WWW.PAKLIGHT-SHARING.COM

ASIA & PAKISTAN NO 1 DIGITAL SATELLITE NETWORK FORUM
It is currently October 22nd, 2017, 11:40 am

All times are UTC + 5 hours


ABBAS786 HD/SD CCCAM SERVER DISHTVSD RELINCEHD/SD SUNHD/SD AND ALL SD PAKAGE 100% FULL OK CALL,0301 8331640


GOOD NEWS DISHTVHD/SD VIDEOCONHD/SD CLINE MGCAMLINE AVALIABLE WITH LOW PRICE CALL NOW MALIK ABBAS 0301 8331640


GOOD NEWS DISHTVHD/SD WORKING FINE IN CLINE CONTACT ME MALIK ABBAS 0301 833 1640 ,




Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8 ... 10  Next
Author Message
PostPosted: May 16th, 2016, 10:18 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times


';SALAM''';;;;;
حضرت موسیؑ اور ابلیس

ایک مرتبہ ابلیس حضرت موسٰی علیہ السلام سے ملا اور کہنے لگا ....."اے موسٰی علیہ السلام! اللّٰہ تعالٰی نے تم کو اپنی رسالت کے لئےبرگزیدہ فرمایا ہے اور تم سے ہمکلام ہوا ہے۔ میں بھی خدا کی مخلوق میں شامل ہوں اور مجھ سے ایک گناہ سرزد ہوگیا۔ اب میں توبہ کرنا چاہتا ہوں۔ آپ میرے پروردگار کے پاس سفارش کیجئے کہ میری توبہ قبول کرے..."
حضرت موسٰی علیہ السلام نےاللّٰہ تعالٰی سے دعا کی ۔ حکم ہوا کہ اے موسیٰ !"ہم تمہاری حاجت برلائے۔" پھر حضرت موسٰی علیہ السلام شیطان سے ملے اور کہا کہ مجھے ارشاد ہوا ہے کہ توحضرت آدم علیہ السلام کی قبر کو بسجدہ کرے تو تیری توبہ قبول ہو شیطان نے انکار کیا اورغصے میں آکر کہنے لگا جب میں نے آدم علیہ السلام کو ان کی زندگی میں سجدہ نہ کیا تو اب مرنے پر کیا سجدہ کرونگا۔
پھر شیطان نے کہا کہ :"موسیٰ علیہ السلام ! تم نے جو اپنے پروردگار کے پاس میری سفارش کی ہے اس لئے تمہارامجھ پر ایک حق ہے، تم مجھ کو تین حالتوں میں یاد کیا کرو ایسا نہ ہو کہ تم کو ان تین وقتوں میں ہلاک کردوں ...."
'' ایک تو غصہ کے وقت مجھ کو یاد کرو کیونکہ میں میرا وسوسہ تمہارے دل میں ہے،اور میری آنکھ تمہاری آنکھ میں ہے،اور میں تمہارے رگ وپوست میں خون کی طرح دوڑتا ہوں۔''
''دوسرے جہاد و غزوات کی حالت میں میرا خیال کیا کرو کیونکہ میں فرزندِ آدم کے پاس اسوقت جاتا ہوں جب وہ کفار سے مقابلہ کرتا ہے، اور اس کے بال بچے، بیوی گھروالے یاد دلاتا ہوں، یہاں تک کے جہاد سے بھاگ کھڑا ہوتا ہے.''
''تیسرے غیر محرم عورت کے پاس بیٹھنے سے بچتے رہو کیونکہ میں تمہارے پاس اس کا قاصد ہوں اور اس کے پاس تمہارا پیامبر ہوں۔''
علامہ ابن الجوزیؒ كى كتاب تلبیس ابلیس سے ماخوذ


_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 17th, 2016, 5:34 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عمرؓ ایک قابلِ رشک صحابی

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ میں ان لوگوں میں کھڑا تھا جو سیدنا عمر (رضی اللہ عنہ) کیلئے اُس وقت دعا کر رہے تھے جب آپ کو زخمی حالت میں چارپائی پر لٹایا گیا تھا۔ اچانک میرے پیچھے سے ایک شخص نے اپنی کہنی میرے کندھوں پر رکھی اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو مخاطب فرماتے ہوئے یوں دعا کی : {اللہ تعالیٰ آپ پر رحم فرمائے ، مجھے اللہ تعالیٰ سے امید تھی کہ وہ آپ (سیدنا عمر) کو آپ کے دونوں ساتھیوں (رسول اللہ اور سیدنا ابو بکر ) کے ساتھ ہی جمع فرمادے گا، کیونکہ میں اکثر و بیشتر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ سنا کرتا تھا ا ٓپ صلی اللہ علیہ وسلم یوں فرماتے رہتے تھے کہ : " میں تھا ، ابوبکر اور عمر تھے، میں نے ، ابوبکر اور عمر نے یوں کیا ، میں ، ابوبکر اور عمر گئے" (یعنی ہر وقت اپنے ساتھ سیدنا ابو بکر و سیدنا عمر رضی اللہ عنہما کا تذکرہ فرماتے) تو اسی لیے مجھے (پہلے سے) امید تھی کہ آپ (سیدنا عمر) کو اللہ تعالیٰ آپ کے ساتھیوں (رسول اللہ و سیدنا ابو بکر) کے ساتھ ہی اکٹھا کر دے گا (یعنی جس طرح دنیامیں اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابو بکر ع سیدنا عمر کو رسول اللہ کے ساتھ رکھا ، وفات کے بعد بھی اُنہیں ساتھ ہی رکھے گا) ۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ کہتے ہیں : میں نے پیچھے مڑ کر دیکھا (کہ یہ سب باتیں کرنے والے کون ہیں ) تو وہ سیدنا علی (رضی اللہ عنہ) تھے جو یہ دعا کر رہے تھے۔ (صحيح البخاري ، كِتَاب الْمَنَاقِبِ)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 18th, 2016, 4:00 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times

