WWW.PAKLIGHT-SHARING.COM

ASIA & PAKISTAN NO 1 DIGITAL SATELLITE NETWORK FORUM
It is currently January 20th, 2017, 6:35 am

All times are UTC + 5 hours



Advertisements

Telecom Updates

telecom news

jazz

Zong

Telenor

Ufone


DISHTVHD,SD SUNHD,SD DAILOGE BIGTVHD,SD 85E 56E,URDU1,HBO ALL EUROPEN PACKAGE 100% FULL OK CALL,0301 8331640


SHOKAT SUPER FAST SERVER DISHTV SUN DAILOGE 85E 56E URDU1 ALL EURPEN PAKAGE 100% OK CALL 03073088742&03463264573



Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5  Next
Author Message
PostPosted: May 16th, 2016, 10:18 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

Advertisements

Telecom Updates

telecom news

jazz

Zong

Telenor

Ufone



';SALAM''';;;;;
حضرت موسیؑ اور ابلیس

ایک مرتبہ ابلیس حضرت موسٰی علیہ السلام سے ملا اور کہنے لگا ....."اے موسٰی علیہ السلام! اللّٰہ تعالٰی نے تم کو اپنی رسالت کے لئےبرگزیدہ فرمایا ہے اور تم سے ہمکلام ہوا ہے۔ میں بھی خدا کی مخلوق میں شامل ہوں اور مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا۔ اب میں توبہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میرے پروردگار کے پاس سفارش کیجئے کہ میری توبہ قبول کرے..."
حضرت موسٰی علیہ السلام نےاللّٰہ تعالٰی سے دعا کی ۔ حکم ہوا کہ اے موسیٰ !"ہم تمہاری حاجت برلائے۔" پھر حضرت موسٰی علیہ السلام شیطان سے ملے اور کہا کہ مجھے ارشاد ہوا ہے کہ توحضرت آدم علیہ السلام کی قبر کو بسجدہ کرے تو تیری توبہ قبول ہو شیطان نے انکار کیا اورغصے میں آکر کہنے لگا جب میں نے آدم علیہ السلام کو ان کی زندگی میں سجدہ نہ کیا تو اب مرنے پر کیا سجدہ کرونگا۔
پھر شیطان نے کہا کہ :"موسیٰ علیہ السلام ! تم نے جو اپنے پروردگار کے پاس میری سفارش کی ہے اس لئے تمہارامجھ پر ایک حق ہے، تم مجھ کو تین حالتوں میں یاد کیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم کو ان تین وقتوں میں ہلاک کردوں ...."
'' ایک تو غصہ کے وقت مجھ کو یاد کرو کیونکہ میں میرا وسوسہ تمہارے دل میں ہے،اور میری آنکھ تمہاری آنکھ میں ہے،اور میں تمہارے رگ وپوست میں خون کی طرح دوڑتا ہوں۔''
''دوسرے جہاد و غزوات کی حالت میں میرا خیال کیا کرو کیونکہ میں فرزندِ آدم کے پاس اسوقت جاتا ہوں جب وہ کفار سے مقابلہ کرتا ہے، اور اس کے بال بچے، بیوی گھروالے یاد دلاتا ہوں، یہاں تک کے جہاد سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے.''
''تیسرے غیر محرم عورت کے پاس بیٹھنے سے بچتے رہو کیونکہ میں تمہارے پاس اس کا قاصد ہوں اور اس کے پاس تمہارا پیامبر ہوں۔''
علامہ ابن الجوزیؒ كى كتاب تلبیس ابلیس سے ماخوذ

Advertisements

Telecom Updates

telecom news

jazz

Zong

Telenor

Ufone



_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 17th, 2016, 5:34 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عمرؓ ایک قابلِ رشک صحابی

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) کیلئے اُس وقت دعا کر رہے تھے جب آپ کو زخمی حالت میں چارپائی پر لٹایا گیا تھا۔ اچانک میرے پیچھے سے ایک شخص نے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب فرماتے ہوئے یوں دعا کی : {اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید تھی کہ وہ آپ (سیدنا عمر) کو آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ اور سیدنا ابو بکر ) کے ساتھ ہی جمع فرمادے گا، کیونکہ میں اکثر و بیشتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ سنا کرتا تھا ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرماتے رہتے تھے کہ : " میں تھا ، ابوبکر اور عمر تھے، میں نے ، ابوبکر اور عمر نے یوں کیا ، میں ، ابوبکر اور عمر گئے" (یعنی ہر وقت اپنے ساتھ سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا تذکرہ فرماتے) تو اسی لیے مجھے (پہلے سے) امید تھی کہ آپ (سیدنا عمر) کو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھیوں (رسول اللہ و سیدنا ابو بکر) کے ساتھ ہی اکٹھا کر دے گا (یعنی جس طرح دنیامیں اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابو بکر ع سیدنا عمر کو رسول اللہ کے ساتھ رکھا ، وفات کے بعد بھی اُنہیں ساتھ ہی رکھے گا) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا (کہ یہ سب باتیں کرنے والے کون ہیں ) تو وہ سیدنا علی (رضی اللہ عنہ) تھے جو یہ دعا کر رہے تھے۔ (صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 18th, 2016, 4:00 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
مُردہ دفن کرنا کوّے نے سکھایا

جب قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تو چونکہ اس سے پہلے کوئی آدمی مرا ہی نہیں تھا اس لئے قابیل حیران تھا کہ بھائی کی لاش کو کیا کروں۔ چنانچہ کئی دنوں تک وہ لاش کو اپنی پیٹھ پر لادے پھرا۔ پھر اس نے دیکھا کہ دو کوے آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ پھر زندہ کوے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید کر ایک گڑھا کھودا اور اس میں مرے ہوئے کوے کو ڈال کر مٹی سے دبا دیا۔ یہ منظر دیکھ کر قابیل کو معلوم ہوا کہ مردے کی لاش کو زمین میں دفن کرنا چاہیئے۔ چنانچہ اُس نے قبر کھود کر اس میں بھائی کی لاش کو دفن کردیا۔
(مدارک التنزیل،ج۱،ص۴۸۶،پ۶،المائدۃ ۳۱)
قرآن مجید نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ:۔
فَبَعَثَ اللہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الۡاَرْضِ لِیُرِیَہٗ کَیۡفَ یُوَارِیۡ سَوْاَۃَ اَخِیۡہِ ؕ قَالَ یٰوَیۡلَتٰۤی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوۡنَ مِثْلَ ہٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْاَۃَ اَخِیۡ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیۡنَ ﴿ۚۛۙ31﴾ (پ6،المائدۃ:31)
ترجمہ کنزالایمان:۔ تو اللہ نے ایک کوا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے بولا ہائے خرابی میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچتاتا رہ گیا۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 19th, 2016, 1:17 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
اذان کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی

بعض لوگ تو يہاں تك كہتے ہيں كہ آدم عليہ السلام كے زمين پر آنے كے وقت سے ہى انبياء عليہم السلام كے ہاں اذان معروف تھى، اور بعض لوگ يہ كہتے ہيں كہ ابراہيم عليہ السلام كے ہاں يہ اس وقت معروف ہوئى جب اللہ تعالى نے انہيں حكم ديا:

﴿ اور آپ لوگوں ميں حج كا اعلان كرديں، وہ تيرے پاس پيدل اور ہر سوارى پر آئينگے ﴾الحج ( 26 ).

ليكن يہ كلام عجيب بلكہ صحيح نہيں، بلكہ صحيح بات يہ ہے كہ:

اذان رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں مدينہ شريف ميں مشروع ہوئى نہ كہ مكہ ميں، اور نہ ہى معراج كے موقع پر جيسا كہ بعض ضعيف احاديث ميں پايا جاتا ہے.

ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اذان كى ابتدا كے سلسلے ميں سب سے زيادہ عجيب وہ ہے جسے ابو الشيخ نے عبد اللہ بن زبير رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:

" اذان ابراہيم عليہ السلام كى اذان " اور آپ لوگوں ميں حج كا اعلان كر ديں " سے لى گئى، وہ كہتے ہيں كہ چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اذان كہى "

اس سند ميں مجھول راوى پايا جاتا ہے.

ديكھيں: فتح البارى لابن حجر ( 2 / 280 ).

صحيح احاديث سے پتہ چلتا ہے كہ اذان رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے عہد مبارك ميں مدينہ شريف ميں مشروع ہوئى، ذيل ميں چند ايك صحيح احاديث پيش كى جاتى ہيں:

نافع بيان كرتے ہيں كہ ابن عمر رضى اللہ تعالى كہا كرتے تھے: جب مسلمان مدينہ آئے تو وہ نماز كے ليے جمع ہوا كرتے تھے، اور نماز كے ليے اذان نہيں ہوتى تھى، چنانچہ اس سلسلہ ميں ايك روز انہوں نے بات چيت كى تو كچھ لوگ كہنے لگے عيسائيوں كى طرح ناقوس بنا ليا جائے، اور بعض كہنے لگے: يہوديوں كے سينگ كى طرح كا بگل بنا ليا جائے.

چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: تم كسى شخص كو كيوں نہيں مقرر كرتے كہ وہ نماز كے ليے منادى كرے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: بلال اٹھ كر نماز كے ليے منادى كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 569 ).

اور ابن عمير بن انس اپنے ايك انصارى چچا سے بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ مسئلہ درپيش آيا كہ لوگوں كو نماز كے ليے كيسے جمع كيا جائے؟ كسى نے كہا كہ نماز كا وقت ہونے پر جھنڈا نصب كر ديا جائے جب وہ اسے ديكھيں گے تو ايك دوسرے كو بتا دينگے، ليكن رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ طريقہ پسند نہ آيا.

راوى بيان كرتے ہيں كہ بگل كا ذكر ہوا، زياد كہتے ہيں كہ يہوديوں والا بگل چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ بھى پسند نہ آيا، اور فرمايا يہ تو يہوديوں كا طريقہ ہے، راوى كہتے ہيں چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ كے سامنے ناقوس كا ذكر ہوا، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: يہ تو عيسائيوں كا طريقہ ہے.

چنانچہ عبد اللہ بن زيد بن عبد ربہ وہاں سے نكلے تو انہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے اسى معاملہ كى فكر كھائے جارہى تھى اور وہ اسى سوچ ميں غرق تھے، چنانچہ انہيں خواب ميں اذان دكھائى گئى، راوى كہتے ہيں جب وہ صبح رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے تو انہيں اپنى خواب بيان كرتے ہوئے كہنے لگے:

ميں اپنى نيند اور بيدارى كى درميان والى حالت ميں تھا كہ ايك شخص آيا اور مجھے اذان سكھائى، راوى كہتے ہيں: اس سے قبل عمر رضى اللہ تعالى عنہ بھى يہ خواب ديكھ چكے تھے، ليكن انہوں نے اسے بيس روز تك چھپائے ركھا اور بيان نہ كيا.

