WWW.PAKLIGHT-SHARING.COM

ASIA & PAKISTAN NO 1 DIGITAL SATELLITE NETWORK FORUM
It is currently July 26th, 2017, 5:31 pm

All times are UTC + 5 hours



DISHTVHD,SD SUNHD,SD DAILOGE BIGTVHD,SD 85E 56E,URDU1,HBO ALL EUROPEN PACKAGE 100% FULL OK CALL,0301 8331640


PAK TIGER SUPER FAST SERVER CALL 0301 8001309 MALIK ASLAM 0301 7585880


DishTV SD&HD 95E_100E Sun DTH SD&HD 91E_93E Reliance TV SD&HD 91E Videocon SD&HD 88E Kontinent SD&HD 85E Dialog TV SD&HD 45E Hotbird 13eLOW RATE CALL ABBAS786 0301 8331640


All DTH RECHARGE AND RECHARGE BALANCE AVAILABLE CALL JAMAL 03409543304 03059845406



Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5  Next
Author Message
PostPosted: March 25th, 2016, 5:09 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times


';SALAM''';;;;;
حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے جب اُن کو کنوئیں میں ڈال کر اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے جا کر یہ کہہ دیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا تو حضرت یعقوب علیہ السلام کو بے انتہا رنج و قلق اور بے پناہ صدمہ ہوا۔ اور وہ اپنے بیٹے کے غم میں بہت دنوں تک روتے رہے اور بکثرت رونے کی وجہ سے بینائی کمزور ہو گئی تھی۔ پھر برسوں کے بعد جب برادران یوسف علیہ السلام قحط کے زمانے میں غلہ لینے کے لئے دوسری مرتبہ مصر گئے اور بھائیوں نے آپ کو پہچان کر اظہارِ ندامت کرتے ہوئے معافی طلب کی تو آپ نے انہیں معاف کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرما دے وہ ارحم الرٰحمین ہے۔
جب آپ نے اپنے بھائیوں سے اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کا حال پوچھا اور بھائیوں نے بتایا کہ وہ تو آپ کی جدائی میں روتے روتے بہت ہی نڈھال ہوگئے ہیں۔ اور ان کی بینائی بھی بہت کمزور ہو گئی ہے۔ بھائیوں کی زبانی والد ماجد کا حال سن کر حضرت یوسف علیہ السلام بہت ہی رنجیدہ اور غمگین ہوگئے پھر آپ نے اپنے بھائیوں سے فرمایا کہ:۔
اِذْہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ ہٰذَا فَاَلْقُوۡہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیۡ یَاۡتِ بَصِیۡرًا ۚ وَاۡتُوۡنِیۡ بِاَہۡلِکُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾ (پ۱۳،یوسف:۹۳)
ترجمہ کنزالایمان:۔میرا یہ کرتا لے جاؤ اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر میرے پاس لے آؤ۔
چنانچہ برادران یوسف علیہ السلام اس کرتے کو لے کر مصر سے کنعان کو روانہ ہوئے۔ آپ کے بھائیوں میں سے یہودا نے کہا کہ اس کرتے کو میں لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس جاؤں گا۔ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈال کر اُن کا خون آلود کرتا بھی میں ہی اُن کے پاس لے کر گیا تھا۔ اور میں نے ہی یہ کہہ کر ان کو غمگین کیا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا۔ توچونکہ میں نے انہیں غمگین کیا تھا لہٰذا آج میں ہی یہ کرتا دے کر اور حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کی خوشخبری سنا کر ان کو خوش کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ یہودا اس پیراہن کو لے کر اَسّی کوس تک ننگے سر برہنہ پا دوڑتا ہوا چلا گیا۔ راستہ کی خوراک کے لئے سات روٹیاں اُس کے پاس تھیں مگر فرطِ مسرت اور جلد پہنچنے کے شوق میں وہ ان روٹیوں کو بھی نہ کھا سکا۔ اور جلد سے جلد سفر طے کر کے والد ِ محترم کی خدمت میں پہنچ گیا۔
یہودا جیسے ہی کرتا لے کر مصر سے کنعان کی طرف روانہ ہوا۔ کنعان میں حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو محسوس ہوئی اور آپ نے اپنے پوتوں سے فرمایا کہ:۔
اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوْ لَا اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿94﴾ (پ13،یوسف:94)
ترجمہ کنزالایمان:۔کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ (بہک)گیا ۔

آپ کے پوتوں نے جواب دیا کہ خدا کی قسم آپ اب بھی اپنی اُس پرانی وارفتگی میں پڑے ہوئے ہیں بھلا کہاں یوسف ہیں اور کہاں اُن کی خوشبو؟ لیکن جب یہودا کرتا لے کر کنعان پہنچا اور جیسے ہی کرتے کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈالا تو فوراً ہی اُن کی آنکھوں میں روشنی آگئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ:۔
فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الْبَشِیۡرُ اَلْقٰىہُ عَلٰی وَجْہِہٖ فَارْتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلۡ لَّکُمْ ۚۙ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ
مِنَ اللہِ مَا لَاتَعْلَمُوۡنَ ﴿96﴾ (پ13،یوسف:96)
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر جب خوشی سنانے والا آیا اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں )کہا میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔
یہودا مصر سے حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا لے کر جیسے ہی کنعان کی طرف چلا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو سونگھ لی۔ اس بارے میں حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے ایک بڑی ہی نصیحت آموز اور لذیذ حکایت لکھی ہے جو بہت ہی دلکش اور نہایت ہی کیف آور ہے۔
حکایت:
یکے پرسید ازاں گم کردہ فرزند کہ اے عالی گہر! پیر خرد مند

حضرت یعقوب علیہ السلام سے جن کے فرزند گم ہو گئے تھے، کسی نے یہ پوچھا کہ اے عالی ذات اور بزرگ عقلمند
زمصرش بوئے پیراہن شمیدی چرادر چاہِ کنعانش ندیدی

آپ نے مصر جیسے دور دراز مقام سے حضرت یوسف علیہ السلام کے کرتے کی خوشبو سونگھ لی۔ اور جب حضرت یوسف علیہ السلام کنعان ہی کی سرزمین میں ایک کنوئیں کے اندر تھے تو آپ کو اتنے قریب سے بھی اُن کی خوشبو محسوس نہیں ہوئی اس کی کیا وجہ ہے؟ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ جواب دیا کہ

بگفتا حال ما برق جہان است د مے پیدا و دیگر دم نہان است
گہے برطارمِ اعلیٰ نشینم گہے برپشت پائے خود نہ بینم
یعنی ہم اللہ والوں کا حال کوندنے والی بجلی کی مانند ہے کہ دم بھر میں ظاہر اور دم بھر میں پوشیدہ ہوجاتی ہے۔ کبھی تو ہم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی صفاتِ نورانیہ کی تجلی ہوتی ہے تو ہم لوگ آسمانوں پر جا بیٹھتے ہیں اور ساری کائنات ہمارے پیش نظر ہوجاتی ہے اور کبھی جب ہم پراستغراق کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو ہم لوگ خدا کی ذات و صفات میں ایسے مستغرق ہوجاتے ہیں کہ تمام ماسویٰ اللہ سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم اپنی پشت پا کو بھی نہیں دیکھ پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ مصر سے تو پیراہن یوسف علیہ السلام کو ہم نے سونگھ کر اس کی خوشبو محسوس کرلی۔ کیونکہ اس وقت ہم پر کشفی کیفیت طاری تھی مگر کنعان کے کنوئیں میں سے ہم کو حضرت یوسف کی خوشبو اس لئے محسوس نہ ہو سکی کہ اُس وقت ہم پر استغراقی کیفیت کا غلبہ تھا اور ہمارا یہ حال تھا کہ
میں کس کی لوں خبر، مجھے اپنی خبر نہیں

