WWW.PAKLIGHT-SHARING.COM

ASIA & PAKISTAN NO 1 DIGITAL SATELLITE NETWORK FORUM
It is currently November 23rd, 2017, 4:00 pm

All times are UTC + 5 hours


FULL FAST ALL HD/SD CLINE MGLINE VPS RECHARGE SKRILL/PAYPAL DOLLER AVAILABLE CALL 0301 8331640



PAK TIGER SUPER FAST SERVER CCCAM HD+SD CLINE PANEL,VPS,LOW RATES CALL GULAB 0301 8001309


HD/SD CCCAM SERVER DISHTV+VIDECOIN HD/SD+RELINCE HD/SD+SUNHD/SD+DIALOGE SD/HD PROVIDER CALL ABBAS 0301 833 1640


WE ARE THANKS TO RAMZAN KHOSA/MUDASAR/JOYAHMED/MUDASSARRAJA/MAHDIKHAN/ARIF TO START FREE SERVER IN OUR SITE


ABBAS 786 CALL 0301 833 1640

Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1 ... 6, 7, 8, 9, 10  Next
Author Message
PostPosted: September 18th, 2016, 7:30 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times


';SALAM''';;;;;
حق کے ولی

جُلیبیب رضی اللہ عنہ ایک انصاری صحابی تھے۔ نہ مالدار تھے نہ کسی معروف خاندان سے تعلق تھا۔ صاحب منصب بھی نہ تھے۔ رشتہ داروں کی تعداد بھی زیادہ نہ تھی۔ رنگ بھی سانولا تھا۔ لیکن اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی محبت سے سرشار تھے۔ بھوک کی حالت میں پھٹے پرانے کپڑے پہنے اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوتے، علم سیکھتے اورصحبت سے فیض یاب ہوتے۔
ایک دن اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے شفقت کی نظر سے دیکھا اور ارشاد فرمایا:’’جُلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟‘‘
جُلیبیب رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: اللہ کے رسول! مجھ جیسے آدمی سے بھلا کون شادی کرے گا؟
اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے پھر فرمایا: ’’جُلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟‘‘ اوروہ جواباً عرض گزار ہوئے کہ اللہ کے رسول! بھلا مجھ سے شادی کون کرے گا؟ نہ مال نہ جاہ و جلال!!

اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے تیسری مرتبہ بھی ارشاد فرمایا: ’’جُلیبیب تم شادی نہیں کرو گے؟ جواب میں انھوں نے پھر وہی کہا: اللہ کے رسول! مجھ سے شادی کون کرے گا؟ کوئی منصب نہیں، میری شکل بھی اچھی نہیں، نہ میرا خاندان بڑا ہے اورنہ مال و دولت رکھتا ہوں۔
اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
’’فلاں انصاری کے گھرجائو اوران سے کہو کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم تمھیں سلام کہہ رہے ہیں اور فرما رہے ہیں کہ اپنی بیٹی سے میری شادی کردو۔‘‘
جُلیبیب رضی اللہ عنہ خوشی خوشی اس انصاری کے گھر گئے اور اور دروازے پر دستک دی۔ گھر والوں نے پوچھا: کون؟ کہا: جُلیبیب گھرکا مالک باہر نکلا، جُلییب کھڑے تھے۔ پوچھا: کیا چاہتے ہو، کدھر سے آئے ہو؟ کہا: اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے تمھیں سلام بھجوایا ہے۔
یہ سننے کی دیر تھی کہ گھر میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ اللہ کے رسول نے ہمیں سلام کا پیغام بھجوایا ہے۔ ارے! یہ تو بہت ہی خوش بختی کا مقام ہے کہ ہمیں اللہ کے رسول نے سلام کہلا بھیجا ہے۔
جُلیبیب کہنے لگے: آگے بھی سنو! اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے تمھیں حکم دیا ہے کہ اپنی بیٹی کی شادی مجھ سے کردو۔
صاحب خانہ نے کہا: ذرا انتظار کرو، میں لڑکی کی ماں سے مشورہ کرلوں۔
اندرجاکر لڑکی کی ماں کو پیغام پہنچایا اور مشورہ پوچھا؟ وہ کہنے لگی: نانا، نانا… قسم اللہ کی! میں اپنی بیٹی کی شادی ایسے شخص سے نہیں کروں گی، نہ خاندان، نہ شہرت، نہ مال و دولت، ان کی نیک سیرت بیٹی بھی گھر میں ہونے والی گفتگو سن رہی تھی اور جان گئی تھی کہ حکم کس کا ہے؟ کس نے مشورہ دیا ہے؟ سوچنے لگی اگر اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم اس رشتہ داری پرراضی ہیں تو اس میں یقینا میرے لیے بھلائی اور فائدہ ہے۔
اس نے والدین کی طرف دیکھا اور مخاطب ہوئی:
’’کیا آپ لوگ اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم کا حکم ٹالنے کی کوشش میں ہیں؟ مجھے اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم کے سپرد کردیں(وہ اپنی مرضی کے مطابق جہاں چاہیں میری شادی کردیں)
لڑکی کا والد اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اورعرض کی: اللہ کے رسول! آپ کا حکم سر آنکھوں پر آپ کا مشورہ، آپ کے حکم قبول، میں شادی کے لیے راضی ہوں۔