راوى كہتے ہيں: پھر انہوں نے بھى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اپنى خواب بيان كى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے: تمہيں خواب بيان كرنے سے كس چيز نے منع كيا تھا ؟ توانہوں نے جواب ديا عبد اللہ بن زيد مجھ سے سبقت لے گئے تو ميں نے بيان كرنے سے شرم محسوس كى چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

بلال اٹھو اور ديكھو تمہيں عبد اللہ بن زيد كيا كہتے ہيں تم بھى اسى طرح كرو، چنانچہ بلال رضى اللہ تعالى عنہ نے اذان كہى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 420 ).

عبد اللہ بن زيد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ: جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كو نماز كے وقت جمع كرنے كے ليے ناقوس بنانے كا حكم ديا تو ميرے پاس خواب ميں ايك شخص آيا جس كے ہاتھ ميں ناقوس تھا ميں نے كہا: اے اللہ كے بندے كيا تم يہ ناقوس فروخت كروگے ؟

تو اس نے جواب ديا: تم اسے خريد كر كيا كرو گے ؟ ميں نے جواب ديا: ہم اس كے ساتھ نماز كے ليے بلايا كرينگے، تو وہ كہنے لگا: كيا ميں اس سے بھى بہتر چيز تمہيں نہ بتاؤں ؟

تو ميں نے اس سے كہا: كيوں نہيں، وہ كہنے لگا:

تم يہ كہا كرو:
" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

َأشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ( نماز كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ( نماز كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں )

راوى بيان كرتے ہيں: پھر وہ كچھ ہى دور گيا اور كہنے لگا:

اور جب تم نماز كى اقامت كہو تو يہ كلمات كہنا:

" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

َأشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ( نماز كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )

قَدْ قَامَتْ الصَّلاةُ ( يقينا نماز كھڑى ہو گئى )

قَدْ قَامَتْ الصَّلاةُ ( يقينا نماز كھڑى ہو گئى )

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں ).

عبد اللہ رضى اللہ تعالى بيان كرتے ہيں چنانچہ جب صبح ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس گيا تو اپنى خواب بيان كى، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ان شاء اللہ يہ خواب حق ہے، تم بلال رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ كھڑے ہو كر اسے اپنى خواب بيان كرو، اور وہ اذان كہے، كيونكہ اس كى آواز تم سے زيادہ بلند ہے.

چنانچہ ميں بلال رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ كھڑا ہوا اور انہيں كلمات بتاتا رہا اور وہ ان كلمات كے ساتھ اذان دينے لگے، جب عمر رضى اللہ تعالى نے يہ اپنے گھر ميں سنے تو وہ اپنى چادر كھينچتے ہوئے چلے آئے اور كہنے لگے:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اس ذات كى قسم جس نے آپ كو حق دے كر مبعوث كيا ہے، ميں نے بھى اسى طرح كى خواب ديكھى ہے چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: الحمد للہ "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 499 ).

يہ اس بات كى دليل ہيں كہ اذان كى ابتد رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے مدنى دور يعنى مدينہ منورہ ميں مشروع ہوئى، اور يہ اس امت مسلمہ كى ايك فضيلت شمار ہوتى ہے جسے اللہ تعالى نے سارى امتوں پر فضيلت دى ہے.

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 21st, 2016, 5:35 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ

حضرت سلیمان عليه السلام نہر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی نگاہ ایک چیونٹی پر پڑی جو گیہوں کا ایک دانہ لے کر نہر کی طرف جارہی تھی ، حضرت سلیما ن عليه السلام اس کو بہت غور سے دیکھنے لگے ، جب چیونٹی پانی کے قریب پہنچی تواچانک ایک مینڈ ک نے اپنا سر پانی سے نکالا اور اپنا منہ کھولا تو یہ چیونٹی اپنے دانہ کے ساتھ اس کے منہ میں چلی گئی، میڈک پانی میں داخل ہو گیا اور پانی ہی میں بہت دیر تک رہا ،
سلیمان عليه السلام اس کو بہت غور سے دیکھتے رہے ،ذرا ہی دیر میں مینڈک پانی سے نکلا اور اپنا منہ کھولا تو چیونٹی باہر نکلی البتہ اس کے ساتھ دانہ نہ تھا۔
حضرت سلیمان عليه السلام نے ا س کو بلا کر معلوم کیا کہ ”ماجرہ کیاتھا اور وہ کہاں گئی تھی“ اس نے بتایا کہ اے اللہ کے نبی آپ جو نہر کی تہہ میں ایک بڑا کھوکھلا پتھر دیکھ رہے ہیں ، اس کے اندر بہت سے اندھے کیڑے مکوڑے ہیں، اللہ تعالی نے ان کو وہاں پر پیدا کیا ہے، وہ وہا ں سے روزی تلاش کرنے کے لیے نہیں نکل سکتے‘ اللہ تعالی نے مجھے اس کی روزی کا وکیل بنایا ہے ، میں اس کی روزی کو اٹھا کر لے جاتی ہو ں اور اللہ نے اس مینڈک کو میرے لیے مسخر کیا ہے تاکہ وہ مجھے لے کر جائے ، اس کے منہ میں ہونے کی وجہ سے پانی مجھے نقصان نہیں پہنچاتا، وہ اپنا منھ بند پتھر کے سوراخ کے سامنے کھول دیتا ہے ، میں اس میں داخل ہو جاتی ہوں ، جب میں اس کی روزی اس تک پہنچا کر پتھر کے سوراخ سے اس کے منہ تک آتی ہوں تو مینڈک مجھے منہ سے باہر نکال دیتا ہے ۔

حضرت سلیما ن عليه السلام نے کہا: ”کیا تو نے ان کیڑوں کی کسی تسبیح کو سنا “ چیونٹی نے بتایا : ہاں! وہ سب کہتے ہیں

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 22nd, 2016, 5:18 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب یہودیوں کے سامنے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو چونکہ یہودی توراۃ میں پڑھ چکے تھے کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام ان کے دین کو منسوخ کردیں گے۔ اس لئے یہودی آپ کے دشمن ہو گئے۔ یہاں تک کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ محسوس فرمالیا کہ یہودی اپنے کفر پر اڑے رہیں گے اور وہ مجھے قتل کردیں گے تو ایک دن آپ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مَنْ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللہِ ؕ یعنی کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کے دین کی طرف۔ بارہ یا اُنیس حواریوں نے یہ کہا کہ نَحْنُ اَنۡصَارُ اللہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللہِ ۚ وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوۡنَ ﴿۵۲

یعنی ہم خدا کے دین کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
باقی تمام یہودی اپنے کفر پر جمے رہے یہاں تک کہ جوش عداوت میں ان یہودیوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنالیا اور ایک شخص کو یہودیوں نے جس کا نام ''ططیانوس'' تھا آپ کے مکان میں آپ کو قتل کردینے کے لئے بھیجا۔ اتنے میں اچانک اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ایک بدلی کے ساتھ بھیجا اور اس بدلی نے آپ کو آسمان کی طرف اٹھالیا۔ آپ کی والدہ جوشِ محبت میں آپ کے ساتھ چمٹ گئیں تو آپ نے فرمایا کہ اماں جان! اب قیامت کے دن ہماری اور آپ کی ملاقات ہو گی اور بدلی نے آپ کو آسمان پر پہنچا دیا۔ یہ واقعہ بیت المقدس میں شب قدر کی مبارک رات میں وقوع پذیر ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر شریف بقول علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ ۳۳ برس کی تھی اور بقول علامہ زرقانی شارح مواہب ،اس وقت آپ کی عمر شریف ایک سو بیس برس کی تھی اور حضرت علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے بھی آخر میں اسی قول کی طرف رجوع فرمایا ہے۔
(تفسیر جمل علی الجلالین،ج۱،ص۴۲۷،پ۳، آل عمران:۵۷)

ططیانوس جب بہت دیر مکان سے باہر نہیں نکلا تو یہودیوں نے مکان میں گھس کر دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ''ططیانوس''کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل کا بنا دیا یہودیوں نے ''ططیانوس''کو حضرت عیسیٰ سمجھ کر قتل کردیا۔ اس کے بعد جب ططیانوس کے گھر والوں نے غور سے دیکھا تو صرف چہرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تھا باقی سارا بدن ططیانوس ہی کا تھا تو اس کے اہل خاندان نے کہا کہ اگر یہ مقتول حضرت عیسیٰ ہیں تو ہمارا آدمی ططیانوس کہاں ہے؟ اور اگر یہ ططیانوس ہے تو حضرت عیسیٰ کہاں گئے؟ اس پر خود یہودیوں میں جنگ و جدال کی نوبت آگئی اور خود یہودیوں نے ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کردیا اور بہت سے یہودی قتل ہو گئے۔ خداوند قدوس نے قرآن مجید میں اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا کہ:۔
وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللہُ ؕ وَاللہُ خَیۡرُ الْمٰکِرِیۡنَ ﴿٪54﴾اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوْقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیۡنَکُمْ فِیۡمَا کُنۡتُمْ فِیۡہِ تَخْتَلِفُوۡنَ ﴿55
ترجمہ کنزالایمان:۔اور کافروں نے مکر کیا اوراللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے پاک کر دوں گا اور تیرے پیروؤں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے تو میں تم میں فیصلہ فرما دوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو۔
(پ3،آل عمران:54،55)

آپ کے آسمان پر چلے جانے کے بعد حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے چھ برس دنیا میں رہ کر وفات پائی (بخاری و مسلم) کی روایت ہے کہ قربِ قیامت کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے اور نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے اور دجال و خنزیر کو قتل فرمائیں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور سات برس تک دنیا میں عدل فرما کر وفات پائیں گے اور مدینہ منورہ میں گنبد ِ خضراء کے اندر مدفون ہوں گے۔
(تفسیر جمل علی الجلالین،ج۱،ص۴۲۷،پ۳، آل عمران:۵۷)
اور قرآن مجید میں عیسائیوں کا رد کرتے ہوئے یہ بھی نازل ہوا کہ وَمَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًاۢ ﴿157﴾ۙبَلۡ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیۡہِ ؕ وَکَانَ اللہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿158

ترجمہ کنزالایمان:۔اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
(پ6،النساء:157،158)
اور اس سے اوپر والی آیت میں ہے کہ:۔
وَمَا قَتَلُوۡہُ وَمَا صَلَبُوۡہُ وَلٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمْ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔ انہوں نے نہ اسے قتل کیااور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے اس کی شبیہ کا ایک بنا دیا گیا۔
(پ6،النساء:157)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودیوں کے ہاتھوں مقتول نہیں ہوئے اور اللہ نے آپ کو آسمانوں پر اٹھا لیا، جو یہ عقیدہ رکھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل ہو گئے اور سولی پر چڑھائے گئے جیسا کہ نصاریٰ کا عقیدہ ہے تو وہ شخص کافر ہے کیونکہ قرآن مجید میں صاف صاف مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ مقتول ہوئے نہ سولی پر لٹکائے گئے۔
(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 76-73)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 24th, 2016, 8:27 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
عیسائیوں کا مباہلہ سے فرار