درس ہدایت:۔اس پورے واقعہ سے خاص طور پر دو سبق ملتے ہین:۔
الف :-یہ کہ اللہ والوں کے لباس اور کپڑوں میں بھی بڑی برکت اور کرامت پنہاں ہوتی ہے۔ لہٰذا بزرگوں کے لباس و پوشاک کو تبرک بنا کر رکھنا اور ان سے برکت و شفاء حاصل کرنا اور ان کو خداوند قدوس کی بارگاہ میں وسیلہ بنا کر دعاء مانگنا یہ مقبولیت اور حصولِ سعادت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔
ب:-اللہ والوں کا حال ہر وقت اور ہمیشہ یکساں ہی نہیں رہتا بلکہ کبھی تو ان پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے انوار سے ایسا حال طاری ہوتا ہے کہ اس وقت وہ سارے عالم کے ذرے ذرے کو دیکھنے لگتے ہیں اور کبھی وہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات میں اس طرح گم ہوجاتے ہیں کہ تجلیوں کے مشاہدے میں مستغرق ہو کر سارے عالم سے بے توجہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت ان پر ایسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ ان کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنا نام تک بھول جاتے ہیں۔ تصوف کی یہ دو کشفی و استغراقی کیفیات ایسی ہیں جن کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا بلکہ ان کیفیات و احوال کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو صاحب نسبت و اہل ادراک ہیں جن پر خود یہ احوال و کیفیات طاری ہوتی رہتی ہیں۔ سچ ہے
لذتِ مے نہ شناسی بخدا تا نہ چشی
اور اس حال و کیفیت کا طاری ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ ذکر و فکر اور مراقبہ کے ساتھ ساتھ شیخ کامل کی باطنی توجہ سے دل کی صفائی اور انجلاء قلبی پیدا ہوجائے۔ سلطان تصوف حضرت مولانا رومی علیہ الرحمۃ نے اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔

صد کتاب و صدورق در نار کُن روئے دل را جانب دلدار کُن

اور کسی دوسرے عارف نے یہ فرمایا کہ

از''کنز'' و''ہدایہ ''نہ تواں یافت خدارا
سی پارہ دل خواں کہ کتابے بہ ازیں نیست

یعنی خالی ''کنزالدقائق''و ''ہدایہ''پڑھ لینے سے خدا نہیں مل سکتا بلکہ دل کے سپارے کو پڑھو کیونکہ اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہے۔ مگر اس دور نفسانیت میں جب کہ تصوف کے عَلم برداروں نے اپنی بے عملی سے تصوف کے مضبوط و مستحکم محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے اور محض جھاڑ پھونک اور شعبدہ بازیوں پر پیری مریدی کا ڈھونگ چلا رہے ہیں اور خالی رنگ برنگ کے کپڑوں اور نئی نئی تراش خراش کی پوشاکوں اور تسبیح و عصا کو شیخیت کا معیار بنا رکھا ہے۔ بھلا تصوف کی حقیقی کیفیات و تجلیات کو لوگ کب اور کیسے اور کہاں سے سمجھ سکتے ہیں؟ اس لئے اس بارے میں ارباب تصوف اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ
حقیقت خرافات میں کھو گئی یہ اُمت روایات میں کھو گئی

(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 132-128)


_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 30th, 2016, 5:08 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
سورہ یوسف کا خلاصہ

اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو ''احسن القصص'' یعنی تمام قصوں میں سب سے اچھا قصہ فرمایا ہے۔اس لئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی مقدس زندگی کے اتار چڑھاؤ میں اور رنج و راحت اور غم و سرور کے مد و جزر میں ہر ایک واقعہ بڑی بڑی عبرتوں اور نصیحتوں کے سامان اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے اس لئے ہم اس قصہ عجیبہ کا خلاصہ تحریر کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین اس سے عبرت حاصل کریں اور خداوند قدوس کی قدرتوں کا مشاہدہ کریں۔
حضرت یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم علیہم السلام کے بارہ بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں:۔
(۱)یہودا (۲)روبیل (۳)شمعون (۴)لاوی (۵)زبولون (۶)یسجر
(۷)دان (۸)نفتائی (۹)جاد (۱۰)آشر (۱۱)یوسف (۱۲)بنیامین
حضرت بنیامین حضرت یوسف علیہ السلام کے حقیقی بھائی تھے۔ باقی دوسری ماؤں سے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے تمام بھائیوں میں سب سے زیادہ اپنے باپ کے پیارے تھے اور چونکہ ان کی پیشانی پر نبوت کے نشان درخشاں تھے اس لئے حضرت یعقوب علیہ السلام ان کا بے حد اکرام اور ان سے انتہائی محبت فرماتے تھے۔ سات برس کی عمر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے اور چاند و سورج ان کو سجدہ کررہے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنا یہ خواب اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کو سنایا تو آپ نے ان کو منع فرما دیا کہ پیارے بیٹے!خبردار تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے مت بیان کردینا ورنہ وہ لوگ جذبہ حسد میں تمہارے خلاف کوئی خفیہ چال چل دیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان کے بھائیوں کو ان پر حسد ہونے لگا۔ یہاں تک کہ سب بھائیوں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ منصوبہ تیار کرلیا کہ ان کو کسی طرح گھر سے لے جا کر جنگل کے کنوئیں میں ڈال دیں۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے سب بھائی جمع ہو کر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس گئے۔ اور بہت اصرار کر کے شکار اور تفریح کا بہانہ بنا کر ان کو جنگل میں لے جانے کی اجازت حاصل کرلی۔ اور ان کو گھر سے کندھوں پر بٹھا کر لے چلے۔ لیکن جنگل میں پہنچ کر دشمنی کے جوش میں ان کو زمین پر پٹخ دیا۔ اور سب نے بہت زیادہ مارا۔ پھر ان کا کرتا اتار کر اور ہاتھ پاؤں باندھ کر ایک گہرے اور اندھیرے کنوئیں میں گرا دیا۔ لیکن فوراً ہی حضرت جبریل علیہ السلام نے کنوئیں میں تشریف لا کر ان کو غرق ہونے سے اس طرح بچالیا کہ ان کو ایک پتھر پر بٹھا دیا جو اس کنوئیں میں تھا۔ اور ہاتھ پاؤں کھول کر تسلی دیتے ہوئے ان کا خوف و ہراس دور کردیا۔ اور گھر سے چلتے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کا جو کرتا تعویذ بنا کر آپ کے گلے میں ڈال دیا تھا وہ نکال کر ان کو پہنا دیا جس سے اس اندھیرے کنوئیں میں روشنی ہوگئی۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی آپ کو کنوئیں میں ڈال کر اور آپ کے پیراہن کو ایک بکری کے خون میں لت پت کر کے اپنے گھر کو روانہ ہو گئے اور مکان کے باہر ہی سے چیخیں مار کر رونے لگے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام گھبرا کر گھر سے باہر نکلے۔ اور رونے کا سبب پوچھا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ کیا تمہاری بکریوں کو کوئی نقصان پہنچ گیا ہے؟ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ میرا یوسف کہاں ہے؟ میں اس کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ تو بھائیوں نے روتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ کھیل میں دوڑتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف علیہ السلام کو اپنے سامان کے پاس بٹھا کر چلے گئے تو ایک بھیڑیا آیا اور وہ اُن کو پھاڑ کر کھا گیا۔ اور یہ اُن کا کرتا ہے۔ ان لوگوں نے کرتے میں خون تو لگا لیا تھا لیکن کرتے کو پھاڑنا بھول گئے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اشک بار ہو کر اپنے نورِ نظر کے کرتے کو جب ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا تو کرتا بالکل سلامت ہے اورکہیں سے بھی پھٹا نہیں ہے تو آپ ان لوگوں کے مکر اور جھوٹ کو بھانپ گئے۔ اور فرمایا کہ بڑا ہوشیار اور سیانا بھیڑیا تھا کہ میرے یوسف کو تو پھا ڑ کر کھا گیا مگر ان کے کرتے پر ایک ذرا سی خراش بھی نہیں آئی اور آپ نے صاف صاف فرما دیا کہ یہ سب تم لوگوں کی کارستانی اور مکر و فریب ہے۔ پھر آپ نے دکھے ہوئے دل سے نہایت درد بھری آواز میں فرمایا۔
فَصَبْرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَاللہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿18﴾ (پ12،یوسف:18)