';SALAM''';;;;;
مُردہ دفن کرنا کوّے نے سکھایا

جب قابیل نے ہابیل کو قتل کردیا تو چونکہ اس سے پہلے کوئی آدمی مرا ہی نہیں تھا اس لئے قابیل حیران تھا کہ بھائی کی لاش کو کیا کروں۔ چنانچہ کئی دنوں تک وہ لاش کو اپنی پیٹھ پر لادے پھرا۔ پھر اس نے دیکھا کہ دو کوے آپس میں لڑے اور ایک نے دوسرے کو مار ڈالا۔ پھر زندہ کوے نے اپنی چونچ اور پنجوں سے زمین کرید کر ایک گڑھا کھودا اور اس میں مرے ہوئے کوے کو ڈال کر مٹی سے دبا دیا۔ یہ منظر دیکھ کر قابیل کو معلوم ہوا کہ مردے کی لاش کو زمین میں دفن کرنا چاہیئے۔ چنانچہ اُس نے قبر کھود کر اس میں بھائی کی لاش کو دفن کردیا۔
(مدارک التنزیل،ج۱،ص۴۸۶،پ۶،المائدۃ ۳۱)
قرآن مجید نے اس واقعہ کو ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے کہ:۔
فَبَعَثَ اللہُ غُرَابًا یَّبْحَثُ فِی الۡاَرْضِ لِیُرِیَہٗ کَیۡفَ یُوَارِیۡ سَوْاَۃَ اَخِیۡہِ ؕ قَالَ یٰوَیۡلَتٰۤی اَعَجَزْتُ اَنْ اَکُوۡنَ مِثْلَ ہٰذَا الْغُرَابِ فَاُوَارِیَ سَوْاَۃَ اَخِیۡ ۚ فَاَصْبَحَ مِنَ النّٰدِمِیۡنَ ﴿ۚۛۙ31﴾ (پ6،المائدۃ:31)
ترجمہ کنزالایمان:۔ تو اللہ نے ایک کوا بھیجا زمین کریدتا کہ اسے دکھائے کیونکر اپنے بھائی کی لاش چھپائے بولا ہائے خرابی میں اس کوے جیسا بھی نہ ہو سکا کہ میں اپنے بھائی کی لاش چھپاتا تو پچتاتا رہ گیا۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 19th, 2016, 1:17 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times

';SALAM''';;;;;
اذان کی ابتداء کب اور کیسے ہوئی

بعض لوگ تو يہاں تك كہتے ہيں كہ آدم عليہ السلام كے زمين پر آنے كے وقت سے ہى انبياء عليہم السلام كے ہاں اذان معروف تھى، اور بعض لوگ يہ كہتے ہيں كہ ابراہيم عليہ السلام كے ہاں يہ اس وقت معروف ہوئى جب اللہ تعالى نے انہيں حكم ديا:

﴿ اور آپ لوگوں ميں حج كا اعلان كرديں، وہ تيرے پاس پيدل اور ہر سوارى پر آئينگے ﴾الحج ( 26 ).

ليكن يہ كلام عجيب بلكہ صحيح نہيں، بلكہ صحيح بات يہ ہے كہ:

اذان رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے دور ميں مدينہ شريف ميں مشروع ہوئى نہ كہ مكہ ميں، اور نہ ہى معراج كے موقع پر جيسا كہ بعض ضعيف احاديث ميں پايا جاتا ہے.

ابن حجر رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:

اذان كى ابتدا كے سلسلے ميں سب سے زيادہ عجيب وہ ہے جسے ابو الشيخ نے عبد اللہ بن زبير رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ:

" اذان ابراہيم عليہ السلام كى اذان " اور آپ لوگوں ميں حج كا اعلان كر ديں " سے لى گئى، وہ كہتے ہيں كہ چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے اذان كہى "

اس سند ميں مجھول راوى پايا جاتا ہے.

ديكھيں: فتح البارى لابن حجر ( 2 / 280 ).

صحيح احاديث سے پتہ چلتا ہے كہ اذان رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے عہد مبارك ميں مدينہ شريف ميں مشروع ہوئى، ذيل ميں چند ايك صحيح احاديث پيش كى جاتى ہيں:

نافع بيان كرتے ہيں كہ ابن عمر رضى اللہ تعالى كہا كرتے تھے: جب مسلمان مدينہ آئے تو وہ نماز كے ليے جمع ہوا كرتے تھے، اور نماز كے ليے اذان نہيں ہوتى تھى، چنانچہ اس سلسلہ ميں ايك روز انہوں نے بات چيت كى تو كچھ لوگ كہنے لگے عيسائيوں كى طرح ناقوس بنا ليا جائے، اور بعض كہنے لگے: يہوديوں كے سينگ كى طرح كا بگل بنا ليا جائے.

چنانچہ عمر رضى اللہ تعالى عنہ كہنے لگے: تم كسى شخص كو كيوں نہيں مقرر كرتے كہ وہ نماز كے ليے منادى كرے، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: بلال اٹھ كر نماز كے ليے منادى كرو "

صحيح بخارى حديث نمبر ( 569 ).

اور ابن عمير بن انس اپنے ايك انصارى چچا سے بيان كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ مسئلہ درپيش آيا كہ لوگوں كو نماز كے ليے كيسے جمع كيا جائے؟ كسى نے كہا كہ نماز كا وقت ہونے پر جھنڈا نصب كر ديا جائے جب وہ اسے ديكھيں گے تو ايك دوسرے كو بتا دينگے، ليكن رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ طريقہ پسند نہ آيا.

راوى بيان كرتے ہيں كہ بگل كا ذكر ہوا، زياد كہتے ہيں كہ يہوديوں والا بگل چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ بھى پسند نہ آيا، اور فرمايا يہ تو يہوديوں كا طريقہ ہے، راوى كہتے ہيں چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ كے سامنے ناقوس كا ذكر ہوا، تو نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: يہ تو عيسائيوں كا طريقہ ہے.

چنانچہ عبد اللہ بن زيد بن عبد ربہ وہاں سے نكلے تو انہيں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے اسى معاملہ كى فكر كھائے جارہى تھى اور وہ اسى سوچ ميں غرق تھے، چنانچہ انہيں خواب ميں اذان دكھائى گئى، راوى كہتے ہيں جب وہ صبح رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس آئے تو انہيں اپنى خواب بيان كرتے ہوئے كہنے لگے:

ميں اپنى نيند اور بيدارى كى درميان والى حالت ميں تھا كہ ايك شخص آيا اور مجھے اذان سكھائى، راوى كہتے ہيں: اس سے قبل عمر رضى اللہ تعالى عنہ بھى يہ خواب ديكھ چكے تھے، ليكن انہوں نے اسے بيس روز تك چھپائے ركھا اور بيان نہ كيا.

راوى كہتے ہيں: پھر انہوں نے بھى رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو اپنى خواب بيان كى تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم فرمانے لگے: تمہيں خواب بيان كرنے سے كس چيز نے منع كيا تھا ؟ توانہوں نے جواب ديا عبد اللہ بن زيد مجھ سے سبقت لے گئے تو ميں نے بيان كرنے سے شرم محسوس كى چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:

بلال اٹھو اور ديكھو تمہيں عبد اللہ بن زيد كيا كہتے ہيں تم بھى اسى طرح كرو، چنانچہ بلال رضى اللہ تعالى عنہ نے اذان كہى "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 420 ).

