WWW.PAKLIGHT-SHARING.COM

ASIA & PAKISTAN NO 1 DIGITAL SATELLITE NETWORK FORUM
It is currently April 24th, 2017, 6:31 am

All times are UTC + 5 hours


New PowerVu Ecm Updates Here Ipl 10 t20 latest feed biss Cw key Channel9-Biss

DISHTVHD,SD SUNHD,SD DAILOGE BIGTVHD,SD 85E 56E,URDU1,HBO ALL EUROPEN PACKAGE 100% FULL OK CALL,0301 8331640


PAK TIGER SUPER FAST SERVER CALL 0301 8001309 MALIK ASLAM 0301 7585880


DishTV SD&HD 95E_100E Sun DTH SD&HD 91E_93E Reliance TV SD&HD 91E Videocon SD&HD 88E Kontinent SD&HD 85E Dialog TV SD&HD 45E Hotbird 13eLOW RATE CALL ABBAS786 0301 8331640


ALL DTH RECHARGE AND RECHARGE INR AVALIBALE LOW PRICE CALL HAMAD 03439620377 03075401482



Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5  Next
Author Message
PostPosted: July 3rd, 2016, 3:30 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times


';SALAM''';;;;;
حضرت خدیجہ طاھرہؓ

ImageImage
New PowerVu Ecm Updates Here Ipl 10 t20 latest feed biss Cw key Channel9-Biss


_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 4th, 2016, 10:24 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا

ام المؤمنین حضرت سیدتنا خدیجۃ الکبریٰ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے چھ خصوصی فضائل
آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سب سے پہلے سرورِ کائنات، فخرِ موجودات ﷺ کے ساتھ رشتہ ازدواج میں منسلک ہوئیں اور ام المؤمنین یعنی قیامت تک کے سب مؤمنین کی ماں ہونے کے پاکیزہ واعلیٰ منصب پر فائز ہوئیں۔
رسولِ کریم، رَءُوْفٌ رَّحیم ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کی حیات میں کسی اور سے نکاح نہیں فرمایا۔
سرکارِ نامدار، مدینے کے تاجدار ﷺ کی تمام اولاد سوائے حضرت ابراہیم رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے، آپ ہی سے ہوئی۔
دیگر ازواجِ مطہرات رضی اللہ تعالیٰ عنہن کی نسبت آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے سب سے زیادہ عرصہ کم وبیش 25 برس رسولِ نامدار، مدینے کے تاجدار ﷺ کی رفاقت و ہمراہی میں رہنے کا شرف حاصل کیا۔
سید الانبیاء، محبوبِ کبریاء ﷺ کے ظہورِ نبوت کی سب سے پہلی خبر آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کو ہی پہنچی۔
تاجدارِ رسالت ﷺ کے بعد اسلام میں سب سے پہلے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا نے نماز پڑھی۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 5th, 2016, 11:03 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
خلیفہ ثانی حضرت عمر رضی اللہ تعالیٰ عنہ علامہ ابتسام الہٰی ظہیر (دین سے دنیا تک

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 8th, 2016, 4:36 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
حضرت موسیٰ علیہ السلام کے عصا کا واقع

یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مقدس لاٹھی ہے جس کو”عصاء ِ موسیٰ“کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ کے بہت سے اْن معجزات کا ظہور ہوا جن کو قرآن مجید نے مختلف عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرمایا ہے
یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مقدس لاٹھی ہے جس کو”عصاء ِ موسیٰ“کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ کے بہت سے اْن معجزات کا ظہور ہوا جن کو قرآن مجید نے مختلف عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرمایا ہے۔اِس مقدس لاٹھی کی تاریخ بہت قدیم ہے جو اپنے دامن میں سینکڑوں اْن تاریخی واقعات کو سمیٹے ہوئے ہے جن میں عبرتوں اور نصیحتوں کے ہزاروں نشانات ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں جن سے اہل نظر کو بصیرت کی روشنی اور ہدایت کا نور ملتا ہے۔
یہ لاٹھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قد برابر دس ہاتھ لمبی تھی۔ اور اس کے سر پر دو شاخیں تھیں جو رات میں مشعل کی طرح روشن ہوجایا کرتی تھیں۔ یہ جنت کے درخت پیلو کی لکڑی سے بنائی گئی تھی اور اس کو حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے اپنے ساتھ لائے تھے۔
حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ عود (خوشبودار لکڑی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا جو عزت والی پیلو کی لکڑی کا تھا،انجیر کی پتیاں، حجر اسود جو مکہ معظمہ میں ہے اور نبء معظم حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی یہ پانچوں چیزیں جنت سے اتاری گئیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کے بعد یہ مقدس عصاء حضرات انبیاء کرام علیہم الصلا والسلام کو یکے بعد دیگرے بطور میراث کے ملتا رہا۔ یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ملا جو ”قومِ مدین” کے نبی تھے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے ہجرت فرما کر مدین تشریف لے گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح فرما دیا۔ اور آپ دس برس تک حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہ کر آپ کی بکریاں چراتے رہے۔ اس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے حکمِ خداوندی (عزوجل) کے مطابق آپ کو یہ مقدس عصا عطا فرمایا۔
پھر جب آپ اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر مدین سے مصر اپنے وطن کے لئے روانہ ہوئے۔ اور وادی مقدس مقام ‘ طویٰ” میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی سے آپ کو سرفراز فرما کر منصب ِ رسالت کے شرف سے سربلند فرمایا۔ اس وقت حضرت حق جل مجدہ نے آپ سے جس طرح کلام فرمایا قرآن مجید نے اس کو اِ س طرح بیان فرمایا کہ!
ترجمہ :۔اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اِس میں اور کام ہیں۔(پ 16،طہ:17،18)
حضرت موسیٰ علیہ السلام اِس مُقدّس لاٹھی سے مذکورہ بالا کام نکالتے رہے مگر جب آپ فرعون کے دربار میں ہدایت فرمانے کی غرض سے تشریف لے گئے اور اْس نے آپ کو جادوگر کہہ کر جھٹلایا تو آپ کے اس عصا کے ذریعہ بڑے بڑے معجزات کا ظہور شروع ہو گیا، جن میں سے تین معجزات کا تذکرہ قرآنِ مجید نے بار بار فرمایا جو حسب ذیل ہیں۔
عصا اژدہا بن گیا:۔
اس کا واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے ایک میلہ لگوایا۔ اور اپنی پوری سلطنت کے جادوگروں کو جمع کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شکست دینے کے لئے مقابلہ پر لگا دیا۔ اور اس میلہ کے ازدحام میں جہاں لاکھوں انسانوں کا مجمع تھا، ایک طرف جادوگروں کا ہجوم اپنی جادوگری کا سامان لے کر جمع ہو گیا۔ اور ان جادوگروں کی فوج کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا ڈٹ گئے۔ جادوگروں نے فرعون کی عزت کی قسم کھا کر اپنے جادو کی لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکا تو ایک دم وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن کر پورے میدان میں ہر طرف پھنکاریں مار کر دوڑنے لگیں اور پورا مجمع خوف و ہراس میں بدحواس ہو کر اِدھر ادھر بھاگنے لگا اور فرعون اور اس کے تمام جادوگر اس کرتب کو دکھا کر اپنی فتح کے گھمنڈ اور غرور کے نشہ میں بدمست ہو گئے اور جوشِ شادمانی سے تالیاں بجا بجا کر اپنی مسرت کا اظہار کرنے لگے کہ اتنے میں ناگہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حکم سے اپنی مقدس لاٹھی کو اْن سانپوں کے ہجوم میں ڈال دیا تو یہ لاٹھی ایک بہت بڑا اور نہایت ہیبت ناک اڑدہا بن کر جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر تمام جادوگر اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے سجدہ میں گرپڑے اور باآوازِ بلند یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ ہم سب حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کے رب پر ایمان لائے۔
چنانچہ قرآنِ مجید نے اِس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔
ترجمہ :۔ بولے اے موسیٰ یا تو تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ا ن کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے اورڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے اور اْن کی بناوٹوں کو نگل جائے گا وہ جو بنا کر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے تو سب جادوگر سجدے میں گرالئے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔(پ16،طہ65تا70)

عصا مارنے سے چشمے جاری ہو گئے:۔ بنی اسرائیل کا اصل وطن مْلکِ شام تھا لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ حکومت میں یہ لوگ مصر میں آ کر آباد ہو گئے اور ملکِ شام پر قوم عمالقہ کا تسلط اور قبضہ ہو گیا۔ جو بدترین قسم کے کفار تھے۔ جب فرعون دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے خطرات سے اطمینان ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ قوم ِ عمالقہ سے جہاد کر کے ملکِ شام کو اْن کے قبضہ و تسلط سے آزاد کرائیں۔ چنانچہ آپ چھ لاکھ بنی اسرائیل کی فوج لے کر جہاد کے لئے روانہ ہوگئے مگر ملکِ شام کی حدود میں پہنچ کر بنی اسرائیل پر قومِ عمالقہ کا ایسا خوف سوار ہو گیا کہ بنی اسرائیل ہمت ہار گئے اور جہاد سے منہ پھیر لیا۔ اس نافرمانی پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ سزادی کہ یہ لوگ چالیس برس تک ”میدان تیہ”میں بھٹکتے اور گھومتے پھرے اور اس میدان سے باہر نہ نکل سکے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ان لوگوں کے ساتھ میدانِ تیہ میں تشریف فرما تھے۔ جب بنی اسرائیل اس بے آب و گیاہ میدان میں بھوک و پیاس کی شدت سے بے قرار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ان لوگوں کے کھانے کے لئے ”من و سلویٰ” آسمان سے اتارا۔ مَن شہد کی طرح ایک قسم کا حلوہ تھا، اور سلویٰ بھنی ہوئی بٹیریں تھیں۔ کھانے کے بعد جب یہ لوگ پیاس سے بے تاب ہونے لگے اور پانی مانگنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر اپنا عصا مار دیا تو اْس پتھر میں بارہ چشمے پھوٹ کر بہنے لگے اور بنی اسرائیل کے بارہ خاندان اپنے اپنے ایک چشمے سے پانی لے کر خود بھی پینے لگے اور اپنے جانوروں کو بھی پلانے لگے اور پورے چالیس برس تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا جو عصا اور پتھر کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ قرآن مجید نے اس واقعہ اور معجزہ کا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔
ترجمہ :۔اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ (پ1،البقرة: 60)

عصا کی مار سے دریا پھٹ گیا:۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک مدت دراز تک فرعون کو ہدایت فرماتے رہے اور آیات و معجزات دکھاتے رہے مگر اس نے حق کو قبول نہیں کیا بلکہ اور زیادہ اس کی شرارت و سرکشی بڑھتی رہی۔ اور بنی اسرائیل نے چونکہ اس کی خدائی کو تسلیم نہیں کیا اِس لئے اس نے اْن مومنین کو بہت زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اِس دوران میں ایک دم حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی اتری کہ آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر رات میں مصر سے ہجرت کرجائیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر رات میں مصر سے روانہ ہو گئے۔
جب فرعون کو پتا چلا تو وہ بھی اپنے لشکروں کو ساتھ لے کر بنی اسرائیل کی گرفتاری کے لئے چل پڑا۔ جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تو بنی اسرائیل فرعون کے خوف سے چیخ پڑے کہ اب تو ہم فرعون کے ہاتھوں گرفتار ہوجائیں گے اوربنی اسرائیل کی پوزیشن بہت نازک ہوگئی کیونکہ اْن کے پیچھے فرعون کا خونخوار لشکر تھا اور آگے موجیں مارتا ہوا دریا تھا۔ اس پریشانی کے عالم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام مطمئن تھے اور بنی اسرائیل کو تسلی دے رہے تھے۔ جب دریا کے پاس پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ تم اپنی لاٹھی دریا پر ماردو۔ چنانچہ جونہی آپ نے دریا پر لاٹھی ماری تو فوراً ہی دریا میں بارہ سڑکیں بن گئیں اور بنی اسرائیل ان سڑکوں پر چل کر سلامتی کے ساتھ دریا سے پار نکل گئے۔ فرعون جب دریا کے قریب پہنچا اور اس نے دریا کی سڑکوں کو دیکھا تو وہ بھی اپنے لشکروں کے ساتھ اْن سڑکوں پر چل پڑا۔ مگر جب فرعون اور اس کا لشکر دریا کے بیچ میں پہنچا تو اچانک دریا موجیں مارنے لگا اور سب سڑکیں ختم ہو گئیں اور فرعون اپنے لشکروں سمیت دریا میں غرق ہو گیا۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے اس طرح بیان فرمایا کہ:۔
ترجمہ:۔پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا موسیٰ نے فرمایا۔ یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہو گیا جیسے بڑا پہاڑ۔ اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو پھر دوسروں کو ڈبو دیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور اْن میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ (پ19،الشعراء : 61تا 67)
یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مقدس لاٹھی ہے جس کو”عصاء ِ موسیٰ“کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ کے بہت سے اْن معجزات کا ظہور ہوا جن کو قرآن مجید نے مختلف عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرمایا ہے
یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی وہ مقدس لاٹھی ہے جس کو”عصاء ِ موسیٰ“کہتے ہیں اس کے ذریعہ آپ کے بہت سے اْن معجزات کا ظہور ہوا جن کو قرآن مجید نے مختلف عنوانوں کے ساتھ بار بار بیان فرمایا ہے۔اِس مقدس لاٹھی کی تاریخ بہت قدیم ہے جو اپنے دامن میں سینکڑوں اْن تاریخی واقعات کو سمیٹے ہوئے ہے جن میں عبرتوں اور نصیحتوں کے ہزاروں نشانات ستاروں کی طرح جگمگا رہے ہیں جن سے اہل نظر کو بصیرت کی روشنی اور ہدایت کا نور ملتا ہے۔
یہ لاٹھی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے قد برابر دس ہاتھ لمبی تھی۔ اور اس کے سر پر دو شاخیں تھیں جو رات میں مشعل کی طرح روشن ہوجایا کرتی تھیں۔ یہ جنت کے درخت پیلو کی لکڑی سے بنائی گئی تھی اور اس کو حضرت آدم علیہ السلام بہشت سے اپنے ساتھ لائے تھے۔
حضرت آدم علیہ السلام کے ساتھ عود (خوشبودار لکڑی) حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا جو عزت والی پیلو کی لکڑی کا تھا،انجیر کی پتیاں، حجر اسود جو مکہ معظمہ میں ہے اور نبء معظم حضرت سلیمان علیہ السلام کی انگوٹھی یہ پانچوں چیزیں جنت سے اتاری گئیں۔
حضرت آدم علیہ السلام کے بعد یہ مقدس عصاء حضرات انبیاء کرام علیہم الصلا والسلام کو یکے بعد دیگرے بطور میراث کے ملتا رہا۔ یہاں تک کہ حضرت شعیب علیہ السلام کو ملا جو ”قومِ مدین” کے نبی تھے جب حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر سے ہجرت فرما کر مدین تشریف لے گئے اور حضرت شعیب علیہ السلام نے اپنی صاحبزادی حضرت بی بی صفوراء رضی اللہ عنہا سے آپ کا نکاح فرما دیا۔ اور آپ دس برس تک حضرت شعیب علیہ السلام کی خدمت میں رہ کر آپ کی بکریاں چراتے رہے۔ اس وقت حضرت شعیب علیہ السلام نے حکمِ خداوندی (عزوجل) کے مطابق آپ کو یہ مقدس عصا عطا فرمایا۔
پھر جب آپ اپنی زوجہ محترمہ کو ساتھ لے کر مدین سے مصر اپنے وطن کے لئے روانہ ہوئے۔ اور وادی مقدس مقام ‘ طویٰ” میں پہنچے تو اللہ تعالیٰ نے اپنی تجلی سے آپ کو سرفراز فرما کر منصب ِ رسالت کے شرف سے سربلند فرمایا۔ اس وقت حضرت حق جل مجدہ نے آپ سے جس طرح کلام فرمایا قرآن مجید نے اس کو اِ س طرح بیان فرمایا کہ!
ترجمہ :۔اور یہ تیرے داہنے ہاتھ میں کیا ہے، اے موسیٰ عرض کی یہ میرا عصا ہے میں اس پر تکیہ لگاتا ہوں اور اس سے اپنی بکریوں پر پتے جھاڑتا ہوں اور میرے اِس میں اور کام ہیں۔(پ 16،طہ:17،18)
حضرت موسیٰ علیہ السلام اِس مُقدّس لاٹھی سے مذکورہ بالا کام نکالتے رہے مگر جب آپ فرعون کے دربار میں ہدایت فرمانے کی غرض سے تشریف لے گئے اور اْس نے آپ کو جادوگر کہہ کر جھٹلایا تو آپ کے اس عصا کے ذریعہ بڑے بڑے معجزات کا ظہور شروع ہو گیا، جن میں سے تین معجزات کا تذکرہ قرآنِ مجید نے بار بار فرمایا جو حسب ذیل ہیں۔
عصا اژدہا بن گیا:۔
اس کا واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے ایک میلہ لگوایا۔ اور اپنی پوری سلطنت کے جادوگروں کو جمع کر کے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو شکست دینے کے لئے مقابلہ پر لگا دیا۔ اور اس میلہ کے ازدحام میں جہاں لاکھوں انسانوں کا مجمع تھا، ایک طرف جادوگروں کا ہجوم اپنی جادوگری کا سامان لے کر جمع ہو گیا۔ اور ان جادوگروں کی فوج کے مقابلہ میں حضرت موسیٰ علیہ السلام تنہا ڈٹ گئے۔ جادوگروں نے فرعون کی عزت کی قسم کھا کر اپنے جادو کی لاٹھیوں اور رسیوں کو پھینکا تو ایک دم وہ لاٹھیاں اور رسیاں سانپ بن کر پورے میدان میں ہر طرف پھنکاریں مار کر دوڑنے لگیں اور پورا مجمع خوف و ہراس میں بدحواس ہو کر اِدھر ادھر بھاگنے لگا اور فرعون اور اس کے تمام جادوگر اس کرتب کو دکھا کر اپنی فتح کے گھمنڈ اور غرور کے نشہ میں بدمست ہو گئے اور جوشِ شادمانی سے تالیاں بجا بجا کر اپنی مسرت کا اظہار کرنے لگے کہ اتنے میں ناگہاں حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خدا کے حکم سے اپنی مقدس لاٹھی کو اْن سانپوں کے ہجوم میں ڈال دیا تو یہ لاٹھی ایک بہت بڑا اور نہایت ہیبت ناک اڑدہا بن کر جادوگروں کے تمام سانپوں کو نگل گیا۔ یہ معجزہ دیکھ کر تمام جادوگر اپنی شکست کا اعتراف کرتے ہوئے سجدہ میں گرپڑے اور باآوازِ بلند یہ اعلان کرنا شروع کردیا کہ ہم سب حضرت ہارون اور حضرت موسیٰ علیہما السلام کے رب پر ایمان لائے۔
چنانچہ قرآنِ مجید نے اِس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔
ترجمہ :۔ بولے اے موسیٰ یا تو تم ڈالو یا ہم پہلے ڈالیں موسیٰ نے کہا بلکہ تمہیں ڈالو جبھی ان کی رسیاں اور لاٹھیاں ا ن کے جادو کے زور سے ان کے خیال میں دوڑتی معلوم ہوئیں تو اپنے جی میں موسیٰ نے خوف پایا ہم نے فرمایا ڈر نہیں بیشک تو ہی غالب ہے اورڈال تو دے جو تیرے داہنے ہاتھ میں ہے اور اْن کی بناوٹوں کو نگل جائے گا وہ جو بنا کر لائے ہیں وہ تو جادوگر کا فریب ہے اور جادوگر کا بھلا نہیں ہوتا کہیں آوے تو سب جادوگر سجدے میں گرالئے گئے بولے ہم اس پر ایمان لائے جو ہارون اور موسیٰ کا رب ہے۔(پ16،طہ65تا70)