حضرت یوسف علیہ السلام تین دن اس کنوئیں میں تشریف فرما رہے۔ یہ کنواں کھاری تھا۔ مگر آپ کی برکت سے اس کا پانی بہت لذیذ اور نہایت شیریں ہو گیا۔ اتفاق سے ایک قافلہ مدین سے مصر جا رہا تھا۔ جب اس قافلہ کا ایک آدمی جس کا نام مالک بن ذُعر خزاعی تھا، پانی بھرنے کے لئے آیا اور کنوئیں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السلام ڈول پکڑ کر لٹک گئے مالک بن ذُعر نے ڈول کھینچا تو آپ کنوئیں سے باہر نکل آئے۔ جب اس نے آپ کے حسن و جمال کو دیکھا تو یٰبُشْرٰی ھٰذَا غُلاَمٌ کہہ کر اپنے ساتھیوں کو خوشخبری سنانے لگا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جو اس جنگل میں روزانہ بکریاں چرایا کرتے تھے، برابر روزانہ کنوئیں میں جھانک جھانک کر دیکھا کرتے تھے۔ جب ان لوگوں نے آپ کو کنوئیں میں نہیں دیکھا تو تلاش کرتے ہوئے قافلہ میں پہنچے اور آپ کو دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ تو ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے جو بالکل ہی ناکارہ اور نافرمان ہے۔ یہ کسی کام کا نہیں ہے۔ اگر تم لوگ اس کو خریدو تو ہم بہت ہی سستا تمہارے ہاتھ فروخت کردیں گے مگر شرط یہ ہے کہ تم لوگ اس کو یہاں سے اتنی دور لے جا کر فروخت کرنا کہ یہاں تک اس کی خبر نہ پہنچے۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھائیوں کے خوف سے خاموش کھڑے رہے اور ایک لفظ بھی نہ بولے۔ پھر ان کے بھائیوں نے ان کو مالک بن ذعر کے ہاتھ صرف بیس درہموں میں فروخت کردیا۔

مالک بن ذعر ان کو خرید کر مصر کے بازار میں لے گیا۔ اور وہاں عزیز مصر نے ان کو بہت گراں قیمت دے کر خرید لیا اور اپنے شاہی محل میں لے جا کر اپنی ملکہ ''زلیخا'' سے کہا کہ تم اس غلام کو نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ اپنی خدمت میں رکھو۔ چنانچہ آپ عزیزِ مصر کے شاہی محل میں رہنے لگے۔ اور ملکہ زلیخا ان سے بہت محبت کرنے لگی بلکہ ان کے حسن و جمال پر فریفتہ ہو کر عاشق ہو گئی اور اس کا جوشِ عشق یہاں تک بڑھا کہ ایک دن ''زلیخا'' عشق و محبت میں والہانہ طور پر آپ کو پُھسلانے اور لبھانے لگی۔ اور آپ کو ہم بستری کی دعوت دینے لگی۔ آپ نے معاذ اللہ کہہ کر انکار فرمادیا۔ اور صاف کہہ دیا کہ میں اپنے مالک عزیزِ مصر کے ساتھ خیانت کر کے اس کے احسانوں کی ناشکری نہیں کرسکتا۔ اور آپ گھر میں سے بھاگ نکلے۔ تو ملکہ زلیخا نے دوڑ کر پیچھے سے آپ کا پیراہن پکڑ لیا۔ اور آپ کا پیراہن پیچھے سے پھٹ گیا۔ عین اسی حالت میں عزیز مصر مکان میں آگئے اور دونوں کو دیکھ لیا۔ تو زلیخا نے آپ پر تہمت لگادی۔ عزیزِ مصر حیران ہو گیا کہ ان دونوں میں سے کون سچا ہے۔ اتفاق سے مکان میں ایک چار ماہ کا بچہ پالنے میں لیٹا ہوا تھا۔ اس نے شہادت دی کہ اگر کرتا آگے سے پھٹا ہو تو یوسف علیہ السلام قصور وار ہیں اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو زلیخا کی خطا ہے اور یوسف علیہ السلام بے قصور ہیں۔ جب عزیزِ مصر نے دیکھا تو کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔ فوراً عزیزِ مصر نے زلیخا کو خطا وار قرار دے کر ڈانٹا اور حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ کہا کہ اس کا خیال و ملال نہ کیجئے۔ پھر زلیخا کے مشورہ سے عزیزِ مصر نے یوسف علیہ السلام کو قید خانہ میں بھجوا دیا۔ اس طرح اچانک حضرت یوسف علیہ السلام عزیزِ مصر کے شاہی محل سے نکل کر جیل خانہ کی کوٹھری میں چلے گئے۔ اور آپ نے جیل میں پہنچ کر یہ کہا کہ اے اللہ عزوجل! یہ قید خانہ کی کوٹھری مجھ کو اس بلا سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف زلیخا مجھے بلا رہی تھی۔ پھر آپ سات برس یا بارہ برس جیل خانہ میں رہے اور قیدیوں کو توحید اور اعمال صالحہ کی دعوت دیتے اور وعظ فرماتے رہے۔

یہ عجیب اتفاق کہ جس دن آپ قید خانہ میں داخل ہوئے اُسی دن آپ کے ساتھ بادشاہ مصر کے دو خادم ایک شراب پلانے والا، دوسرا باورچی دونوں جیل خانہ میں داخل ہوئے اور دونوں نے اپنا ایک ایک خواب حضرت یوسف علیہ السلام سے بیان کیا اور آپ نے اُن دونوں کے خوابوں کی تعبیر بیان فرما دی جو سو فیصدی صحیح ثابت ہوئی۔ اس لئے آپ کا نام معبر (تعبیر دینے والا)ہونا مشہور ہو گیا۔
اسی دوران مصر کے بادشاہ اعظم ریال بن ولید نے یہ خواب دیکھا کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات سوکھی بالیاں ہیں۔ بادشاہ اعظم نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی تو لوگوں نے اس خواب کو خواب پریشاں کہہ کر اس کی کوئی تعبیر نہیں بتائی۔ اتنے میں بادشاہ کا ساقی جو قید خانہ سے رہا ہو کر آگیا تھا، اس نے کہا کہ مجھے اس خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لئے جیل خانہ میں جانے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ یہ بادشاہ کا فرستادہ ہو کر قید خانہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس گیا اور بادشاہ کا خواب بیان کر کے تعبیر دریافت کی کہ سات دبلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات سوکھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ سات برس مسلسل کھیتی کرو اور ان کے اناجوں کو بالیوں میں محفوظ رکھو۔ پھر سات برس تک سخت خشک سالی رہے گی، قحط کے ان سات برسوں میں پہلے سات برسوں کا محفوظ کیا ہوا اناج لوگ کھائیں گے اس کے بعد پھر ہریالی کا سال آئے گا۔

قاصد نے واپس جا کر بادشاہ سے اُس کے خواب کی تعبیر بتائی تو بادشاہ نے حکم دیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ۔ قاصد رہائی کا پروانہ لے کر جیل خانہ میں پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے زلیخا اور دوسری عورتوں کے ذریعہ میری بے گناہی اور پاک دامنی کا اظہار کرا لیا جائے اس کے بعد ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ چنانچہ بادشاہ نے اس کی تحقیقات کرائی تو تحقیقات کے دوران زلیخا نے اقرار کرلیا کہ میں نے خود ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو پھسلایا تھا۔ خطا میری ہے۔ حضرت یوسف سچے اور پاک دامن ہیں۔ اس کے بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں بلا کر کہہ دیا کہ آپ ہمارے معتمد اور ہمارے دربار کے معزز ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا کہ آپ زمین کے خزانوں کے انتظامی امور اور حفاظتی نظام کے انتظام پر میرا تقرر کردیں۔ میں پورے نظام کو سنبھال لوں گا۔ بادشاہ نے خزانے کا انتظامی معاملہ اور ملک کے نظام و انصرام کا پورا شعبہ آپ کے سپرد کردیا۔ اس طرح ملک مصر کی حکمرانی کا اقتدار آپ کو مل گیا۔
اس کے بعد آپ نے خزانوں کا نظام اپنے ہاتھ میں لے کر سات سال تک کھیتی کا پلان چلایا اور اناجوں کو بالیوں میں محفوظ رکھا۔ یہاں تک کہ قحط اور خشک سالی کا زور شروع ہو گیا تو پوری سلطنت کے لوگ غلے کی خریداری کے لئے مصر آنا شروع ہو گئے اور آپ نے غلوں کی فروخت شروع کردی۔