عبد اللہ بن زيد رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ: جب رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے لوگوں كو نماز كے وقت جمع كرنے كے ليے ناقوس بنانے كا حكم ديا تو ميرے پاس خواب ميں ايك شخص آيا جس كے ہاتھ ميں ناقوس تھا ميں نے كہا: اے اللہ كے بندے كيا تم يہ ناقوس فروخت كروگے ؟

تو اس نے جواب ديا: تم اسے خريد كر كيا كرو گے ؟ ميں نے جواب ديا: ہم اس كے ساتھ نماز كے ليے بلايا كرينگے، تو وہ كہنے لگا: كيا ميں اس سے بھى بہتر چيز تمہيں نہ بتاؤں ؟

تو ميں نے اس سے كہا: كيوں نہيں، وہ كہنے لگا:

تم يہ كہا كرو:
" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

َأشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ( نماز كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ( نماز كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں )

راوى بيان كرتے ہيں: پھر وہ كچھ ہى دور گيا اور كہنے لگا:

اور جب تم نماز كى اقامت كہو تو يہ كلمات كہنا:

" اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

َأشْهَدُ أَنْ لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ اللہ كے علاوہ كوئى معبود برحق نہيں )

أَشْهَدُ أَنَّ مُحَمَّدًا رَسُولُ اللَّهِ ( ميں گواہى ديتا ہوں كہ محمد صلى اللہ عليہ وسلم اللہ تعالى كے رسول ہيں )

حَيَّ عَلَى الصَّلاةِ ( نماز كى طرف آؤ )

حَيَّ عَلَى الْفَلاحِ ( فلاح و كاميابى كى طرف آؤ )

قَدْ قَامَتْ الصَّلاةُ ( يقينا نماز كھڑى ہو گئى )

قَدْ قَامَتْ الصَّلاةُ ( يقينا نماز كھڑى ہو گئى )

اللَّهُ أَكْبَرُ اللَّهُ أَكْبَرُ ( اللہ بہت بڑا ہے، اللہ بہت بڑا ہے )

لا إِلَهَ إِلا اللَّهُ ( اللہ تعالى كے علاوہ كوئى معبود نہيں ).

عبد اللہ رضى اللہ تعالى بيان كرتے ہيں چنانچہ جب صبح ميں رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے پاس گيا تو اپنى خواب بيان كى، تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: ان شاء اللہ يہ خواب حق ہے، تم بلال رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ كھڑے ہو كر اسے اپنى خواب بيان كرو، اور وہ اذان كہے، كيونكہ اس كى آواز تم سے زيادہ بلند ہے.

چنانچہ ميں بلال رضى اللہ تعالى عنہ كے ساتھ كھڑا ہوا اور انہيں كلمات بتاتا رہا اور وہ ان كلمات كے ساتھ اذان دينے لگے، جب عمر رضى اللہ تعالى نے يہ اپنے گھر ميں سنے تو وہ اپنى چادر كھينچتے ہوئے چلے آئے اور كہنے لگے:

اے اللہ تعالى كے رسول صلى اللہ عليہ وسلم اس ذات كى قسم جس نے آپ كو حق دے كر مبعوث كيا ہے، ميں نے بھى اسى طرح كى خواب ديكھى ہے چنانچہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: الحمد للہ "

سنن ابو داود حديث نمبر ( 499 ).

يہ اس بات كى دليل ہيں كہ اذان كى ابتد رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كے مدنى دور يعنى مدينہ منورہ ميں مشروع ہوئى، اور يہ اس امت مسلمہ كى ايك فضيلت شمار ہوتى ہے جسے اللہ تعالى نے سارى امتوں پر فضيلت دى ہے.

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 21st, 2016, 5:35 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times

';SALAM''';;;;;
ﭼﯿﻮﻧﭩﯽ

حضرت سلیمان عليه السلام نہر کے کنارے بیٹھے ہوئے تھے کہ ان کی نگاہ ایک چیونٹی پر پڑی جو گیہوں کا ایک دانہ لے کر نہر کی طرف جارہی تھی ، حضرت سلیما ن عليه السلام اس کو بہت غور سے دیکھنے لگے ، جب چیونٹی پانی کے قریب پہنچی تواچانک ایک مینڈ ک نے اپنا سر پانی سے نکالا اور اپنا منہ کھولا تو یہ چیونٹی اپنے دانہ کے ساتھ اس کے منہ میں چلی گئی، میڈک پانی میں داخل ہو گیا اور پانی ہی میں بہت دیر تک رہا ،
سلیمان عليه السلام اس کو بہت غور سے دیکھتے رہے ،ذرا ہی دیر میں مینڈک پانی سے نکلا اور اپنا منہ کھولا تو چیونٹی باہر نکلی البتہ اس کے ساتھ دانہ نہ تھا۔
حضرت سلیمان عليه السلام نے ا س کو بلا کر معلوم کیا کہ ”ماجرہ کیاتھا اور وہ کہاں گئی تھی“ اس نے بتایا کہ اے اللہ کے نبی آپ جو نہر کی تہہ میں ایک بڑا کھوکھلا پتھر دیکھ رہے ہیں ، اس کے اندر بہت سے اندھے کیڑے مکوڑے ہیں، اللہ تعالی نے ان کو وہاں پر پیدا کیا ہے، وہ وہا ں سے روزی تلاش کرنے کے لیے نہیں نکل سکتے‘ اللہ تعالی نے مجھے اس کی روزی کا وکیل بنایا ہے ، میں اس کی روزی کو اٹھا کر لے جاتی ہو ں اور اللہ نے اس مینڈک کو میرے لیے مسخر کیا ہے تاکہ وہ مجھے لے کر جائے ، اس کے منہ میں ہونے کی وجہ سے پانی مجھے نقصان نہیں پہنچاتا، وہ اپنا منھ بند پتھر کے سوراخ کے سامنے کھول دیتا ہے ، میں اس میں داخل ہو جاتی ہوں ، جب میں اس کی روزی اس تک پہنچا کر پتھر کے سوراخ سے اس کے منہ تک آتی ہوں تو مینڈک مجھے منہ سے باہر نکال دیتا ہے ۔

حضرت سلیما ن عليه السلام نے کہا: ”کیا تو نے ان کیڑوں کی کسی تسبیح کو سنا “ چیونٹی نے بتایا : ہاں! وہ سب کہتے ہیں

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 22nd, 2016, 5:18 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times

