا محمد (ﷺ) میرا حق نہ دو گے؟ خدا کی قسم! عبدالمطلب کی اولاد ہمیشہ کی نادہندہے۔ یہ جملہ سن کر حضرت عمرؓ کو طیش آگیا۔ بولے، خدا کے دشمن! میرے سامنے رسول اللہﷺکو یہ باتیں کہتا ہے خدا کی قسم وار خالی جانے کا احتمال نہ ہوتا تو ابھی تیرا سر اڑا دیتا۔ آنحضرتﷺحضرت عمرؓ کی طرف دیکھ کر مسکرائے اور فرمایا، یہ بات زیبا نہیں، تم ان کو قرض ادا کرنے کی فکر کرو، ان کو لے جاکر روپے دو، ۲۰۰ صاع اور زیادہ دینا جواس خفگی کا جرمانہ ہے۔ زید نے حضرت عمرؓ سے روپیہ لیا اور چونکہ ان دونوں وصفوں کی اب تصدیق ہوگئی تھی، اس لیے کلمہ توحید پڑھ کر فوراً مسلمان ہوگئے۔

غزوات
اکثر غزوات میں شامل ہوئے۔

وفات
غزوہ تبوک میں مدینہ واپس ہوتے وقت شہادت نصیب ہوئی، اس غزوہ میں نہایت شجاعت سے لڑے تھے، صاحب اصابہ لکھتے ہیں۔ استشھد فی غزوۃ تبوک مقبلا غیر مدبر

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 21st, 2016, 3:59 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
جنتی لاٹھی

یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مقدس لاٹھی ہے جس کو ''عصاءِ موسیٰ''کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ کے بہت سے اُن معجزات کا ظہور ہوا جن کو قرآن مجید نے مختلف عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرمایا ہے۔
اِس مقدس لاٹھی کی تاریخ بہت قدیم ہے جو اپنے دامن میں سینکڑوں اُن تاریخی واقعات کو سمیٹے ہوئے ہے جن میں عبرتوں اور نصیحتوں کے ہزاروں نشانات ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں جن سے اہل نظر کو بصیرت کی روشنی اور ہدایت کا نور ملتا ہے۔
یہ لاٹھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قد برابر دس ہاتھ لمبی تھی۔ اور اس کے سر پر دو شاخیں تھیں جو رات میں مشعل کی طرح روشن ہوجایا کرتی تھیں۔ یہ جنت کے درخت پیلو کی لکڑی سے بنائی گئی تھی اور اس کو حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے اپنے ساتھ لائے تھے۔ چنانچہ
حضرت سید علی اجہوزی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ ؎
واٰدَمُ مَعَہٗ اُنْزِلَ الْعُوْدُ وَالْعَصَا لِمُوْسٰی مِنَ الْاٰسِ النَّبَاتِ الْمُکَرَّمِ
وَ اَوْرَاقُ تِیْنٍ وَّالْیَمِیْنُ بِمَکَّۃَ وَ خَتْمُ سُلَیْمٰنَ النَّبِیِّ اَلمُعَظَّم
ترجمہ: حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ عود (خوشبودار لکڑی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا جو عزت والی پیلو کی لکڑی کا تھا،انجیر کی پتیاں، حجر اسود جو مکہ معظمہ میں ہے اور نبئ معظم حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی یہ پانچوں چیزیں جنت سے اُتاری گئیں۔