اسی سلسلے میں آپ کے بھائی کنعان سے مصر آئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے تو ان لوگوں کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں پہچان لیا مگر آپ کے بھائیوں نے آپ کو بالکل ہی نہیں پہچانا۔ آپ نے ان لوگوں کو غلہ دے دیا اور پھر فرمایا کہ تمہارا ایک بھائی (بنیامین) ہے آئندہ اس کو بھی ساتھ لے کر آنا۔ اگر تم لوگ آئندہ اس کو نہ لائے تو تمہیں غلہ نہیں ملے گا۔
بھائیوں نے جواب دیا کہ ہم اُس کے والد کو رضامند کرنے کی کوشش کریں گے پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے غلاموں سے کہا کہ تم لوگ ان کی نقدیوں کو ان کی بوریوں میں ڈال دو تاکہ یہ لوگ جب اپنے گھر پہنچ کر ان نقدیوں کو دیکھیں گے تو امید ہے کہ ضرور یہ لوگ واپس آئیں گے۔ چنانچہ جب یہ لوگ اپنے والد کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ ابا جان! اب کیا ہو گا؟ عزیز مصر نے تو یہ کہہ دیا ہے کہ جب تک تم لوگ ''بنیامین'' کو ساتھ لے کر نہ آؤ گے تمہیں غلہ نہیں ملے گا۔ لہٰذا آپ ''بنیا مین'' کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہم ان کے حصہ کا بھی غلہ لے لیں۔ اور آپ اطمینان رکھیں کہ ہم لوگ ان کی حفاظت کریں گے۔ اس کے بعد جب ان لوگوں نے اپنی بوریوں کو کھولا تو حیران رہ گئے کہ ان کی رقمیں اور نقدیاں ان کی بوریوں میں موجود تھیں۔ یہ دیکھ کر برادران یوسف نے پھر اپنے والد سے کہا کہ ابا جان! اس سے بڑھ کر اچھا سلوک اور کیا چاہے؟ دیکھ لیجئے عزیزِ مصر نے ہم کو پورا پورا غلہ بھی دیا ہے اور ہماری نقدیوں کو بھی واپس کردیا ہے لہٰذا آپ بلا خوف و خطر ہمارے بھائی ''بنیامین'' کو ہمارے ساتھ بھیج دیں۔

حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ایک مرتبہ ''یوسف''کے معاملہ میں تم لوگوں پر بھروسا کرچکا ہوں تو تم لوگوں نے کیا کرڈالا، اب دوبارہ میں تم لوگوں پر کیسے بھروسا کرلوں؟ میں اس طرح ''بنیامین''کو ہرگز تم لوگوں کے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ لیکن ہاں اگر تم لوگ حلف اٹھا کر میرے سامنے عہد کرو تو البتہ میں اس کو بھیج سکتا ہوں۔ یہ سن کر سب بھائیوں نے حلف لے کر عہد کیا اور آپ نے ان لوگوں کے ساتھ ''بنیامین''کو بھیج دیا ۔
جب یہ لوگ عزیز مصر کے دربار میں پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی ''بنیامین''کو اپنی مسند پر بٹھا لیا۔ اور چپکے سے ان کے کان میں کہہ دیا کہ میں تمہارا بھائی ''یوسف'' ہوں۔ لہٰذا تم کوئی فکر و غم نہ کرو۔ پھر آپ نے سب کو اناج دیا اور سب نے اپنی اپنی بوریوں کو سنبھال لیا۔ جب سب چلنے لگے تو آپ نے ''بنیامین'' کو اپنے پاس روک لیا۔ اب برادرانِ یوسف سخت پریشان ہوئے۔ اپنے والد کے روبرو یہ عہد کر کے آئے تھے کہ ہم اپنی جان پر کھیل کر بنیامین کی حفاظت کریں گے اور یہاں ''بنیامین'' اُن کے ہاتھ سے چھین لئے گئے۔ اب گھر جائیں تو کیونکر اور یہاں ٹھہریں تو کیسے؟ یہ معاملہ دیکھ کر سب سے بڑا بھائی ''یہودا'' کہنے لگا کہ اے میرے بھائیو!سوچو کہ تم لوگ والد صاحب کو کیا کیا عہد و پیمان دے کر آئے ہو؟ اور اس سے پہلے تم اپنے بھائی یوسف کے ساتھ کتنی بڑی تقصیر کرچکے ہو۔ لہٰذا میں تو جب تک والد صاحب حکم نہ دیں اس زمین سے ہٹ نہیں سکتا۔ ہاں تم لوگ گھر جاؤ اور والد صاحب سے سارا ماجرا عرض کردو۔
چنانچہ یہودا کے سوا دوسرے سب بھائی لوٹ کر گھر آئے اور اپنے والد سے سارا حال بیان کیا۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ یوسف کی طرح بنیامین کے معاملہ میں بھی تم لوگوں نے حیلہ سازی کی ہے۔ تو خیر، میں صبر کرتا ہوں اور صبر بہت اچھی چیز ہے۔ پھر آپ نے منہ پھیر کر رونا شروع کردیا۔ اور کہا کہ ہائے افسوس!اور حضرت یوسف علیہ السلام کو یاد کر کے اتنا روئے کہ شدت غم سے نڈھال ہو گئے اور روتے روتے آنکھیں سفید ہو گئیں۔ آپ کی زبان سے یوسف علیہ السلام کا نام سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام سے ان کے بیٹوں پوتوں نے کہا کہ اباجان!آپ ہمیشہ یوسف علیہ السلام کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لب ِ گور ہوجائیں یا جان سے گزر جائیں اپنے بیٹوں پوتوں کی بات سن کر آپ نے فرمایا کہ میں اپنے غم اور پریشانی کی فریاد اللہ عزوجل ہی سے کرتا ہوں اور میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم لوگوں کو معلوم نہیں۔ اے میرے بیٹو! تم لوگ جاؤ۔ اور یوسف اور اُس کے بھائی ''بنیامین'' کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے مایوس مت ہوجاؤ کیونکہ خدا کی رحمت سے مایوس ہوجانا کافروں کا کام ہے۔

چنانچہ برادران یوسف پھر مصر کو روانہ ہوئے اور جا کر عزیزِ مصر سے کہا کہ اے عزیزِ مصر! ہمارے گھر والوں کو بہت بڑی مصیبت پہنچ گئی ہے اور ہم چند کھوٹے سکے لے کر آئے ہیں۔ لہٰذا آپ بطورِ خیرات کے کچھ غلہ دے دیجئے اپنے بھائیوں کی زبان سے گھر کی داستان اور خیرات کا لفظ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام پر رقت طاری ہو گئی اور آپ نے بھائیوں سے پوچھا کہ تم لوگوں کو یاد ہے کہ تم لوگوں نے یوسف اور اُس کے بھائی بنیامین کے ساتھ کیا کیا سلوک کیا ہے؟ یہ سن کر بھائیوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ سچ مچ آپ یوسف علیہ السلام ہی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ میں ہی یوسف ہوں۔ اور یہ بنیامین میرا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل و احسان فرمایا ہے۔ یہ سن کر بھائیوں نے نہایت شرمندگی اور لجاجت کے ساتھ کہنا شروع کیا کہ بلاشبہ ہم لوگ واقعی بڑے خطاکار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم لوگوں پر بہت بڑی فضیلت بخشی ہے۔ بھائیوں کی شرمندگی اور لجاجت سے متاثر ہو کر آپ کا دل بھر آیا اور آپ نے فرمایا کہ آج میں تم لوگوں کو ملامت نہیں کروں گا۔ جاؤ میں نے سب کچھ معاف کردیا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ اب تم لوگ میرا یہ کرتا لے کر گھر جاؤ۔ اور ابا جان کے چہرے پر اس کو ڈال دو تو ان کی آنکھوں میں روشنی آجائے گی۔ پھر تم لوگ سب گھروالوں کو ساتھ لے کر مصر چلے آؤ۔