';SALAM''';;;;;
حضرت عیسیٰ علیہ السلام آسمان پر

حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے جب یہودیوں کے سامنے اپنی نبوت کا اعلان فرمایا تو چونکہ یہودی توراۃ میں پڑھ چکے تھے کہ حضرت عیسیٰ مسیح علیہ السلام ان کے دین کو منسوخ کردیں گے۔ اس لئے یہودی آپ کے دشمن ہو گئے۔ یہاں تک کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے یہ محسوس فرمالیا کہ یہودی اپنے کفر پر اڑے رہیں گے اور وہ مجھے قتل کردیں گے تو ایک دن آپ نے لوگوں کو مخاطب کر کے فرمایا کہ مَنْ اَنۡصَارِیۡۤ اِلَی اللہِ ؕ یعنی کون میرے مددگار ہوتے ہیں اللہ کے دین کی طرف۔ بارہ یا اُنیس حواریوں نے یہ کہا کہ نَحْنُ اَنۡصَارُ اللہِ ۚ اٰمَنَّا بِاللہِ ۚ وَاشْہَدْ بِاَنَّا مُسْلِمُوۡنَ ﴿۵۲

یعنی ہم خدا کے دین کے مددگار ہیں۔ ہم اللہ پر ایمان لائے اور آپ گواہ ہوجائیں کہ ہم مسلمان ہیں۔
باقی تمام یہودی اپنے کفر پر جمے رہے یہاں تک کہ جوش عداوت میں ان یہودیوں نے آپ کے قتل کا منصوبہ بنالیا اور ایک شخص کو یہودیوں نے جس کا نام ''ططیانوس'' تھا آپ کے مکان میں آپ کو قتل کردینے کے لئے بھیجا۔ اتنے میں اچانک اللہ تعالیٰ نے حضرت جبرئیل علیہ السلام کو ایک بدلی کے ساتھ بھیجا اور اس بدلی نے آپ کو آسمان کی طرف اٹھالیا۔ آپ کی والدہ جوشِ محبت میں آپ کے ساتھ چمٹ گئیں تو آپ نے فرمایا کہ اماں جان! اب قیامت کے دن ہماری اور آپ کی ملاقات ہو گی اور بدلی نے آپ کو آسمان پر پہنچا دیا۔ یہ واقعہ بیت المقدس میں شب قدر کی مبارک رات میں وقوع پذیر ہوا۔ اس وقت آپ کی عمر شریف بقول علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ ۳۳ برس کی تھی اور بقول علامہ زرقانی شارح مواہب ،اس وقت آپ کی عمر شریف ایک سو بیس برس کی تھی اور حضرت علامہ جلال الدین سیوطی علیہ الرحمۃ نے بھی آخر میں اسی قول کی طرف رجوع فرمایا ہے۔
(تفسیر جمل علی الجلالین،ج۱،ص۴۲۷،پ۳، آل عمران:۵۷)

ططیانوس جب بہت دیر مکان سے باہر نہیں نکلا تو یہودیوں نے مکان میں گھس کر دیکھا تو اللہ تعالیٰ نے ''ططیانوس''کو حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی شکل کا بنا دیا یہودیوں نے ''ططیانوس''کو حضرت عیسیٰ سمجھ کر قتل کردیا۔ اس کے بعد جب ططیانوس کے گھر والوں نے غور سے دیکھا تو صرف چہرہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا تھا باقی سارا بدن ططیانوس ہی کا تھا تو اس کے اہل خاندان نے کہا کہ اگر یہ مقتول حضرت عیسیٰ ہیں تو ہمارا آدمی ططیانوس کہاں ہے؟ اور اگر یہ ططیانوس ہے تو حضرت عیسیٰ کہاں گئے؟ اس پر خود یہودیوں میں جنگ و جدال کی نوبت آگئی اور خود یہودیوں نے ایک دوسرے کو قتل کرنا شروع کردیا اور بہت سے یہودی قتل ہو گئے۔ خداوند قدوس نے قرآن مجید میں اس واقعہ کو اس طرح بیان فرمایا کہ:۔
وَمَکَرُوۡا وَمَکَرَ اللہُ ؕ وَاللہُ خَیۡرُ الْمٰکِرِیۡنَ ﴿٪54﴾اِذْ قَالَ اللہُ یٰعِیۡسٰۤی اِنِّیۡ مُتَوَفِّیۡکَ وَرَافِعُکَ اِلَیَّ وَمُطَہِّرُکَ مِنَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡا وَجَاعِلُ الَّذِیۡنَ اتَّبَعُوۡکَ فَوْقَ الَّذِیۡنَ کَفَرُوۡۤا اِلٰی یَوْمِ الْقِیٰمَۃِ ۚ ثُمَّ اِلَیَّ مَرْجِعُکُمْ فَاَحْکُمُ بَیۡنَکُمْ فِیۡمَا کُنۡتُمْ فِیۡہِ تَخْتَلِفُوۡنَ ﴿55
ترجمہ کنزالایمان:۔اور کافروں نے مکر کیا اوراللہ نے ان کے ہلاک کی خفیہ تدبیر فرمائی اور اللہ سب سے بہتر چھپی تدبیر والا ہے یاد کرو جب اللہ نے فرمایا اے عیسیٰ میں تجھے پوری عمر تک پہنچاؤں گا اور تجھے اپنی طرف اٹھالوں گا اور تجھے کافروں سے پاک کر دوں گا اور تیرے پیروؤں کو قیامت تک تیرے منکروں پر غلبہ دوں گا پھر تم سب میری طرف پلٹ کر آؤ گے تو میں تم میں فیصلہ فرما دوں گا جس بات میں جھگڑتے ہو۔
(پ3،آل عمران:54،55)

آپ کے آسمان پر چلے جانے کے بعد حضرت مریم رضی اللہ عنہا نے چھ برس دنیا میں رہ کر وفات پائی (بخاری و مسلم) کی روایت ہے کہ قربِ قیامت کے وقت حضرت عیسیٰ علیہ السلام زمین پر اتریں گے اور نبی آخرالزماں صلی اللہ علیہ وسلم کی شریعت پر عمل کریں گے اور دجال و خنزیر کو قتل فرمائیں گے اور صلیب کو توڑیں گے اور سات برس تک دنیا میں عدل فرما کر وفات پائیں گے اور مدینہ منورہ میں گنبد ِ خضراء کے اندر مدفون ہوں گے۔
(تفسیر جمل علی الجلالین،ج۱،ص۴۲۷،پ۳، آل عمران:۵۷)
اور قرآن مجید میں عیسائیوں کا رد کرتے ہوئے یہ بھی نازل ہوا کہ وَمَا قَتَلُوۡہُ یَقِیۡنًاۢ ﴿157﴾ۙبَلۡ رَّفَعَہُ اللہُ اِلَیۡہِ ؕ وَکَانَ اللہُ عَزِیۡزًا حَکِیۡمًا ﴿158