(تفسیر الصاوی ،ج۱،ص۶۹،البقرۃ:۶۰ )
حضرت آدم علیہ السلام کے بعد یہ مقدس عصاء حضرات انبیاء کرام علیہم الصلاۃ والسلام کو یکے بعد دیگرے بطور میراث کے ملتا رہا۔ یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ملا جو ''قومِ مدین''کے نبی تھے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے ہجرت فرما کر مدین تشریف لے گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح فرما دیا۔ اور آپ دس برس تک حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہ کر آپ کی بکریاں چراتے رہے۔ اُس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے حکمِ خداوندی (عزوجل) کے مطابق آپ کو یہ مقدس عصا عطا فرمایا۔
پھر جب آپ اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر مدین سے مصر اپنے وطن کے لئے روانہ ہوئے۔ اور وادی مقدس مقام ''طُویٰ'' میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی سے آپ کو سرفراز فرما کر منصب ِ رسالت کے شرف سے سربلند فرمایا۔ اُس وقت حضرت حق جل مجدہ نے آپ سے جس طرح کلام فرمایا قرآن مجید نے اُس کو
اِ س طرح بیان فرمایا کہ
وَمَا تِلْکَ بِیَمِیۡنِکَ یٰمُوۡسٰی ﴿17﴾قَالَ ہِیَ عَصَایَ ۚ اَتَوَکَّؤُا عَلَیۡہَا وَ اَہُشُّ بِہَا عَلٰی غَنَمِیۡ وَلِیَ فِیۡہَا مَاٰرِبُ اُخْرٰی ﴿18﴾
ترجمہ کنز الایمان :۔اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اِس میں اور کام ہیں۔(پ 16،طہ:17،18)
مَاٰرِبُ اُخْرٰی(دوسرے کاموں)کی تفسیر میں حضرت علامہ ابو البرکات عبداللہ بن احمد نسفی علیہ الرحمۃ نے فرمایا کہ مثلاً:۔
(۱)اس کو ہاتھ میں لے کر اُس کے سہارے چلنا (۲)اُ س سے بات چیت کر کے دل بہلانا (۳)دن میں اُس کا درخت بن کر آپ پر سایہ کرنا(۴)رات میں اس کی دونوں شاخوں کا روشن ہو کر آپ کو روشنی دینا (۵)اُس سے دشمنوں، درندوں اور سانپوں، بچھوؤں کو مارنا (۶)کنوئیں سے پانی بھرنے کے وقت اس کا رسی بن جانا اور اُس کی دونوں شاخوں کا ڈول بن جانا (۷)بوقتِ ضرورت اُس کا درخت بن کر حسبِ خواہش پھل دینا(۸)اس کو زمین میں گاڑ دینے سے پانی نکل پڑنا وغیرہ
(مدارک التنزیل،ج۳،ص۲۵۱،پ۱۶،طہ:۱۸)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 22nd, 2016, 1:21 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
افسوس آج کا حکمران ایسا نہیں


حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک دن خلاف معمول لوگوں کو مسجد میں جمع کیا اور ممبر پر تشریف فرما ہو کر فرمایا۔ لوگو ایک وقت تھا جب میں مفلس و محتاج تھا اور اجرت پر لوگوں کے اونٹ چَرایا کرتا تھا، عام بہشتی کی طرح پانی بھر بھر کر گزارے کے لائق دام اکٹھے کرلیتا تھا۔ یہ کہہ کر منبر سے نیچے اتر آئے.
لوگ بہت حیران ہوئے کہ یہ کیا ماجرا ہے اور آپ نے یہ بات کیوں کی۔ لوگوں کے پوچھنے پر حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ میرے دل میں خیال آیا کہ میں دوسرے مسلمانوں سے بہتر ہوں اس لیے ہی مجھے خلیفہ بنایا گیا ہے ۔ مجھ میں کچھ غرور آ گیا تھا۔ پس میں نے سمجھا کہ اپنے ماضی کی حالت زار بیان کروں تاکہ میرا غرور دور ہو جائے۔
" حیاتہ الصحابہ "

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 23rd, 2016, 1:53 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9074
Has thanked: 637 times
Been thanked: 6641 times

';SALAM''';;;;;
مکہ مکرمہ کیوں کر آباد ہوا

حضرت ابراہیم علیہ السلام کے فرزند حضرت اسماعیل علیہ السلام سرزمین شام میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ عنہا کے شکم مبارک سے پیدا ہوئے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی بیوی حضرت سارہ کے کوئی اولاد نہ تھی۔ اس لئے انہیں رشک پیدا ہوا اور انہوں نے حضرت ابراہیم علیہ السلام سے کہا کہ آپ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور ان کے بیٹے اسمٰعیل علیہ السلام کو میرے پاس سے جدا کر کے کہیں دور کردیجئے۔ خداوند قدوس کی حکمت نے ایک سبب پیدا فرمادیا۔ چنانچہ آپ پر وحی نازل ہوئی کہ آپ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور اسمٰعیل علیہ السلام کو اُس سرزمین میں چھوڑ آئیں جہاں بے آب و گیاہ میدان اور خشک پہاڑیوں کے سوا کچھ بھی نہیں ہے۔ چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کو ساتھ لے کر سفر فرمایا۔ اور اُس جگہ آئے جہاں کعبہ معظمہ ہے۔ یہاں اس وقت نہ کوئی آبادی تھی نہ کوئی چشمہ ،نہ دور دور تک پانی یا آدمی کا کوئی نام و نشان تھا۔ ایک توشہ دان میں کچھ کھجوریں اور ایک مشک میں پانی حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں رکھ کر روانہ ہو گئے۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے فریاد کی کہ اے اللہ عزوجل کے نبی اس سنسان بیابان میں جہاں نہ کوئی مونس ہے نہ غم خوار، آپ ہمیں بے یارومددگار چھوڑ کر کہاں جا رہے ہیں؟ کئی بار حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے آپ کو پکارا مگر آپ نے کوئی جواب نہیں دیا۔ آخر میں حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہانے سوال کیا کہ آپ اتنا فرما دیجئے کہ آپ نے اپنی مرضی سے ہمیں یہاں لا کر چھوڑا ہے یا خداوند قدوس کے حکم سے آپ نے ایسا کیا ہے؟ تو آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ اے ہاجرہ ! میں نے جو کچھ کیا ہے وہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے کیا ہے۔ یہ سن کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے کہا کہ اب آپ جایئے، مجھے یقین کامل اورپورا پورا اطمینان ہے کہ خداوند کریم مجھ کو اور میرے بچے کو ضائع نہیں فرمائے گا۔
اس کے بعد حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک لمبی دعا مانگی اور وہاں سے ملک شام چلے آئے۔ چند دنوں میں کھجوریں اور پانی ختم ہوجانے پر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا پر بھوک اور پیاس کا غلبہ ہوا اور ان کے سینے میں دودھ خشک ہوگیا اور بچہ بھوک و پیاس سے تڑپنے لگا۔ حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے پانی کی تلاش و جستجو میں سات چکر صفا مروہ کی دونوں پہاڑیوں کے لگائے مگر پانی کا کوئی سراغ دور دور تک نہیں ملا۔ یہاں تک کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام پیاس کی شدت سے ایڑیاں پٹک پٹک کر رو رہے تھے۔ حضرت جبرئیل علیہ السلام نے آپ کی ایڑیوں کے پاس زمین پر اپنا پیر مار کر ایک چشمہ جاری کردیا۔ اور اس پانی میں دودھ کی خاصیت تھی کہ یہ غذا اور پانی دونوں کا کام کرتا تھا۔ چنانچہ یہی زمزم کا پانی پی پی کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا اور حضرت اسمٰعیل علیہ السلام زندہ رہے۔ یہاں تک کہ حضرت اسمٰعیل علیہ السلام جوان ہو گئے اور شکار کرنے لگے تو شکار کے گوشت اور زمزم کے پانی پر گزر بسر ہونے لگی۔ پھر قبیلہ جر ہم کے کچھ لوگ اپنی بکریوں کو چراتے ہوئے اس میدان میں آئے اور پانی کا چشمہ دیکھ کر حضرت ہاجرہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی اجازت سے یہاں آباد ہو گئے اور اس قبیلہ کی ایک لڑکی سے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی شادی بھی ہو گئی۔ اور رفتہ رفتہ یہاں ایک آبادی ہو گئی۔ پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو خداوند قدوس کا یہ حکم ہوا کہ خانہ کعبہ کی تعمیر کریں۔ چنانچہ آپ نے حضرت اسمٰعیل علیہ السلام کی مدد سے خانہ کعبہ کو تعمیر فرمایا۔ اس وقت حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی اولاد اور باشندگانِ مکہ مکرمہ کے لئے جو ایک طویل دعا مانگی۔ وہ قرآن مجید کی مختلف سورتوں میں مذکور ہے۔ چنانچہ سورہ ابراہیم میں آپ کی اس دعا کا کچھ حصہ اس طرح مذکور ہے۔
رَبَّنَاۤ اِنِّیۡۤ اَسْکَنۡتُ مِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ بِوَادٍ غَیۡرِ ذِیۡ زَرْعٍ عِنۡدَ بَیۡتِکَ الْمُحَرَّمِ ۙ رَبَّنَا لِیُـقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ فَاجْعَلْ اَفْئِدَۃً مِّنَ النَّاسِ تَہۡوِیۡۤ اِلَیۡہِمْ وَارْزُقْہُمۡ مِّنَ الثَّمَرٰتِ لَعَلَّہُمْ یَشْکُرُوۡنَ 37
ترجمہ کنزالایمان:۔اے میرے رب میں نے اپنی کچھ اولاد ایک نالے میں بسائی جس میں کھیتی نہیں ہوتی تیرے حرمت والے گھر کے پاس اے ہمارے رب اس لئے کہ وہ نماز قائم رکھیں تو تو لوگوں کے کچھ دل ان کی طرف مائل کردے اور انہیں کچھ پھل کھانے کو دے شاید وہ احسان مانیں۔ (پ13،ابراہیم:37)
یہ مکہ مکرمہ کی آبادی کی ابتدائی تاریخ ہے جو قرآن مجید سے ثابت ہوئی ہے۔
دعاء ابراہیمی کا اثر:۔ اس دعا میں حضرت ابراہیم علیہ السلام نے خداوند قدوس سے دو چیزیں طلب کیں ایک تو یہ کہ کچھ لوگوں کے دل اولاد ابراہیم علیہ السلام کی طرف مائل ہوں اور دوسرے ان لوگوں کو پھلوں کی روزی کھانے کو ملے۔ سبحان اللہ عزوجل آپ کی یہ دعائیں مقبول ہوئیں۔ چنانچہ اس طرح لوگوں کے دل اہل مکہ کی طرف مائل ہوئے کہ آج کروڑہا کروڑ انسان مکہ مکرمہ کی زیارت کے لئے تڑپ رہے ہیں اور ہر دور میں طرح طرح کی تکلیفیں اٹھا کر مسلمان خشکی اور سمندر اور ہوائی راستوں سے مکہ مکرمہ جاتے رہے۔ اور قیامت تک جاتے رہیں گے اور اہل مکہ کی روزی میں پھلوں کی کثرت کا یہ عالم ہے کہ باوجودیکہ شہر مکہ اور اس کے قرب و جوار میں کہیں نہ کوئی کھیتی ہے نہ کوئی باغ باغیچہ ہے۔ مگر مکہ مکرمہ کی منڈیوں اور بازاروں میں اس کثرت سے قسم قسم کے میوے اور پھل ملتے ہیں کہ فرط تعجب سے دیکھنے والوں کی آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ جاتی ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ''طائف'' کی زمین میں ہر قسم کے پھلوں کی پیداوار کی صلاحیت پیدا فرما دی ہے کہ وہاں سے قسم قسم کے میوے اور پھل اور طرح طرح کی سبزیاں اور ترکاریاں مکہ معظمہ میں آتی رہتی ہیں اور اس کے علاوہ مصر و عراق بلکہ یورپ کے ممالک سے میوے اور پھل بکثرت مکہ مکرمہ آیا کرتے ہیں۔ یہ سب حضرت ابراہیم علیہ السلام کی دعاؤں کی برکتوں کے اثرات و ثمرات ہیں جو بلاشبہ دنیا کے عجائبات میں سے ہیں۔
اس کے بعد آپ نے یہ دعا مانگی جس میں آپ نے اپنی اولاد کے علاوہ تمام مومنین کے لئے بھی دعا مانگی۔