پھر جُلیبیب رضی اللہ عنہ کے ساتھ اس کی شادی ہوگئی۔ مدینہ منورہ میں ایک اور گھرانہ آباد ہو گیا جس کی بنیاد تقویٰ اور پرہیز گاری پر تھی،
ایک جنگ میں اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں کو فتح نصیب فرمائی۔ رسول اکرم صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے اپنے صحابہ کرام سے دریافت فرمایا:
’’دیکھو! تمھارا کوئی ساتھی بچھڑ تو نہیں گیا؟‘‘
مطلب یہ تھا کہ کون کون شہید ہو گیا ہے؟
صحابہ نے عرض کیا: ہاں، فلاں فلاں حضرات موجود نہیں ہیں۔
پھر ارشاد ہوا: ’’کیا تم کسی اور کو گم پاتے ہو؟‘‘
صحابہ نے عرض کیا: نہیں۔
آپ نے فرمایا: ’’لیکن مجھے جُلیبیب نظر نہیں آرہا، اس کو تلاش کرو۔‘‘
چنانچہ ان کو میدان جنگ میں تلاش کیا گیا۔
وہ منظر بڑا عجیب تھا۔ میدان جنگ میں ان کے ارد گرد سات کافروں کی لاشیں تھیں۔ گویا وہ ان ساتوں سے لڑتے رہے اور پھر ساتوں کو جہنم رسید کرکے شہید ہوئے۔ اللہ کے رسول صلی اللہ علی وآلہ وسلم کو خبر دی گئی۔ رؤف و رحیم پیغمبر تشریف لائے۔ اپنے پیارے ساتھی کی نعش کے پاس کھڑے ہوئے۔ منظر کو دیکھا۔ پھر فرمایا:
’’اس نے سات کافروں کو قتل کیا، پھر دشمنوں نے اسے قتل کردیا۔ یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں یہ مجھ سے ہے اور میں اس سے ہوں۔‘‘
’’پھر آپ نے اپنے پیارے ساتھی کو اپنے ہاتھوں میں اٹھایا اور شان یہ تھی کہ اکیلے ہی اس کو اٹھایا ہوا تھا۔ صرف آپ کو دونوں بازوئوں کا سہارا ایسے میسر تھا۔‘‘
جُلیبیب رضی اللہ عنہ کے لیے قبر کھودی گئی، پھر نبی صلی اللہ علی وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارے سے انھیں قبر میں رکھا۔
(صحیح مسلم: 2472)


_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: September 20th, 2016, 11:11 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ہرمزان

حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے زمانہ خلافت میں ہرمزان ، نہاوند کا ایرانی گورنر تھا اور مسلمانوں کا کٹر دشمن تھا . اسکی وجہ سے مسلمانوں اور ایرانیوں میں کئی لڑائیاں هوئیں . آخر ایک لڑائی میں ہرمزان گرفتار
ہوا . اسے یقین تھا کہ اسے موت کے گھاٹ اتار دیا جائے گا . لیکن امیر المومنین حضرت عمر رضی الله عنہ نے اسے اس شرط پر رہا کر دیا کہ وه آئیندہ جزیہ دے گا .
آزاد ہو کر وه اپنے دارلخلافہ پہنچا ، بہت بڑی فوج اکٹھی کی اور مسلمانوں کے مقابلے میں اتر آیا . لیکن اس بار بهی اسے شکست ہوئی اور ہرمزان دوبارہ سے گرفتار ہو کر خلیفہ کے سامنے پیش کیا گیا .
ہرمزان کے چہرے سے صاف ظاہر تھا که وه خود کو صرف کچھ لمحوں کا مہمان سمجھتا ہے .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے ہمارے ساتھ کئی بار عہد شکنی کی ہے . تم جانتے ہو کہ اس جرم کی سزا موت ہے ؟
ہرمزان نے کہا ہاں میں جانتا ہوں . اور مرنے کیلئے تیار ہوں .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اسے اسلام قبول کرنے کو کہا لیکن اس نے انکار کردیا اور کہا کہ میری ایک آخری خواہش ہے .
آپ نے پوچھا : کیا ؟
ہرمزان نے کہا میں شدید پیاسا ہوں اور پانی پینا چاہتا ہوں .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے حکم پر اسے پانی کا پیالہ پیش کیا گیا .
ہرمزان نے پیالہ ہاتھ میں پکڑ کر کہا: مجھے خوف ہے کہ پانی پینے سے پہلے ہی مجھے قتل نہ کر دیا جائے .
آپ نے فرمایا : اطمینان رکھو ، جب تک تم پانی نہ پی لو گے کوئی شخص تمہارے سر کو نہ چھوئے گا .
ہرمزان نے کہا: آپ نے مجھ سے وعدہ کیا ہے کہ جب تک میں پانی نہ پیوں گا ، مجھے قتل نہ کیا جائے گا . میں یہ پانی کبھی نہیں پیوں گا . یہ کہہ کر اس نے پیاله توڑ دیا اور کہنے لگا اب آپ مجھے کبھی قتل نہیں کر سکتے .
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے مسکرا کر فرمایا
تم نے عجیب چال چلی ہے لیکن عمر کو اپنے لفظوں کا پاس ہے . جاؤ تم آزاد ہو .
ہرمزان شکرگزاری اور حیرانی کے تاثرات کے ساتھ چلا گیا .
چند دن بعد ہی ہرمزان اپنے کچھ ساتھیوں سمیت خلیفہ کے سامنے حاضر ہوا اور درخواست کی کہ ہمیں اسلام میں داخل کرلیجئے
حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا تم نے اس وقت اسلام قبول کیوں نہ کیا جب میں نے تمہیں دعوت دی تھی
ہرمزان نے کہا کہ صرف اس لیے کہ آپ یہ نہ سمجھیں کہ میں نے موت کے خوف سے کلمہ پڑھ لیا ہے ۔ اب میں اپنی رضا سے اسلام قبول کرتا ہوں
( اسلامی واقعات کی کتاب"بصائر"سے اقتباس )

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: October 2nd, 2016, 7:56 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times

';SALAM''';;;;;
صحابہ کرام رضوان اللہ

حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ جناب عمر رضی اللہ عنہ کے زمانے میں شام کے گورنر تھے اور گورنر شام ان کو اس لیے بنایا گیا تھا کہ اکتر علاقہ انھو ں نے فتح کیا تھا اس وقت شام کے علاقے میں چار ممالک ھیں یعنی اردن،شام ،فلسطین،لبنان اس وقت یہ چاروں علاقہ اسلامی ریاست کا ایک صوبہ تھے ااور حضرت عبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ اسکے گورنر تھے اور شام کا صوبہ بڑا زرخیز تھا مال اور دولت کی ریل پیل اور روم کا نیندیدہ اور چہچہا علاقہ تھا جناب عمر رضی اللہ عنہ مدینہ میں رہ کر سارے عالم اسلام کی کمان کیا کرتے تھے چنانچہ ایک دفعہ معائنہ کرنے کے لیے شام دورہ پر تشریف لاے شام دورہ کے دوران ایک مرتبہ حضرت عمر نے فرمایا اے ابو عبیدہ میرا دل چاھتا ھے کہ میں اپنے بھائی کا گھر دیکھوں جہاں تم رھتے ھو جناب عمر رضی اللہ عنہ کے ذہن میں شاید یہ تھا کا کہ ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اتنے بڑ یے صوبہ کے گورنر بن گیے ھیں اور یہاں دولت کی فراوانی ھے اس لے انکا گھر دیکھنا چاہیے کے انھوں نے کتنا مال جمع کیا ھے اور گھر کیسا بنایا ہے
ابو عبیدہ نے جواب دیا کے امیر المومنین آپ میرے گھر کو دیکھ کر کیا کریں گے اس لیے کے جب آپ میرے گھر کو دیکھیں گے تو آنکھیں نچوڑنے کے سوا کچھ حاصل نہ ھو گا تو عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اسرار فرمایا کے میں دیکھنا چاھتا ھوں
چنانچہ ابو عبیدہ امیر المومنین کو لے کر چلے شہر کے اندر سے گزر رھے تھے جاتے جاتے جب شہر کی آبادی ختم ھو گئ تو حضرت عمر نے پوچھا کہاں لے کر جارھے ھو ؟ حضرت ابو عبیدہ عبیدہ نے جواب دیا بس اب تو قریب ھے چنانچہ پورا دمشق شہر جو دنیا کے مال و اسباب سے جگ مگا رھا تھا گزر گیا آخر میں لے جا کر کھجور کے پتوں سے بنا جھونپڑا دکھایا سواے ایک مصلّے کے کوئی چیز نظر نہ آئی حضرت عمر نے پوچھا تم اس میں رھتے ھو ؟ یہاں تو کوئی سازوسامان کوئی برتن کوئی کھانے پینے اور سونے کا انتظام نھی ھے تم یھا ں کیسے رھتے ھو؟