عصا مارنے سے چشمے جاری ہو گئے:۔ بنی اسرائیل کا اصل وطن مْلکِ شام تھا لیکن حضرت یوسف علیہ السلام کے دورِ حکومت میں یہ لوگ مصر میں آ کر آباد ہو گئے اور ملکِ شام پر قوم عمالقہ کا تسلط اور قبضہ ہو گیا۔ جو بدترین قسم کے کفار تھے۔ جب فرعون دریائے نیل میں غرق ہو گیا اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کو فرعون کے خطرات سے اطمینان ہو گیا تو اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ قوم ِ عمالقہ سے جہاد کر کے ملکِ شام کو اْن کے قبضہ و تسلط سے آزاد کرائیں۔ چنانچہ آپ چھ لاکھ بنی اسرائیل کی فوج لے کر جہاد کے لئے روانہ ہوگئے مگر ملکِ شام کی حدود میں پہنچ کر بنی اسرائیل پر قومِ عمالقہ کا ایسا خوف سوار ہو گیا کہ بنی اسرائیل ہمت ہار گئے اور جہاد سے منہ پھیر لیا۔ اس نافرمانی پر اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو یہ سزادی کہ یہ لوگ چالیس برس تک ”میدان تیہ”میں بھٹکتے اور گھومتے پھرے اور اس میدان سے باہر نہ نکل سکے۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام بھی ان لوگوں کے ساتھ میدانِ تیہ میں تشریف فرما تھے۔ جب بنی اسرائیل اس بے آب و گیاہ میدان میں بھوک و پیاس کی شدت سے بے قرار ہو گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ان لوگوں کے کھانے کے لئے ”من و سلویٰ” آسمان سے اتارا۔ مَن شہد کی طرح ایک قسم کا حلوہ تھا، اور سلویٰ بھنی ہوئی بٹیریں تھیں۔ کھانے کے بعد جب یہ لوگ پیاس سے بے تاب ہونے لگے اور پانی مانگنے لگے تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے پتھر پر اپنا عصا مار دیا تو اْس پتھر میں بارہ چشمے پھوٹ کر بہنے لگے اور بنی اسرائیل کے بارہ خاندان اپنے اپنے ایک چشمے سے پانی لے کر خود بھی پینے لگے اور اپنے جانوروں کو بھی پلانے لگے اور پورے چالیس برس تک یہ سلسلہ جاری رہا۔ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ تھا جو عصا اور پتھر کے ذریعہ ظہور میں آیا۔ قرآن مجید نے اس واقعہ اور معجزہ کا بیان کرتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ:۔

ترجمہ :۔اور جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لئے پانی مانگا تو ہم نے فرمایا اس پتھر پر اپنا عصا مارو فوراً اس میں سے بارہ چشمے بہہ نکلے۔ ہر گروہ نے اپنا گھاٹ پہچان لیا۔ (پ1،البقرة: 60)

عصا کی مار سے دریا پھٹ گیا:۔
حضرت موسیٰ علیہ السلام ایک مدت دراز تک فرعون کو ہدایت فرماتے رہے اور آیات و معجزات دکھاتے رہے مگر اس نے حق کو قبول نہیں کیا بلکہ اور زیادہ اس کی شرارت و سرکشی بڑھتی رہی۔ اور بنی اسرائیل نے چونکہ اس کی خدائی کو تسلیم نہیں کیا اِس لئے اس نے اْن مومنین کو بہت زیادہ ظلم و ستم کا نشانہ بنایا اِس دوران میں ایک دم حضرت موسیٰ علیہ السلام پر وحی اتری کہ آپ اپنی قوم بنی اسرائیل کو اپنے ساتھ لے کر رات میں مصر سے ہجرت کرجائیں۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام بنی اسرائیل کو ہمراہ لے کر رات میں مصر سے روانہ ہو گئے۔
جب فرعون کو پتا چلا تو وہ بھی اپنے لشکروں کو ساتھ لے کر بنی اسرائیل کی گرفتاری کے لئے چل پڑا۔ جب دونوں لشکر ایک دوسرے کے قریب ہو گئے تو بنی اسرائیل فرعون کے خوف سے چیخ پڑے کہ اب تو ہم فرعون کے ہاتھوں گرفتار ہوجائیں گے اوربنی اسرائیل کی پوزیشن بہت نازک ہوگئی کیونکہ اْن کے پیچھے فرعون کا خونخوار لشکر تھا اور آگے موجیں مارتا ہوا دریا تھا۔ اس پریشانی کے عالم میں حضرت موسیٰ علیہ السلام مطمئن تھے اور بنی اسرائیل کو تسلی دے رہے تھے۔ جب دریا کے پاس پہنچ گئے تو اللہ تعالیٰ نے حضرت موسیٰ علیہ السلام کو حکم فرمایا کہ تم اپنی لاٹھی دریا پر ماردو۔ چنانچہ جونہی آپ نے دریا پر لاٹھی ماری تو فوراً ہی دریا میں بارہ سڑکیں بن گئیں اور بنی اسرائیل ان سڑکوں پر چل کر سلامتی کے ساتھ دریا سے پار نکل گئے۔ فرعون جب دریا کے قریب پہنچا اور اس نے دریا کی سڑکوں کو دیکھا تو وہ بھی اپنے لشکروں کے ساتھ اْن سڑکوں پر چل پڑا۔ مگر جب فرعون اور اس کا لشکر دریا کے بیچ میں پہنچا تو اچانک دریا موجیں مارنے لگا اور سب سڑکیں ختم ہو گئیں اور فرعون اپنے لشکروں سمیت دریا میں غرق ہو گیا۔ اس واقعہ کو قرآن مجید نے اس طرح بیان فرمایا کہ:۔
ترجمہ:۔پھر جب آمنا سامنا ہوا دونوں گروہوں کا موسیٰ والوں نے کہا ہم کو انہوں نے آلیا موسیٰ نے فرمایا۔ یوں نہیں بیشک میرا رب میرے ساتھ ہے وہ مجھے اب راہ دیتا ہے تو ہم نے موسیٰ کو وحی فرمائی کہ دریا پر اپنا عصا مار تو جبھی دریا پھٹ گیا تو ہر حصہ ہو گیا جیسے بڑا پہاڑ۔ اور وہاں قریب لائے ہم دوسروں کو اور ہم نے بچالیا موسیٰ اور اس کے سب ساتھ والوں کو پھر دوسروں کو ڈبو دیا بیشک اس میں ضرور نشانی ہے اور اْن میں اکثر مسلمان نہ تھے۔ (پ19،الشعراء : 61تا 67)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 11th, 2016, 9:14 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
امیر المومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ

آپ کا نام مبارک علی ہے اور لقب اسداللہ،حیدرِ کرار اور مرتضی تھا۔ابوالحسن اور ابو تراب آپ کی کنیت تھے۔ آپ کانسب رسول ﷺ سے بہت قریب ہے۔آپ کے والد ابو طالب رسولﷺ کے چچا تھے۔
ٓٓآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی والدہ کانام فاطمہ بنت اسد بنت ہاشم تھا۔اس طرح آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ والد اور والدہ دونوں کی طرف سے ہاشمی ہیں۔رازم بن سعد الضبی سے روایت ہے کہ حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میانہ قد سے قدرے بڑے، بھاری کندھوں والے اور لمبی داڑھی والے تھے۔جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو دور سے دیکھا جاتا تو کہا جا سکتا تھا کہ گندمی رنگت والے ہیں۔مگر جب قریب سے دیکھا جاتاتو گندمی رنگت کی بجائے سانولی رنگت دکھائی دیتی تھی۔
ٓآپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا شمار ایسے نفوس قد سیہ میں ہوتا ہے جنہوں نے رسولﷺ کواعلان نبوت سے لیکر وصال تک،خلوت وجلوت میں ،سفروحضرمیں،کبھی میدان جنگ میں، کبھی گھر کے اندر اور کبھی باہر دیکھا۔نبی اکرمﷺکے ہونٹوں کی ایک ایک جنبش کو،جسم اطہر کے ایک ایک اندازکواپنے اذہان میں نقش ہی نہیں کیا بلکہ اپنی طبیعت اور مزاج کی روح میں اتار کر اگلی آنے والی نسلوں تک پہنچایا۔جب حضور نبی ﷺ نے ا علان نبوت کیااس وقت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عمر دس سال تھی اور آپﷺ کے گھر ہی میں رہائش پذیر تھے۔اس لئے وہ ان نیک اور مقدس شخصیات میں شامل ہوگئے جنہوں نے اسلام کو اس کی ابتدائی ساعتوں میں ہی قبول کرلیا تھا۔
حضرت امیر المومنین قبول اسلام کے واقع کو خود اس طرح بیان فرماتے تھے کہ جب رسولﷺ کو اللہ رب العزت کی طرف سے اپنے قریبی لوگوں تک اسلام کی دعوت پہنچانے کا حکم دیاتو نبیﷺ نے خاندان ہاشم کے لوگوں کو کھانے کی دعوت پر جمع کیا۔چنانچہ کھانا لا کر رکھا گیا ۔اور تمام لوگوں نے شکم سیر ہو کر کھایا۔مگر یوں محسوس ہوتا تھا کہ جیسے کھانے کو کسی نے چھوا تک نہیں پھر آپﷺ نے شربت کا پیالہ منگوایا جس کو تمام لوگوں نے خوب سیر ہوکر پیا۔مگر ایسے معلوم ہوتا تھا کہ اسے بھی کسی نہیں چھوا تک نہیں ۔پھر آپ ﷺ نے فرمایا اے اولاد عبدالمطلب ! مجھے اللہ تعالی نے تمھاری طرف خصوصی طور پر اور باقی لوگوں کی طرف عمومی طور پر بھیجا ہے۔اور تم نے اس کھانے میں جو نشان دیکھا ہے وہ تو دیکھ ہی لیا ہے۔تم میں سے کون شخص اس امر پر میری بیعت کرے گا کہ وہ میرا بھائی اور میرا ساتھی ہو گا ؟حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کہتے ہیں کہ آپﷺکی یہ بات سن کر کوئی شخص بھی آپﷺ کی حمایت کے لئے نہ اٹھا۔کہتے ہیں کہ میں وہاں موجود تمام لوگوں سے کم عمر تھالیکن اسکے باوجود میں اپنی جگہ سے اٹھامگرآنحضورﷺ نے کہا کہ تم بیٹھ جاؤ۔دوسری مرتبہ ایسا ہی ہوا کہ میں جب بھی اٹھتا تو آنحضورﷺ فرماتے تم بیٹھو ۔پھر جب میں تیسری مرتبہ اٹھا تو رسولﷺ نے اپنا ہاتھ میرے ہاتھ پر مارا(اوربیعت لی)۔