نجران (یمن)کے نصرانیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا۔ یہ چودہ آدمیوں کی جماعت تھی جو سب کے سب نجران کے اشراف تھے اور اس وفد کی قیادت کرنے والے تین شخص تھے :۔
(۱) ابو حارثہ بن علقمہ جو عیسائیوں کا پوپ اعظم تھا۔
(۲) اُہیب جو ان لوگوں کا سردار اعظم تھا ۔
(۳) عبدالمسیح جو سردار اعظم کا نائب تھا اور ''عاقب''کہلاتا تھا۔
یہ سب نمائندے نہایت قیمتی اور نفیس لباس پہن کر عصر کے بعد مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور اپنے قبلہ کی طرف منہ کر کے اپنی نماز ادا کی۔ پھر ابو حارثہ اور ایک دوسرا شخص دونوں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے نہایت کریمانہ لہجے میں ان دونوں سے گفتگو فرمائی۔ اور حسب ذیل مکالمہ ہوا!
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:تم لوگ اسلام قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن جاؤ۔
ابو حارثہ : ہم لوگ پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہوچکے ہیں۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:تم لوگوں کا یہ کہنا صحیح نہیں کیونکہ تم لوگ صلیب کی پرستش کرتے ہو اور اللہ کے لئے بیٹا بتاتے ہو، اور خنزیر کھاتے ہو۔
ابو حارثہ :آپ لوگ ہمارے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں کیوں دیتے ہو؟
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:ہم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا کہتے ہیں
ابو حارثہ : آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بندہ کہتے ہیں حالانکہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:ہاں!ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہ کلمۃ اللہ جو کنواری مریم کے شکم سے بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوئے۔
ابو حارثہ :کیا کوئی انسان بغیر باپ کے پیدا ہوسکتا ہے؟ جب آپ لوگ یہ مانتے ہیں کہ
کوئی انسان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہیں تو پھر آپ لوگوں کو یہ ماننا پڑے
گا کہ اُن کا باپ اللہ تعالیٰ ہے۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:اگر کسی کا با پ کوئی انسان نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا باپ خدا ہی ہو۔ خداوند تعالیٰ اگر چاہے تو بغیر باپ کے بھی آدمی پیدا ہو سکتا ہے۔
دیکھوحضرت آدم علیہ السلام کو تو بغیر ماں باپ کے اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا
فرما دیا اگر اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کردیا تو اس
میں تعجب کی کون سی بات ہے؟
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس پیغمبرانہ طرزِ استدلال اور حکیمانہ گفتگو سے چاہے تو یہ تھا کہ یہ وفد اپنی نصرانیت کو چھوڑ کر دامنِ اسلام میں آجاتا مگر ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ بحث و تکرار کا سلسلہ بہت دراز ہوگیا تو اللہتعالیٰ نے سورہ آلِ عمران کی یہ آیت نازل فرمائی:

(روح البیان،ج۲،ص۴۳،پ۳،آل عمران:۵۹) فَمَنْ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمْ ۟ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ﴿61﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر اے محبوب جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔
(پ3،آل عمران:61)

قرآن کی اس دعوتِ مباہلہ کو ابو حارثہ نے منظور کرلیا۔ اور طے پایا کہ صبح نکل کر میدان میں مباہلہ کریں گے لیکن جب ابو حارثہ نصرانیوں کے پاس پہنچا تو اس نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اے میری قوم! تم لوگوں نے اچھی طرح جان لیا اور پہچان لیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نبی آخر الزمان ہیں اور خوب یاد رکھو کہ جو قوم کسی نبی برحق کے ساتھ مباہلہ کرتی ہے اس قوم کے چھوٹے بڑے سب ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ان سے صلح کرکے اپنے وطن کو واپس چلے چلو اور ہرگز ہرگز ان سے مباہلہ نہ کرو۔ چنانچہ صبح کو ابو حارثہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے آیا تو یہ دیکھا کہ آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں اٹھائے ہوئے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انگلی تھامے ہوئے ہیں اور حضرت فاطمہ و حضرت علی رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے چل رہے ہیں اور آپ ان لوگوں سے فرما رہے ہیں کہ میں جب دعا کروں تو تم لوگ ''آمین''کہنا یہ منظر دیکھ کر ابو حارثہ خوف سے کانپ اٹھا اور کہنے لگا کہ اے گروہ نصاریٰ! میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان چہروں کی بدولت پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ کر چل پڑے گا۔ لہٰذا اے میری قوم!ہرگز ہرگز مباہلہ نہ کرو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور روئے زمین پر کہیں بھی کوئی نصرانی باقی نہ رہے گا۔ پھر اس نے کہا کہ اے ابو القاسم! ہم آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ہی دین پر قائم رہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اسلام قبول کرلوتاکہ تم لوگوں کو مسلمانوں کے حقوق حاصل ہوجائیں، نصرانیوں نے اسلام قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ پھر میرے لئے تمہارے ساتھ جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ سن کر نصرانیوں نے کہا کہ ہم لوگ عربوں سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ لہٰذا ہم اس شرط پر صلح کرتے ہیں کہ آپ ہم سے جنگ نہ کریں اور ہم کو اپنے ہی دین پر قائم رہنے دیں اور ہم بطور جزیہ آپ کو ہر سال ایک ہزار کپڑوں کے جوڑے دیتے رہیں گے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح فرمائی اور ان نصرانیوں کے لئے امن و امان کا پروانہ لکھ دیا اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ نجران والوں پر ہلاکت و بربادی آن پہنچی تھی۔ مگر یہ لوگ بچ گئے اگر یہ لوگ مجھ سے مباہلہ کرتے تو مسخ ہو کر بندر اور خنزیر بن جاتے اور ان کی وادی میں ایسی آگ بھڑک اٹھتی کہ نجران کی کل آبادی یہاں تک کہ چرندے اور پرندے جل بھن کر راکھ کا ڈھیر بن جاتے اور رُوئے زمین کے تمام عیسائی سال بھر میں فنا ہوجاتے۔
(روح البیان،ج۲،ص۴۴،پ۳،آل عمران:۶۱)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 27th, 2016, 9:49 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
موسیٰ علیہ السلام کی سرگوشی


موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا اے پروردگار ! تیرا چہرا کدھر ہے؟شمال یا جنوب کی جانب؟ تاکہ میں اس کی طرف منہ کرکے تیری عبادت کر سکوں۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی: اے موسیٰ! آپ آ گ جلائیں، پھر اس کے اردگرد چکر لگا کر دیکھیں کہ آگ کا رخ کس جانب ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے آ گ روشن کی اور اس کے اردگرد چکر لگایا، دیکھا تو آ گ کی روشنی ہر چار سو یکساں ہے۔
چنانچہ دربارِ الٰہی میں عرض کیا: پروردگا ! میں نے آگ کا رخ ہر جانب یکساں ہی دیکھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ میری مثال بھی ویسی ہی ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا ؛ اے پرودگار! تو سوتا ہے یا نہیں؟
اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی: اے موسیٰ! پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھ لو، پھر میرے سامنے کھڑے رہو اور نیند کی آغوش میں مت جاؤ۔
موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالٰی نے ان پر ہلکی سی اونگھ ڈالی، پیالہ ان کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا اور پانی بہہ گیا۔
موسیٰ علیہ السلام کی چیخ نکل گئی اور وہ گھبرا گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسی ! میں آنکھ کی ایک جھپک بھی سو جاؤں تو یہ آسمان زمین پر دھڑام سے گر پڑے گا جیسے تیرا پیالہ زمین پر گر پڑا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف اِشارہ ہے۔۔
۔"یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانون اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائے تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا، وہ حلیم و غفور ہے۔)فاطر۔41(۔

موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے پروردگار ! تو نے مخلوق کی تخلیق کیوں کی جبکہ ان سے تجھے کوئی ضرورت نہیں پڑتی؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میں نے ان کی تخلیق اس لیے فرمائی ہے تاکہ یہ مجھے پہچانیں، مجھ سے اپنی مرادیں مانگیں اور میں ان کی مرادیں پوری کروں،اور میری نافرمانی کے بعد مغفرت و بخشش کی درخواست لے کر میری خدمت میں حاضر ہوں اور میں ان کے لیے مغفرت و بخشش کا پروانہ جاری کروں۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا میرے رب ! کیا تو نے کوئی ایسی چیز بھی پیدا کی ہے جو تیری ہی جستجو میں رہتی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں مومن بندے کا دل جو میرے لیے خالص ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: یہ کیسے اے پروردگار؟
اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے فرمایا:جب مومن بندہ مجھے نہیں بھولتا تو اس کا دل میری یاد سےلبریز رہتا ہے اور میری عظمت اس پر محیط ہوتی ہے اور مجھے جو یاد کرتا ہے میں اس کا ساتھی بن جاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔
(کتاب سنہرے اوراق،از عبدالمالک مجاھد)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 29th, 2016, 6:06 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
سب سے پہلا قاتل و مقتول