بڑا بھائی یہودا کہنے لگا کہ یہ کرتا میں لے کر جاؤں گا کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا بکری کے خون میں رنگ کر میں ہی اُن کے پاس لے گیا تھا۔ تو جس طرح میں نے اُنہیں وہ کرتا دے کر غمگین کیا تھا۔ آج یہ کرتا لے جا کر ان کو خوش کردوں گا۔ چنانچہ یہودا یہ کرتا لے کر گھر پہنچا اور اپنے والد کے چہرے پر ڈال دیا تو اُن کی آنکھوں میں بینائی آگئی۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے تہجد کے وقت کے بعد اپنے سب بیٹوں کے لئے دعا فرمائی اور یہ دعا مقبول ہوگئی۔ چنانچہ آپ پر یہ وحی اتری کہ آپ کے صاحبزادوں کی خطائیں بخش دی گئیں ۔
پھر مصر کو روانگی کا سامان ہونے لگا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد اور سب اہل و عیال کو لانے کے لئے بھائیوں کے ساتھ دو سو سواریاں بھیج دیں تھیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے گھر والوں کو جمع کیا تو کل بہتر یا تہتر آدمی تھے جن کو ساتھ لے کر آپ مصر روانہ ہو گئے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی نسل میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو چھ لاکھ سے زیادہ تھے۔ حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے مصر جانے سے صرف چار سو سال بعد کا زمانہ ہے۔ جب حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر کے قریب پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے چار ہزار لشکر اور بہت سے مصری سواروں کو ساتھ لے کر آپ کا استقبال کیا اور صدہا ریشمی جھنڈے اور قیمتی پرچم لہراتے ہوئے قطاریں باندھے ہوئے مصری باشندے جلوس کے ساتھ روانہ ہوئے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند ''یہودا'' کے ہاتھ پر ٹیک لگائے تشریف لا رہے تھے۔ جب ان لشکروں اور سواروں پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ فرعونِ مصر کا لشکر ہے؟ تو یہودا نے عرض کیا کہ جی نہیں۔ یہ آپ کے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو اپنے لشکروں اور سواروں کے ساتھ آپ کے استقبال کے لئے آئے ہوئے ہیں آپ کو متعجب دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ عزوجل کے نبی ذرا سر اٹھا کر فضائے آسمانی میں نظر فرمایئے کہ آپ کے سرور و شادمانی میں شرکت کے لئے ملائکہ کا جمِ غفیر حاضر ہے جو مدتوں آپ کے غم میں روتے رہے ہیں۔ ملائکہ کی تسبیح اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور طبل و بوق کی آوازوں نے عجیب سماں پیدا کردیا تھا۔

جب باپ بیٹے دونوں قریب ہو گئے اور حضرت یوسف علیہ السلام نے سلام کا ارادہ کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ ذرا توقف کیجئے اور اپنے پدر بزرگوار کو اُن کے رقت انگیز سلام کا موقع دیجئے چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان لفظوں کے ساتھ سلام کہا کہ ''اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مُذْھِبَ الْاَحْزَانِ'' یعنی اے تمام غموں کو دور کرنے والے آپ پر سلام ہو۔ پھر باپ بیٹوں نے نہایت گرمجوشی کے ساتھ معانقہ کیا اور فرط مسرت میں دونوں خوب روئے۔ پھر ایک استقبالیہ خیمہ میں تشریف لے گئے جو خوب مزین اور آراستہ کیا گیا تھا۔ وہاں تھوڑی دیر ٹھہر کر جب شاہی محل میں رونق افروز ہوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے سہارا دے کر اپنے والد ِ محترم کو تختِ شاہی پر بٹھایا۔ اور اُن کے اردگرد آپ کے گیارہ بھائی اور آپ کی والدہ سب بیٹھ گئے اور سب کے سب بیک وقت حضرت یوسف علیہ السلام کے آگے سجدے میں گر پڑے۔ اُس وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد ِ بزگوار کو مخاطب کر کے یہ کہا
یاَ بَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبْلُ ۫ قَدْ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ وَقَدْ اَحْسَنَ بِیۡۤ اِذْ اَخْرَجَنِیۡ مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الْبَدْوِ مِنۡۢ بَعْدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَ اِخْوَتِیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْعَلِیۡمُ الْحَکِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے۔ (پ۱۳،یوسف:۱۰۰ )
یعنی میرے گیارہ بھائی ستارے ہیں اور میرے باپ سورج اور میری والدہ چاند ہے اور یہ سب مجھ کو سجدہ کررہے ہیں۔ یہی آپ کا خواب تھا جو بچپن میں دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے اور سورج و چاند مجھے سجدہ کررہے ہیں۔ یہ تاریخی واقعہ محرم کی دس تاریخ عاشورہ کے دن وقوع پذیر ہوا۔
(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 145-132)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 31st, 2016, 5:35 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
حضرت یعقوب علیہ السلام کی وفات

اصحاب تواریخ کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام مصر میں اپنے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس چوبیس سال تک نہایت آرام و خوشحالی میں رہے۔ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے یہ وصیت فرمائی کہ میرا جنازہ ملک شام میں لے جا کر مجھے میرے والد حضرت اسحٰق علیہ السلام کی قبر کے پہلو میں دفن کرنا۔ چنانچہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے جسم مقدس کو لکڑی کے صندوق میں رکھ کر مصر سے شام لایا گیا۔ ٹھیک اسی وقت آپ کے بھائی حضرت ''غیص'' کی وفات ہوئی اور آپ دونوں بھائیوں کی ولادت بھی ایک ساتھ ہوئی تھی۔ اور دونوں ایک ہی قبر میں دفن کئے گئے اور دونوں بھائیوں کی عمریں ایک سو سینتالیس برس کی ہوئیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد اور چچا کو دفن فرما کر پھر مصر تشریف لائے اور اپنے والد ماجد کے بعد ۲۳ سال تک مصر پر حکومت فرماتے رہے۔ اس کے بعد آپ کی بھی وفات ہو گئی۔
(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 143)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 8th, 2016, 12:02 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
چار مہینے کے بچے کی گواہی