قبول اسلام کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نبی کریم ﷺ کے دست وبازو بن گئے۔مصائب آلام کی ہر گھڑی میں آپﷺ کے ساتھ رہے۔فرماتے ہیں کہ ”جب رسولﷺ ہجرت کے لئے گھر سے روانہ ہوئے تو آنحضورﷺ نے مجھے حکم دیا کہ جب میں ہجرت کرکے چلا جاؤں تو میرے گھر میں ٹھہرے رہنا اورمیرے پاس لوگوں کی جو امانتیں رکھیں گئی ہیں وہ واپس لوٹا دینا۔اسی لئے رسو ل اکرمﷺ”امین“ (امانت دار) کہلاتے تھے۔میں نے نبی اکرمﷺ کے گھر تین دن قیام کیا اور سب کے سامنے رہا۔ ایک دن کے لئے بھی نہیں چھپا۔،، (طبقات)
اسی طرح غزوہ بدر میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شجاعت پہلی مرتبہ لوگوں کے سامنے آئی جب آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نامور قریشی سردارعقبہ بن ربیع کو جہنم رسید کیا۔جو اس دن اپنے سرخ اونٹ پر سوار تھا۔اور اپنے قومی وخاندانی تعصب میں سر سے پاؤں تک رنگا ہوا تھا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسکی تلوار نے اسکا کام تمام کیا۔اس دن رسو ل اکرمﷺ کا لواء (جھنڈا) حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے ہاتھ میں تھا ۔اور حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اس جھنڈے اور تلوار کا حق ادا کر دیا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے بارے میں تمام سوانح نگا ر لکھتے ہیں کے وہ غزوہ بدر وخیبر سمیت تمام غزوات میں نبی اکرم ﷺ کے ”علم بردار“ رہے ۔
غزوہ بدر کے بعد حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو ایسا اعزاز حاصل ہواجس نے انکی عظمت کو چار چاند لگا دیئے۔یہ اعزاز حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے شادی خانہ آبادی کا تھا ۔اور اللہ تعالی نے روز ازل سے انکے لئے مقدر کررکھا تھا۔حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت فاطمہ کی ازدواجی زندگی گو کہ مختصر تھی مگر امت کے لئے لازوال نمونہ تھی۔حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے بطن سے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے دو صاحبزادے حسن اور حسین اور دو ہی صاحبزادیاں زینب کبریٰ اور ام کلثوم کبریٰ تھیں۔
حضورنبی کریم ﷺ کے وصال کے بعدجب خلافت علی منھاج النبوة قائم ہوگئی تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شخصیت اور ابھر کر سامنے آئی۔ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ فقیہہ، مجتہد، مفسر قرآن، ہونے کے ساتھ ساتھ بہترین فیصلہ کرنے والے بھی تھے۔ دوسرے علوم و فنون کی طرح نبی مکرم ﷺ کی روایت نگاری میں بھی حضرت سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ قیادت کے اعلی ترین منصب پر فائز ہیں۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے پانچ سو بتیس احادیث روایت کی ہیں۔مسند احمد میں آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے آٹھ سو آٹھارہ احادیث مروی ہیں اور ان روایات مین بہت بڑی تعداد ایسی ہے جو نبی اکرمﷺ کی ذاتی زندگی کے بارے میں ہے۔چونکہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے نبی اکرمﷺ کی زندگی کو شروع سے آخر تک بہت قریب سے دیکھا تھا اسی لئے آپکی معلومات کو زیادہ صحیح اور بہتر تصور کیا جاتا ہے۔ حضورنبی کریم ﷺ نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے عدالتی فیصلوں اور فقہی فتاوٰی کی خودتعریف کی ہے۔ آپکی فقہی مہارت ،اجتہادی بصیر ت ہی کا نتیجہ تھا کہ ایک موقع پر نبی کریمﷺ نے انہیں ”اقضاکم“ (تم میں سے اچھے یا سب سے بڑے قاضی)قرار دیا۔ام المومنین حضرت سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا سے جب کبھی مسائل کے بارے میں پوچھا جاتا تو آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہا لوگوں کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے رجوع کرنے کا مشورہ دیتیں۔یہی وجہ تھی کہ خلافت کے شروع دور سے ہی حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ اہم عہدوں پر فائزرہے۔ دورفاروقی رضی اللہ تعالیٰ عنہ میں حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ چھ رکنی شوری کے اہم رکن تھے۔اور خلیفہ وقت سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اپنے بہترین مشوروں کے ساتھ مدد فرمایا کرتے تھے۔

پھر ایک وقت وہ بھی آیا جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی شہادت کے بعد آپکو رضی اللہ تعالیٰ عنہ خلیفہ چنا گیا۔اور تقریباً چارسال نو ماہ مسند خلافت پر مسند نشیں رہے۔آپکے دور خلافت میں ایک دفعہ دو عورتیں کچھ مالی مدد لینے کے لئے حاضر ہوئیں۔ان میں سے ایک عرب تھی اوردوسری خادمہ اسرائیلی تھی۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے ان دونوں کی برابر مدد فرمائی۔ عرب عورت نے اسے اپنے وقار کے خلاف سمجھا کہ اسکی حوصلہ افزائی زیادہ کیوں نہ کی گئی۔اس عورت نے جب اسکا اظہار کیا تو حضرت علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا ”میں نے قرآن کریم میں غور کیا ہے اس میں مجھے اولاد اسماعیل علیہ السلام کی اولاد اسحاق علیہ السلام پر کوئی فضیلت نہیں ملی“۔اب اگر سوچا جائے تو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ خود عرب ہونے کے ساتھ ساتھ بنو اسماعیل علیہ السلام ہی میں سے تھے۔اورجس عورت نے یہ سوال پیدا کیا اسکا تعلق بھی بنو اسماعیل علیہ السلام سے تھا۔ اس نے ادھر توجہ دلا کر آپکو ایک جاہلی جذبے کی طرف کھینچنا چاہا۔مگر آپکی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی راست بازی اور عدل و انصاف کے کیا کہنے ۔ ۔ ۔فوراً اسکی اصلاح کی کہ قرآن ہمیں جاہلی رعائت نہیں دیتا۔شعوب وقبائل صرف تعارف کے لئے ہیں بڑائی کے لئے نہیں۔اللہ رب العزت کے ہاں زیادہ عزت اسکی ہے جو ایمان و تقوی میں اونچا ہے۔یہی وہ خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تاریخ عدل و انصاف اور حسن قضاکی ایک کھلی کتا ب بن کر مثل آفتاب چمک اور دمک رہی ہے۔
رسول اکرم ﷺ نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو شہادت کی بشارت پہلے ہی دے دی تھی۔چنانچہ آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنے آپکو خود ہی مخاطب کر کے فرمایا کرتے تھے کہ ” اے علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ!اگلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ تھا جس نے صالح علیہ السلام کی اونٹنی پیر کاٹے تھے اور پچھلوں میں سب سے زیادہ شقی وہ ہے جو تمہاری داڑھی کو خون سے رنگین کرے گا“۔
چنانچہ تین خارجی مکہ مکرمہ میں جمع ہوئے اور ان تینو ں میں باہم تین شخصیات کو قتل کرنے کا معاہدہ ہوا۔جن میں سے پہلی شخصیت حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ تھی دوسری شخصیت حضرت معاویہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی اور تیسری عمرو بن عاص رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی تھی۔اور یہ بھی طے ہوا کہ تینوں شخصیات کو ایک ہی وقت میں حملہ کر کے قتل کیا جائے گا۔عبدالرحمن ابن ملجم خارجی نے حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے قتل کی حامی بھر کر کوفہ کی طرف چل پڑا۔اب کوفہ میں فجر کی نماز کا وقت تھا۔اور امیرالمومنین سیدنا علی المرتضی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی عادت کہ نماز کے لئے بہت سویرے مسجد میں تشریف لے جاتے۔اسی دن ابن ملجم راستے میں چھپ کر بیٹھ گیا۔بس جیسے ہی آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ وہاں پہنچے اس نے آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی پیشانی مبارک پر تلوار کا وار کیا۔جو دماغ تک جا پہنچااور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ خون سے نہا گئے اورداڑھی مبارک خون سے تر ہو گئی۔ حضرت امام حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں کہ میں پیچھے چلا آرہا تھایکایک مجھے تلوار کی چمک محسوس ہوئی۔اور میں نے امیر المنین کو زمین پر گرتے اور یہ کہتے سنا ”قسم ہے رب کعبہ کی میری آرزو پوری ہوئی“۔اس حملے کے بعد لوگ چاروں طرف سے دوڑ پڑے اورابن ملجم کو پکڑ لیا گیا۔
ابن ملجم کو حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے سامنے پیش کیا گیا۔آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے اسے اپنے سامنے قتل نہیں ہونے دیا۔ اور فرمایا کہ اگر میں اچھا ہوگیا تو پھر مجھے یہ اختیا رہے کہ اگر میں چاہوں تو سزا دوں گا ورنہ معاف کر دوں گا۔اور اگر میں اچھا نہ رہا تو پھر یہ کرنا کہ اس نے ایک ضرب ماری تھی تم بھی اسکو ایک ضرب مارنا۔
پھر اپنے صاحبزادوں حضرت امام حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ اور حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو بلا کر وصیت لکھوائی۔اور کلمہ پڑھتے ہوئے اپنی جان خالق حقیقی کے سپرد کر دی۔ہمیشہ سے تاریخ دان ”باب علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ “ کو ان” الفاظ علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ “ کے ساتھ ہی ختم کرتا آیا ہے جو انہوں نے نبی کریم ﷺ کو غسل دیتے وقت ارشاد فرماتے ہوئے امت محمدیہ کے لئے ایک پیغام کی صورت میں چھوڑے تھے کہ”اگر آپﷺ نے صبر کا حکم نہ دیا ہوتااور آہ زاری سے نہ روکا ہوتا تو ہم (آج آنسوؤں میں)آنکھوں کا آخری پانی تک بہا دیتے“۔ (نہج البلاغہ۲ص۶۵۲)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 17th, 2016, 10:34 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا

نام ونسب

اصلی نام زینب تھا؛ لیکن چونکہ وہ جنگ خیبر میں خاص آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے حصہ میں آئی تھیں اور عرب میں غنیمت کے ایسے حصہ کو امام یابادشاہ کے لیے مخصوص ہوتا تھا صفیہ کہتے تھے اس لیے وہ بھی صفیہ کے نام سے مشہور ہوگئیں، یہ زرقانی کی روایت ہے، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کوباپ اور ماں دونوں کی طرف سے سیادت حاصل ہے، باپ کا نام حیی بن اخطب تھا، جوقبیلہ بنونضیر کا سردار تھا اور حضرت ہارون علیہ السلام کی نسل میں شمار ہوتا تھا، ماں جس کا نام ضرد تھا، سموال رئیس قریظہ کی بیٹی تھی اور یہ دونوں خاندان (قریظہ اور نضیر) بنواسرائیل کے ان تمام قبائل سے ممتاز سمجھے جاتے تھے، جنہوں نے زمانۂ دراز سے عرب کے شمالی حصوں میں سکونت اختیار کرلی تھی۔

نکاح

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کی شادی پہلے سلام بن مشکم القرظی سے ہوئی تھی، سلام نے طلاق دی توکنانہ بن ابی لحقیق کے نکاح میں آئیں، جوابورافع تاجر حجاز اور رئیس خیبر کا بھتیجا تھا، کنانہ جنگِ خیبر میں مقتول ہوا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے باپ اور بھائی بھی کام آئے اور خود بھی گرفتار ہوئیں، جب خیبر کے تمام قیدی جمع کئے گئے تودحیہ کلبی رضی اللہ عنہ نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک لونڈی کی درخواست کی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے انتخاب کرنے کی اجازت دی، انہوں نے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کومنتخب کیا؛ لیکن ایک صحابی نے آپ کی خدمت میں آکرعرض کی کہ آپ نے رئیسۂ بنو نضیر وقریظہ کو دحیہ کو دیدیا،وہ توصرف آپ کےلئے سزاوار ہے ،مقصود یہ تھاکہ رئیسہ عرب کےساتھ عام عورتوں کا سابرتاؤ مناسب نہیں؛چنانچہ حضرت دحیہ رضی اللہ عنہ کوآپ نے دوسری لونڈی عنایت فرمائی اور صفیہ رضی اللہ عنہا کوآزاد کرکے نکاح کرلیا (بخاری، کتاب الصلوٰۃ، باب مایذکر فی الفخذ۔ مسلم:۱/۵۴۶)خیبر سے روانہ ہوئے تومقام صہبا میں رسم عروسی ادا کی (اصابہ:۸/۱۲۶) اور جوکچھ سامان لوگوں کے پاس تھا اس کوجمع کرکے دعوتِ ولیمہ فرمائی، وہاں سے روانہ ہوئے تو آپ نے ان کوخود اپنے اونٹ پرسوار کرلیا اور اپنی عبا سے ان پرپردہ کیا، یہ گویا اس بات کا اعلان تھا کہ وہ ازواجِ مطہرات میں داخل ہوگئیں۔
(طبقات:۸/۸۶، جزء نسا)
عام حالات

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے مشہور واقعات میں حج کا سفر ہے، جو انہوں نے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ کیا تھا۔

حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے ایام محاصرہ میں جو سنہ۳۵ھ میں ہوا تھا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے ان کی بے حد مدد کی تھی، جب حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ پرضروریاتِ زندگی مسدود کردی گئیں اور ان کے مکان پرپہرہ بٹھادیا گیا تووہ خود خچرپرسوار ہوکر ان کے مکان کی طرف چلیں، غلام ساتھ تھا، اشترکی نظر پڑی توانہوں نے آکر خچر کومارنا شروع کیا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے کہا: مجھ کوذلیل ہونے کی ضرورت نہیں، میں واپس جاتی ہوں، تم خچرکوچھوڑدو گھرواپس آئیں توحضرت حسن رضی اللہ عنہ کواس خدمات پرمامور کیا وہ ان کے مکان سے حضرت عثمان غنی رضی اللہ عنہ کے پاس کھانا اور پانی لے جاتے تھے۔
(اصابہ:۱/۱۲۷)

وفات

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے رمضان سنہ۵۰ھ میں وفات پائی اور جنت البقیع میں دفن ہوئیں، اس وقت ان کی عمر ۶۰/سال کی تھی، ایک لاکھ ترکہ چھوڑا اور ایک ثلث کے لیے اپنے یہودی بھانجے کے لیے وصیت کرگئیں۔
(زرقانی:۳/۲۹۶)

حلیہ

کوتاہ قامت اور حسین تھیں۔
(مسلم:۱/۵۴۸)

فضل وکمال

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سے چند حدیثیں مروی ہیں، جن کوحضرت زین العابدین رضی اللہ عنہ، اسحاق بن عبداللہ بن حارث، مسلم بن صفوان، کنانہ اور یزید بن معتب وغیرہ نے روایت کیا ہے؛ دیگر ازواج کی طرح حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا بھی اپنی زمانہ میں علم کا مرکز تھیں؛ چنانچہ حضرت صہیرہ رضی اللہ عنہا بنت جیفر حج کرکے حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس مدینہ آئیں بہت سی عورتیں مسائل دریافت کرنے کی غرض سے بیٹھی ہوئی تھیں، صہیرہ رضی اللہ عنہا کا بھی یہی مقصد تھا، اس لیے انہوں نے کوفہ کی عورتوں سے سوال کرائے، ایک فتویٰ نبیذ کے متعلق تھا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے سنا توبولیں اہلِ عراق اس مسئلہ کواکثر پوچھتے ہیں۔
(مسند:۶/۳۷۷)