روئے زمین پر سب سے پہلا قاتل قابیل اور سب سے پہلا مقتول ہابیل ہے ''قابیل و ہابیل'' یہ دونوں حضرت آدم علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ ان دونوں کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہر حمل میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے۔ اور ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کیا جاتا تھا۔ اس دستور کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کا نکاح ''لیوذا'' سے جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی کرنا چاہا۔ مگر قابیل اس پر راضی نہ ہوا کیونکہ اقلیما زیادہ خوبصورت تھی اس لئے وہ اس کا طلب گار ہوا۔
حضرت آدم علیہ السلام نے اس کو سمجھایا کہ اقلیما تیرے ساتھ پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے وہ تیری بہن ہے۔ اس کے ساتھ تیرا نکاح نہیں ہو سکتا۔ مگر قابیل اپنی ضد پر اڑا رہا۔ بالآخر حضرت آدم علیہ السلام نے یہ حکم دیا کہ تم دونوں اپنی اپنی قربانیاں خداوند قدوس عزوجل کے دربار میں پیش کرو۔ جس کی قربانی مقبول ہو گی وہی اقلیما کا حق دار ہو گا۔ اس زمانے میں قربانی کی مقبولیت کی یہ نشانی تھی کہ آسمان سے ایک آگ اتر کر اس کو کھالیا کرتی تھی۔ چنانچہ قابیل نے گیہوں کی کچھ بالیں اور ہابیل نے ایک بکری قربانی کے لئے پیش کی۔ آسمانی آگ نے ہابیل کی قربانی کو کھالیا اور قابیل کے گیہوں کو چھوڑ دیا۔ اس بات پر قابیل کے دل میں بغض و حسد پیدا ہو گیا اور اس نے ہابیل کو قتل کردینے کی ٹھان لی اور ہابیل سے کہہ دیا کہ میں تجھ کو قتل کردوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ قربانی قبول کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور وہ متقی بندوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تو متقی ہوتا تو ضرور تیری قربانی قبول ہوتی۔ ساتھ ہی ہابیل نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تو میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھ پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے ہی پلے پڑیں اور تو دوزخی ہوجائے کیونکہ بے انصافوں کی یہی سزا ہے۔ آخر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔ بوقت قتل ہابیل کی عمر بیس برس کی تھی اور قتل کا یہ حادثہ مکہ مکرمہ میں جبل ثور کے پاس یا جبل حرا کی گھاٹی میں ہوا۔ اور بعض کا قول ہے کہ بصرہ میں جس جگہ مسجد ِ اعظم بنی ہوئی ہے منگل کے دن یہ سانحہ ہوا۔
(واللہ تعالیٰ اعلم)
روایت ہے کہ جب ہابیل قتل ہو گئے تو سات دنوں تک زمین میں زلزلہ رہا۔ اور وحوش و طیور اور درندوں میں اضطراب اور بے چینی پھیل گئی اور قابیل جو بہت ہی گورا اور خوبصورت تھا بھائی کا خون بہاتے ہی اس کا چہرہ بالکل کالا اور بدصورت ہو گیا۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو بے حد رنج و قلق ہوا۔ یہاں تک کہ ہابیل کے رنج و غم میں ایک سو برس تک کبھی آپ کو ہنسی نہیں آئی۔ اور سریانی زبان میں آپ نے ہابیل کا مرثیہ کہا جس کا عربی اشعار میں ترجمہ یہ ہے ؎

تَغَیَّرَتِ الْبِلاَدُ وَمَنْ عَلَیْھَا فَوَجْہُ الْاَرْضِ مُغْبَرٌ قَبِیْح،
تَغَیَّرَ کُلُّ ذِیْ لَوْنٍ وَطَعْمٍ وَقَلَّ بَشَاشَۃُ الْوَجْہِ الصَّبِیْح
ترجمہ: تمام شہروں اور اُن کے باشندوں میں تغیر پیدا ہو گیا اور زمین کا چہرہ غبار آلود اور قبیح ہو گیا۔ ہر رنگ اور مزہ والی چیز بدل گئی اور گورے چہرے کی رونق کم ہو گئی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے شدید غضب ناک ہو کر قابیل کو پھٹکار کر اپنے دربار سے نکال دیا اور وہ بدنصیب اقلیما کو ساتھ لے کر یمن کی سرزمین ''عدن''میں چلا گیا۔ وہاں ابلیس اس کے پاس آکر کہنے لگا کہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے اس لئے کھا لیا کہ وہ آگ کی پوجا کیا کرتا تھا لہٰذا تو بھی ایک آگ کا مندر بنا کر آگ کی پرستش کیا کر۔ چنانچہ قابیل پہلا وہ شخص ہے جس نے آگ کی عبادت کی۔ اور یہ روئے زمین پر پہلا شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کیاور سب سے پہلے زمین پر خون ناحق کیا اور یہ پہلا وہ مجرم ہے جو جہنم میں سب سے پہلے ڈالا جائے گا اور حدیث شریف میں ہے کہ روئے زمین پر قیامت تک جو بھی خون ناحق ہو گا قابیل اس میں حصہ دار ہو گا کیونکہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا دستور نکالا اور قابیل کا انجام یہ ہوا کہ اس کے ایک لڑکے نے جو کہ اندھا تھا اس کو ایک پتھر مار کر قتل کردیا اور یہ بدبخت نبی زادہ ہونے کے باوجود آگ کی پرستش کرتے ہوئے کفر و شرک کی حالت میں اپنے لڑکے کے ہاتھ سے مارا گیا۔
( روح البیان،ج۲،ص۳۷۹،پ۶،المائدۃ: ۲۷ تا ۳۰)

ہابیل کے قتل ہوجانے کے پانچ برس بعد حضرت شیث علیہ السلام پیدا ہوئے جب کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر شریف ایک سو تیس برس کی ہوچکی تھی۔ آپ نے اپنے اس ہونہار فرزند کا نام ''شیث''رکھا۔ یہ سریانی زبان کا لفظ ہے اور عربی میں اس کے معنی ''ھبۃ اللہ'' یعنی ''اللہ کا عطیہ''ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے پچاس صحیفے جو آپ پر نازل ہوئے تھے ان سب کی حضرت شیث علیہ السلام کو تعلیم دی اور ان کو اپنا وصی و خلیفہ اور سجادہ نشین بنایا۔ اور ان کی نسل میں خیر و برکت ہونے کی دعائیں مانگیں۔ ہمارے حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ان ہی حضرت شیث علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
(روح البیان،ج۲،ص۳۷۶،پ۶،المائدۃ: ۳۰)

اس واقعہ کو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ:۔
وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ ابْنَیۡ اٰدَمَ بِالْحَقِّ ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الۡاٰخَرِ ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ ﴿27﴾لَئِنۡۢ بَسَطۡتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیۡکَ لِاَقْتُلَکَ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿28﴾اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓاَ بِاِثْمِیۡ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوۡنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ29﴾فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیۡہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ ﴿30﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی۔ بولا قسم ہے میں تجھے قتل کردوں گا۔ کہا اللہ اسی سے قبول کرتا ہے جسے ڈر ہے بیشک اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر بڑھائے گا کہ مجھے قتل کرے تو میں اپناہاتھ تجھ پر نہ بڑھاؤں گا کہ تجھے قتل کروں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو مالک سارے جہان کا۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے ہی پلہ پڑے تو تو دوزخی ہوجائے۔ اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے تو اس کے نفس نے اسے بھائی کے قتل کا چاؤ دلایا تو اسے قتل کردیا تو رہ گیا نقصان میں۔
(پ6،المائدۃ:27تا30)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 7th, 2016, 11:38 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 17th, 2016, 12:03 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
Jang E Badar 0r Do Ansari Bachay

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 19th, 2016, 12:00 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے

حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام نے ایک مرتبہ خداوند قدوس کے دربار میں یہ عرض کیا.. "یا اللہ ! تو مجھے دکھا دے کہ تو مردوں کو کس طرح زندہ فرمائے گا..؟"

اللہ تعالیٰ نے فرمایا.. "اے ابراہیم ! کیا اس پر تمہارا ایمان نہیں ہے..؟"

آپ نے عرض کیا.. "کیوں نہیں.. میں اس پر ایمان تو رکھتا ہوں لیکن میری تمنا یہ ہے کہ اس منظر کو اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تاکہ میرے دل کو قرار آ جائے.."

اللہ تعالیٰ نے فرمایا.. "تم چار پرندوں کو پالو اور ان کو خوب کھلا پلا کر اچھی طرح ہلا ملا لو.. پھر تم انہیں ذبح کرکے اور ان کا قیمہ بنا کر اپنے گرد و نواح کے چند پہاڑوں پر تھوڑا تھوڑا گوشت رکھ دو.. پھر ان پرندوں کو پکارو تو وہ پرندے زندہ ہو کر دوڑتے ہوئے تمہارے پاس آ جائیں گے اور تم مردوں کے زندہ ہونے کا منظر اپنی آنکھوں سے دیکھ لو گے.."

چنانچہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے ایک مرغ ' ایک کبوتر ' ایک گدھ ' ایک مور..... ان چار پرندوں کو پالا اور ایک مدت تک ان چاروں پرندوں کو کھلا پلا کر خوب ہلا ملا لیا.. پھر ان چاروں پرندوں کو ذبح کرکے ان کے سروں کو اپنے پاس رکھ لیا اور ان چاروں کا قیمہ بنا کر تھوڑا تھوڑا گوشت اطراف و جوانب کے پہاڑوں پر رکھ دیا اور دور سے کھڑے ہو کر ان پرندوں کا نام لے کر پکارا..

یایھا الدیک.. اے مرغ....
یایتھا الحمامۃ.. اے کبوتر....
یایھا النسر.. اے گدھ....
یایھا الطاؤس.. اے مور....

آپ کی پکار پر ایک دم پہاڑوں سے گوشت کا قیمہ اڑنا شروع ہو گیا اور ہر پرند کا گوشت پوست ' ہڈی ' پر الگ ہو کر چار پرند تیار ہو گئے اور وہ چاروں پرند بلا سروں کے دوڑتے ہوئے حضرت ابراہیم علیہ السلام کے پاس آ گئے اور اپنے سروں سے جڑ کر دانہ چگنے لگے اور اپنی اپنی بولیاں بولنے لگے.. حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنی آنکھوں سے مردوں کے زندہ ہونے کا منظر دیکھ لیا اور ان کے دل کو اطمینان و قرار مل گیا..

اس واقعہ کا ذکر خداوند کریم نے قرآن مجید کی سورہ بقرہ میں ان لفظوں کے ساتھ بیان فرمایا ہے..