حضرت یوسف علیہ السلام کو جب ان کے بھائیوں نے کنوئیں میں ڈال دیا تو ایک شخص جس کا نام مالک بن ذعر تھا جو مدین کا باشندہ تھا۔ ایک قافلہ کے ہمراہ اس کنوئیں کے پاس پہنچا اور اپنا ڈول کنوئیں میں ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اس ڈول کو پکڑ لیا اور مالک بن ذعر نے آپ کو کنوئیں میں سے نکال لیا تو آپ کے بھائیوں نے اُس سے کہا کہ یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ اگر تم اس کو خرید لو تو ہم بہت ہی سستا تمہارے ہاتھ بیچ دیں گے۔ چنانچہ اُن کے بھائیوں نے صرف بیس درہم میں حضرت یوسف علیہ السلام کو بیچ ڈالا مگر شرط یہ لگا دی کہ تم اس کو یہاں سے اتنی دور لے جاؤ کہ اس کی خبر بھی ہمارے سننے میں نہ آئے۔ مالک بن ذعر نے ان کو خرید کر مصر کے بازار کا رخ کیا اور بازار میں ان کو فروخت کرنے کا اعلان کیا۔ ان دنوں مصر کا بادشاہ دیان بن ولید عملیقی تھا اور اس نے اپنے وزیراعظم قطفیر مصری کو مصر کی حکومت اور خزانے سونپ دیئے تھے اور مصر میں لوگ اس کو ''عزیز مصر'' کے خطاب سے پکارتے تھے۔ جب عزیز مصر کو معلوم ہوا کہ بازارِ مصر میں ایک بہت ہی خوبصورت غلام فروخت کے لئے لایا گیا ہے اور لوگ اس کی خریداری کے لئے بڑی بڑی رقمیں لے کر بازار میں جمع ہو گئے ہیں تو عزیز مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کے وزن برابر سونا، اور اتنی ہی چاندی، اور اتنا ہی مشک، اور اتنے ہی حریر قیمت دے کر خریدلیا اور گھر لے جا کر اپنی بیوی ''زلیخا''سے کہا کہ اس غلام کو نہایت ہی اعزاز و اکرام کے ساتھ رکھو۔ اس وقت آپ کی عمر شریف تیرہ یا سترہ برس کی تھی۔ ''زلیخا''حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال پر فریفتہ ہو گئی اور ایک دن خوب بناؤ سنگھار کر کے تمام دروازوں کو بند کردیا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو تنہائی میں لبھانے لگی۔ آپ نے معاذ اللہ کہہ کر فرمایا کہ میں اپنے مالک عزیز مصر کے احسان کو فراموش کر کے ہرگز اُس کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کرسکتا۔ پھر جب خود زلیخا آپ کی طرف لپکی تو آپ بھاگ نکلے۔ اور زلیخا نے دوڑ کر پیچھے سے آپ کا پیراہن پکڑ لیا جو پھٹ گیا اور آپ کے پیچھے زلیخا دوڑتی ہوئی صدر دروازہ پر پہنچ گئی۔ اتفاق سے ٹھیک اسی حالت میں عزیز مصر مکان میں داخل ہوا۔ اور دونوں کو دوڑتے ہوئے دیکھ لیا تو زلیخا نے عزیز مصر سے کہا کہ اس غلام کی سزا یہ ہے کہ اس کو جیل خانہ بھیج دیا جائے یا اور کوئی دوسری سخت سزا دی جائے کیونکہ اس نے تمہاری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ اے عزیز مصر!یہ بالکل ہی غلط بیانی کررہی ہے۔ اس نے خود مجھے لبھایا اور میں اس سے بچنے کے لئے بھاگا تو اس نے میرا پیچھا کیا۔ عزیز مصر دونوں کا بیان سن کر حیران رہ گیا اور بولا کہ اے یوسف علیہ السلام میں کس طرح باور کرلوں کہ تم سچے ہو؟ تو آپ نے فرمایا کہ گھر میں چار مہینے کا ایک بچہ پالنے میں لیٹا ہوا ہے جو زلیخا کے ماموں کا لڑکا ہے۔ اس سے دریافت کرلیجئے کہ واقعہ کیا ہے؟ عزیز مصر نے کہا کہ بھلا چار ماہ کا بچہ کیا جانے اور وہ کیسے بولے گا؟ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو ضرور میری بے گناہی کی شہادت دینے کی قدرت عطا فرمائے گا کیونکہ میں بے قصور ہوں۔ چنانچہ عزیز مصر نے جب اُس بچے سے پوچھا تو اُس بچے نے باآوازِ بلند فصیح زبان میں یہ کہا کہ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿26﴾وَ اِنْ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَہُوَ مِنۡ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿27﴾ (پ12،یوسف:26،27)
ترجمہ کنزالایمان:۔گواہی دی اگر ان کا کرتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا اور اگر ان کا کرتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے۔
بچے کی زبان سے عزیز مصر نے یہ شہادت سن کر جو دیکھا تو ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔ تو اس وقت عزیز مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا:۔
اِنَّہٗ مِنۡ کَیۡدِکُنَّ ؕ اِنَّ کَیۡدَکُنَّ عَظِیۡمٌ ﴿28﴾یُوۡسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ہٰذَا ٜ وَ اسْتَغْفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الْخٰطِـِٕیۡنَ ﴿٪29﴾ (پ12،یوسف:28،29)
ترجمہ کنزالایمان:۔ بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر(فریب)ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب)بڑا ہے اے یوسف تم اس کا خیال نہ کرو اور اے عورت تو اپنے گناہ کی معافی مانگ بے شک تو خطا واروں میں ہے۔
(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 128-126)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 10th, 2016, 5:31 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;

ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻈﺎﺭﮦ

ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﷺ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﺑﺨﺎﺭ ﺗﮭﺎ، ﺁﭖﷺ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕِ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺩﻭ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﻮ ﻭﮦ ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖ ﻟﮯ ﻟﮯ۔ ﺟﺐ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﺳُﻨﺎ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ، ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﺻﺤﺎﺑۂ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺗﮭﮯ، ﺩﻝ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﻭﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺗﯿﺰ ﺑﺨﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮۂ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﺮﺥ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮ ! ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮨﯽ ﻟﮯ ﻟﻮ، ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺻﺤﺎﺑۂ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮭﻢ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﮍﭖ ﺍُﭨﮭﺎ، ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﻼﺏ ﺑِﮧ ﭘﮍﺍ، ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺭﻭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﺑﺎﻥ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺗﮭﯽ، ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺁﻗﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﮑﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﭼﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ " ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮐﻞ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ، ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ، ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺎ ﻧﺎﻡ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ، ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﻖ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺟﺐ ﺟﻨﮓِ ﺍُﺣﺪ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﮌﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﻮﮔﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﷺ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﻟﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻧﮧ ﻟﻮ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ " ﺍﮮ ﻋﻤﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ، ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﻨﮫ ﺩﮐﮭﺎﺅﻧﮕﺎ، ﺍﺳﻠﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍﺀ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﻭ، ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﮯ ﻟﻮ۔ ﺣﻀﺮﺍﺕِ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﮧ ﺭُﻭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻨﮕﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﺎ ﮐُﻮﮌﺍ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐُﺮﺗﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻟﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﻟﻮ، ﺣﻀﺮﺕِ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺣﻀﻮﺭﷺ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﻮﮌﺍ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﮐﻮ ﭼُﻮﻡ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ " ﻓَﺪﺍﮎَ ﺍﺑِﯽ ﻭﺍُﻣﯽ " ﻣﯿﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﺎﻝ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭﻭﮞ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﻣﮩﺮ ﻧﺒﻮّﺕ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﮐﺮ ﺟﻨّﺖ ﮐﺎ ﺣﻘﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺟﻨّﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮐﺮﻟﯽ۔ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺳﭽﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺟﺰﺑﮧ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ۔ ﺁﻣﯿﻦ ! ﺍﻟﺮﺣﯿﻖ ﺍﻟﻤﺨﺘﻮﻡ ﺻﻔﺤﮧ ﻧﻤﺒﺮ ۶۴۸

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 11th, 2016, 12:08 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
دنیا کی سب سے قیمتی گائے

یہ بہت ہی اہم اور نہایت ہی شاندار قرآنی واقعہ ہے۔ اور اسی واقعہ کی وجہ سے قرآن مجید کی اس سورۃ کا نام ''سورہ بقرہ'' (گائے والی سورۃ)رکھا گیا ہے۔
اس کا واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بہت ہی نیک اور صالح بزرگ تھے اور ان کا ایک ہی بچہ تھا جو نابالغ تھا۔ اور ان کے پاس فقط ایک گائے کی بچھیا تھی۔ ان بزرگ نے اپنی وفات کے قریب اس بچھیا کو جنگل میں لے جا کر ایک جھاڑی کے پاس یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ یااللہ (عزوجل)میں اس بچھیا کو اس وقت تک تیری امانت میں دیتا ہوں کہ میرا بچہ بالغ ہوجائے۔ اس کے بعد ان بزرگ کی وفات ہو گئی اور بچھیا چند دنوں میں بڑی ہو کر درمیانی عمر کی ہو گئی اور بچہ جوان ہو کر اپنی ماں کا بہت ہی فرمانبردار اور انتہائی نیکوکار ہوا۔ اس نے اپنی رات کو تین حصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ ایک حصہ میں سوتا تھا، اور ایک حصہ میں عبادت کرتا تھا،اور ایک حصہ میں اپنی ماں کی خدمت کرتا تھا۔ اور روزانہ صبح کو جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور ان کو فروخت کر کے ایک تہائی رقم صدقہ کردیتا اور ایک تہائی اپنی ذات پر خرچ کرتا اور ایک تہائی رقم اپنی والدہ کو دے دیتا۔
ایک دن لڑکے کی ماں نے کہا کہ میرے پیارے بیٹے! تمہارے باپ نے میراث میں ایک بچھیا چھوڑی تھی جس کو انہوں نے فلاں جھاڑی کے پاس جنگل میں خدا (عزوجل)کی امانت میں سونپ دیا تھا۔ اب تم اس جھاڑی کے پاس جا کر یوں دعا مانگو کہ اے حضرت ابراہیم و حضرت اسمعٰیل و حضرت اسحٰق (علیہم السلام)کے خدا! تو میرے باپ کی سونپی ہوئی امانت مجھے واپس دے دے اور اس بچھیا کی نشانی یہ ہے کہ وہ پیلے رنگ کی ہے۔ اور اس کی کھال اس طرح چمک رہی ہو گی کہ گویا سورج کی کرنیں اس میں سے نکل رہی ہیں۔ یہ سن کر لڑکا جنگل میں اس جھاڑی کے پاس گیا اور دعا مانگی تو فوراً ہی وہ گائے دوڑتی ہوئی آ کر اس کے پاس کھڑی ہوگئی اور یہ اس کو پکڑ کر گھر لایا تو اس کی ماں نے کہا۔ بیٹا تم اس گائے کو لے جا کر بازار میں تین دینار میں فروخت کرڈالو۔ لیکن کسی گاہک کو بغیر میرے مشورہ کے مت دینا۔ ان دنوں بازار میں گائے کی قیمت تین دینار ہی تھی۔ بازار میں ایک گاہک آیا جو درحقیقت فرشتہ تھا۔ اس نے کہا کہ میں گائے کی قیمت تین دینار سے زیادہ دوں گا مگر تم ماں سے مشورہ کئے بغیر گائے میرے ہاتھ فروخت کرڈالو۔ لڑکے نے کہا کہ تم خواہ کتنی بھی زیادہ قیمت دو مگر میں اپنی ماں سے مشورہ کئے بغیر ہرگز ہرگز اس گائے کو نہیں بیچوں گا۔ لڑکے نے ماں سے سارا ماجرا بیان کیا تو ماں نے کہا کہ یہ گاہک شاید کوئی فرشتہ ہو۔ تو اے بیٹا! تم اس سے مشورہ کرو کہ ہم اس گائے کو ابھی فروخت کریں یا نہ کریں۔ چنانچہ اس لڑکے نے بازار میں جب اس گاہک سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ ابھی تم اس گائے کو نہ فروخت کرو۔ آئندہ اس گائے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لوگ خریدیں گے تو تم اس گائے کے چمڑے میں سونابھر کر اس کی قیمت طلب کرنا تو وہ لوگ اتنی ہی قیمت دے کر خریدیں گے۔