ترجمہ کنزالایمان:۔اور بیشک انہوں نے اس کو قتل نہ کیا بلکہ اللہ نے اسے اپنی طرف اٹھا لیا اور اللہ غالب حکمت والا ہے۔
(پ6،النساء:157،158)
اور اس سے اوپر والی آیت میں ہے کہ:۔
وَمَا قَتَلُوۡہُ وَمَا صَلَبُوۡہُ وَلٰکِنۡ شُبِّہَ لَہُمْ ؕ
ترجمہ کنزالایمان:۔ انہوں نے نہ اسے قتل کیااور نہ اسے سولی دی بلکہ ان کے لئے اس کی شبیہ کا ایک بنا دیا گیا۔
(پ6،النساء:157)
خلاصہ کلام یہ ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام یہودیوں کے ہاتھوں مقتول نہیں ہوئے اور اللہ نے آپ کو آسمانوں پر اٹھا لیا، جو یہ عقیدہ رکھے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام قتل ہو گئے اور سولی پر چڑھائے گئے جیسا کہ نصاریٰ کا عقیدہ ہے تو وہ شخص کافر ہے کیونکہ قرآن مجید میں صاف صاف مذکور ہے کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام نہ مقتول ہوئے نہ سولی پر لٹکائے گئے۔
(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 76-73)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 24th, 2016, 8:27 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times

';SALAM''';;;;;
عیسائیوں کا مباہلہ سے فرار

نجران (یمن)کے نصرانیوں کا ایک وفد مدینہ منورہ آیا۔ یہ چودہ آدمیوں کی جماعت تھی جو سب کے سب نجران کے اشراف تھے اور اس وفد کی قیادت کرنے والے تین شخص تھے :۔
(۱) ابو حارثہ بن علقمہ جو عیسائیوں کا پوپ اعظم تھا۔
(۲) اُہیب جو ان لوگوں کا سردار اعظم تھا ۔
(۳) عبدالمسیح جو سردار اعظم کا نائب تھا اور ''عاقب''کہلاتا تھا۔
یہ سب نمائندے نہایت قیمتی اور نفیس لباس پہن کر عصر کے بعد مسجد نبوی میں داخل ہوئے اور اپنے قبلہ کی طرف منہ کر کے اپنی نماز ادا کی۔ پھر ابو حارثہ اور ایک دوسرا شخص دونوں حضور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئے اور آپ نے نہایت کریمانہ لہجے میں ان دونوں سے گفتگو فرمائی۔ اور حسب ذیل مکالمہ ہوا!
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:تم لوگ اسلام قبول کر کے اللہ تعالیٰ کے فرماں بردار بن جاؤ۔
ابو حارثہ : ہم لوگ پہلے ہی سے اللہ تعالیٰ کے فرمانبردار ہوچکے ہیں۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:تم لوگوں کا یہ کہنا صحیح نہیں کیونکہ تم لوگ صلیب کی پرستش کرتے ہو اور اللہ کے لئے بیٹا بتاتے ہو، اور خنزیر کھاتے ہو۔
ابو حارثہ :آپ لوگ ہمارے پیغمبر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گالیاں کیوں دیتے ہو؟
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:ہم لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو کیا کہتے ہیں
ابو حارثہ : آپ لوگ حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بندہ کہتے ہیں حالانکہ وہ خدا کے بیٹے ہیں۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:ہاں!ہم یہ کہتے ہیں کہ حضرت عیسیٰ علیہ السلام خدا کے بندے اور اس کے رسول ہیں اور وہ کلمۃ اللہ جو کنواری مریم کے شکم سے بغیر باپ کے اللہ تعالیٰ کے حکم سے پیدا ہوئے۔
ابو حارثہ :کیا کوئی انسان بغیر باپ کے پیدا ہوسکتا ہے؟ جب آپ لوگ یہ مانتے ہیں کہ
کوئی انسان حضرت عیسیٰ علیہ السلام کا باپ نہیں تو پھر آپ لوگوں کو یہ ماننا پڑے
گا کہ اُن کا باپ اللہ تعالیٰ ہے۔
نبی صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم:اگر کسی کا با پ کوئی انسان نہ ہو تو اس سے یہ لازم نہیں آتا کہ اس کا باپ خدا ہی ہو۔ خداوند تعالیٰ اگر چاہے تو بغیر باپ کے بھی آدمی پیدا ہو سکتا ہے۔
دیکھوحضرت آدم علیہ السلام کو تو بغیر ماں باپ کے اللہ تعالیٰ نے مٹی سے پیدا
فرما دیا اگر اس نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بغیر باپ کے پیدا کردیا تو اس
میں تعجب کی کون سی بات ہے؟
حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے اس پیغمبرانہ طرزِ استدلال اور حکیمانہ گفتگو سے چاہے تو یہ تھا کہ یہ وفد اپنی نصرانیت کو چھوڑ کر دامنِ اسلام میں آجاتا مگر ان لوگوں نے حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑا شروع کردیا۔ یہاں تک کہ بحث و تکرار کا سلسلہ بہت دراز ہوگیا تو اللہتعالیٰ نے سورہ آلِ عمران کی یہ آیت نازل فرمائی:

(روح البیان،ج۲،ص۴۳،پ۳،آل عمران:۵۹) فَمَنْ حَآجَّکَ فِیۡہِ مِنۡۢ بَعْدِ مَا جَآءَ کَ مِنَ الْعِلْمِ فَقُلْ تَعَالَوْا نَدْعُ اَبْنَآءَ نَا وَاَبْنَآءَکُمْ وَ نِسَآءَ نَا وَ نِسَآءَکُمْ وَاَنۡفُسَنَا وَاَنۡفُسَکُمْ ۟ ثُمَّ نَبْتَہِلْ فَنَجْعَلْ لَّعْنَتَ اللہِ عَلَی الْکٰذِبِیۡنَ ﴿61﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر اے محبوب جو تم سے عیسیٰ کے بارے میں حجت کریں بعد اس کے کہ تمہیں علم آچکا تو ان سے فرما دو آؤ ہم تم بلائیں اپنے بیٹے اور تمہارے بیٹے اور اپنی عورتیں اور تمہاری عورتیں اور اپنی جانیں اور تمہاری جانیں پھر مباہلہ کریں تو جھوٹوں پر اللہ کی لعنت ڈالیں۔
(پ3،آل عمران:61)