"اور جب عرض کی ابراہیم نے اے رب میرے ! مجھے دکھا دے تو کیونکر مردے جلائے گا.. فرمایا کیا تجھے یقین نہیں.. عرض کی یقیں کیوں نہیں مگر یہ چاہتا ہوں کہ میرے دل کو قرار آ جائے.. فرمایا تو اچھا چار پرندے لے کر اپنے ساتھ ہلا لے.. پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ہر پہاڑ پر رکھ دے.. پھر انہیں بلا وہ تیرے پاس چلے آئیں گے پاؤں سے دوڑتے.. اور جان رکھ کہ اللہ غالب حکمت والا ہے.. (البقرۃ : ۲۸۶)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 22nd, 2016, 11:26 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
Hazrat Imam Basri RH

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 23rd, 2016, 4:52 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عمر بن الخطاب رضی اللہ عنہ

ایک دفعہ کا ذکر ہے کہ دارالخلافہ مدینہ منورہ کے باہر ایک قافلہ آکر رکا۔ رات کا وقت تھا۔ قافلہ کے لوگ تھکے ہوئے تھے اس لیے فوراً ہی محو خواب ہوگئے۔ امیر المومنین حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ اپنی رعایا کی حفاظت اور دیکھ بھال کے لیے ادھر گشت کررہے تھے، اسی دوران ایک خیمے سے ایک شیر خوار بچے کے رونے کی آواز آئی۔ بچے کے رونے کی آواز سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ رک گئے اور بچے کی ماں سے کہا کہ بچے کو بہلائے اور اسے چپ کرائے۔ یہ کہہ کر آپ رضی اللہ عنہ آگے بڑھ گئے۔ تھوڑی دیر بعد حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کا دوبارہ اسی جگہ سے گزر ہوا تو انہیں دوبارہ بچے کے رونے کی آواز سنائی دی۔ یہ دیکھ کر آپ رضی اللہ عنہ کو قدرے غصہ آیا اور انہوں نے بچے کی ماں کو مخاطب کرتے ہوئے کہا، تو بڑی بے رحم ماں ہے کہ بچے کو رلائے جارہی ہے اور اسے چپ نہیں کراتی۔
عورت جو حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ سے ناواقف تھی اور آپ رضی اللہ عنہ کو اجنبی سمجھ رہی تھی، کہنے لگی۔
اے شخص اپنی راہ لو اور مجھے بار بار پریشان نہ کرو۔ میں اس بچے کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں لیکن یہ ضد کرتا ہے اور روتا ہے۔
لیکن ان کی عمر تو ایک سال بھی نہیں لگتی اور تو دودھ چھڑانے میں کیوں جلدی کرتی ہے۔ حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے حیرت سے پوچھا۔
اس لیے کہ خلیفہ کا حکم ہے کہ بچے کا وظیفہ دودھ چھڑانے کے بعد مقرر کیا جائے گا، ہم ضرورت مند ہیں ہمیں وظیفہ کی ضرورت ہے اس لیے وقت سے پہلے میں اس کا دودھ چھڑانا چاہتی ہوں تاکہ وظیفہ مل سکے۔
یہ جواب سن کر حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ پر رقت طاری ہوگئی۔ آپ رضی اللہ عنہ نہایت نرمی اور تسلی کے انداز میں عورت سے کہنے لگے۔
اس ننھی جان پر ظلم نہ کر۔ اسے دودھ پلا، کل ان شاءاللہ اس کا وظیفہ لگ جائے گا۔
اگلے روز نماز فجر کے بعد مسجد نبوی صلی اللہ علیہ وسلم میں حضرت عمر رضی اللہ عنہ یہ حکم نامہ جاری کرتے ہیں کہ جس دن کوئی بچہ پیدا ہوگا اسی دن سے اس کا وظیفہ مقرر کردیا جائے گا۔ اس کے دودھ چھڑانے کا انتظار نہیں کیا جائے گا۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 24th, 2016, 3:12 am 
Offline
SUPER USER
SUPER USER
User avatar

Joined: October 26th, 2015, 7:16 pm
Posts: 889
Has thanked: 643 times
Been thanked: 864 times

وادیِ جن کی حقیقت

ہلِ اسلام کا طریقہ رہا ہے کہ وہ ہر کام اور عمل سے قبل فکر کرتے ہیں، کسی بھی کام کو انجام دینے سے قبل اس کے تمام پہلوؤں پر غور کرنا، اس کے حقائق جاننا، ماخذ و ابتداء ، اس کی سند اور تصدیق وغیرہ کرنا۔ تاکہ کسی قسم کی ہزیمت گمراہی یا تکلیف سے بچا جا سکے۔ اسی طرح اللہ تعالٰی اور اس کے حبیب علیہ الصلوٰۃ والسلام کی تعلیمات بھی یہی ہیں کہ جب کوئی خبر سنو، یا کوئی عمل کرو تو پہلے اس کی سند دیکھو، تصدیق کرو اور سنی سنائی باتوں پر یقین نہ رکھو۔ انتہائی افسوس ناک عمل یہ ہے کہ برصغیر میں مسلم معاشروں کی اکثریت ایسی ہے جو رواج، رسم ، بدعات اور خود ساختہ عقائد اور معاملات پر یقین رکھتے ہیں ۔ کہیں کوئی پہاڑ مقدس سمجھ لیا جاتا ہے، کہیں کسی درخت کو"بابا جی" کا سایہ سمجھ کر ہار پہنائے جاتے ہیں۔ ایسی ذہنیت کے لوگ تحقیق و تفتیش اور ان اشیاء کی تاریخی حیثیت جاننا تو دور کی بات اس پر کوئی صحیح رائے سننے پر بھی آمادہ نہیں ہوتے۔ بالکل یہی حالت کفارِ مکہ کی تھی جو رسولِ برحق صلی اللہعلیہ وسلم کی تشریف آوری، واضح احکامات اور شریعت آجانے کے باوجود یہ کہہ کر رد کر دیتے تھے کہ ہم نے اپنے بڑوں سے یہی سیکھا ہے اس لیئے پیغامِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم جھوٹ ہے۔ معاذ اللہ عزوجل۔اس کے بر عکس عرب معاشرے جن میں شام، لبنان، اردن، فلسطین، مصر اور خلیجی ممالک شامل ہیں ، کے لوگوں میں حقائق جاننے کی جستجو ہے۔ وہ کسی پتھر کو اتنا متبرک ہرگز نہیں جانتے کہ اس کو سجدہ گاہ ہی بنا لیں۔ اس کی اصل وجہ یہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں کی اکثریت قبولِ اسلام سے قبل ہندو مذہب سے متعلق تھی، جہاںبتوں کی پوجا، درختوں کو مقدس جاننا، جانوروں اور چوپایوں کو حصولِ برکت کا باعث سمجھنا، محرم کا خیال کئیے بغیر مرد و عورت کا اختلاط اور مذہبی معاملات میں حد درجہ توہمات و بدعات کا شدت سے پایا جانا۔۔۔انہی وجوہات اور پس منظر کی بنا پر اس معاشرے کے لوگوں نے اسلام قبول کرنے کے بعد بھی شرک پر مبنی ہندو مذہب، ہندو قوم اور معاشرے کے اثرات سے خود کو رنگے رکھا۔ خصوصاًدیہاتی علاقوں میں اس کے واضح اثرات نظر آتے ہیں۔مقصود و مطلوب ِ مضمون "وادی جن" جسکا تاریخی نام " وادی بیضا" )بعض جگہوں پر اس کا نام "بیداء" بھی لکھا گیا ہے( جو کہ شہر رسول مدینہ منورہ سے باہر نکلتے ہوئے، احد کے بائیں طرف جاتے ہوئے قبلتین سے قبلدائیں طرف پینتیس کلومیٹر کے فاصلے پر ایک ویران علاقے میں واقع ہے، جہاں اس وقت تک کوئی انسانی آبادی نہیں ہے۔ یک طرفہ سڑک، کھجوروں اور دیگر زرعی اجناس کے باغات سے سڑک کی دونوں اطراف سبز بہاروں کا منظر پیشکرتی ہیں۔ اونچ نیچ اور سطحی طور پر غیر ہموار اس راستے پر آپ کو اکثریت پاکستانی، ہندوستانی یا مشرقی معاشروں سے تعلق رکھنے والے زائرین کی ہی نظر آئے گی۔ یہ سڑک ایک ایسے مقام پر جا کر ختم ہو جاتی ہے جہاں ایک گول چکر بنا ہوا ہے ۔ اس چکر کی تین اطراف میں دیوار نما پہاڑ جو قربِ قیامت کے مناظر کی عکاسی کرتے ہیں اور طرفین میں وسیع کھلے میدان جہاں سیاحتی شوق رکھنے والے خیموں میں کیمپنگ کرتے ہیں۔ نیم صحرائی شکل کی موافق الماحول اس وادی میں وقت گزارنا انسان کی قلبی رومانویت اور ذوق کی عکاسی کرتا ہے۔ تاہم وقت کے تنگدامن نے مجھے آج تک یہاں خیمہ زن ہونے کی اجازت نہیں ۔اس وادی کے مشہور کرامت یہ بیان کیجاتی ہے کہ یہاں گاڑی بغیر قوت کے کئی کلو میٹر تک چلتی ہے، پانی سڑک پر گرائیں تو وہ مخالف سمت میں اونچائی کی طرف جاتا ہے ، مدینہ منورہ کی طرف گاڑی کا رخ کریں تو گاڑی خودبخود تیز رفتار سے بھاگنا شروع کر دیتی ہے اور رفتار 130 کلو میٹر فی گھنٹہ تک چلی جاتی ہے، یہ تجربہ حال ہی میں میری گاڑی کے ساتھ بھی ہوا، بذاتِ خود میں نے اپنی گاڑی کو وہاں لے جا کر تجربہ کیا جو یقیناً حیران کن اور خوشگوار تجربہ تھا۔ ۔۔ توہمات پر یقین رکھنے والے لوگوں کا کہنا ہے کہ یہ جنؔات کی طاقت ہے ، یا کوئی مرئی مخلوق ہے جو گاڑی کو یہاں سے واپس مدینہ منورہ کی طرف دھکیلتی ہے تاہم مجھ جیسے روحانی علوم کے طالب علم کو وہاں پر جنات کی کوئی ایسی طاقت نظر نہیں آئی جس کو بنیاد بنا کر اس وادی کو جنّات کا مرکز قرار دیا جائے۔لاعلمی اور جہالت پر مبنی اقوال و قصے یہ ہیں کہ مدینہ منورہ پر دشمنانِ اسلام نے حملہ کیا تھا، اس حملے کو روکنے کے لئیے اللہ تعالٰی نے جنات کو حکم دیا اور کفار کا وہ لشکر جنات کی ہوائی طاقت کی وجہ سے واپس پلٹادیا گیا تھا۔ کچھ لوگوں کو یہ افواہ پھیلاتے ہوئے سنا گیا کہ کفار گھوڑوں پر سوار ہو کر حملہ آور ہوئے تھے، جس طرح آج گاڑی خود بخود وہاں چلتی ہے بالکل ویسے ہی جنات نے ان گھوڑوں کو وہاں سے ہوائی طاقت کے ساتھ واپس بھگا دیا تھا۔ ان تمام باتوں کا تاریخ کی کسی کتاب میں کوئی ایک حوالہ بھی موجود نہیں!!! کم علمی اور علم دشمنی کا یہ حال ہے کہ ہمارے لوگ پوری ڈھٹائی سے اس بات کو پھیلاتے جارہے ہیں اور یہ نہیں سوچتے کے ان غلط معلومات کا کس قدر نقصان پہنچ رہا ہے۔ حق تعالٰی ہم سب کو علمی تحقیق کی ہمت و توفیق بخشے۔ آمیناس اہم مسئلہ کی تحقیق اور تفتیش کے لئیے میں نے جیؔد علماء سے رجوعکیا مگر اس وادی اور مقام کے بارے مشہور تمام باتوں کو غیر مستند پایا۔ تاہم چند روایات جو کتبِ احادیث اور تاریخمیں موجود ہیں وہ موجودہ قیاس آرائیوں اور افواہوں سے بالکل مختلف و متضاد ہیں۔ اس وادی کے بارے ایک تاریخی واقعہ جو کہ بسند موجود ہے وہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالٰی عنہا کے ہار کا اس وادی میں گم ہونا ہے۔ اس کے علاوہ کوئی تاریخی واقعہ اب تک یہاں پیش نہیں آیا۔ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا کے گمشدہ ہار کے بارے مکمل بحث کتب ِ تاریخ میں موجود ہے جس کایہاں درج کیا جانا غیرِ متعلقہ ہے تاہم اس ہار کی گمشدگی کا مقام یہی وادی ِ بیضا ہی ہے۔اس وادی کے حوالے سے ایک روایت سیدہعائشہ رضی اللہ تعالٰی عنہا سے مروی ہے کہ"اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ والہ وسلم نے ارشاد فرمایا، قیامت کے قریب ایک لشکر کعبہ پر چڑھائی کرے گا، جب وہ مقام بیضاء میں پہنچے گا تو انہیں اول سے آخر تک سب کو زمین میں دھنسا دیا جائے گا۔ حضرت عائشہ رضیاللہ تعالیٰ عنہا فرماتی ہیں کہ میں نے عرض کیا یا رسول اللہ علیہ الصلاۃ والسلام، وہ شروع سے آخر تک سارے کے سارے کیوں دھنسا دئیے جائیں گے حالانکہ وہاں ان کے بازار بھی ہوں گے اور وہ لوگ بھی ہوں گے جو ان لشکر والوں میں سے نہیں ہوں گے؟ آپصلی اللہ علیہ والہ وسلم نے فرمایا، ہاں شروع سے آخر تک سارے کے سارے زمین میں دھنسا دئیے جائیں*گے پھر اپنی اپنی نیت کے مطابق ہر کوئیاٹھایا جائے گا۔)بحوالہ ۔ بخاری کتاب البیوع: باب ما ذکرفی الاسواق(اس سے ملتی جلتی روایات کچھ الفاظ کیتبدیلی کے ساتھ حضرت نافع بن جبیر ، ام المؤمنین سیدہ امِ سلمٰی اور حضرت عبید اللہ بن قبطیہ رضی اللہ عنہم سے مروی ہیں، امام مسلم رضی اللہ عنہ نے اسے کتاب الفتن میں نقل فرمایا ہے۔اب تک کی اس بحث سے ایک بات تو قطعاً ثابت اور محسوس ہو رہی ہے کہ اس کا افواہوں سے کوئی تعلق نہیں ہے اور نہ ہی اس کے بارے میں مشہور روایات کا حقیقت سے کوئی تعلق ہے کیونکہ کتب ِتاریخ و احادیث اس بارے کچھ نہیں کہتیں۔۔۔۔ تو پھر یہ کیا ہے؟؟؟سائنس، طبیعیات اور ارضیات کے ماہرین خیال کرتے ہیں کہ یہ کششِ ثقل کی وجہ سے ہو سکتی ہے۔ کششِ ثقل وہ قوت ہے جس سے کمیؔت رکھنے والے اجسام ایک دوسرے کو اپنی طرف کھینچتے ہیں، سادہ لفظوں میں یہ ایک ایسی قوت ہے جس سے زمین تمام اجسام کو اپنی طرف کھینچتی ہے۔ اس سلسلے میں نیوٹن کا عالمی تجاذبی قانون اور آئن سٹائن کا نظریہ اضافت قابلِ ذکر ہیں ۔ اس قانون کے تحت زمین کے اندر یہ قوت اس شدت سے موجود ہے کہ یہ ہر چیز کو اپنی طرف کھینچتیہے اور جوں جوں اجسام زمین سے دور ہوتے جائیں ان کا وزن کم ہوتا جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ہزاروں ٹن کا وزن اٹھاکر ہوائی جہاز فضا میں بلند ہو کر تیز ترین رفتار سے اڑ سکتا ہے۔ جب ہم کسیچیز کو فضا یا خلا میں اچھالتے ہیں تووہ چیز واپس زمین کی طرف انتہائی سرعت کے ساتھ واپس آتی ہے۔وادی جن یا وادی بیضاء جو اس وقتِ موضوع بحث ہے اس میں جنات، ہوا کسی مرئی طاقت کا اسلامی کتب میں کوئی ثبوت نہیں ملا۔ اب سوال اٹھتا ہے کہ کیا یہ کششِ ثقل کی وجہ سے ایسی حرکت وجود پاتی ہے؟؟؟میرا اس سے بھی اختلاف ہے!!! اگر یہ کششِ ثقل کی وجہ سے ہے تو پھر اس کشش کا اثر صرف گاڑی یا مائع مواد پر ہی کیوں؟ گاڑی کی رفتار 130 کلومیٹر فی گھنٹہ تک پہنچ جاتی ہے مگر اسی سرزمین پر کھڑے انسانوں پر اس کشش کا اثر کیوں نہیں ہوتا؟ کششِ ثقل، نیوٹن اور آئن سٹائن کے نظریات و قوانین کا اطلاق ہر جسم بشمول انسان پر ہوتا ہے۔۔۔ زمین کے اس مخصوص حصے اور مدار میں خود میں نے دیکھا کہ وہ صرف گاڑیوں اور مائع مواد کو حرکت دیتی ہے۔۔۔انسانی اجسام پراس کا بالکل کوئی اثر نہیں ہے۔تحقیق و فن میں کوئی بھی چیز حرفِ آخر نہیں ہے۔۔۔ اگر سائنسی بنیادوں پر کام کیا جائے تو یہ سرزمین کئی راز اگل سکتی ہے۔ اللہ کرے البیرونی کے وارث ثقافت و سلطنتِ اسلامیہ کے اس مقدس دارالحکومت کے جوار میں واقع اسسائنسی و تاریخی مقام پر تحقیق کریںتاکہ اس معمؔہ کو حل کیا جا سکے!!! علمی تشنگی رکھنے والوں کی طرح میں بھی منتظر ہوں کہ اگر تاریخی، اسلامی اور ارضیاتی علوم اس وادی کے بارے میں خاموش ہیں تو پھر حقائق کیا ہیں؟ اللہ تعالٰی ہماری مدد فرمائے اور ہم اس بارے کسی نتیجہ پر پہنچ سکیں۔اس کالم کی اشاعت کا بنیادی مقصد اس وادی کے بارے میں مشہور گمراہ کن خیالات اور روایات کا ردؔ کرنا تھا تاکہ عوام الناس حقائق سے آگاہ ہو جائیں کہجھوٹ پر مبنی ان روایات کا اسلام اور تاریخ سے کئی تعلق نہیں ما سوائے وہ حدیث شریف جو نقل کر دی گئی۔واللہ ورسولہ اعلم بالصواب ۔ عزوجل و صلی اللہ تعالٰی علیہ والہ واصحابہ وبارک وسلم