اخلاق

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہامیں بہت سے محاسنِ اخلاق جمع تھے، اسدالغابہ میں ہے:
كَانَتْ عَاقِلَةٌ مِنْ عقلاء النساء۔
ترجمہ: وہ نہایت عاقلہ تھیں۔
(اسد الغابہ:۵/۴۹)

زرقانی میں ہے: كَانَتْ صَفِيَّةٌ عَاقِلَةٌ حَلِيْمَةٌ فَاضِلَةٌ۔
(زرقانی:۳/۷۲۹۶)
ترجمہ:یعنی صفیہ رضی اللہ عنہا عاقل، فاضل، اور حلیم تھیں۔

حلم وتحمل ان کے باب فضائل کا نہایت جلی عنوان ہے، غزوۂ خیبر میں جب وہ اپنی بہن کے ساتھ گرفتار ہوکرآرہی تھیں توان کی بہن یہودیوں کی لاشوں کودیکھ دیکھ کر چیخ اُٹھتی تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا اپنے محبوب شوہر کی لاش سے قریب ہوکر گذریں؛ لیکن اب بھی اسی طرح پیکرِ متانت تھیں اور ان کی جبین تحمل پرکسی قسم کی شکن نہیں آئی، ایک مرتبہ حضرت حفصہ رضی اللہ عنہا نے ان کویہودیہ کہا، ان کومعلوم ہوا تورونے لگیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کے پاس ایک کنیز تھی جوحضرت عمررضی اللہ عنہ سے جاکر ان کی شکایت کیا کرتی تھی؛ چنانچہ ایک دن کہا کہ ان میں یہودیت کا اثر آج تک باقی ہے، وہ یوم السبت کواچھا سمجھتی ہیں اور یہودیوں کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہیں، حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تصدیق کے لیے ایک شخص کوبھیجا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا نے جواب دیا کہ یوم السبت کواچھا سمجھنے کی کوئی ضرورت نہیں، اس کے بدلے خدا نے ہم کوجمعہ کا دن عنایت فرمایا ہے؛ البتہ میں یہود کے ساتھ صلہ رحمی کرتی ہوں، وہ میرے خویش واقارب ہیں اس کے بععد لونڈی کوبلا کرپوچھا کہ تونے میری شکایت کی تھی؟ بولی ہاں! مجھے شیطان نے بہکادیا تھا، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا خاموش ہوگئیں اور اس لونڈی کوآزاد کردیا۔
(اصابہ:۸/۱۲۷۔ زرقانی:۳/۲۹۶)
حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کوآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے نہایت محبت تھی، چنانچہ جب آپ علیل ہوئے تونہایت حسرت سے بولیں: کاش! آپ کی بیماری مجھ کوہوجاتی، ازواج نے ان کی طرف دیکھنا شروع کیا توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا یہ سچ کہہ رہی ہیں (زرقانی:۳/۲۹۶، بحوالہ ابن سعد) (یعنی اس میں تصنع کا شائبہ نہیں ہے)۔

آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کوبھی ان کے ساتھ نہایت محبت تھی اور ہرموقع پران کی دلجوائی فرماتے تھے، ایک بار آپ سفر میں تھے، ازواجِ مطہرات بھی تھیں، حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کااونٹ سوء اتفاق سے بیمار ہوگیا، حضرت زینب رضی اللہ عنہا کے پاس ضرورت سے زیادہ تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا کہ ایک اونٹ حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکودیدو؛ انہوں نے کہا: کیا میں اس یہودیہ کواپنا اونٹ دے دوں؟ اس پرآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم ان سے اس قدر ناراض ہوئے کہ دومہینے تک ان کے پاس نہ گئے (اصابہ:۸/۱۲۶، بحوالہ ابن سعدوزرقانی:۳/۲۹۶) ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کی قدوقامت کی نسبت چند جملے کہے توآنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ تم نے یہ ایسی بات کہی ہے کہ اگرسمندر میں چھوڑدی جائے تواس میں مل جائے (ابوداؤد:۲/۱۹۳) یعنی سمندر کوبھی گدلا کرسکتی ہے۔

ایک بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم حضرت صفیہ رضی اللہ عنہاکے پاس تشریف لے گئے، دیکھا کہ رورہی ہیں آپ نے رونے کی وجہ پوچھی؛ انہوں نے کہا کہ عائشہ رضی اللہ عنہا اور حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا کہتی ہیں کہ ہم تمام ازواج میں افضل ہیں ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زوجہ ہونے کے ساتھ آپ کی چچازاد بہن بھی ہیں، آپ نے فرمایا کہ تم نے یہ کیوں نہ کہہ دیا کہ ہارون علیہ السلام میرے باپ، موسیٰ علیہ السلام میرے چچا اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم میرے شوہر ہیں اس لیے تم لوگ کیونکر مجھ سے افضل ہوسکتی ہو۔
(ترمذی:۶۳۸، باب فضل ازواج النبی صلی اللہ علیہ وسلم)

حضرت صفیہ رضی اللہ عنہا سیرچشم اور فیاض واقع ہوئی تھیں؛ چنانچہ جب وہ ام المؤمنین بن کر مدینہ میں آئیں توحضرت فاطمہ رضی اللہ عنہا اور ازواجِ مطہرات رضی اللہ عنھن کواپنی سونے کی بجلیاں تقسیم کیں۔
(زرقانی:۳/۲۹۶)

کھانا نہایت عمدہ پکاتی تھیں اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس تحفۃ بھیجا کرتی تھیں، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس انہوں نے پیالہ میں جوکھانا بھیجا تھا اس کا ذکر بخاری اور نسائی وغیرہ میں آیا ہے۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 19th, 2016, 5:14 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
اُویس قَرَنی رضی اللہ عنہ

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 20th, 2016, 9:52 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
Sahi Muslim Me Se Ek Wakia!

ImageImage

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 22nd, 2016, 7:24 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
معجزات رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم

معجزہ کا لفظ عجز یا عاجزی سے نکلا ہے یعنی ایسی کوئی چیز جس سے عقل عاجز آ جائے۔ یعنی انسانی ذہن اس کی کوئی توجیہہ نہ پیش کر سکے۔معجزہ اللہ کی قدرت کاملہ کا کرشمہ ہوتا ہے اور اللہ اپنے نبیوں کو معجزات عطا کرتا ہے تاکہ منکرین توحید اس سے سبق لیتے ہوئے اللہ پر ایمان لی آئیں لیکن یہ دیکھا گیا ہے کہ انبیاء سے معجزات کا مطالبہ کرنے والے عموماً ہدایت سے محروم ہی رہے ہیں۔قریش مکہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بارہا معجزات کا مطالبہ کیا۔اللہ نے سب سے پہلے قرآن کریم کو ہی ایک معجزہ قرار دیا کہ اگر یہ قرآن انسانی کتاب ہے اس جیسی ایک آیت ہی بنا کر لاؤ اور آج ساڑھے چودہ سو سال کے بعد بھی کوئی انسان نہ تو ایسی کوئی آیت بنا سکا ہے اور نہ ہی بنا سکے گا۔اس کے علاوہ اللہ نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بے شمار معجزات عطا فرمائے جن کا احاطہ کرنا اس مضمون میں ممکن نہیں ہوگا اس لیے ہم چند ایک کا ہی ذکر کریں کریں گے اور اس میں ہم شق القمر اور معراج کا ذکر نہیں کریں گے کہ یہ تو ایسے عظیم معجزات ہیں کہ جن سے تمام مسلمان واقف ہیں بلکہ ہم یہاں چند دوسرے معجزات کا ذکر کریں گے۔
درخت کا اپنی جگہ سے چل کر آنا
رکانہ بن عبد یزید قریش کا ایک طاقتور پہلوان تھا اور قریش میں اس سے بڑا کوئی پہلوان نہ تھا ایک دفعہ مکہ کی ایک ویران گھاٹی میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا اس سے سامنا ہوگیا آپ نے اسے اسلام کی دعوت دی اس نے مطالبہ کیا کہ اگر آپ مجھے کشتی میں ہرا دیں تو میں اسلام قبول کر لونگا۔آپ نے اسے ایک دفعہ نہیں بلکہ دو دفعہ کشتی میں پچھاڑ دیا اس نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ یہ بڑی حیرت کی بات ہے کہ آپ نے مجھے پچھاڑ دیا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں تمہارے سامنے اس سے بھی عجیب و غریب چیز پیش کرونگا مگر شرط یہ ہے کہ تم اللہ سے ڈرو،اپنی روش بدلو اور میری پیروی اختیار کرو۔اس نے پوچھا کہ آپ کیا دکھانا چاہتے ہیں ؟نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ میں اس درخت کو اپنے پاس بلاؤنگا اس نے کہا کہ بلاؤ۔آپ نے درخت کو حکم دیا اور وہ درخت اپنی جگہ سے چل کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے پاس آیا اس کے بعد آپ نے اسے حکم دیا کہ واپس جائو تو وہ واپس اپنی جگہ چلا گیا۔
کٹے ہوئے بازو کا جڑنا
خبیب بن اساف رضی اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ میں اپنے ایک اور ساتھی کےساتھ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اس وقت آپ کسی جنگ پر جارہے تھے۔ہم نے عرض کیا کہ ہم بھی آپ کے ساتھ جنگ میں حصہ لینا چاہتے ہیں۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے پوچھا کیا آپ لوگ مسلمان ہوگئے ہیںِ؟ہم نے نفی میں جواب دیا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ ہم مشرکین کے مقابلے میں مشرکین کی مدد نہیں چاہتے ہیں پھر ہم نے اسلام قبول کیا اور جنگ میں شریک ہوگئے،دوران جنگ دشمن کے ایک جنگجو نے میرے کندھے پر وار کیا میرا بازو کٹ کر لٹکنے لگا۔میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا آپ نے میرے بریدہ بازو میں لعاب لگایا اور اسے سی دیا میرا بازو جڑ گیا اور میں بالکل ٹھیک ہوگیا پھر میں نے اس دشمن کو قتل کیا جس نے میرے اوپر وار کرکے مجھے زخمی کیا تھا
گھی کا بھرا ہوا برتن
حضرت انس بن مالک نے اپنی والدہ کا ایک واقعہ بیان کیا کہ ان کی والدہ نے کہا کہ ان کے پاس ایک دودھ دینے والی بکری تھی اس کے دودھ کو بلو کر وہ ایک ڈبے میں گھی جمع کرتی تھیں یہاں تک کہ وہ ڈبہ بھر گیا ان کے پاس ایک لڑکی تھی اس کو حکم دیا کہ یہ گھی کا کپہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو دے آئے تاکہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس سے روٹی کھالیا کریں،وہ لڑکی کپہ لیکر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے یہاں حاضر ہوئی اور عرض کیا کہ یہ امِ سلیم نے بھیجا ہے،چنانچہ نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے گھر والوں کو کہا کہ کپہ خالی کرکے لڑکی کو دیدیں ،انہوںنے وہ کپہ خالی کرکے دے دیا اور لڑکی نے کپہ لاکر کھونٹی پر لٹکا دیا۔ام سلیم جو کسی کام سے باہر گئیں تھیں جب واپس آئیں تو لڑکی سے پوچھا کیا میں تجھے حکم نہیں دیا تھا کہ گھی کا کپہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں دے آئو؟اس نے جواب دیا کہ “ہاں میں گھی دے آئی ہوں “ ام سلیم نے کہا کہ کپے میں سے تو گھی کے قطرے ٹپک رہے ہیں لڑکی نے عرض کیا آپ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ہاں جاکر تصدیق کرلیں
ام سلیم لڑکی کو ساتھ لیکر نبی پاک کے ہاں گئیں اور ان سے پوچھا تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اس کی بات کی تصدیق کی۔اس پر ام سلیم نے عرض کیا کہ “اس ذات کی قسم جس نے آپ کو سچائی اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے وہ کپہ تو بھرا پڑا ہے اور اس میں سے لبریز ہونے کے بعد گھی کے قطرے گر رہے ہیں“ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ “ام سلیم تجھے اس پر کوئی تعجب ہے جس طرح اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کو رزق دیا اس طرح تجھے بھی اپنی رحمت سے بھی رزق عطا فرمادے؟ کھاؤ پیو اور شکر ادا کرو
ام سلیم کہا کرتی تھیں کہ “ اس کپے میں سے ہم نے لوگوں کے گھر پیالے بھر بھر گھی بھیجا اور ہم خود باقی ماندہ گھی سے دو ماہ تک روٹی کھاتے رہے“
لکڑی کا تلوار بننا
عکا شہ بن محصن بدر میں معرکے میں بڑی بے جگری سے لڑ رہے تھے ان کی تلوار لڑتے لڑتے ٹوٹ گئی وہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں ایک کجھور کی چھڑی عطا فرمائی اور فرمایا “ عکاشہ جا دشمنوں سے لڑ“ حضرت عکاشہ رضی اللہ عنہ نے وہ لکڑی پکڑ کر جھٹکا دیا تو وہ ایک لمبی تلوار بن گئی جس کی دہار تیز اور چمک دار تھی اور اس میں مضبوطی تھی ۔حضرت عکاشہ نے یہ تلوار بدر کے میدان میں خوب استعمال کی۔اس تلوار کا نام العون تھا ۔حضرت عکاشہ کے پاس یہ تلوار ایک مدت تک رہی اور وہ اس کے جوہر جہاد میں دکھاتے رہے۔
زخمی آنکھ کا ٹھیک ہونا
حضرت قتادہ بن نعمان رضی اللہ عنہ میدان احد میں بڑی بے جگری سے لڑے اور اپنی شجاعت کے جوہر دکھائے،میدان احد میں حضرت قتادہ بن نعمان کی آنکھ زخمی ہوگئی اور اس کی پتلی نکل کر ان کے گال پر لٹکنے لگی حضرت قتادہ بیان کرتے ہیں کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنے دست مبارک سے وہ پتلی واپس آنکھ میں رکھ دی تو وہ آنکھ بالکل ٹھیک ہوگئی۔یہ آنکھ دوسری آنکھ سے بھی ذیادہ تیز نگاہ اور بہتر تھی۔
بکری کے خشک تھنوں سے دودھ کا جاری ہونا
حضرت عبداللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میں عقبہ بن ابی معیطر کی بکریاں چرایا کرتا تھا ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا وہاں سے گزر ہوا آپ نے مجھ سے پوچھا کہ “ اے لڑکے کیا تیرے پاس دودھ ہے؟“ میں نے عرض کیا کہ ہاں دودھ ہے مگر وہ کسی کی امانت ہے میں دینے کا مجاز نہیں ہوں۔
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا اچھا تمہارے پاس کوئی ایسی بکری ہے جو کبھی حاملہ نہ ہوئی ہو اور نہ شِیر دار۔، میں نے عرض کیا کہ ہاں ایسی بکری تو ہے پھر میں نے وہ بکری پیش خدمت کردی۔نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے تھنوں پر ہاتھ پھیرا تھوڑی دیر سہلاتے رہے اس کے تھنوں میں دودھ اتر آیا ۔آپ نے ایک برتن میں دودھ بھر کر وہ خود بھی پیا اور اپنے ساتھی حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کو بھی پلایا۔پھر آپ نے تھنوں کو حکم دیا خشک ہوجاؤ،چنانچہ وہ خشک ہوگئے۔
گستاخ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا انجام
ابو لہب کے بیٹے عتیبہ نے ایک بار نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کی تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس کے حق میں بد دعا کی کہ “ اے اللہ اپنے کتوں میں سے کسی کتے کو اسپر مسلط کردے “نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی یہ بد دعا ایسے پوری ہوئی کہ کچھ عرصے کے بعد عتیبہ اپنے باپ ابو لہب کے ساتھ شام کے تجارتی سفرپر روانہ ہوا ایک جگہ پڑاؤ کیا وہاں ایک گرجا تھا وہاں کے لوگوں نے بتایا کہ یہاں تو شیر ایسے گھومتے ہیں جیسے اور عام علاقوں میں بکریاں گھومتی ہیں،ابو لہب کو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بد دعا یاد تھی اس نے دیگر قافلے والوں سے کہا کہ اس نے ( نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ) میرے بیٹے کو بد دعا دی ہے جس سے میں سخت فکر مند ہوں پس تم سارا سامان سا گرجا کے صحن میں جمع کردو اور اسکے اوپر میرے بیٹے کا بستر لگا دو پھر اس سامان کے گرد تم سب سوجاؤ“ قافلے والوں نے ایسا ہی کیا رات جب سب سوگئے تو جنگل سےشیر آیا تمام قافلے کے لوگوں کو سونگھا مگر کسی کو کچھ نہیں کہا وہ تو گستاخ رسول کی تلاش میں تھا۔شیر نے پیچھے ہٹ کر ایک اونچی چھلانگ لگائی سامان کے بلند ڈھیر پر چڑھ کر اس نے عتیبہ کے چہرے کو سونگھا اور اسے چیر پھاڑ دیا اور اس کا سر کھول دیا۔ اس واقعے پر ابو لہب کا بڑا برا حال تھا اور وہ کہے جارہا تھا میں جانتا تھا کہ میرا بیٹا محمد کی بد دعا سے کبھی نہیں بچ سکے گا “
ایک یہودیہ کی ناپاک جسارت
فتح خیبر کے بعد جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کچھ اطمنان سے بیٹھے تو ایک یہودیہ زینب بن الحارث نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے قتل کی ناپاک سازش کی اور ایک بکری کا گوشت زہر آلود کرکے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کیا۔اس عورت نے گوشت بھیجنے سے پہلے معلوم کیا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو کون سے حصے کا گوشت زیادہ مرغوب ہے،بتایا گیا کہ دستی کا گوشت زیادہ مرغوب ہے تو اس نے دستی کو بہت زیادہ مسموم کیا اور اس کے بعد وہ گوشت اچھی طرح بھون کر نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی خدمت میں ہدیہ کردیا آپ نے دستی کا گوشت اٹھایا،آپ نے ایک نوالہ منہ میں تو لیا مگر اسے نگلا نہیں بلکہ اسے واپس اگل دیا اور فرمایا کہ اس بکری کی ہڈی مجھے خبر دے رہی ہے کہ اسے زہر آلود کیا گیا ہے۔اس عورت کو بلایا گیا اس نے اقرار کیا کہ اس نے ایسا ہی کیا تھا جب اس سے پوچھا گیا کہ اس نے ایسا کیوں کیا تو اس نے جواب دیا کہ “ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے میری قوم کے ساتھ جو معاملہ کیا وہ آپ کے سامنے ہے میرا ارادہ تھا کہ آپ کو اگر آپ عام بادشاہوں کی طرح ہونگے تو اس زہر سے نعوذ باللہ ہلاک ہوجائیں گے اور میںراحت پاؤنگی اور اگر آپ واقعی نبی ہیں تو اللہ آپ کو اس کی خبر دے گا “ اس کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اسے اس وقت تو معاف کردیا مگر بعد میں اس زہر کے اثر سے حضرت بشیر رضی اللہ عنہ کی شہادت ہوگئی تو پھر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ان کے قصاص میں اس عورت کو قتل کردیا۔
یہودیوں کی ناپاک سازش
ایک دفعہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ایک خون بہا کا معاملہ طے کرنے کے لیے قبیلہ بنو نضیر تشریف لے گئے۔یہودیوں نے نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کہا کہ ہم آپ کے ساتھ مکمل تعاون کریں گے آپ تشریف لے آئیے۔جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تشریف لائے تو انہوں نے آپ کو ایک بلند دیوار کے سائے میں بٹھایا اور آپس میں ایک سازش تیار کی کہ اس سے اچھا موقع کوئی نہ ہوگا کوئی شخص مکان کی چھت پر چڑھ جائے اور ایک بھاری پتھر پھینک دے تاکہ ہم اس سے نجات پا جائیں نعوذ باللہ۔ سب نے اس رائے کو پسند کیا اور عمرو بن جحاش بن کعب نے کہا کہ میں یہ کام کرونگا اور وہ مکان کی چھت پر چڑھ گیا اور ایک بھاری پتھر گرانے کے لیے تیار ہوگیا اس وقت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم صحابہ کی ایک جماعت کے ساتھ دیوار کے سائے میں بیٹھے تھے۔آپ کی مجلس میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ،حضرت عمر رضی اللہ عنہ،اور حضرت علی رضی اللہ عنہ،بھی موجود تھے،
نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کو آسمان سے خبر ملی کہ یہودیوں نے آپ کےخلاف سازش تیار کی چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم اٹھ کھڑے ہوئے اور مدینہ کی طرف روانہ ہوگئے۔صحابہ کرام رضی اللہ اجمعین کچھ دیر وہیں بیٹھے رہے مگر جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کافی دیر تک واپس نہ آئے تو تلاش میں نکلے۔مدینے کی طرف سے آتا ہوا ایک شخص ملا تو صحابہ نے اس سے دریافت کیا تو معلوم ہوا کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مدینہ پہنچ گئے ہیں۔صحابہ بھی مدینہ پہنچے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے انہیں یہودیوں کی سازش کی اطلاع دی اور اس کے بعد ہی صحابہ کو بنو نضیر سے جنگ کا حکم دیا۔
یہ ہم نے یہاں سینکڑوں معجزات میں سے صرف چند ایک نقل کیے ہیں۔ان کے انتخاب کی ایک خاص وجہ ہے۔اگر آپ شروع کے چھ معجزات کا مطالعہ کریں گے تو وہ معجزات خیر و برکت اور صحت و سلامتی سے متعلق ہیں۔یہاں یہ بات واضح رہے کہ یہ خیر و برکت نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے تعلق اور اتباع کے باعث صحابہ کرام کو نصیب ہوتی تھی ۔اگر چہ نبی آج نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم دنیا سے پردہ فرما چکے ہیں لیکن نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کی پیروی، نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اتباع اور اللہ کے احکامات پر عمل کریں گے تو ان شاﺀ اللہ ہم بھی ان فیوض اور برکات سے فیض یاب ہونگے۔اور ہمارا معاشرہ بھی پر سکون ہوجائے گا۔
اس کے بعد گستاخ رسول کے حوالے سے معجزہ بیان کرنےکا مقصد ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی کرنا دراصل اللہ کے محبوب ترین نبی کی کی شان گستاخی کرنا ہے اور یہ اللہ سے دشمنی کے مترادف ہے اور اللہ اپنے محبوب کے گستاخ کو اس کی گستاخی کی سزا اسی دنیا میں دیں گے اور وہ کوئی ڈھکی چھپی سزا نہیں ہوگی بلکہ ان شاﺀ اللہ پوری دنیا اس کو دیکھے گی۔
آخری دو معجزات یہودیوں سے متعلق ہیں جو یہ ظاہر کرتے ہیں کہ یہودی تو ہمارے پیارے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ہی جان کے دشمن تھے اور وہ آپ کے خلاف سازشیں کرتے رہتے تھے۔پھر یہ کیسے ممکن ہے کہ وہ جس نبی مہربان صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی جان کے دشمن ہوں اس کی امت کے دوست بن جائیں۔ یاد رکھیں یہود اور نصاریٰ کبھی بھی ہمارے دوست نہیں ہوسکتے ہیں یہ اللہ کا فرمان ہے۔اب ہمارے مسلمان بھائیوں کو سوچنا چاہیے کہ ہم اس حوالے سے محتاط رہیں۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 30th, 2016, 6:16 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: August 2nd, 2016, 7:31 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
Hazrat ALI(R.A) Ki Zahanat