چنانچہ چند ہی دنوں کے بعد بنی اسرائیل کے ایک بہت مالدار آدمی کو جس کا نام عامیل تھا۔ اس کے چچا کے دونوں لڑکوں نے اس کو قتل کردیا۔ اور اس کی لاش کو ایک ویرانے میں ڈال دیا۔ صبح کو قاتل کی تلاش شروع ہوئی مگر جب کوئی سراغ نہ ملا تو کچھ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قاتل کا پتا پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ ایک گائے ذبح کرو اور اس کی زبان یا دم کی ہڈی سے لاش کو مارو تو وہ زندہ ہو کر خود ہی اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ یہ سن کر بنی اسرائیل نے گائے کے رنگ ،اس کی عمر وغیرہ کے بارے میں بحث و کرید شروع کردی۔ اور بالآخر جب وہ اچھی طرح سمجھ گئے کہ فلاں قسم کی گائے چاہے تو ایسی گائے کی تلاش شروع کردی یہاں تک کہ جب یہ لوگ اس لڑکے کی گائے کے پاس پہنچے تو ہو بہو یہ ایسی ہی گائے تھی جس کی ان لوگوں کو ضرورت تھی۔ چنانچہ ان لوگوں نے گائے کو اس کے چمڑے میں بھر کر سونا اس کی قیمت دے کر خریدا اور ذبح کرکے اس کی زبان یا دم کی ہڈی سے مقتول کی لاش کو مارا تو وہ زندہ ہو کر بول اٹھا کہ میرے قاتل میرے چچا کے دونوں لڑکے ہیں جنہوں نے میرے مال کے لالچ میں مجھ کو قتل کردیا ہے یہ بتا کر پھر وہ مر گیا۔ چنانچہ ان دونوں قاتلوں کو قصاص میں قتل کردیا گیا اور مرد صالح کا لڑکا جو اپنی ماں کا فرمانبردار تھا کثیر دولت سے مالا مال ہو گیا۔
(تفسیر الصاوی،ج۱،ص۷۵،پ۱،البقرۃ:۷۱)
اس پورے مضمون کو قرآن مجید کی مقدس آیتوں میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے

ترجمہ کنزالایمان:۔اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو بولے کہ آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں۔ فرمایا خدا کی پناہ کہ میں جاہلوں سے ہوں۔ بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتا دے گائے کیسی ۔ کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ اوسر بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تو کرو جس کا تمہیں حکم ہوتا ہے۔ بولے اپنے رب سے دعا کیجئے ہمیں بتا دے اس کا رنگ کیاہے کہا وہ فرماتا ہے ، وہ ایک پیلی گائے ہے۔ جس کی رنگت ڈہڈہاتی دیکھنے والوں کو خوشی دیتی۔ بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صاف بیان کرے وہ گائے کیسی ہے بے شک گائیوں میں ہم کو شبہ پڑ گیا اور اللہ چاہے تو ہم راہ پاجائیں گے۔ کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے، بے عیب ہے جس میں کوئی داغ نہیں۔ بولے اب آپ ٹھیک بات لائے۔ تو اسے ذبح کیا اور ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔ اور جب تم نے ایک خون کیا تو ایک دوسرے پر اس کی تہمت ڈالنے لگے۔ اور اللہ کو ظاہر کرنا جو تم چھپاتے تھے۔ تو ہم نے فرمایا اس مقتول کو اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو۔ اللہ یونہی مردے جلائے گا اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے کہ کہیں تمہیں عقل ہو۔
(پ۱،البقرۃ:۶۷تا۸۳)

درس ہدایت:۔اس واقعہ سے بہت سی عبرت انگیز اور نصیحت خیز باتیں اور احکام معلوم ہوئے ان میں سے چند یہ ہیں جو یاد رکھنے کے قابل ہیں:۔
(۱)خدا کے نیک بندوں کے چھوڑے ہوئے مال میں بڑی خیر و برکت ہوتی ہے۔ دیکھ لو کہ اس مرد صالح نے صرف ایک بچھیاچھوۤڑ کر وفات پائی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ ان کے وارثوں کو اس ایک بچھیا کے ذریعے بے شمار دولت مل گئی۔
(۲)اس مرد صالح نے اولاد پر شفقت کرتے ہوئے بچھیا کو اللہ کی امانت میں سونپا تھا تو اس سے معلوم ہوا کہ اولاد پر شفقت رکھنا اور اولاد کے لئے کچھ مال چھوڑ جانا یہ اللہ والوں کا طریقہ ہے۔
(۳)ماں باپ کی فرماں برداری اور خدمت گزاری کرنے والوں کو خداوند کریم غیب سے بے شمار رزق کا سامان عطا فرما دیتا ہے۔ دیکھ لو کہ اس یتیم لڑکے کو ماں کی خدمت اور فرماں برداری کی بدولت اللہ تعالیٰ نے کس قدر صاحب ِ مال اور خوش حال بنادیا۔
(۴)خداوند قدوس کے احکام میں بحث اور کرید کرنا مصیبتوں کا سبب ہوا کرتا ہے۔ دیکھ لو بنی اسرائیل کو ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ وہ کوئی سی بھی ایک گائے ذبح کردیتے تو فرض ادا ہو جاتا مگر ان لوگوں نے جب بحث اور کرید شروع کردی کہ کیسی گائے ہو؟ کیسا رنگ ہو؟ کتنی عمر ہو؟ تو مصیبت میں پڑ گئے کہ انہیں ایک ایسی گائے ذبح کرنی پڑی جو بالکل نایاب تھی۔ اسی لئے اس کی قیمت اتنی زیادہ ادا کرنی پڑی کہ دنیا میں کسی گائے کی اتنی قیمت نہ ہوئی، نہ آئندہ ہونے کی امید ہے۔
(۵)جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی امانت میں سونپ دے اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور اس میں بے حساب خیر و برکت عطا فرما دیتا ہے۔
(۶)جو اپنے اہل و عیال کو اللہ تعالیٰ کے سپرد فرما دے اللہ تعالیٰ اس کے اہل و عیال کی ایسی پرورش فرماتا ہے کہ جس کو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
(۷) امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جو پیلے رنگ کا جوتا پہنے گا وہ ہمیشہ خوش رہے گا۔ اور اس کو غم بہت کم ہو گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پیلی گائے کے لئے یہ فرمایا کہ ''تَسُرُّ النّٰظِرِیۡنَ ﴿۶۹﴾'' کہ وہ دیکھنے والوں کو خوش کردیتی ہے۔
(تفسیر روح البیان،ج۱،ص۱۶۰،پ۱،البقرۃ:۶۹، )
(۸)اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور جس قدر بھی زیادہ بے عیب اور خوبصورت اور قیمتی ہواسی قدر زیادہ بہتر ہے۔ (واللہ تعالٰی اعلم)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 19th, 2016, 12:22 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر