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 24th, 2016, 10:41 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
ﺍﯾﮏ ﺩﺭﺩ ﮐﺎ ﻭﺍﻗﻌﮧ

ﺍﯾﮏ ﺑﺎﺭ ﺟﺐ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺗﻮ ﻣﺤﻤﺪ ﺻﻠﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻠﯿﮧ ﻭﺳﻠﻢ ﻧﮯ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﮐﮧ ﺟﺒﺮﺍﯾﻞ ﮐﭽﮫ ﭘﺮﯾﺸﺎﻥ ﮨﮯ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﮐﯿﺎ ﻣﻌﺎﻣﻠﮧ ﮨﮯ ﮐﮧ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺁﭘﮑﻮ ﻏﻤﺰﺩﮦ ﺩﯾﮑﮫ ﺭﮨﺎ ﮨﻮ ﮞ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺍﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﻞ ﺟﮩﺎﮞ ﺁﺝ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﮐﮯ ﺣﮑﻢ ﺳﮯ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﺎ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﮐﺮﮐﮧ ﺁﯾﺎ ﮨﻮﮞ ﺍﺳﮑﻮ ﺩﯾﮑﮭﻨﮯ ﺳﮯ ﻣﺠﮫ ﭘﮧ ﻏﻢ ﮐﮯ ﺁﺛﺎﺭ ﻧﻤﻮﺩﺍﺭ ﮨﻮﮮ ﮨﯿﮟ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﺣﺎﻻﺕ ﺑﺘﺎﻭ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﮐﮯ ﮐﻞ ﺳﺎﺕ ﺩﺭﺟﮯ ﮨﯿﮟ
ﺍﻥ ﻣﯿﮟ ﺟﻮ ﺳﺐ ﺳﮯ ﻧﯿﭽﮯ ﻭﺍﻻ ﺩﺭﺟﮧ ﮨﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﺱ ﻣﯿﮟ ﻣﻨﺎﻓﻘﻮﮞ ﮐﻮ ﺭﮐﮭﮯ ﮔﺎ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﻭﺍﻟﮯ ﭼﮭﭩﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻣﺸﺮﮎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﺍﺱ ﺳﮯ ﺍﻭﭘﺮ ﭘﺎﻧﭽﻮﯾﮟ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺳﻮﺭﺝ ﺍﻭﺭ ﭼﺎﻧﺪ ﮐﯽ ﭘﺮﺳﺘﺶ ﮐﺮﻧﮯ ﻭﺍﻟﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﭼﻮﺗﮭﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﺗﺶ ﭘﺮﺳﺖ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﺗﯿﺴﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﯾﮩﻮﺩ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﮯ
ﺩﻭﺳﺮﮮ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﻋﺴﺎﺋﯿﻮﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﯿﮟ ﮔﺊ
ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﭘﻮﭼﮭﺎ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﺁﭖ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﮐﯿﻮﮞ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﺘﺎﻭ ﮐﮧ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﮐﻮﻥ ﮨﻮﮔﺎ
ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻋﻠﯿﮧ ﺳﻼﻡ ﻧﮯ ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ
ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﭘﮩﻠﮯ ﺩﺭﺟﮯ ﻣﯿﮟ ﺍﻟﻠﮧ ﭘﺎﮎ ﺁﭘﮑﮯ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﻮ ﮈﺍﻟﮯ ﮔﮯ
ﺟﺐ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺳﻨﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﻮ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﮈﺍﻻ ﺟﺎﮮ ﮔﺎ ﺗﻮ ﺁﭖ ﺑﮯ ﺣﺪ ﻏﻤﮕﯿﻦ ﮨﻮﮮ ﺍﻭﺭ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺩﺍﺋﯿﮟ ﮐﺮﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯽ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺍﯾﺴﮯ ﮔﺰﺭﮮ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻣﺴﺠﺪ ﻣﯿﮟ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮬﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﯿﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺗﮯ ﻧﻤﺎﺯ ﭘﮍﮪ ﮐﺮ ﺣﺠﺮﮮ ﻣﯿﮟ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺗﮯ ﺍﻭﺭ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﺑﻨﺪ ﮐﺮﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺣﻀﻮﺭ ﺭﻭ ﺭﻭ ﮐﺮ ﻓﺮﯾﺎﺩ ﮐﺮﺗﮯ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺣﯿﺮﺍﻥ ﺗﮭﮯ ﮐﮧ ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﭘﮧ ﯾﮧ ﮐﯿﺴﯽ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﻃﺎﺭﯼ ﮨﻮﺋﯽ ﮨﮯ ﻣﺴﺠﺪ ﺳﮯ ﺣﺠﺮﮮ ﺟﺎﺗﮯ ﮨﯿﮟ
ﮔﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﯿﮑﺮ ﻧﮩﯿﮟ ﺟﺎ ﺭﮨﮯ۔ ﺟﺐ ﺗﯿﺴﺮﺍ ﺩﻥ ﮨﻮﺍ ﺗﻮ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﺍﺑﻮ ﺑﮑﺮ ﺳﮯ ﺭﮨﺎ ﻧﮩﯿﮟ ﮔﯿﺎ ﻭﮦ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﺁﮮ ﺩﺳﺘﮏ ﺩﯼ ﺍﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮩﯿﮟ ﺁﯾﺎ ۔ ﺁﭖ ﺭﻭﺗﮯ ﮨﻮﮮ ﺳﯿﺪﻧﺎ ﻋﻤﺮ ﮐﮯ ﭘﺎﺱ ﺁﮮ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﭘﺎﯾﺎ ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ ﺟﺎﺋﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮨﻮﺳﮑﺘﺎ ﮨﮯ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻣﻞ ﺟﺎﮮ ﺁﭖ ﮔﺌﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﻧﮯ ﺗﯿﻦ ﺑﺎﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﯿﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﻧﮯ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﮐﻮ ﺑﮭﯿﺠﺎ ﻟﯿﮑﻦ ﭘﮭﺮ ﺑﮭﯽ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﺁﯾﺎ ﺣﻀﺮﺕ ﺳﻠﻤﺎﻥ ﻓﺎﺭﺳﯽ ﻧﮯ ﻭﺍﻗﻌﮯ ﮐﺎ ﺗﺬﮐﺮﮦ ﻋﻠﯽ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﺳﮯ ﮐﯿﺎ ﺍﻧﮩﻮﮞ ﻧﮯ ﺳﻮﭼﺎ ﮐﮧ ﺟﺐ ﺍﺗﻨﮯ ﺍﻋﻈﯿﻢ ﺷﺤﺼﯿﺎﺕ ﮐﻮ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﻧﮧ ﻣﻼ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﺑﮭﯽ ﺧﻮﺩ ﻧﮭﯽ ﺟﺎﻧﺎ ﻧﮭﯽ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ
ﺑﻠﮑﮧ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﻧﮑﯽ ﻧﻮﺭ ﻧﻈﺮ ﺑﯿﭩﯽ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺍﻧﺪﺭ ﺑﮭﯿﺠﻨﯽ ﭼﺎﮬﯿﺌﮯ۔ ﻟﮩﺬﺍ ﺁﭖ ﻧﮯ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﺗﻌﺎﻟﯽ ﮐﻮ ﺳﺐ ﺍﺣﻮﺍﻝ ﺑﺘﺎ ﺩﯾﺎ ﺁﭖ ﺣﺠﺮﮮ ﮐﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮮ ﭘﮧ ﺁﺋﯽ
" ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺍﺳﻼﻡ ﻭﻋﻠﯿﮑﻢ "
ﺑﯿﭩﯽ ﮐﯽ ﺁﻭﺍﺯ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﮐﺎﺋﯿﻨﺎﺕ ﺍﭨﮭﮯ ﺩﺭﻭﺍﺯﮦ ﮐﮭﻮﻻ ﺍﻭﺭ ﺳﻼﻡ ﮐﺎ ﺟﻮﺍﺏ ﺩﯾﺎ
ﺍﺑﺎ ﺟﺎﻥ ﺁﭖ ﭘﺮ ﮐﯿﺎ ﮐﯿﻔﯿﺖ ﮬﮯ ﮐﮧ ﺗﯿﻦ ﺩﻥ ﺳﮯ ﺁﭖ ﯾﮩﺎﮞ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻓﺮﻣﺎ ﮨﮯ
ﻧﺒﯽ ﮐﺮﯾﻢ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ ﺟﺒﺮﺍﺋﯿﻞ ﻧﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺁﮔﺎﮦ ﮐﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﺑﮭﯽ ﺟﮩﻨﻢ ﻣﯿﮟ ﺟﺎﮮ ﮔﯽ ﻓﺎﻃﻤﮧ ﺑﯿﭩﯽ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﭘﻨﮯ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ
ﮔﻨﮩﮕﺎﺭﻭﮞ ﮐﺎ ﻏﻢ ﮐﮭﺎﮮ ﺟﺎ ﺭﮨﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﻣﺎﻟﮏ ﺳﮯ ﺩﻋﺎﺋﯿﮟ ﮐﺮﺭﮨﺎ ﮨﻮﮞ ﮐﮧ ﺍﻟﻠﮧ ﺍﻧﮑﻮ ﻣﻌﺎ ﻑ ﮐﺮ ﺍﻭﺭ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺑﺮﯼ ﮐﺮ ﯾﮧ ﮐﮩﮧ ﮐﺮ ﺁﭖ ﭘﮭﺮ ﺳﺠﺪﮮ ﻣﯿﮟ ﭼﻠﮯ ﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﺭﻭﻧﺎ ﺷﺮﻭﻉ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﯾﺎ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﮔﻨﺎﮨﮕﺎﺭﻭﮞ ﭘﮧ ﺭﺣﻢ ﮐﺮ ﺍﻧﮑﻮ ﺟﮩﻨﻢ ﺳﮯ ﺁﺯﺍﺩ ﮐﺮ
ﮐﮧ ﺍﺗﻨﮯ ﻣﯿﮟ ﺣﮑﻢ ﺁﮔﯿﺎ " ﻭَﻟَﺴَﻮْﻑَ ﻳُﻌْﻄِﻴﻚَ ﺭَﺑُّﻚَ ﻓَﺘَﺮْﺿَﻰ
ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﻣﺤﺒﻮﺏ ﻏﻢ ﻧﮧ ﮐﺮ ﻣﯿﮟ ﺗﻢ ﮐﻮ ﺍﺗﻨﺎ ﻋﻄﺎ ﮐﺮﺩﻭﮞ ﮔﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﺭﺍﺿﯽ ﮨﻮﺟﺎﻭ ﮔﮯ
ﺁﭖ ﺧﻮﺷﯽ ﺳﮯ ﮐﮭﻞ ﺍﭨﮭﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﺍﻟﻠﮧ ﻧﮯ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﻭﻋﺪﮦ ﮐﺮﻟﯿﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﻭﮦ ﺭﻭﺯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﺠﮭﮯ ﻣﯿﺮﯼ ﺍﻣﺖ ﮐﮯ ﻣﻌﺎﻣﻠﮯ ﻣﯿﮟ ﺧﻮﺏ ﺭﺍﺿﯽ ﮐﺮﯾﮟ ﮔﺎ ﺍﻭﺭ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺗﮏ ﺭﺍﺿﯽ ﻧﮩﯿﮟ ﮨﻮﻧﺎ ﺟﺐ ﺗﮏ ﻣﯿﺮﺍ ﺁﺧﺮﯼ ﺍﻣﺘﯽ ﺑﮭﯽ ﺟﻨﺖ ﻣﯿﮟ ﻧﮧ ﭼﻼ ﺟﺎﮮ

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 25th, 2016, 4:19 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ

حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ خلیفہ رسول صلی الله علیہ و سلم تھے مگر آپ کے دسترخوان پر کبھی دو سالن نہیں ہوتے تھے، سفر کے دوران نیند کے وقت زمین پر اینٹ کا تکیہ بنا کر سو جایا کرتے تھے، آپ کے کرتے پر کئی پیوند رہا کرتے تھے، آپ موٹا کھردرا کپڑا پہنا کرتے تھے اور آپ کو باریک ملائم کپڑے سے نفرت تھی - آپ جب بھی کسی کو گورنر مقرر فرماتے تو تاکید کرتے تھے کہ کبھی ترکی گھوڑے پر نہ بیٹھنا، باریک کپڑا نہ پہننا، چھنا ہوا آٹا نہ کھانا، دربان نہ رکھنا اور کسی فریادی پر دروازہ بند نہ کرنا - آپ فرماتے تھے کہ عادل حکمران بے خوف ہو کر سوتا ہے - آپ کی سرکاری مہر پر لکھا تھا 'عمر - نصیحت کے لئے موت ہی کافی ہے - آپ فرماتے 'ظالم کو معاف کرنا مظلوم پر ظلم کرنے کے برابر ہے'، اور آپ کا یہ فقرہ آج دنیا بھر کی انسانی حقوق کی تنظیموں کے لئے چارٹر کا درجہ رکھتا ہے کہ ' مائیں اپنے بچوں کو آزاد پیدا کرتی ہیں، تم نے کب سے انھیں غلام بنا لیا؟ ' آپ کے عدل کی وجہ سے رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے آپ کو 'فاروق' کا لقب دیا اور آج دنیا میں عدل فاروقی ایک مثال بن گیا ہے - حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ شہادت کے وقت مقروض تھے چنانچہ وصیّت کے مطابق آپ کا مکان بیچ کر آپ کا قرض ادا کیا گیا -

تقسیم ہند کے دوران لاہور کے مسلمانوں نے ایک مرتبہ انگریزوں کو دھمکی دی کہ 'اگر ہم گھروں سے نکل پڑے تو تمہیں چنگیز خان یاد آ جاۓ گا' .. اس پر جواھر لال نہرو نے کہا کہ 'افسوس یہ مسلمان بھول گئے کہ ان کی تاریخ میں کوئی عمر فاروق (رضی اللہ عنہ) بھی تھا'...

اور واقعی آج ہم یہ بھولے ہوئے ہیں کہ رسول الله صل اللہ علیھ وسلّم نے فرمایا تھا کہ "اگر میرے بعد کوئی نبی ہوتا تو وہ عمر بن خطاب ہی ہوتا

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 28th, 2016, 9:45 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
Hazrat Ali (R.A) Ka Qabool Islam

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 1st, 2016, 10:46 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
Hazrat Ibrahim (AS) Aur Namrood Ka Manazrah!