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: August 5th, 2016, 7:51 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
ایک مرتبہ شفیا اصبحی مدینہ آئے

ایک مرتبہ شفیا اصبحی مدینہ آئے، دیکھا کہ ایک شخص کے گرد بھیڑ لگی ہوئی ہے،پوچھا کون ہیں، لوگوں نے کہا ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ، یہ سن کر شفیا اصبحی ان کے پاس جاکر بیٹھ گئے، اس وقت ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ لوگوں سے حدیث بیان کررہے تھے،جب حدیث سنا چکے اور مجمع چھٹ گیا تو شفیا نے ان سے کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی کوئی حدیث سنائیے جس کو آپ نے ان سے سنا ہو سمجھا ہو، جانا ہو،
ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہا ایسی ہی حدیث سناؤں گا،یہ کہا اور چیخ مار کر بے ہوش ہوگئے ،تھوڑی دیر کے بعد ہوش آیا تو کہا میں تم سے ایک ایسی حدیث بیان کروں گا جو آپ نے اس گھر میں بیان فرمائی تھی اوراس وقت میرے اورآپ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کوئی تیسرا شخص نہ تھا اتنا کہہ کر زور سے چلائے اورپھر بیہوش ہوگئے، افاقہ ہوا تو منہ پر ہاتھ پھیر کر کہا،میں تم سے ایسی حدیث بیان کروں گا جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس گھر میں بیان فرمائی تھی اور وہاں میرے اورآپ کے سوا کوئی شخص نہ تھا یہ کہا اور پھر چیخ مار کر غش کھا کر منہ کے بل گرپڑے،

شفیا اصبحی نے تھام لیا اور دیر تک سنبھالے رہے، ہوش آیا تو کہا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ قیامت کے دن جب خدا بند ہ کے فیصلہ کے لئے اترے گا تو سب سے پہلے تین آدمی طلب کئے جائیں گے عالم قرآن ،راہ خدا میں شہید ہونے والا اور دولتمند ، پھر خدا عالم سے پوچھے گا کیا میں نے تجھ کو قرآن کی تعلیم نہیں دی،
وہ کہے گا ہاں، خدا فرمائے گا تو نے اس پر عمل کیا ؟
وہ کہے گا میں رات دن اُ س کی تلاوت کرتا تھا ،
خدا فرمائے گا تو جھوٹا ہے تو اس لئے تلاوت کرتا تھا کہ لوگ تجھ کو قاری کا خطاب دیں؛چنانچہ خطاب دیاگیا،
پھردولت مند سےپوچھے گا ،کیا میں نے تجھ کو صاحب مقدرت کرکے لوگوں کی احتیاج سے بے نیاز نہیں کردیا! وہ کہے گا ہاں خدایا،فرمائے گا تونے کیا کیا،
وہ کہے گا میں صلہ رحمی کرتا تھا،صدقہ دیتا تھا، خدافرمائے گا تو جھوٹ بولتا ہے ؛بلکہ اس سے تیرا مقصد یہ تھا کہ تو فیاض اورسخی کہلائے اورکہلایا ،
پھر وہ جسے راہ خدا میں جان دینے کا دعویٰ تھا پیش ہوگا ،اس سے سوال ہوگا تو کیوں مار ڈالا گیا،وہ کہے گا تونے اپنی راہ میں جہاد کرنے کا حکم دیا تھا میں تیری راہ میں لڑ ااور مارا گیا، خدا فرمائے گا تو جھوٹ کہتا ہے تو چاہتا تھا کہ دنیا میں جری اوربہادر کہلائے تویہ کہا جاچکا ،یہ حدیث بیان کرکے رسول اللہ نے میرے زانو پر ہاتھ مار کر فرمایا، ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ پہلے ان ہی تینوں سے جہنم کی آگ بھڑ کائی جائے گی، امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے یہ حدیث سنی تو کہا جب ان لوگوں کے ساتھ ایسا کیا گیا تو اور لوگوں کا کیا حال ہوگا، یہ کہہ کر ایسا زار وقطار روئے کہ معلوم ہوتا تھا کر مرجائیں گے جب ذراسنبھلے تو منہ پر ہاتھ پھیرکر فرمایا خدا اوراس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے سچ فرمایا ہےکہ۔
مَنْ كَانَ يُرِيدُ الْحَيَاةَ الدُّنْيَا وَزِينَتَهَا نُوَفِّ إِلَيْهِمْ أَعْمَالَهُمْ فِيهَا وَهُمْ فِيهَا لَا يُبْخَسُونَ ، أُولَئِكَ الَّذِينَ لَيْسَ لَهُمْ فِي الْآخِرَةِ إِلَّا النَّارُ وَحَبِطَ مَا صَنَعُوا فِيهَا وَبَاطِلٌ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ
(ھود:۱۵)
جو شخص دنیا اوراس کے سازوسامان کو چاہتا ہے ہم اس کے اعمال کا بدلہ دنیا میں ہی دیدیتے ہیں اوراس میں اس کا کچھ نقصان نہیں ہوتا؛ لیکن آخرت میں ان کا حصہ آگ کے سوا کچھ نہیں رہ جاتا اورانہوں نے جو کچھ کیا تھا وہ برباد ہوجاتا ہے اورجو کام کئے تھے وہ بے کار جاتےہیں۔
سیرت صحابہ رضی اللہ عنہ
صحیح اسلامی واقعات

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: August 16th, 2016, 9:17 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ

حضرت ابو بکر صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ ایک روز چلتے پھرتے
مدینے میں یہودیوں کے محلے میں پہنچ گئے۔وہاں ایک بڑی تعداد میں یہودی جمع تھے اس روز یہودیوں کا بہت بڑا عالم
فنحاص اس اجتماع میں آیا تھا۔ صدیق اکبر رضی الله نے فنحاص سے کہا اے فنحاص ! اللہ سے ڈر اور اسلام قبول کر لے ۔ اللہ کی قسم ! تو خوب جانتا ہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں اور وہ اللہ کی طرف سے حق لے کر آئے ہیں او تم یہ بات اپنی تورات اور انجیل میں لکھی ہوئی پاتے ہو اس پر فنحاص کہنے لگا : وہ اللہ جو فقیر ہے بندوں سے قرض مانگتا ہے اور ہم تو غنی ہیں ۔ غرض فحناص نے یہ جو مذاق کیا تو قرآن کی اس آیت پر اللہ کا مذاق اڑایا ۔

من ذالذی یقرض اللہ قرضا حسنا ( سورہ البقرہ ۲۴۵)

صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے جب دیکھا کہ اللہ کا دشمن میرے رب کا مذاق اڑا رہا ہے تو انہوں نے اس کے منہ پر طمانچہ دے مارا اور کہا : ” اس رب کی قسم جس کی مٹھی میں ابوبکر کی جان ہے اگر ہمارے اور تمہارے درمیان ( امن کا ) معاہدہ نہ ہوتا تو اے اللہ کے دشمن ! میں تیری گردن اڑا دیتا -“ فنحاص دربار رسالت میں آگیا - اپنا کیس نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں لے آیا - کہنے لگا : ” اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ! دیکھئے آپ کے ساتھی نے میرے ساتھ اس اور اس طرح ظلم کیا ہے ۔“
اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ سے پوچھا : ” آپ نے کس وجہ سے اس کے تھپڑمارا ؟تو صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ نے عرض کی : ” اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس اللہ کے دشمن نے بڑا بھاری کلمہ بولا - اس نے کہا اللہ فقیر ہے اور ہم لوگ غنی ہیں - اس نے یہ کہا اور مجھے اپنے اللہ کے لئے غصہ آگیا - چنانچہ میں نے اس کا منہ پیٹ ڈالا - یہ سنتے ہی فنحاص نے انکار کردیا اور کہا : ” میں نے ایسی کوئی بات نہیں کی -“

اب صدیق اکبر رضی اللہ تعالی عنہ کی گواہی دینے والا کوئی موجود نہ تھا - یہودی مکر گیا تھا اور باقی سب یہودی بھی اس کی پشت پر تھے - یہ بڑا پریشانی کا سماں تھا - مگراللہ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھی کی عزت وصداقت کا عرش سے اعلان کرتے ہوئے یوں شہادت دی :


لَقَد سَمِعَ اَللَّہُ قَولَ الَّذِینَ قَالُو ااِنَّ اللَّہ َ فَقِیر وَ نَحنُ اَغنِیَاء ( آل عمران : 181)
اللہ نے ان لوگوں کی بات سن لی جنہوں نے کہا کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی ہیں -
سیرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ ، بحوالہ تفسیر روح البیان

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: August 27th, 2016, 1:36 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
ملک الموت

ایک دن حضرت سلیمان علیہ السلام چاشت کے وقت ایک مجلس میں بیٹھے تھے۔ آپ کے پاس آپ کا وزیر بھی بیٹھا تھا۔ ایک آدمی آیا سلام کیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام سے باتیں کرنے لگا۔ اس نے وزیر کے طرف بڑے غصے سے دیکھا۔ وزیر ڈر گیا۔ وہ آدمی چلا گیا تو وزیر کھڑا ہوگیا اور حضرت سلیمان علیہ السلام سے پوچھنے لگا "اے اللہ کے نبی یہ آدمی جو ابھی گیا ہے، کون تھا؟ اللہ کی قسم اس کی نگاہ نے مجھے خوفزدہ کر دیا ہے۔
حضرت
سلیمان علیہ السلام نے فرمایا۔ یہ ملک الموت تھا اور آدمی کی شکل میں میرے پاس آیا تھا۔ وزیر بڑا خوفزدہ ہوا۔ اور کہنے لگا۔ "اے اللہ کے رسول، میں آپ کو اللہ کا واسطہ دیتا ہوں اور آپ سے التجا کرتا ہوں کہ ہوا کو حکم دیں کے مجھے ایک دور دراز جگہ ملک ہند پہنچا دیے۔ سلیمان علیہ السلام نے حکم دیا اور ہوا نے اسے اٹھایا اور دور جا پھینکا۔۔۔
دوسرے دن ، ملک الموت سلیمان علیہ السلام کی خدمت میں پھر حاضر ہوا ، سلیمان علیہ السلام نے ملک الموت سے کہا، کل تم نے میرے وزیر کو ڈرا دیا، تم نے اس کی طرف تیز نظروں سے کیوں دیکھا؟ موت کا فرشتہ کہنے لگا۔۔۔
"اے اللہ کے نبی میں آپ کے پاس چاشت کے وقت آیا، اللہ تعالی نے مجھے حکم دیا کہ میں اس شخص کے روح کو ظہر کے بعد ہندوستان میں قبض کروں مجھے بڑا تعجب ہوا کہ وہ شخص تو آپ کے پاس بیٹھا ہے" ۔۔۔ ۔ سلیمان علیہ السلام نے پوچھا، پھر تم نے کیا کیا؟ موت کے فرشتے نے جواب دیا، میں وہیں جا پہنچا جہاں مجھے اس کی روح کو قبض کرنا تھا، وہاں وہ میرا منتظر تھا، میں نے فوراً اسکی روح قبض کر لی۔ ۔ ۔ ۔ ۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: August 30th, 2016, 7:21 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ


نام و نسب:۔
سودہ نام تھا، قبیلہ عامر بن لوی سے تھیں، جو قریش کا ایک نامور قبیلہ تھا، سلسلہ نسب یہ ہے، سودہ بنت زمعہ بن قیس بن عبد شمس بن عبدودبن نصربن مالک بن حسل بن عامر ابن لوی، ما کا نام شموس تھا، یہ مدینہ کے خاندان بنو نجار سے تھیں، انکا پورا نام و نسب یہ ہے، سشموس بنت قیس بن زیدبن عمرو بن لبید بن فراش بن عامر بن غنم بن عدی بن النجا۔
نکاح:۔
سکران رضی اللہ تعالی عنہ بن عمرو سے جو انکے والس کے ابن عم تھے، شادی ہوئی،
قبول اسلام:۔
ابتدائے نبوت میں مشرف بہ اسلام ہوئیں، انکے ساتھ انکے شوہر بھی اسلام لائے۔ اس بنا پر انکو قدیم السلام ہونے کا شرف حاصل ہے، حبشہ کی پہلی ہجرت کے وقت تک حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ اور انکے شوہر مکہ ہی میں مقیم رہے، لیکن جب مشرکین کے ظلم و ستم کی کوئی انتہا نہ رہی اور مہاجرین کی ایک بڑی جماعت ہجرت کے لیے آمادہ ہوئی تو ان میں حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ اور انکےشوہر بھی شامل ہو گئے۔
کئی برس حبشہ میں رہ کر مکہ کو واپس آئیں، اور سکران رضی اللہ تعالی عنہ نے کچھ دن کے بعد وفات پائی۔
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ حرم نبوت بنتی ہیں:۔
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تمام ازواج مطہرات میں یہ فضیلت حاصل ہے کہ حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بعد سب سے پہلے وہی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے عقد نکاح میں آئیں، حضرت خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ کے انتقال سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نہایت پریشان و غمگین تھے، یہ حالت دیکھ کر خولہ رضی اللہ تعالی عنہ بنت حکیم (عثمان بن مظعون کی بیوی) نے عرض کی کہ آپ کو ایک مونس و رفیق کی ضرورت ہے، آپ نے فرمایا ہاں، گھر بار بال بچوں کا انتظام سب خدیجہ رضی اللہ تعالی عنہ

کے متعلق تھا، آپکے ایماء سے وہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد کے پاس گئیں، اور جاہلیت کے طریقہ پر اسلام کیا، انعم صباحا، پھر نکاح کا پیغام سنایا، انہوں نے کہا ہاں محمد(صلی اللہ علیہ وسلم) شریف کفو ہیں، لیکن سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے بھی تو دریافت کرو، غرض سب مراتب طے ہو گئے تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم خود تشریف لے گئے اور سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے والد نے نکاح پڑھایا، چار سو درہم مہر قرار پایا، نکاح کے بعد عبداللہ بن زمع(حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کے بھائی) جو اس وقت کافر تھے، آئے اور انکو یہ حال معلوم ہوا تو سر پر خاک ڈال لی کہ کیا غضب ہو گیا، چنانچہ اسلام لانے کے بعد اپنی اس حماقت و نادانی پر ہمیشہ انکو افسوس آتا تھا،(زرقانی ج3ص261)
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا نکاح رمضان سن دس نبوی میں ہوا، اور چونکہ انکے اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے نکاح کا زمانہ قریب قریب ہے، اسلیئے مؤرخین میں اختلاف ہے کہ کس کو تقدم حاصل ہے، ابن اسحاق کی روایت ہے کہ سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو تقدم ہے اور عبداللہ بن محمد بن عقیل حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو مقدم سمجھتے ہیں۔(طبقات ابن سعد ج8ص36۔37۔38۔39وزرقانی ج3ص360)
بعض روائتوں میں ہے کہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اپنے پہلے شوہر کی زندگی میں ایک خواب دیکھا تھا، ان سے بیان کیا تو بولے کہ شائد میری موت کا زمانہ قریب ہے، اور تمھارا نکاح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے ہو گا، چنانچہ یہ خواب حرف بہ حرف پورا ہوا،(زرقانی ج3ص260وطبقات ابن سعدج8ص38،39۔)

عام حالات:۔
نبوت کے تیرہویں سال جب آپ نے مدینہ منورہ میں ہجرت کی تو حضرت زیدرضی اللہ تعالی عنہ بن حارثہ کو مکہ بھیجا کہ حجرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ وغیرہ کو لیکر آئیں، چنانچہ وہ اور حضرت فاطمہ زہرارضی اللہ تعالی عنہ حضرت زید رضی اللہ تعالی عنہ کے ہمراہ مدینہ آئیں،
سن دس ہجری میں جب آنحجرت صلی اللہ علیہ وسلم نے حج کیا تو حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ بھی ساتھ تھیں، چونکہ وہ بلند و بالا و فربہ اندام تھیں اور اس وجہ سے تیزی کے ساتھ چل پھر نہیں

سکتی تھیں۔ اس لیے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے اجازت دی کہ اور لوگوں کے مزدلفہ سے روانہ ہونے کے قبل انکو چلا جانا چاہیے، کیونکہ انکو بھیڑ بھاڑ میں چلنے سے تکلیف ہو گی،(صحیح بخارج1ص22
وفات:۔
ایک دفعہ ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھیں، انہوں نے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! ہم میں سے سب سے پہلے کون مرے گا، فرمایا کہ جسکا ہاتھ سب سے بڑا ہے، لوگوں نے ظاہرہ معنی سمجھے، ہاتھ ناپے گئے تو سب سے بڑا ہاتھ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا تھا،(طبقات ج8ص37)لیکن جب سب سے پہلے حضرت زینب رضی اللہ تعالی عنہ کا انتقال ہوا۔ تو معلوم ہوا کہ ہاتھ کی بڑائی سے آپ کا مقصد سخاوت و فیاضی تھی، بہرحال واقدی نے حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا سال وفات 54 ہجری بتایا ہے،(طبقات ابن سعدج8ص37،39) لیکن ثقات کی روایت یہ ہے کہ انہوں نے حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کے اخیر زمانہ خلافت میں انتقال کیا۔(اسدالغابہ واستیعاب و خلاصہ تہذیب حالات سودہ رضی اللہ تعالی عنہ)
حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے سن 23 ہجری میں وفات پائی ہے اس لیے حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کی وفات کا سال 22 ہجری ہو گا خمیس میں یہی روایت ہےاور سب س ےزیادہ صحیح ہے،(زرقانی ج3ص262) اور اسکو امام بخاری، ذہبی، جزری ابن عبدالبر اور خزرجی نے اختیار کیا ہے۔
اولاد:۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی اولاد نہیں ہوئی، پہلے شوہر(حضرت سکران رضی اللہ تعالی عنہ) نے ایک لڑکا یادگار چھوڑا تھا، جسکا نام عبدالرحمن تھا، انہوں نے جنگ جلولاء (فارس) میں شہادت حاصل کی۔(زرقانی ج2ص260)

حلیہ:۔
ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے زیادہ کوئی بلند بالا نہ تھا، حضرت عائشہ کا قول ہے کہ جس نے انکو دیکھ لیا، اس سے وہ چھپ نہیں سکتی تھیں۔(صحیح بخاری ج3ص707) زرقانی میں ہے کہ انکا ڈیل لانبا تھا،(زرقانی ض3ص459۔)
فضل و کمال:۔
حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ سے صرف پانچ حدیثیں مروی ہیں، جن میں سے بخاری میں صرف ایک ہے، صحابہ رضی اللہ تعالی عنہما میں حضرت ابن عباس رضی اللہ تعالی عنہ ، ابن زبیر رضی اللہ تعالی عنہ اور یحی بن عبدالرحمن(بن اسعد بن زرارہ) نے ان سے روایت کی ہے،
اخلاق:۔
حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتی ہیں۔(طبقات ج8ص37)
"سودہ کے علاوہ کسی عورت کو دیکھ کر مجھے یہ خیال نہیں ہوا کہ اسکے قالب میں میری روح ہوتی۔"
اطاعت و فرمانبرداری میں وہ تمام ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما سے ممتاز تھیں، آپ نے حجة الوداع کے موقع پر ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما کو مخاطب کر کے فرمایا تھا۔ کہ میرے بعد گھر میں بیٹھنا،(زرقانی ج3ص291) چنانچہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ نے اس حکم پر اس شدت سے عمل کیا کہ پھر کبھی حج کے لیے نہ نکلیں، فرماتی تھیں کہ میں حج و عمرہ دونوں کر چکی ہوں، اور اب اللہ کے حکم کے مطابق گھر میں بیٹھونگی،(طبقات ج 8ص3
سخاوت و فیاضی بھی انکا ایک اور نمایاں وصف تھا، اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کے سوا وہ اس وصف میں بھی سب سے ممتاز تھیں، ایک دفعہ حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ نے انکی خدمت میں ایک تھیلی بھیجی، لانے والے سے پوچھا، اس میں کیا ہے؟ بولا درہم، بولیں کھجور کی طرح تھیلی میں درہم بھیجے جاتے ہیں۔ یہ کہکر اسی وقت سبکو تقسیم کر دیا،(اصابہ ج 8 ص 11 وہ طائف کی کھالیں بناتی تھیں اور اس سے جو آمدنی ہوتی تھی، اسکو نہایت آزادی کے ساتھ نیک کاموں میں صرف کرتی تھیں،(ایضاً ص 65 حالات خیسہ)
ایثار میں بھی وہ ممتاز حیثیت رکھتی تھیں، وہ اور حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ آگے پیچھے نکاح میں آئیں تھیں لیکن چونکہ انکا سن بہت زیادہ تھا۔ اس لیے جب بوڑھی ہو گئیں تو انکو سوءظن ہوا کہ شاید آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم طلاق دے دیں، اور شرف صحبت سے محروم ہو جائیں، اس بنا پر انہوں نے اپنی باری حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ کو دے دی اور انہوں نے خوشی سے قبول کر لی،( صحیح بخاری و مسلم(کتاب النکاح جواز ہبتہ نوبہتا لصرنتہا)
مزاج تیز تھا، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ انکی بےحد معترف تھیں، لیکن کہتی ہیں کہ وہ بہت جلد غصہ سے بھڑک اٹھتی تھیں، ایک مرتبہ قضائے حاجت کے لیے صحرا کو جا رہی تھیں، راستے میں حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ مل گئے، چونکہ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کا قد نمایاں تھا، انہوں نے پہچان لیا، حضرت عمر کو ازواج مطہرات رضی اللہ تعالی عنہما کا باہر نکلنا ناگوار تھا اور وہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں پردہ کی تحریک کر چکے تھے، اس لیے بولے سودہ رضی اللہ تعالی عنہ تمکو ہم نے پہچان لیا۔ حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ کو سخت ناگوار ہوا۔
آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اور حضرت عمر رضی اللہ تعالی عنہ کی شکایت کی، اسی واقعہ کے بعد آیتِ حجاب نازل ہوئی۔(صحیح بخاری ج1ص26)
باایں ہمہ ظرافت اس قدر تھی کہ کبھی کبھی اس انداز سے چلتی تھیں، کہ آپ ہنس پڑتے تھے ایک مرتبہ کہنے لگیں کہ کل رات کو میں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نماز پڑھی تھی، آپ نے (اس قدر دیر تک) رکوع کیا کہ مجھکو نکسیر پھوٹنے کا شبہہ ہو گیا، اس لیے میں دیر تک ناک پکڑے رہی، آپ اس جملہ کو سن کر مسکرا اٹھے،(سعدج8ص37)
دجال سے بہت ڈرتی تھیں، ایک مرتبہ حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ کے پاس آ رہی تھیں دونوں نے مذاق کے لہجہ میں کہا تم نے کچھ سنا؟ بولیں کیا؟ کہا دجال نے خروج کیا، حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ یہ سنکر گھبرا گئیں، ایک خیمہ جس میں کچھ آدمی آگ سلگا رہے تھے، قریب تھا، فورا اسکے اندر داخل ہو گئیں، حضرت عائشہ رضی اللہ تعالی عنہ اور حضرت حفصہ رضی اللہ تعالی عنہ ہنستی ہوئی آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں، اور آپکو اس مذاق کی خبر کی، آپ تشریف لائے اور خیمہ کے دروازے پر کھڑے ہو کر فرمایا کہ ابھی دجال نہیں نکلا ہے، یہ سن کر حضرت سودہ رضی اللہ تعالی عنہ باہر آئیں۔ تو مکڑی کا جالا بدن میں لگا ہوا تھا، اسکو باہر آ کر صاف کیا،(اصابہ ج8ص65)
میرے نزدیک یہ روایت مشکوک اور سنداً ضعیف ہے۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: September 4th, 2016, 1:49 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
ایک نوجوان کا قبول اسلام