قرآن کی اس دعوتِ مباہلہ کو ابو حارثہ نے منظور کرلیا۔ اور طے پایا کہ صبح نکل کر میدان میں مباہلہ کریں گے لیکن جب ابو حارثہ نصرانیوں کے پاس پہنچا تو اس نے اپنے آدمیوں سے کہا کہ اے میری قوم! تم لوگوں نے اچھی طرح جان لیا اور پہچان لیا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم)نبی آخر الزمان ہیں اور خوب یاد رکھو کہ جو قوم کسی نبی برحق کے ساتھ مباہلہ کرتی ہے اس قوم کے چھوٹے بڑے سب ہلاک ہوجاتے ہیں۔ اس لئے بہتر یہی ہے کہ ان سے صلح کرکے اپنے وطن کو واپس چلے چلو اور ہرگز ہرگز ان سے مباہلہ نہ کرو۔ چنانچہ صبح کو ابو حارثہ جب حضور علیہ الصلوٰۃ والسلام کے سامنے آیا تو یہ دیکھا کہ آپ حضرت حسین رضی اللہ تعالیٰ عنہ کو گود میں اٹھائے ہوئے اور حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ کی انگلی تھامے ہوئے ہیں اور حضرت فاطمہ و حضرت علی رضی اللہ عنہما آپ کے پیچھے چل رہے ہیں اور آپ ان لوگوں سے فرما رہے ہیں کہ میں جب دعا کروں تو تم لوگ ''آمین''کہنا یہ منظر دیکھ کر ابو حارثہ خوف سے کانپ اٹھا اور کہنے لگا کہ اے گروہ نصاریٰ! میں ایسے چہروں کو دیکھ رہا ہوں کہ اگر اللہ تعالیٰ چاہے تو ان چہروں کی بدولت پہاڑ بھی اپنی جگہ سے ہٹ کر چل پڑے گا۔ لہٰذا اے میری قوم!ہرگز ہرگز مباہلہ نہ کرو ورنہ ہلاک ہوجاؤ گے اور روئے زمین پر کہیں بھی کوئی نصرانی باقی نہ رہے گا۔ پھر اس نے کہا کہ اے ابو القاسم! ہم آپ سے مباہلہ نہیں کریں گے اور ہم یہ چاہتے ہیں کہ ہم اپنے ہی دین پر قائم رہیں۔ حضور صلی اللہ تعالیٰ علیہ وسلم نے ان لوگوں سے کہا کہ تم لوگ اسلام قبول کرلوتاکہ تم لوگوں کو مسلمانوں کے حقوق حاصل ہوجائیں، نصرانیوں نے اسلام قبول کرنے سے صاف انکار کردیا۔ تو آپ نے فرمایا کہ پھر میرے لئے تمہارے ساتھ جنگ کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ یہ سن کر نصرانیوں نے کہا کہ ہم لوگ عربوں سے جنگ کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ لہٰذا ہم اس شرط پر صلح کرتے ہیں کہ آپ ہم سے جنگ نہ کریں اور ہم کو اپنے ہی دین پر قائم رہنے دیں اور ہم بطور جزیہ آپ کو ہر سال ایک ہزار کپڑوں کے جوڑے دیتے رہیں گے۔ چنانچہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے اس شرط پر صلح فرمائی اور ان نصرانیوں کے لئے امن و امان کا پروانہ لکھ دیا اس کے بعد آپ نے فرمایا کہ نجران والوں پر ہلاکت و بربادی آن پہنچی تھی۔ مگر یہ لوگ بچ گئے اگر یہ لوگ مجھ سے مباہلہ کرتے تو مسخ ہو کر بندر اور خنزیر بن جاتے اور ان کی وادی میں ایسی آگ بھڑک اٹھتی کہ نجران کی کل آبادی یہاں تک کہ چرندے اور پرندے جل بھن کر راکھ کا ڈھیر بن جاتے اور رُوئے زمین کے تمام عیسائی سال بھر میں فنا ہوجاتے۔
(روح البیان،ج۲،ص۴۴،پ۳،آل عمران:۶۱)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 27th, 2016, 9:49 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times

';SALAM''';;;;;
موسیٰ علیہ السلام کی سرگوشی


موسیٰ علیہ السلام نے اپنے پروردگار سے سرگوشی کرتے ہوئے پوچھا اے پروردگار ! تیرا چہرا کدھر ہے؟شمال یا جنوب کی جانب؟ تاکہ میں اس کی طرف منہ کرکے تیری عبادت کر سکوں۔
اللہ تعالیٰ نے موسیٰ علیہ السلام کی طرف وحی بھیجی: اے موسیٰ! آپ آ گ جلائیں، پھر اس کے اردگرد چکر لگا کر دیکھیں کہ آگ کا رخ کس جانب ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے آ گ روشن کی اور اس کے اردگرد چکر لگایا، دیکھا تو آ گ کی روشنی ہر چار سو یکساں ہے۔
چنانچہ دربارِ الٰہی میں عرض کیا: پروردگا ! میں نے آگ کا رخ ہر جانب یکساں ہی دیکھا۔
اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسیٰ میری مثال بھی ویسی ہی ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا ؛ اے پرودگار! تو سوتا ہے یا نہیں؟
اللہ تعالیٰ نے ان کی طرف وحی نازل فرمائی: اے موسیٰ! پانی سے بھرا ہوا ایک پیالہ اپنے دونوں ہاتھوں پر رکھ لو، پھر میرے سامنے کھڑے رہو اور نیند کی آغوش میں مت جاؤ۔
موسیٰ علیہ السلام نے ایسا ہی کیا۔ پھر اللہ تعالٰی نے ان پر ہلکی سی اونگھ ڈالی، پیالہ ان کے ہاتھ سے گر کر ٹوٹ گیا اور پانی بہہ گیا۔
موسیٰ علیہ السلام کی چیخ نکل گئی اور وہ گھبرا گئے۔ پھر اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اے موسی ! میں آنکھ کی ایک جھپک بھی سو جاؤں تو یہ آسمان زمین پر دھڑام سے گر پڑے گا جیسے تیرا پیالہ زمین پر گر پڑا۔اور یہ اللہ تعالیٰ کے اس قول کی طرف اِشارہ ہے۔۔
۔"یقینی بات ہے کہ اللہ تعالیٰ آسمانون اور زمین کو تھامے ہوئے ہے کہ وہ ٹل نہ جائے تو پھر اللہ کے سوا اور کوئی ان کو تھام بھی نہیں سکتا، وہ حلیم و غفور ہے۔)فاطر۔41(۔

موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: اے میرے پروردگار ! تو نے مخلوق کی تخلیق کیوں کی جبکہ ان سے تجھے کوئی ضرورت نہیں پڑتی؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا:میں نے ان کی تخلیق اس لیے فرمائی ہے تاکہ یہ مجھے پہچانیں، مجھ سے اپنی مرادیں مانگیں اور میں ان کی مرادیں پوری کروں،اور میری نافرمانی کے بعد مغفرت و بخشش کی درخواست لے کر میری خدمت میں حاضر ہوں اور میں ان کے لیے مغفرت و بخشش کا پروانہ جاری کروں۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا میرے رب ! کیا تو نے کوئی ایسی چیز بھی پیدا کی ہے جو تیری ہی جستجو میں رہتی ہے؟
اللہ تعالیٰ نے فرمایا : ہاں مومن بندے کا دل جو میرے لیے خالص ہے۔
موسیٰ علیہ السلام نے پوچھا: یہ کیسے اے پروردگار؟
اللہ تعالیٰ نے موسی علیہ السلام سے فرمایا:جب مومن بندہ مجھے نہیں بھولتا تو اس کا دل میری یاد سےلبریز رہتا ہے اور میری عظمت اس پر محیط ہوتی ہے اور مجھے جو یاد کرتا ہے میں اس کا ساتھی بن جاتا ہوں۔ ۔ ۔ ۔
(کتاب سنہرے اوراق،از عبدالمالک مجاھد)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 29th, 2016, 6:06 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times

';SALAM''';;;;;
سب سے پہلا قاتل و مقتول

روئے زمین پر سب سے پہلا قاتل قابیل اور سب سے پہلا مقتول ہابیل ہے ''قابیل و ہابیل'' یہ دونوں حضرت آدم علیہ السلام کے فرزند ہیں۔ ان دونوں کا واقعہ یہ ہے کہ حضرت حواء رضی اللہ تعالیٰ عنہا کے ہر حمل میں ایک لڑکا اور ایک لڑکی پیدا ہوتے تھے۔ اور ایک حمل کے لڑکے کا دوسرے حمل کی لڑکی سے نکاح کیا جاتا تھا۔ اس دستور کے مطابق حضرت آدم علیہ السلام نے قابیل کا نکاح ''لیوذا'' سے جو ہابیل کے ساتھ پیدا ہوئی تھی کرنا چاہا۔ مگر قابیل اس پر راضی نہ ہوا کیونکہ اقلیما زیادہ خوبصورت تھی اس لئے وہ اس کا طلب گار ہوا۔
حضرت آدم علیہ السلام نے اس کو سمجھایا کہ اقلیما تیرے ساتھ پیدا ہوئی ہے۔ اس لئے وہ تیری بہن ہے۔ اس کے ساتھ تیرا نکاح نہیں ہو سکتا۔ مگر قابیل اپنی ضد پر اڑا رہا۔ بالآخر حضرت آدم علیہ السلام نے یہ حکم دیا کہ تم دونوں اپنی اپنی قربانیاں خداوند قدوس عزوجل کے دربار میں پیش کرو۔ جس کی قربانی مقبول ہو گی وہی اقلیما کا حق دار ہو گا۔ اس زمانے میں قربانی کی مقبولیت کی یہ نشانی تھی کہ آسمان سے ایک آگ اتر کر اس کو کھالیا کرتی تھی۔ چنانچہ قابیل نے گیہوں کی کچھ بالیں اور ہابیل نے ایک بکری قربانی کے لئے پیش کی۔ آسمانی آگ نے ہابیل کی قربانی کو کھالیا اور قابیل کے گیہوں کو چھوڑ دیا۔ اس بات پر قابیل کے دل میں بغض و حسد پیدا ہو گیا اور اس نے ہابیل کو قتل کردینے کی ٹھان لی اور ہابیل سے کہہ دیا کہ میں تجھ کو قتل کردوں گا۔ ہابیل نے کہا کہ قربانی قبول کرنا اللہ تعالیٰ کا کام ہے اور وہ متقی بندوں ہی کی قربانی قبول کرتا ہے۔ اگر تو متقی ہوتا تو ضرور تیری قربانی قبول ہوتی۔ ساتھ ہی ہابیل نے یہ بھی کہہ دیا کہ اگر تو میرے قتل کے لئے ہاتھ بڑھائے گا تو میں تجھ پر اپنا ہاتھ نہیں اٹھاؤں گا کیونکہ میں اللہ سے ڈرتا ہوں۔ میں یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے ہی پلے پڑیں اور تو دوزخی ہوجائے کیونکہ بے انصافوں کی یہی سزا ہے۔ آخر قابیل نے اپنے بھائی ہابیل کو قتل کردیا۔ بوقت قتل ہابیل کی عمر بیس برس کی تھی اور قتل کا یہ حادثہ مکہ مکرمہ میں جبل ثور کے پاس یا جبل حرا کی گھاٹی میں ہوا۔ اور بعض کا قول ہے کہ بصرہ میں جس جگہ مسجد ِ اعظم بنی ہوئی ہے منگل کے دن یہ سانحہ ہوا۔
(واللہ تعالیٰ اعلم)
روایت ہے کہ جب ہابیل قتل ہو گئے تو سات دنوں تک زمین میں زلزلہ رہا۔ اور وحوش و طیور اور درندوں میں اضطراب اور بے چینی پھیل گئی اور قابیل جو بہت ہی گورا اور خوبصورت تھا بھائی کا خون بہاتے ہی اس کا چہرہ بالکل کالا اور بدصورت ہو گیا۔ اور حضرت آدم علیہ السلام کو بے حد رنج و قلق ہوا۔ یہاں تک کہ ہابیل کے رنج و غم میں ایک سو برس تک کبھی آپ کو ہنسی نہیں آئی۔ اور سریانی زبان میں آپ نے ہابیل کا مرثیہ کہا جس کا عربی اشعار میں ترجمہ یہ ہے ؎