انھون نے جواب دیا کے اے امیر المومنین الحمداللہ میری ضرورت کے سارے سامان میسر ھیں یہ مصلی ھے اس پر نماز پڑھ لیتا ھون اور رات کو اس پر سو جاتا ھوں اور پھر اپنا ہاتھ اوپر چھپر کی طرف اٹھایا اور وہاں سے ایک پیالہ نکالا جو نظر نھی آ رھا تھا اور وہ پیالہ نکال کر دیکھایا کے امیر المومنین برتن یہ ھے حضرت عمر نے جب اس برتن کو دیکھا تو اس مین پانی بھرا ھوا تھا اور سوکھی روٹی کے ٹکڑے بھیگے ھوے تھے اور پھر حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ امیر المومنین میں دن رات تو حکومت کے کاموں میں لگا رھتا ھوں کھانے وغیرہ کے کاموں سے فرصت نھی ھوتی ایک خاتون میرے لیے دو تین دن کی روٹی ایک وقت میں پکا دیتی ھے میں اس روٹی کو کھا لیتا ھوں اور جب سوکھ جاتی ھے تو اس کو پانی مین ڈبو دیتا ھوں اور رات کو سوتے وقت کھا لیتا ھوں جناب عمر رضی اللہ عنہ نے یہ حا لت دیکھی تو آنکھوں میں آنسو آ گئے حضرت ابو عبیدہ نے فرمایا کہ امیر المومنین میں تو آپ سے پہلے ھی کہہ رھا تھا کے میرا مکان دیکھنے کے بعد آپ کو آنکھیں نچوڑنے کاے سوا کچھ نھی حاصل ھو گا -حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ اے ابو عبیدہ رضی اللہ عنہ اس دینا کی ریل پیل نے ھم سب کو بدل دیا مگر اللہ کی قسم تم ویسے ھی ھو جیسے رسول اللہ صلى اللہ عليہ وسلم کے زمانے میں تھے اس دنیا نے تم پر کوئی اثر نہیں ڈالا-

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: October 3rd, 2016, 7:55 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times