حضرت حمزہ رضی اللہ عنہہ کے اسلام لانے کے بعد ابو جہل ، ابو لہب ، امیہ ، عتبہ سب لوگ سناٹے میں آگئے تھے ان کی سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ اب مسلمانوں سے کیسے نمٹاجائے، بازار میں بھی جہاں دو آدمی کھڑے ہوتے گفتگو کا موضوع یہی ہوتا کبھی باآواز بلند ، کبھی سرگوشیوں کے انداز میں ۔ کسی میں ہمت نہیں تھی کہ وہ حمزہ جیسے بہادر سے ٹکر لے، تین روز ہو چکے تھے حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو اسلام لائے ، یہ مسلمانوں کے لیے سکون کے دن تھے ...مگر انہیں پتا تھا کہ یہ دور رھے گا نہیں، ھمارے دشمن ضرور کویئ نہ کوئی چال سوچ رہے ہوں گے مگر اس وقت طوفان تھم گیا تھا ، اگر کوئی راہ میں مل بھی جاتا ، منہ پھیر لیتا ، ناک بھوں چڑھا لیتا مگر کہتا کچھ نہیں ۔
غموں پر غم سہنے کی تو مسلمانوں کو عادت سی ہو گئی تھی مگر خوشی پر خوشی مسلمانوں کے لیئے نئی بات تھی ، ابھی حضرت حمزہ کے قبول اسلام پر اللہ کا شکر ہی ادا کر رہے تھے کہ

مکے کی گلیوں میں ایک شخص نظر آیا ، آنکھوں میں خون اترا ہوا ، ہاتھ میں ننگی تلوار لہراتا ، اسلام اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف زہر اگلتا ، وہ اعلان کر کے آیا تھا کہ آج وہ ایک ضرب میں قریش مکہ کی ساری پریشانیاں دور کر دے گا ،یہ مہم جو نوجوان اتنا طویل القامت تھا کہ کھڑے کھڑے گھوڑے پر سوار ہو جاتا تھا ، مزاج سنجیدہ مگر غصیلا ۔ پیشہ باز نطین سے پتھروں اور مصالحوں کی تجارت ۔ عمر چھبیس 26 سال ،
جس وقت یہ نوجوان مکے کی گلیوں سے گزر رہا تھا ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم دار ارقم میں تھے ، ابو قبیس کی پہاڑی کے دامن میں حمر کعبہ کے نزدیک ، ارقم رضی اللہ کا گھر کچھ عرصے سے مسلمانوں کی مسجد بھی تھا اور پناہ گاہ بھی ، چند صحابہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ بیٹھے تھے ۔ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کھڑکی سے باہر دیکھ رہے تھے کہ انہیں وہ نظر آیا ۔ اس وقت اس کے تیور دیکھے تو بلال نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مطلع کیا ، حضرت بلال کا خیال تھا وہ یہ خبر سنتے ہی فورا کچھ حفاظتی انتظامات کا حکم دیں گے مگر انھوں نے نہایت دھیرج سے جواب دیا :
"اس کے مجھ تک پہنچنے کے وقت کا انتخاب اللہ پاک کرے گا"
بلال واپس کھڑکی کے باس دوڑ کے گئے ، وہ تلوار لیئے چلا آرہا تھا ، سیدھا مسلمانوں کی طرف ، بلال نے پھر عرض کی :
"یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ نے وقت کا انتخاب کر دیا ے ۔ وہ آگیا ہے" ۔

یہ سن کر حضرت حمزہ نے کہا :
"آنے دو ، اگر نیک نیتی سے آیا ہے خیر ورنہ اسی کی تلوار سے اسکا سر قلم کر دیا جاۓ گا" ۔
سب مسلمان چوکنے ہو کر بیٹھ گئے ، حضرت بلال نے چولہے ہر دیگچا رکھا تھا جس میں پانی کھول رہا تھا ، بلال رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے دل میں سوچا اگر خدانخواستہ ضرورت پڑی تو شاید یہ بھی کام آ جائے ، ویسے بھی مسلمانوں کو حضرت حمزہ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی موجودگی سے بڑا حوصلہ تھا !
حضرت بلال پھر کھڑکی کے پاس جا کر کھڑے ہوگئے ، وہ لمبا تڑنگا نوجوان اب مسلمانوں کے دروازے سے کوئی پچاس قدم کے فاصلے پر ہوگا ۔ اتنے میں بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا کہ ایک ضعیف آدمی جسکی پشت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کی جانب تھی اسکے سامنے آکھڑا ہوا ۔ بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو لگا کوئی بھکاری ہے ۔ یہ شمشیر بکف نوجوان اپنی غصیلی طبیعت کے باوجود ایک مخیر انسان تھا لیکن اس نے اس بوڑھے کو دینے کے بجاۓ اسے جنجھوڑ کر راستے سے ہٹا دیا ، پھر پتا نہیں کیسی کیسی قسمیں کھا کر چلایا :
"میں اس بد نصیب عورت کے ٹکڑوں کر ڈالوں گا "
پھر دیکھا کہ وہ یکایک مڑا اور الٹے پاؤں اسی راستے پر چلا گیا جدھر سے آیا تھا ۔ تیز تیز قدم اٹھاتا ہوا لگتا تھا جیسے اس کے اندر کوئی عفریت داخل ہو گیا ہو ۔
بظاہر خطرہ ٹل گیا تھا مگر بلال رضی اللہ تعالی عنہ کا دل گواہی دے رہا تھا کہ آج بات یہیں ختم نہیں ہوگی ۔ وہ اس نوجوان سے واقف تھے ، سارا مکہ اسے جانتا تھا ، وہ ان لوگوں میں سے نہیں تھا جو کسی کام کا عزم کرنے کے بعد اسے ادھورا چھوڑ دیتے ہیں ، چناچہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ کھڑکی کے پاس انتظار کرتے رہے ، اتنے میں حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے دیکھا کہ وہی بزرگ چلے آ رہے ہیں جنہوں نے اس نوجوان کا راستہ روکا تھا اور جنہیں وہ بھکاری سمجھ رہے تھے ، یہ مکے کے درمیانے درجے کے تاجر تھے ، نعیم بن عبداللہ جو کچھ عرصہ پہلے مسلمان ہو چکے تھے ، مگر اسکا اعلان نہیں کیا تھا ۔۔ وہ دراوزے سے داخل ہوتے ہی حضور صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جا کر بیٹھ گئے اور انہیں اس نوجوان سے ملاقات کا ماجرہ سنایا کہنے لگے : "میں نے باہر گلی میں اس کو ہاتھ میں تلوار لیئے ادھر آتے دیکھا تو پوچھا کہ تلوار کیوں میان سے نکال رکھی ہے؟ ، اس نے جواب دیا اسکو قتل کرنے کے لیئے جس نے قریش میں تفرقہ ڈال رکھا ہے ۔ میں نے کہا پہلے اپنے گھر کی خبر لو ، اس پر وہ نہایت غضب ناک ہو کر پوچھنے لگا کون سے گھر کی ؟ میں اپنے مسلمان ساتھیوں کا راز فاش نہیں کرنا چاہتا تھا مگر اس صورت حال میں مجھے کچھ نہ سوجھا۔ میں نے کہ دیا اپنی بہن اور بہنوئی کی جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی رسالت پر ایمان لاچکے ہیں ، یہ سنتے ہی اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی ، اس نے مجھے جھنجھوڑ کے پرے کیا اور اپنی بہن کے گھر کی طرف مڑ گیا ، شدید اشتعال کے عالم میں چیختا چلاتا اور اپنی بہن کے قتل کی دھمکیاں دیتا ، اللہ ان دونوں میاں بیوی کو اپنے حفظ و امان میں رکھے ! "
اس نوجوان کے اسی اشتعال کا مظاہرہ حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے دور سے دیکھا تھا ، نعیم رضی اللہ تعالی عنہ کی روداد سن کر سب مسلمان اپنے ساتھیوں کی خیریت کی دعایئں مانگ رہے تھے کہ اتنے میں بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے کھڑکی سے دیکھا کہ وہ نوجوان دوبارہ چلا آرہا ہے ۔ کھنچی ہوئی تلوار اب بھی اسکے ہاتھ میں تھی ، حضرت بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے بھاگ کر دروازہ بند کر دیا اور چٹخنی لگا دی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فورا صورت حال کا اندازہ لگا لیا ، وہ فورا اٹھ کھڑے ہوئے اور بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو کہنے لگے :
"دروازہ کیوں بند کر دیا بلال ؟
بلال رضی اللہ تعالی عنہ نے کہا :
"وہ پھر آ رہا ہے تلوار لہراتا ہوا "
حضور صلی اللہ علیہ نے ایک لمحے کےلیئے بلال رضی اللہ تعالی عنہ کو خاموش نگاہوں سے دیکھا اور فرمایا :
"پیغمبر کا دروازہ کسی کے لیئے بند نہیں ہوتا ، اللہ سے ڈرو بلال اور دروازہ کھول دو '۔
یہ کہ کر وہ کمرے کے وسط میں جا کر کھڑے ہو گئے ، سارے صحابی بھی ساتھ ہی اٹھ کھڑے ہوئے ، حسب حکم بلال رضی اللہ تعالی عنہ دروازہ کھولنے کے لیئے پہنچے ہی تھے کہ باہر سے دستک سنائی دی ۔ نوجوان تلوار کے دستے سے دروازہ کھٹکھٹا رہا تھا، حضرت بلال نے فورا دروازہ کھول دیا ۔ اب جو مسلمانوں نےدیکھا اس پر آج تک یقین نہ آیا ، وہ جھک کر دروازے سے داخل ہوا ۔ اسکے اندر قدم رکھتے ہی رسول اللہ علیہ وسلم خود آگے بڑھے اور اسکا دامن جھٹک کر اس سے پوچھا :
، کس ارادے سے آئے ہو ؟
ساری کائنات کی قوت سمٹ آئی تھی اس مختصر سے سوال میں ، نوجوان سر سے لے کر پاؤں تک لرز گیا ، اس نے رسالت ماب صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف دیکھا اور دیکھتا رہا۔ پھر پیچھے کھڑے حاضرین کی طرف دیکھا اور دیکھتا رہا ، اس کے بعد اس نے نظریں نیچے کر لیں اور اپنی تلوار کو دیکھتا ریا ، اسکے اندر ایک ہیجان پرپا تھا ، ایک لاوا تھا جو پھٹ پڑنے کے لیئے تیار تھا ، سب صحابہ کی نظریں اس پر جمی تھیں ، یکایک اسنے تلوار ہاتھ سے گرا دی اور کہنے لگا :

"میں اعلان کرتا ہوں کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں اور محمد صلی اللہ علیہ وسلم اسکے رسول ہیں "


یہ سنتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اور انکے ساتھ مل کر سب صحابہ نے اتنے زور سے اللہ اکبر کا نعرہ لگایا کہ ابو قبیس کی چٹانیں گونج اٹھیں ۔

جانتے ہیں یہ نوجوان کون تھا یہ نوجوان وہ تھا جسے خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ سے مانگا تھا ، یہ مراد رسول تھے
جن کے نام سے آج بھی کفر کو لرزہ چڑھ جاتا ہے یہ حضرت عمر فاروق بن الخطاب رضی اللہ تعالی عنہ تھے جہنوں نے چالیس ویں نمبر پر اسلام قبول کیا

(ماخوذ ، حیات الصحابہ )

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: September 5th, 2016, 10:16 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
اصحابُ الاخدود کا واقعہ