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: July 2nd, 2016, 12:19 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9069
Has thanked: 634 times
Been thanked: 6638 times

';SALAM''';;;;;
جنت البقیع، مقام غزوہ بدر اور مسجد جمیر

جنت البقیع,مدینہ منورہ کا خاص قبرستان جس میں اہل بیت اور صحابہ مدفون ہیں۔ ہجرت نبوی کے وقت یہاں ایک میدان تھا۔ جس میںلمبی لمبی گھاس اور خاردار جھاڑیاں تھیں۔ سب سے پہلے یہاں حضرت عثمان بن مظعون رضی اللہ عنہ صحابی دفن ہوئے۔ اس کے بعد آنحضرت صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی صاحبزادیاں ، پھر صاحبزادے ابراہیم اور ازواج مطہرات رضی اللہ عنہم دفن ہوئیں۔ لہذا اس کی عظمت بہت بڑھ گئی اور لوگ اسے جنت البقیع کہنے لگے اور یہاں خاص خاص لوگ ہی دفن کیے جانے لگے۔ حضرت حسن رضی اللہ عنہ کا مقبرہ بہت اونچا بنایا گیا تھا۔ سعودی حکومت نے ان تمام مقبروں کو مسمار کر دیا اور اب کچی قبریں باقی ہیں ۔ جن پر کوئی کتبہ وغیرہ نہیں ہے۔ یہ قبرستان مدینہ منورہ کے جنوب مشرقی گوشے میں واقع ہے۔ اس میں داخل ہونے کے واسطے ایک دروازہ ہے جو باب البقیع کہلاتا ہے۔ حلیمہ سعدیہ ، اصحاب صفہ اور مشہور صحابہ رضی اللہ عنہم کی قبریں یہیں ہیں ۔
١٧ رمضان المبارک ٢ ھ غزوۂ بدرمیں کفار مکہ اور مسلمانوں کے درمیان پہلا معرکہ ہوا ، جس میں مسلمانوں تعداد اور اسباب میں کم ہونے کے باوجود فتح یاب ہوئے۔
غزوہ کی کچھ جھلکیاں:۔
مدینہ میں قریشی لشکر کی آمد کی اطلاع ملی تو آپ ﷺنے مجلس مشاورت بلوائی اور خطرے سے نپٹنے کے لیے تجاویز طلب فرمائیں۔ مہاجرین نے جانثاری کا یقین دلایا۔ آپ ﷺنے دوبارہ مشہور طلب کیا تو انصار میں سے سعد بن عبادہ نے عرض کیا کہ غالباًً آپ کا روئے سخن ہماری طرف ہے۔ آپ نے فرمایا ہاں۔ حضرت سعد بن عبادہ نے عرض کیا کہ:
” یا رسول اللہ! ہم آپ پر ایمان لائے ہیں۔ ہم نے آپ کی تصدیق کی ہے اور گواہی دی ہے کہ جو کتاب آپ لائے ہیں وہ حق ہے اور ہم نے آپ کی اطاعت اور فرمانبرداری کا عہد کیا ہے۔ یا رسول اللہ جس طرف مرضی ہو تشریف لے چلیے۔ قسم ہے اس ذات کی جس نے حق کے ساتھ آپ کو معبوث کیا اگر آپ ہم کو سمندر میں گرنے کا حکم دیں گے تو ہم ضرور اس میں گرپڑیں گے اور ہم میں سے ایک شخص بھی باقی نہ رہے گا “
حضرت مقداد نے عرض کیا:”
” ہم موسیٰ  کی امت کی طرح نہیں ہیں جس نے موسیٰ سے کہا کہ تم اور تہمارا رب دونوں لڑو۔ ہم تو یہاں بیٹھے ہیں بلکہ ہم آپ کے دائیں بائیں ، آگے پیچھے آپ کے ساتھ لڑیں گے “ “
مشاورت کے بعد مجاہدین کو تیاری کا حکم ہوا۔ مسلمانوں کے ذوق شہادت کا یہ عالم تھا کہ ایک نوعمر صحابی حضرت عمیر بی ابی وقاص اس خیال سے چھپتے پھرتے تھے کہ کہیں کم عمر ہونے کی وجہ سے واپس نہ بھیج دیے جائیں۔ اس کے باوجود مجاہدین کی کل تعداد 313 سے زیادہ نہ ہو سکی۔ یہ لشکر اس شان سے میدان کارزار کی طرف بڑھ رہا تھا کہ کسی کے پاس لڑنے کے لیے پورے ہتھیار بھی نہ تھے۔ پورے لشکرے پاس صرف 70 اونٹ اور2 گھوڑے تھے جن پر باری باری سواری کرتے تھے۔ مقام بدر پر پہنچ کر ایک چشمہ کے قریب یہ مختصر سا لشکر خیمہ زن ہوا۔ مقابلے پر تین گناہ سے زیادہ لشکر تھا۔ ایک ہزار قریشی جوان جن میں سے اکثر سر سے پاؤں تک آہنی لباس میں ملبوس تھے وہ اس خیال سے بدمست تھے کہ وہ صبح ہوتے ہی ان مٹھی بھر فاقہ کشوں کا خاتمہ کر دیں گے لیکن قدرت کاملہ کو کچھ اور ہی منظور تھا۔

رات بھر قریشی لشکر عیاشی و بدمستی کا شکار رہا۔ خدا کے نبیﷺنے خدا کے حضور آہ و زاری میں گزاری اور قادر مطلق نے فتح کی بشارت دے دی جس طرف مسلمانوں کا پڑاؤ تھا وہاں پانی کی کمی تھی اور ریت مسلمانوں کے گھوڑوں کے لیے مضر ثابت ہو سکتی تھی۔ لیکن خداوند تعالی نے باران رحمت سے مسلمانوں کی یہ دونوں دقتیں دور کر دیں۔ ریت جم گئی اور قریشی لشکر مقبوضہ چکنی مٹی کی زمین پر کیچڑ پیدا ہوگیا۔
اس غزوہ میں مومنین کے جوش جہاد کا یہ حال تھا کہ ایک صحابی عمر بن جام کھجوریں کھا رہے تھے۔ انہوں نے حضور اکرم کا اعلان ’’آج کے دن جو شخص صبر و استقادمت سے لڑے گا اور پیٹھ پھیر کر نہ بھاگے گا وہ یقینا جنت میں جائے گا‘‘۔ سنا تو کھجوریں پھینک دیں اور فرمایا ’’واہ واہ میرے اور جنت کے درمیان بس اتنا وقفہ ہے کہ یہ لوگ مجھ کو قتل کر دیں۔‘‘ یہ کہہ کر اتنی بہادری سے لڑے کہ شہید ہوئے اور چند لمحوں میں جنت کا فاصلہ طے کر لیا۔ میدان کارزار خوب گرم تھا قریش کے مغرور آہن پوش لوہے کے لباس سمیت کٹ کٹ کر گر رہے تھے۔ مسلمان بھی خود داد شجاعت دے رہے تھے۔ اس ہنگامے میں انصار کے دو کم عمر بچے معاذ بن عمر بن جموع اور معاذ بن عفر ، حضرت عبدالرحمن بن عوف کے پاس آئے اور ان میں سے ایک نے کہا۔
’’چچا! آپ ابوجہل کو پہچانتے ہیں وہ کہاں ہے۔ ہم نے سنا ہے کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم کی شان میں گالیاں بکتا ہے ۔ اس پاک ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے اگر میں اس کو دیکھ لوں تو اس وقت تک اس سے جدا نہ ہوں گا جب تک کہ مر نہ جائے یا میں شہید نہ ہو جاؤں‘‘ اتفاق سے ابوجہل کا گزر سامنے سے ہوا۔ حضرت عبدالرحمن بن عوف نے اس کی طرف اشارہ کر دیا ۔ یہ اشارہ پاتے ہی یہ دونوں ننھے مجاہد اپنی تلواریں لے کر اس کی طرف بھاگے۔ وہ گھوڑے پرسوار تھا اور یہ دونوں پیدل ۔ جاتے ہی ان میں سے ایک ابوجہل کے گھوڑے پر اور دوسرے نے ابوجہل کی ٹانگ پر حملہ کر دیا۔ گھوڑا اور ابوجہل دونوں گر پڑے۔ عکرمہ بن ابوجہل نے معاذ بن عمر کے کندھے پر وار کیا اور ان کا باز لٹک گیا۔ باہمت نوجوان نے بازو کو راستے میں حائل ہوتے دیکھا تو پاؤں کے نیچے لے کر اسے الگ کر دیا اور ایک ہی ہاتھ سے اپنے شکار پر حملہ کر دیا۔ اتنے میں معاذ بن عفرا کے بھائی معوذ وہاں پہنچے اور انہوں نے ابوجہل کو ٹھنڈا کر دیا اور حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس کا سر تن سے جدا کر دیا۔

اس میدان بدر میں ابوجہل کے علاوہ امیہ بن خلف جس نے حضرت بلال رضی اللہ عنہ پر بے پناہ ظلم ڈھائے تھے اور ابوبنحتری جیسے اہم سرداران قریش بھی مارے گئے۔ اور یہ مغرور لشکر میدان چھوڑ کر بھاگ کھڑا ہوا۔ اللہ تعالی نے اسلام کو فتح دی تھی اور دنیا نے دیکھ لیا کہ فتح و شکست میں مادی قوت سے زیادہ روحانی قوت کا دخل ہوتا ہے۔ مسلمانوں کے کل 14 آدمی شہید ہوئے۔ اس کے مقابلے میں قریش کے70 آدمی مارے گئے جن میں سے 36 حضرت علی کرم اللہ وجہہ کے ہاتھوں قتل ہوئے۔ 70 سے زیادہ گرفتار ہوئے۔ قریشی مقتولین میں ان کے تقریباًً تمام نامور سردار شامل تھے اور گرفتار ہونے والے بھی ان کے معززین میں سے تھے۔ مثلاً حضرت عباس بن عبدالمطلب ’’حضور کے چچا‘‘ عقیل بن ابی طالب ، اسود بن عامر ،سہیل بن عمرو اور عبداللہ بن زمعہ وغیرہ۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
Display posts from previous:  Sort by  
Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5  Next

All times are UTC + 5 hours


Related topics
 Topics   Author   Replies   Views   Last post 
There are no new unread posts for this topic. history match in ipl

AHMED786

0

66

March 30th, 2016, 4:16 pm

AHMED786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. NAT GEO STAR PLUS HISTORY

AHMED786

0

36

August 29th, 2016, 6:38 am

AHMED786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. islamic history

tanweer786

0

40

April 29th, 2016, 8:04 am

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. history about pakistan

tanweer786

1

77

May 15th, 2016, 9:42 pm

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. History of the Internet -

aftabbagrani

3

53

November 27th, 2015, 10:46 pm

Diljaley View the latest post

 


Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 3 guests


You cannot post new topics in this forum
You cannot reply to topics in this forum
You cannot edit your posts in this forum
You cannot delete your posts in this forum

Search for:
Jump to:  

Advertisements

Telecom Updates

telecom news

jazz

Zong

Telenor

Ufone

News News Site map Site map SitemapIndex SitemapIndex RSS Feed RSS Feed Channel list Channel list
Powered by phpBB® Forum Software © phpBB Group

phpBB SEO