تَغَیَّرَتِ الْبِلاَدُ وَمَنْ عَلَیْھَا فَوَجْہُ الْاَرْضِ مُغْبَرٌ قَبِیْح،
تَغَیَّرَ کُلُّ ذِیْ لَوْنٍ وَطَعْمٍ وَقَلَّ بَشَاشَۃُ الْوَجْہِ الصَّبِیْح
ترجمہ: تمام شہروں اور اُن کے باشندوں میں تغیر پیدا ہو گیا اور زمین کا چہرہ غبار آلود اور قبیح ہو گیا۔ ہر رنگ اور مزہ والی چیز بدل گئی اور گورے چہرے کی رونق کم ہو گئی۔
حضرت آدم علیہ السلام نے شدید غضب ناک ہو کر قابیل کو پھٹکار کر اپنے دربار سے نکال دیا اور وہ بدنصیب اقلیما کو ساتھ لے کر یمن کی سرزمین ''عدن''میں چلا گیا۔ وہاں ابلیس اس کے پاس آکر کہنے لگا کہ ہابیل کی قربانی کو آگ نے اس لئے کھا لیا کہ وہ آگ کی پوجا کیا کرتا تھا لہٰذا تو بھی ایک آگ کا مندر بنا کر آگ کی پرستش کیا کر۔ چنانچہ قابیل پہلا وہ شخص ہے جس نے آگ کی عبادت کی۔ اور یہ روئے زمین پر پہلا شخص ہے جس نے اللہ تعالیٰ کی نافرمانی کیاور سب سے پہلے زمین پر خون ناحق کیا اور یہ پہلا وہ مجرم ہے جو جہنم میں سب سے پہلے ڈالا جائے گا اور حدیث شریف میں ہے کہ روئے زمین پر قیامت تک جو بھی خون ناحق ہو گا قابیل اس میں حصہ دار ہو گا کیونکہ اسی نے سب سے پہلے قتل کا دستور نکالا اور قابیل کا انجام یہ ہوا کہ اس کے ایک لڑکے نے جو کہ اندھا تھا اس کو ایک پتھر مار کر قتل کردیا اور یہ بدبخت نبی زادہ ہونے کے باوجود آگ کی پرستش کرتے ہوئے کفر و شرک کی حالت میں اپنے لڑکے کے ہاتھ سے مارا گیا۔
( روح البیان،ج۲،ص۳۷۹،پ۶،المائدۃ: ۲۷ تا ۳۰)

ہابیل کے قتل ہوجانے کے پانچ برس بعد حضرت شیث علیہ السلام پیدا ہوئے جب کہ حضرت آدم علیہ السلام کی عمر شریف ایک سو تیس برس کی ہوچکی تھی۔ آپ نے اپنے اس ہونہار فرزند کا نام ''شیث''رکھا۔ یہ سریانی زبان کا لفظ ہے اور عربی میں اس کے معنی ''ھبۃ اللہ'' یعنی ''اللہ کا عطیہ''ہے۔ حضرت آدم علیہ السلام نے پچاس صحیفے جو آپ پر نازل ہوئے تھے ان سب کی حضرت شیث علیہ السلام کو تعلیم دی اور ان کو اپنا وصی و خلیفہ اور سجادہ نشین بنایا۔ اور ان کی نسل میں خیر و برکت ہونے کی دعائیں مانگیں۔ ہمارے حضور خاتم النبیین صلی اللہ علیہ وسلم ان ہی حضرت شیث علیہ السلام کی اولاد میں سے ہیں۔
(روح البیان،ج۲،ص۳۷۶،پ۶،المائدۃ: ۳۰)

اس واقعہ کو قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ نے اس طرح بیان فرمایا ہے کہ:۔
وَاتْلُ عَلَیۡہِمْ نَبَاَ ابْنَیۡ اٰدَمَ بِالْحَقِّ ۘ اِذْ قَرَّبَا قُرْبَانًا فَتُقُبِّلَ مِنۡ اَحَدِہِمَا وَلَمْ یُتَقَبَّلْ مِنَ الۡاٰخَرِ ؕ قَالَ لَاَقْتُلَنَّکَ ؕ قَالَ اِنَّمَا یَتَقَبَّلُ اللہُ مِنَ الْمُتَّقِیۡنَ ﴿27﴾لَئِنۡۢ بَسَطۡتَّ اِلَیَّ یَدَکَ لِتَقْتُلَنِیۡ مَاۤ اَنَا بِبَاسِطٍ یَّدِیَ اِلَیۡکَ لِاَقْتُلَکَ ۚ اِنِّیۡۤ اَخَافُ اللہَ رَبَّ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿28﴾اِنِّیۡۤ اُرِیۡدُ اَنۡ تَبُوۡٓاَ بِاِثْمِیۡ وَ اِثْمِکَ فَتَکُوۡنَ مِنْ اَصْحٰبِ النَّارِ ۚ وَذٰلِکَ جَزٰٓؤُا الظّٰلِمِیۡنَ ﴿ۚ29﴾فَطَوَّعَتْ لَہٗ نَفْسُہٗ قَتْلَ اَخِیۡہِ فَقَتَلَہٗ فَاَصْبَحَ مِنَ الْخٰسِرِیۡنَ ﴿30﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔اور انہیں پڑھ کر سناؤ آدم کے دو بیٹوں کی سچی خبر جب دونوں نے ایک ایک نیاز پیش کی تو ایک کی قبول ہوئی اور دوسرے کی نہ قبول ہوئی۔ بولا قسم ہے میں تجھے قتل کردوں گا۔ کہا اللہ اسی سے قبول کرتا ہے جسے ڈر ہے بیشک اگر تو اپنا ہاتھ مجھ پر بڑھائے گا کہ مجھے قتل کرے تو میں اپناہاتھ تجھ پر نہ بڑھاؤں گا کہ تجھے قتل کروں میں اللہ سے ڈرتا ہوں جو مالک سارے جہان کا۔ میں تو یہ چاہتا ہوں کہ میرا اور تیرا گناہ دونوں تیرے ہی پلہ پڑے تو تو دوزخی ہوجائے۔ اور بے انصافوں کی یہی سزا ہے تو اس کے نفس نے اسے بھائی کے قتل کا چاؤ دلایا تو اسے قتل کردیا تو رہ گیا نقصان میں۔
(پ6،المائدۃ:27تا30)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: June 7th, 2016, 11:38 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6665 times

Image

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
Display posts from previous:  Sort by  
Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5, 6, 7, 8 ... 10  Next

All times are UTC + 5 hours


Related topics
 Topics   Author   Replies   Views   Last post 
There are no new unread posts for this topic. history about pakistan

tanweer786

1

121

May 15th, 2016, 9:42 pm

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. Measat_3A 91.5E $ HISTORY-HD

skylink

0

68

October 24th, 2016, 11:03 am

skylink View the latest post

There are no new unread posts for this topic. NAT GEO STAR PLUS HISTORY

AHMED786

0

69

August 29th, 2016, 6:38 am

AHMED786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. islamic history

tanweer786

0

77

April 29th, 2016, 8:04 am

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. History 2 0n Measat 3A 91.5'E

AasifAli786

1

93

July 31st, 2015, 7:29 am

Razaullah View the latest post

 


Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 8 guests


You cannot post new topics in this forum
You cannot reply to topics in this forum
You cannot edit your posts in this forum
You cannot delete your posts in this forum

Search for:
Jump to:  
News News Site map Site map SitemapIndex SitemapIndex RSS Feed RSS Feed Channel list Channel list
Powered by phpBB® Forum Software © phpBB Group

phpBB SEO