قُتِلَ أَصْحَابُ الْأُخْدُودِالنَّارِ o ذَاتِ الْوَقُودِoإِذْ هُمْ عَلَيْهَا قُعُودٌoوَهُمْ عَلَى مَا يَفْعَلُونَ بِالْمُؤْمِنِينَ شُهُودٌoوَمَا نَقَمُوا مِنْهُمْ إِلَّا أَنْ يُؤْمِنُوا بِاللَّهِ الْعَزِيزِ الْحَمِيدِoالَّذِي لَهُ مُلْكُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ ۚ وَاللَّهُ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيدٌ
["](کہ) خندقوں والے ہلاک کئے گئے وہ ایک آگ تھی ایندھن والی جبکہ وہ لوگ اس کے آس پاس بیٹھے تھے اور مسلمانوں کے ساتھ جو کر رہے تھے اس کو اپنے سامنے دیکھ رہے تھے۔‏ یہ لوگ ان مسلمانوں (کے کسی اور گناہ) کا بدلہ نہیں لے رہے تھے، سوائے اس کے کہ وہ اللہ غالب لائق حمد کی ذات پر ایمان لائے تھے جس کے لئے آسمان و زمین کا ملک ہے۔ اور اللہ تعالٰی کے سامنے ہے ہر چیز۔‏
بنی اسرائیل میں ایک بادشاہ تھا، جس نے اپنے پاس ایک جادوگررکھا ہوا تھا۔ جب جادوگر بوڑھا ہوگیا تو اس نے بادشاہ سے کہا کہ مجھے ایک سمجھدار لڑکا دیجئے جسے میں اپنا تمام عمل سکھادوں، تاکہ وہ میرے بعد تیرے کام آسکے۔ بادشاہ نے ایک لڑکا مقرر کردیا۔ جو اس سے جادو سیکھنے لگا۔ اس لڑکے کے گھر اور جادو گر کے درمیان کے راستہ میں ایک عبادت گاہ تھی جس میں ایک راہب ﴿یہود کا عالم﴾اللہ کی عبادت کرتااور لوگوں کودین سکھایاکرتا تھا۔ لڑکا اس کے پاس بھی جاکر دین کا علم سیکھنے لگا۔ اتفاق سے ایک دن ایسا ہوا کہ جب وہ راہب کے پاس سے جادوگر کے پاس جانے کے لئے نکلا تو اس نے دیکھاکہ ایک بہت بڑا اژدھا لوگوں کے راستہ میں آکر کھڑا ہوگیاہے جس سے لوگوں کی آمد ورفت رک گئی ہے۔ اس نے سوچا یہ موقع اچھا ہے اس بات کی تصدیق ہو جائے کہ جادو گر کا مذہب سچا ہے یا اس راہب کا۔ اس نے ایک پتھر اٹھایا اور اللہ سے دعاکی کہ اگر راہب کا دین سچا ہے تو یہ جانور مرجائے ورنہ ، نہ مرے۔ یہ کہہ کر اس نے پتھر مارا تو اژدھا فوراً مرگیا۔ لوگوں نے یہ دیکھ کر لڑکے کے علم کا اعتراف کرلیا۔ ایک اندھا اس کے پاس آیا اور کہا کہ اگر تو اپنے اسی علم کی بدولت میری بینائی لوٹا دے تو میں تجھے اپنی ساری دولت دے دوںگا۔ لڑکے نے کہاکہ مجھے تم سے کوئی انعام نہیں چاہئے یہ تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہے،ہاں اگر تمہاری بینائی لوٹ آئی تو کیا تم اللہ پر ایمان لے آؤ گے؟ اس نے کہا جی ہاں۔ چنانچہ لڑکے نے دعا کی اور اللہ سبحانہ وتعالیٰ نے اس کی بینائی لوٹادی تو وہ ایمان لے آیا۔ جب بادشاہ کو اس بات کی خبر ہوئی تو اس نے راہب، لڑکے اور سابق نابینا کو اپنے دربار میں بلوایا اور کہا کہ کیا میرے علاوہ بھی تمہارا کوئی رب ہے؟ انہوں نے کہا کہ اللہ ہی ہم سب کا رب ہے۔ بادشاہ نے لڑکے کے علاوہ ان دونوں کو آرے سے چیرکر دوٹکڑے کرادیا۔ اور لڑکے کے بارے میں اپنی فوج کے ایک دستہ کوحکم دیا کہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے جاکراس سے اللہ کا دین چھوڑنے کا پوچھنا اگر چھوڑدے تو ٹھیک ، ورنہ دھکا دے دینا تاکہ نیچے گرکر مر جائے۔ جب وہ اسے پہاڑ کی چوٹی پر لے گئے تو اس لڑکے نے اللہ سے یہ دعا کی :۔
’’اَللّٰھُمَّ اکْفِنِیْھِمْ بِمَا شِئْتَ‘‘﴿اے اللہ جس طرح تو چاہے مجھے ان سے بچالے﴾۔ اللہ تعالیٰ نے پہاڑ پر لرزہ طاری کردیاوہ ساری فوج جو اس کومارنے گئی تھی ، خود گر کر مرگئی۔ اور لڑکا صحیح وسلامت دوبارہ بادشاہ کے دربار میں پہنچ گیا۔ بادشاہ نے پوچھا کہ میرے فوجی کہاں ہیں۔ اس نے کہا کہ ان تمام کو میرے رب نے مارڈالا اور مجھے بچالیا۔ بادشاہ نے پھر دوسرے دستہ کو حکم دیا کہ اسے سمندر میں لے جاؤ اور جب درمیان میں پہنچو تو اس سے ﴿اللہ کا﴾ دین چھوڑنے کا پوچھنا اگر چھوڑدے تو ٹھیک ورنہ ڈبو دینا۔ وہ اسے لے گئے جب درمیان میںپہنچے تو اس لڑکے نے پھر اللہ سے وہی دعاکی، اللہ نے تمام کو غرق کردیا اور اس لڑکے کو بچالیا۔ وہ پھر بادشاہ کے دربار میںپہنچاتو بادشاہ نے پوچھا کہ میرے فوجی کہاں ہیں۔ اس نے پھر وہی جواب دیا اور کہا کہ اگر تو مجھے مارنا چاہتا ہے تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ ایک بہت بڑے میدان میں تمام رعایا کو جمع کر اور میرے ترکش میں سے ایک تیر نکال کر میری کمان میں لگا کر یہ کلمات : ’’بِسْمِ اللّٰہِ رَبِّ الْغُلاَمِ‘‘﴿اللہ کے نام کے ساتھ میں تیر چلاتا ہوں جو اس لڑکے کا رب ہے﴾ پڑھ کر مجھ پر تیر پھینک، میں مر جاؤں گا۔ بادشاہ نے ایسا ہی کیا اور لڑکا مر گیا تو ساری قوم جو یہ منظر دیکھ رہی تھی فوراً اللہ پر ایمان لے آئی اور اس کی بندگی کا اقرار کرلیا۔ بادشاہ یہ دیکھ کربہت پریشان ہوا اور اس نے اپنے فوجیوں کو خندقیں کھودنے اور ان میں لکڑیوں کے ذریعہ آگ جلانے کا حکم دیا اور تمام کو اس کے گرد اکھٹاکرکے ہر ایک سے اس کے دین کے بارے میںپوچھاجاتا، جو توحید کا اقرار کرتا اسے زندہ آگ میں پھینک دیا جاتا۔ اس طرح بہت سارے مومن مردوں اور عورتوں کو آگ میں زندہ جلادیاگیا۔ وہ آگ بہت ہی زیادہ بھیانک اور بڑی تیز تھی۔مومنین کو اس لئے انتقام کا نشانہ بنایاگیا کہ وہ اللہ ربُّ العالمین پر ایمان لاچکے تھے۔ ﴿مسلم۔ عن صہیب رضی اللہ عنہ ﴾

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: September 6th, 2016, 1:37 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
حضرت سُمَیّہ رضی اﷲ عنھا

جس طرح سب سے پہلے اسلام کے دامنِ رحمت سے وابستہ ہونے کا اعزاز ایک معزز خاتون حضرت خدیجۃ الکبریٰ رضی اﷲ عنہا کو حاصل ہوا اُسی طرح سب سے پہلے حق کی راہ میں جان کا نذرانہ پیش کرنے کی سعادت بھی ایک خاتون کو حاصل ہوئی۔ یہ خاتون حضرت سمیہ رضی اﷲ عنہا تھیں۔ آپ حضرت عمار رضی اللہ عنہ کی والدہ ماجدہ تھیں، جنہوں نے ناموسِ رسالت کے تحفظ کے لئے اپنی جان کی قربانی پیش کی۔ اسلام قبول کرنے کے ساتھ ہی ان کے جذبۂ ایمانی کو طرح طرح سے آزمایا گیا لیکن جان کا خوف بھی ان کے جذبۂ ایمان کو شکست نہ دے سکا۔ روایات میں مذکور ہے کہ انہیں گرم کنکریوں پر لٹایا جاتا، لوہے کی زرہ پہنا کر دھوپ میں کھڑا کر دیا جاتا، لیکن تشنہ لبوں پر محبتِ رسول کے پھول کھلتے رہے اور پائے استقلال میں ذرا بھی لغزش نہ آئی۔ عورت تو نازک آبگینوں کا نام ہے جو ذرا سی ٹھیس سے ٹوٹ جاتے ہیں لیکن حضرت سمیہ رضی اﷲ عنہا ایمان کا حصارِ آہنی بن گئیں۔
’’روایت ہے کہ ابوجھل نے ان کے جسم کے نازک حصے پر برچھی کا وار کیا جس سے وہ شھید ہو گئیں، یہ اسلام کی پہلی شہید خاتون ہیں، جن کو ہجرت سے پہلے شھید کر دیا گیا اور یہ وہ خاتون ہیں جنہوں نے مکہ مکرمہ میں اسلام کے ابتدائی دور میں اپنے اسلام کا اعلانیہ اظہار کیا تھا۔



ابن ابي شيبه، المصنف، 7 : 13، رقم : 233869
عسقلاني، فتح الباري، 7 : 24، رقم : 53460
مزي، تهذيب الکمال، 21 : 216، رقم : 34174

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: September 8th, 2016, 12:39 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: September 14th, 2016, 7:30 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6654 times

';SALAM''';;;;;
خلیفہ کی طلبی

‎"خلیفہ کی طلبی"
حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچاحضرت عباس رضی اللہ عنہ کا مکان مسجد نبوی سے ملا ہوا تھا اور گھر کا پر نالہ مسجد نبوی میں گِرتا تھا۔بعض دفعہ پر نالے کے پانی سے نمازیوں کو تکلیف ہوتی حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے دور خلافت میں نمازیوں کی سہولت کے لیے پرنالہ اکھڑوا دیا۔اس وقت حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر میں موجود نہ تھے حضرت عباس رضی اللہ عنہ گھر آئے تو انہیں بہت غصہ آیا۔انہوں نے فوراَ قاضی سیدنا ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ نے حضرت عمر رضی اللہ عنہ کے نام فرماں جاری کردیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے چچا نے آپ رضی اللہ عنہ کے خلاف مقدمہ دائر کیا ہےا س لیے مقررہ تاریخ کو عدالت میں پیش ہوں اور مقدمے کی پیروی کریں۔حضر ت عمر رضی اللہ عنہ مقررہ تاریخ کو حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ہوگئے۔
حضرت ابن بن کعب رضی اللہ عنہ مکان کے اندر لوگوں کے مسائل حل کرنے میں مصروف تھے اس لیے حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کو کافی دیر باہر کھڑے ہو کر انتظار کر نا پڑا مقدمہ پیش ہوا تو حضر ت عمر رضی اللہ عنہ کے کچھ کہنا چاہا لیکن ابی بن کعب نے انہیں روک دیا اور کہا کہ مدعی کا حق ہے کہ وہ پہلے دعوی پیش کرے۔
مقدمے کی کاروائی شروع ہوئی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے بیان دیا کہ جناب عالی! میرے مکان کا نالہ شروع سے ہی مسجد نبوی کی طرف تھا،رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے بعد حضر ت ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دور خلافت میں بھی یہیں تھا۔ لیکن حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے میری عدم موجودگئ میں نالہ اکھڑوا دیا مجھے انصاف فراہم کیا جائے کیونکہ میرا نقصان ہوا ہے۔

حضرت ابی بن کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا بے شک تمہارے ساتھ انصاف ہوگا،امیر المومنین!آپ اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتے ہیں قاضی نے پوچھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ جواب دیا قاضی صاحب اس پرنالے سے بعض اوقات چھینٹیں اڑ کر نمازیوں پر پڑتی تھیں۔نمازیوں کے آرام کی خاطر میں نے پرنالہ اکھڑوا دیا اور میرا خیا ل ہے یہ ناجائز نہیں ہے۔ابی ابن کعب رضی اللہ عنہ حضرت عباس رضی اللہ عنہ کی طرف متوجہ ہوئے کہ وہ کچھ کہنا چاہتے ہیں؟
حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا قاضی صاحب اصل بات یہ ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اپنی چھڑی سے مجھے نشان لگا کردئیے کہ میں اس نقشے پہ مکان بناؤں میں نے ایسے ہی کیا ۔پرنالہ خود حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں نصب کروایا تھا۔حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے مجھے حکم دیا کہ میں آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر کھڑا ہو کر یہاں پرنالہ لگاؤں میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے احترام کی وجہ سے انکار کیا۔ لیکن حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے بہت اصرار کیا اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے کندھوں پر کھڑا ہوگیا اور یہ پرنالہ یہاں لگایا جہاں سے امیر المومنین نے اکھڑوا دیا۔
قاضی نے پوچھا آپ اس واقعہ کا کوئی گواہ پیش کرسکتے حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ باہر گئے اور چند انصار کو ساتھ لائے جنہوں نے گواہی دی کہ واقعی یہ پرنالہ حضر ت عباس رضی اللہ عنہ نے حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے کندھوں پر کھڑے ہوکرنصب کیا تھا۔مقدمے کی گواہی کے ختم ہونے بعد خلیفہ وقت نگاہیں جھکا کر عاجزانہ انداز سے کھڑا تھا۔یہ وہ حکمران تھا جس سے قیصر و کسری بھی ڈرتے تھے۔حضرت عمرفاروق رضی اللہ عنہ آگے بڑھے اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ فرمایا:
"اللہ کے لیے میرا قصور معاف کردو مجھے نہیں معلوم تھا کہ یہ نالہ خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے یہاں لگوایا ہے ورنہ میں کبھی بھی اسے نہ اکھڑواتا۔جو غلطی مجھ سے ہوئی وہ لاعلمی میں ہوئی آپ میرے کندھوں پہ چڑھ کریہ نالہ وہاں لگادیں"
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا:ہاں انصاف کا تقاضہ یہ بھی ہے اور پھر لوگوں نے دیکھا کہ اتنی وسیع سلطنت پہ حکمرانی کرنے والے حکمران لوگوں کو انصاف مہیا کرنے کے لیے دیوار کے ساتھ کھڑا تھا اور حضرت عباس رضی اللہ عنہ نالہ نصب کرنے کے لیے ان کے کندھوں پر کھڑے تھے۔پر نالہ لگانے کے بعد حضرت عباس رضی اللہ عنہ فوراَ نیچے اترے اور فرمایا امیر المومنین میں نے جو کچھ کیا اپنے حق کے لیے جو آپ کی انصاف پسندی کے باعث مل گیا اب میں آپ سے بے ادبی کی معافی مانگتا ہوں۔
اس کے ساتھ ہی حضرت عباس رضی اللہ عنہ نے اپنا مکان اللہ کے راستے میں وقف کردیا امیر المومنین کو اختیار دیا کہ وہ میرا مکا ن گِرا مسجد میں شامل کر لیں تاکہ نماز یوں کی جگہ کی تنگی سے جو تکلیف ہوئی وہ بھی کم ہوجائے ۔
(بحوالہ:سیرۃ الانصار)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
Display posts from previous:  Sort by  
Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5  Next

All times are UTC + 5 hours


Related topics
 Topics   Author   Replies   Views   Last post 
There are no new unread posts for this topic. Islamic history

Ateeque bagrani

0

41

October 28th, 2016, 10:38 am

Ateeque bagrani View the latest post

There are no new unread posts for this topic. History of the Computer

aftabbagrani

1

47

November 27th, 2015, 10:47 pm

Diljaley View the latest post

There are no new unread posts for this topic. history about pakistan

tanweer786

1

92

May 15th, 2016, 9:42 pm

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. NAT GEO STAR PLUS HISTORY

AHMED786

0

49

August 29th, 2016, 6:38 am

AHMED786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. islamic history

tanweer786

0

52

April 29th, 2016, 8:04 am

tanweer786 View the latest post

 


Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 3 guests


You cannot post new topics in this forum
You cannot reply to topics in this forum
You cannot edit your posts in this forum
You cannot delete your posts in this forum

Search for:
Jump to:  
New PowerVu Ecm Updates Here Ipl 10 t20 latest feed biss Cw key Channel9-Biss
News News Site map Site map SitemapIndex SitemapIndex RSS Feed RSS Feed Channel list Channel list
Powered by phpBB® Forum Software © phpBB Group

phpBB SEO