';SALAM''';;;;;
تابوت سکینہ

تابوت سکینہ
تابوت سکینہ مسلمانوں کے لئے صرف ایک صندوق جتنی اہمیت رکھتا ہے اور قرآن میں اس کے بارے میں صرف یہ بیان کیا گیا ہے کہ اسکو اس وقت فرشتوں نے اٹھایا ہوا ہے مزید اسکے بارے میں قرآن اور حدیث میں مکمل خاموشی ہے - لیکن تابوت سکینہ یہودی مذہب میں بہت اہمیت کا حامل ہے اور اسے انتہائ مقدس سمجھا جاتا ہے- عیسائیت میں بھی یہ اہمیت کا حامل ہے اور اسکا ذکر انکی کتابوں میں بھی ملتا ہے - یہودیوں اور عیسائیوں کے نظریے کے مطابق تابوت سکینہ حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداکے کہنے پر بنایا تھا اور اس میں وہ پتھر کی لوحیں لاکر رکھی تھیں جو انکو خدا نے کوہ سینا پر دی تھیں اور جن میں یہودی مذہب کی تعلیمات بیان کی گئ تھیں- مزید یہ بھی کہا جاتا ہے کہ اس میں حضرت موسی کا عصا، اور من بھی رکھا گیا تھا جو کہ بنی اسرایئل کے لوگوں کے لئے اللہ تعالٰی نے آسمان سے نازل کیا تھا - یہ بہت مقدس تابوت شمار کیا جاتا تھا اورہمیشہ مذہبی رہنما اسکو اٹھایا کرتے تھے اور اسکی حفاظت کے لئے فوج کا ایک دستہ بھی ہمیشہ ساتھ رہتا تھا نیز یہ بنی اسرائیل کے نزدیک فتح اور برکت کی علامت تھا- اسکو جنگوں کے دوران لشکر سے آگے رکھا جاتا تھا اور یہ سمجھا جاتا تھا کہ اس تابوت کی برکت کی وجہ سے جیت ہمیشہ بنی اسرایئل کی ہی ہو گی - جب بنی اسرائیل اللہ کے احکامات کی نافرمانی کرنے لگے اور کھلم کھلا وہ کام کرنے لگے جن سے اللہ نے انہیں منع کیا تھا تو یہ تابوت ان سے ایک جنگ کے دوران کھو گیا اور انہیں شکست کا سامنا کرنا پڑا- یہ تابوت حضرت طالوت کے زمانے میں واپس مل گیا اور اسی بارے میں قرآن میں بھی ارشاد ہے،"ان لوگوں سے انکے نبی نے کہا کہ طالوت کے بادشاہ ہونے کی علامت یہ ہے کہ تمہارے پاس وہ صندوق واپس آ جائے گا جس میں تمہارے رب کی طرف سے تسکین قلب کا سامان ہے اور وہ کچھ اشیاء بھی ہیں جو حضرت موسیٰ اور حضرت ہارون چھوڑ گئے تھے اسکو فرشتے اٹھا کر لائیں گے اور بلاشبہ اس میں تمہارے لئے بڑی نشانی ہے اگر تم ایمان رکھتے ہو "- یہ تابوت جب تک مشرکین کے پاس رھا تب تک اسکی وجہ سے ان پر مشکلات نازل ہوتی رہیں اور آخر کار تنگ آکر انہوں نے اسے ایک بیل گاڑی پر رکھ کر اپنے علاقے سے باہر نکال دیا اور فرشتوں نے اس بیل گاڑی کو ہنکا کر واپس بنی اسرایئل تک پہنچا دیا اور غالبا"اسی بات کی طرف قرآن پاک میں بھی اشارہ کیا گیا ہے - حضرت داؤد کے زمانے تک اس تابوت کو رکھنے کے لئے کوئ خاص انتظام نہیں تھا اور اسکے لئے پڑاؤ کی جگہ پر ایک الگ خیمہ لگا دیا جاتا تھا- حضرت داؤد نے خدا کے حکم سے خدا کا گھر بنانا شروع کیا جو عین اس مقام پر ہے جہاں آج مسجد اقصیٰ موجود ہے-لیکن یہ عالی شان گھر آپ کے بیٹے حضرت سلیمان کے عہد میں مکمل ہوا اور اسکو ہیکل سلیمانی کے نام سے جانا جاتا ہے- اس گھر کی تعمیر کے بعد تابوت سکینہ کو یہاں پورے احترام کے ساتھ رکھ دیا گیا- اور اس طرح یہ مقام یہودیوں کا مقدس ترین مقام بن گیا - بعد کے زمانے میں ہونے والی جنگوں نے اس ہیکل کو بہت نقصان پہنچایا لیکن بابل کے بادشاہ بخت نصر نے اس کو مکمل طور پر تباہ کر دیا اور اسکو آگ لگا دی ، وہ یہاں سے مال غنیمت کے ساتھ ساتھ تابوت سکینہ بھی لے گیا تھا- اس تباہی کے نتیجے میں آج اصلی ہیکل کی کوئ چیز باقی نہیں ہے-