رَبِّ اجْعَلْنِیۡ مُقِیۡمَ الصَّلٰوۃِ وَمِنۡ ذُرِّیَّتِیۡ ٭ۖ رَبَّنَا وَتَقَبَّلْ دُعَآءِ ﴿40﴾رَبَّنَا اغْفِرْ لِی وَلِوَالِدَیَّ وَلِلْمُؤْمِنِیۡنَ یَوْمَ یَقُوۡمُ الْحِسَابُ ﴿٪41﴾ (پ13،ابرٰھیم:40،41)
ترجمہ کنزالایمان:۔اے میرے رب مجھے نماز کاقائم کرنے والا رکھ اور کچھ میری اولاد کو اے ہمارے رب اور میری دعا سن لے اے ہمارے رب مجھے بخش دے اور میرے ماں باپ کو اور سب مسلمانوں کو جس دن حساب قائم ہو گا۔
درسِ ہدایت:۔اس واقعہ سے دو باتیں خاص طور پر معلوم ہوئیں:۔
الف:-حضرت ابراہیم علیہ السلام اپنے رب تعالیٰ کے بہت ہی اطاعت گزار اور فرماں بردار تھے کہ وہ بچہ جس کو بڑی بڑی دعاؤں کے بعد بڑھاپے میں پایا تھا جو آپ کی آنکھوں کا نور اور دل کا سرور تھا، فطری طور پر حضرت ابراہیم علیہ السلام اس کو کبھی اپنے سے جدا نہیں کرسکتے تھے مگر جب اللہ تعالیٰ کا یہ حکم ہو گیا کہ اے ابراہیم! تم اپنے پیارے فرزند اور اس کی ماں کو اپنے گھر سے نکال کر وادیئ بطحا کی اُس سنسان جگہ پر لے جا کر چھوڑ آؤ جہاں سر چھپانے کو درخت کا پتّا اور پیاس بجھانے کو پانی کا ایک قطرہ بھی نہیں ہے، نہ وہاں کوئی یار و مددگار ہے، نہ کوئی مونس و غم خوار ہے۔ دوسرا کوئی انسان ہوتا تو شاید اس کے تصور ہی سے اُس کے سینے میں دل دھڑکنے لگتا، بلکہ شدتِ غم سے دل پھٹ جاتا۔ مگر حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ الصلوٰۃ والسلام خدا کا یہ حکم سن کر نہ فکر مند ہوئے، نہ ایک لمحہ کے لئے سوچ بچار میں پڑے، نہ رنج و غم سے نڈھال ہوئے بلکہ فوراً ہی خدا کا حکم بجا لانے کے لئے بیوی اور بچے کو لے کر ملک شام سے سرزمین مکہ میں چلے گئے اور وہاں بیوی بچے کو چھوڑ کر ملک شام چلے آئے۔ اللہ اکبر! اس جذبہ اطاعت شعاری اور جوشِ فرماں برداری پر ہماری جاں قربان
ب:-حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے فرزند حضرت اسمٰعیل علیہ السلام اور اُن کی اولاد کے لئے نہایت ہی محبت بھرے انداز میں اُن کی مقبولیت اور رزق کے لئے جو دعائیں مانگیں۔ اس سے یہ سبق ملتا ہے کہ اپنی اولاد سے محبت کرنا اور اُن کے لئے دعائیں مانگنا یہ حضرات انبیاء کرام علیہم السلام کا مبارک طریقہ ہے جس پر ہم سب مسلمانوں کو عمل کرنا ہماری صلاح و فلاح دارین کا ذریعہ ہے۔ واللہ تعالیٰ اعلم۔
(عجائب القرآن مع غرائب القرآن، صفحہ 148-144)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
Display posts from previous:  Sort by  
Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page 1, 2, 3, 4, 5  Next

All times are UTC + 5 hours


Related topics
 Topics   Author   Replies   Views   Last post 
There are no new unread posts for this topic. NAT GEO STAR PLUS HISTORY

AHMED786

0

36

August 29th, 2016, 6:38 am

AHMED786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. islamic history

tanweer786

0

41

April 29th, 2016, 8:04 am

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. History 2 0n Measat 3A 91.5'E

AasifAli786

1

54

July 31st, 2015, 7:29 am

Razaullah View the latest post

There are no new unread posts for this topic. History of the Computer

aftabbagrani

1

37

November 27th, 2015, 10:47 pm

Diljaley View the latest post

There are no new unread posts for this topic. history about pakistan

tanweer786

1

77

May 15th, 2016, 9:42 pm

tanweer786 View the latest post

 


Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 1 guest


You cannot post new topics in this forum
You cannot reply to topics in this forum
You cannot edit your posts in this forum
You cannot delete your posts in this forum

Search for:
Jump to:  

Advertisements

Telecom Updates

telecom news

jazz

Zong

Telenor

Ufone

News News Site map Site map SitemapIndex SitemapIndex RSS Feed RSS Feed Channel list Channel list
Powered by phpBB® Forum Software © phpBB Group

phpBB SEO