ان تمام تباہیوں کے نتیجے میں تابوت سکینہ کہیں غائب ہو گیا اور اسکا کوئ نشان نہیں ملا- آج بھی بہت سارے ماہر آثار قدیمہ اور خصوصا"یہودی مذہب سے تعلق رکھنے والے ماہر اسکی تلاش میں سرکرداں ہیں تاکہ اسکو ڈھونڈ کر وہ اپنی اسی روحانیت کو واپس پا سکیں جو کبھی ان کو عطا کی گئ تھی-
تابوت سکینہ کی موجودہ جگہ کے بارے میں مختلف لوگ قیاس آرائیاں کرتے رہتے ہیں کچھ کے نزدیک اس کو افریقہ لے جایا گیا، ایک مشہور ماہر آثار قدیمہ ران وائٹ کا کہنا ہے کہ یہ مشرق وسطیٰ میں موجود ہے اور کچھ لوگوں کے مطابق اسکو ڈھونڈنے کی کوشش انگلینڈ کے علاقے میں کرنی چاہیے- بہرحال کوششیں جاری ہیں لیکن تاحال انہیں ناکامی کا سامنا ہے.

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: October 5th, 2016, 7:43 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times

';SALAM''';;;;;
Hazrat Ali Murtaza Ki Shahadat

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: October 19th, 2016, 10:50 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times

';SALAM''';;;;;
Hazrat Ibraheem
Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: October 22nd, 2016, 7:55 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times

';SALAM''';;;;;
ISLAMIC HISTORY
Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: October 24th, 2016, 9:46 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times

';SALAM''';;;;;
IN THE LIGHT OF ISLAM
Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: October 30th, 2016, 12:07 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times

';SALAM''';;;;;
اصحابُ الاخدود کا واقعہ

قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِالنَّارِ o ذَاتِ الْوَقُودِoإِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌoوَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌoوَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِoالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
["](کہ) خندقوں والے ہلاک کئے گئے وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔‏ یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناہ) کا بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وہ اللہ غالب لائق حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے جس کے لئے آسمان و زمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالٰی کے سامنے ہے ہر چیز۔‏
بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا، جس نے اپنے پاس ایک جادوگررکھا ہوا تھا۔ جب جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک سمجھدار لڑکا دیجئے جسے میں اپنا تمام عمل سکھادوں، تاکہ وہ میرے بعد تیرے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکا مقرر کردیا۔ جو اس سے جادو سیکھنے لگا۔ اس لڑکے کے گھر اور جادو گر کے درمیان کے راستہ میں ایک عبادت گاہ تھی جس میں ایک راہب ﴿یہود کا عالم﴾اللہ کی عبادت کرتااور لوگوں کودین سکھایاکرتا تھا۔ لڑکا اس کے پاس بھی جاکر دین کا علم سیکھنے لگا۔ اتفاق سے ایک دن ایسا ہوا کہ جب وہ راہب کے پاس سے جادوگر کے پاس جانے کے لئے نکلا تو اس نے دیکھاکہ ایک بہت بڑا اژدھا لوگوں کے راستہ میں آکر کھڑا ہوگیاہے جس سے لوگوں کی آمد ورفت رک گئی ہے۔ اس نے سوچا یہ موقع اچھا ہے اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ جادو گر کا مذہب سچا ہے یا اس راہب کا۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور اللہ سے دعاکی کہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور مرجائے ورنہ ، نہ مرے۔ یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا تو اژدھا فوراً مرگیا۔
لوگوں نے یہ دیکھ کر لڑکے کے علم کا اعتراف کرلیا۔ ایک اندھا اس کے پاس آیا اور کہا کہ اگر تو اپنے اسی علم کی بدولت میری بینائی لوٹا دے تو میں تجھے اپنی ساری دولت دے دوںگا۔ لڑکے نے کہاکہ مجھے تم سے کوئی انعام نہیں چاہئے یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے،ہاں اگر تمہاری بینائی لوٹ آئی تو کیا تم اللہ پر ایمان لے آؤ گے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ چنانچہ لڑکے نے دعا کی اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹادی تو وہ ایمان لے آیا۔ جب بادشاہ کو اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے راہب، لڑکے اور سابق نابینا کو اپنے دربار میں بلوایا اور کہا کہ کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی رب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ ہی ہم سب کا رب ہے۔ بادشاہ نے لڑکے کے علاوہ ان دونوں کو آرے سے چیرکر دوٹکڑے کرادیا۔ اور لڑکے کے بارے میں اپنی فوج کے ایک دستہ کوحکم دیا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جاکراس سے اللہ کا دین چھوڑنے کا پوچھنا اگر چھوڑدے تو ٹھیک ، ورنہ دھکا دے دینا تاکہ نیچے گرکر مر جائے۔ جب وہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے اللہ سے یہ دعا کی :۔ ’’اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْھِمْ بِمَا شِئْتَ‘‘﴿اے اللہ جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے﴾۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر لرزہ طاری کردیاوہ ساری فوج جو اس کومارنے گئی تھی ، خود گر کر مرگئی۔ اور لڑکا صحیح وسلامت دوبارہ بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا کہ میرے فوجی کہاں ہیں۔ اس نے کہا کہ ان تمام کو میرے رب نے مارڈالا اور مجھے بچالیا۔
بادشاہ نے پھر دوسرے دستہ کو حکم دیا کہ اسے سمندر میں لے جاؤ اور جب درمیان میں پہنچو تو اس سے ﴿اللہ کا﴾ دین چھوڑنے کا پوچھنا اگر چھوڑدے تو ٹھیک ورنہ ڈبو دینا۔ وہ اسے لے گئے جب درمیان میںپہنچے تو اس لڑکے نے پھر اللہ سے وہی دعاکی، اللہ نے تمام کو غرق کردیا اور اس لڑکے کو بچالیا۔ وہ پھر بادشاہ کے دربار میںپہنچاتو بادشاہ نے پوچھا کہ میرے فوجی کہاں ہیں۔ اس نے پھر وہی جواب دیا اور کہا کہ اگر تو مجھے مارنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک بہت بڑے میدان میں تمام رعایا کو جمع کر اور میرے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر میری کمان میں لگا کر یہ کلمات : ’’بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلاَمِ‘‘﴿اللہ کے نام کے ساتھ میں تیر چلاتا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے﴾ پڑھ کر مجھ پر تیر پھینک، میں مر جاؤں گا۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مر گیا تو ساری قوم جو یہ منظر دیکھ رہی تھی فوراً اللہ پر ایمان لے آئی اور اس کی بندگی کا اقرار کرلیا۔ بادشاہ یہ دیکھ کربہت پریشان ہوا اور اس نے اپنے فوجیوں کو خندقیں کھودنے اور ان میں لکڑیوں کے ذریعہ آگ جلانے کا حکم دیا اور تمام کو اس کے گرد اکھٹاکرکے ہر ایک سے اس کے دین کے بارے میںپوچھاجاتا، جو توحید کا اقرار کرتا اسے زندہ آگ میں پھینک دیا جاتا۔ اس طرح بہت سارے مومن مردوں اور عورتوں کو آگ میں زندہ جلادیاگیا۔ وہ آگ بہت ہی زیادہ بھیانک اور بڑی تیز تھی۔مومنین کو اس لئے انتقام کا نشانہ بنایاگیا کہ وہ اللہ ربُّ العالمین پر ایمان لاچکے تھے۔ ﴿مسلم۔ عن صہیب رضی اللہ عنہ ﴾

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: October 31st, 2016, 7:58 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6670 times

';SALAM''';;;;;
ISLAMIC HISTORY

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
Display posts from previous:  Sort by  
Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1 ... 6, 7, 8, 9, 10  Next

All times are UTC + 5 hours


Related topics
 Topics   Author   Replies   Views   Last post 
There are no new unread posts for this topic. NAT GEO STAR PLUS HISTORY

AHMED786

0

81

August 29th, 2016, 6:38 am

AHMED786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. islamic history

tanweer786

0

83

April 29th, 2016, 8:04 am

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. History 2 0n Measat 3A 91.5'E

AasifAli786

1

100

July 31st, 2015, 7:29 am

Razaullah View the latest post

There are no new unread posts for this topic. History of the Computer

aftabbagrani

1

74

November 27th, 2015, 10:47 pm

Diljaley View the latest post

There are no new unread posts for this topic. history about pakistan

tanweer786

1

128

May 15th, 2016, 9:42 pm

tanweer786 View the latest post

 


Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 3 guests


You cannot post new topics in this forum
You cannot reply to topics in this forum
You cannot edit your posts in this forum
You cannot delete your posts in this forum

Search for:
Jump to:  
News News Site map Site map SitemapIndex SitemapIndex RSS Feed RSS Feed Channel list Channel list
Powered by phpBB® Forum Software © phpBB Group

phpBB SEO