آپ کی وفات کے بعد آپ کے مقام دفن میں سخت اختلاف پیدا ہو گیا۔ ہر محلے والے حصولِ برکت کے لئے اپنے ہی محلہ میں دفن پر اصرار کرنے لگے۔ آخر اس بات پر سب کا اتفاق ہو گیا کہ آپ کو بیچ دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ دریا کا پانی آپ کی قبر منور کو چھوتا ہوا گزرے۔ اور تمام مصر والے آپ کے فیوض و برکات سے فیضیاب ہوتے رہیں۔ چنانچہ آپ کو سنگ مرمر کے صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کے بیچ میں دفن کیا گیا۔ یہاں تک کہ چار سو برس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ کے تابوت شریف کو دریا سے نکال کر آپ کے آباؤ اجداد کی قبروں کے پاس ملک شام میں دفن فرمایا۔ بوقت وفات آپ کی عمر شریف ایک سو بیس برس کی تھی اور آپ کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام نے ۱۴۷ برس کی عمر پائی۔ اور آپ کے دادا حضرت اسحٰق علیہ السلام کی عمر شریف ۱۸۰ سال کی ہوئی اور آپ کے پردادا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی عمر شریف ۱۷۵ سال کی ہوئی
(روح البیان،ج۴،ص۳۲۴، پ۱۳، یوسف:۱۰۰)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 23rd, 2016, 5:14 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
اُلٹ پلٹ ہوجانے والا شہر

یہ حضرت لوط علیہ السلام کا شہر ''سَدُوم''ہے۔ جو ملک شام میں صوبہ ''حِمْصْ'' کا ایک مشہور شہر ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام بن ہاران بن تارخ، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ یہ لوگ عراق میں شہر ''بابل'' کے باشندہ تھے پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں سے ہجرت کر کے ''فلسطین'' تشریف لے گئے اور حضرت لوط علیہ السلام ملک شام کے ایک شہر ''اُردن'' میں مقیم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرما کر ''سدوم'' والوں کی ہدایت کے لئے بھیج دیا۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۸۹،پ۸، الاعراف:۸۰)
شہر سدوم:۔شہر سدوم کی بستیاں بہت آباد اور نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں طرح طرح کے اناج اور قسم قسم کے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے۔ شہر کی خوشحالی کی وجہ سے اکثر جابجا کے لوگ مہمان بن کر ان آبادیوں میں آیا کرتے تھے اور شہر کے لوگوں کو ان مہمانوں کی مہمان نوازی کا بار اٹھانا پڑتا تھا۔ اس لئے اس شہر کے لوگ مہمانوں کی آمد سے بہت ہی کبیدہ خاطر اور تنگ ہوچکے تھے۔ مگر مہمانوں کو روکنے اور بھگانے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ اس ماحول میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا۔ اور ان لوگوں سے کہنے لگا کہ اگر تم لوگ مہمانوں کی آمد سے نجات چاہتے ہو تو اس کی یہ تدبیر ہے کہ جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ بدفعلی کرو۔ چنانچہ سب سے پہلے ابلیس خود ایک خوبصورت لڑکے کی شکل میں مہمان بن کر اس بستی میں داخل ہوا۔ اور ان لوگوں سے خوب بدفعلی کرائی اس طرح یہ فعلِ بد ان لوگوں نے شیطان سے سیکھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس برے کام کے یہ لوگ اس قدر عادی بن گئے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرنے لگے۔
( روح البیان،ج۳،ص۱۹۷،پ۸،الاعراف: ۸۴)

چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام نے ان لوگوں کو اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے اس طرح وعظ فرمایا کہ:۔
اَتَاۡتُوۡنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿80﴾اِنَّکُمْ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلْ اَنۡتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوۡنَ ﴿81
ترجمہ کنزالایمان:۔اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔
(پ8،الاعراف:80،81)
حضرت لوط علیہ السلام کے اس اصلاحی اور مصلحانہ وعظ کو سن کر ان کی قوم نے نہایت بے باکی اور انتہائی بے حیائی کے ساتھ کیا کہا؟ اس کو قرآن کی زبان سے سنیئے:۔
وَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخْرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ قَرْیَتِکُمْ ۚ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوۡنَ ﴿82
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں۔(پ8،الاعراف:82

جب قوم لوط کی سرکشی اور بدفعلی قابل ہدایت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام چند فرشتوں کو ہمراہ لے کر آسمان سے اتر پڑے۔ پھر یہ فرشتے مہمان بن کر حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے اور یہ سب فرشتے بہت ہی حسین اور خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔ ان مہمانوں کے حسن و جمال کو دیکھ کر اور قوم کی بدکاری کا خیال کر کے حضرت لوط علیہ السلام بہت فکرمند ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد قوم کے بدفعلوں نے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور ان مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کے ارادہ سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے نہایت دل سوزی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھانا اور اس برے کام سے منع کرنا شروع کردیا۔ مگر یہ بدفعل اور سرکش قوم اپنے بے ہودہ جواب اور برے اقدام سے باز نہ آئی۔ تو آپ اپنی تنہائی اور مہمانوں کے سامنے رسوائی سے تنگ دل ہوکر غمگین و رنجیدہ ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ عزوجل کے نبی آپ بالکل کوئی فکر نہ کریں۔ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو ان بدکاروں پر عذاب لے کر اترے ہیں۔ لہٰذا آپ مومنین اور اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر صبح ہونے سے قبل ہی اس بستی سے دور نکل جائیں اور خبردار کوئی شخص پیچھے مڑ کر اس بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔ چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں اور مومنین کو ہمراہ لے کر بستی سے باہر نکل گئے۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور کچھ اوپر جا کر ان بستیوں کو الٹ دیا اور یہ آبادیاں زمین پر گر کر چکنا چور ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔ پھر کنکر کے پتھروں کا مینہ برسا اور اس زور سے سنگ باری ہو ئی کہ قوم لوط کے تمام لوگ مر گئے اور ان کی لاشیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئیں۔ عین اس وقت جب کہ یہ شہر الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی ایک بیوی جس کا نام ''واعلہ'' تھا جو درحقیقت منافقہ تھی اور قوم کے بدکاروں سے محبت رکھتی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا اور یہ کہا کہ ''ہائے رے میری قوم''یہ کہہ کر کھڑی ہو گئی پھر عذابِ الٰہی کا ایک پتھر اس کے اوپر بھی گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی۔ چنانچہ قرآن مجید میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:۔
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَاَہۡلَہٗۤ اِلَّا امْرَاَتَہٗ ۫ۖ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیۡنَ ﴿83﴾وَاَمْطَرْنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ؕ فَانۡظُرْکَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیۡنَ ﴿٪84
ترجمہ کنزالایمان:۔تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی اور ہم نے اُن پر ایک مینہ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔(پ8،الاعراف:83،84
جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے وہ کنکروں کے ٹکڑے تھے۔ اور ہر پتھر پر اُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۹۱،پ۸،الاعراف:۸۴)
درس ہدایت:۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ لواطت کس قدر شدید اور ہولناک گناہ کبیرہ ہے کہ اس جرم میں قوم لوط کی بستیاں الٹ پلٹ کر دی گئیں اور مجرمین پتھراؤ کے عذاب سے مر کر دنیا سے نیست و نابود ہو گئے۔
منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مرتبہ ابلیس لعین سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر کون سا گناہ ناپسند ہے؟ تو ابلیس نے کہا کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یہ گناہ ناپسند ہے کہ مرد، مرد سے بدفعلی کرے اور عورت، عورت سے اپنی خواہش پوری کرے۔ اور حدیث میں ہے کہ عورت کا اپنی فرج کو دوسری عورت کی فرج سے رگڑنا یہ ان دونوں کی زنا کاری ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔
( روح البیان،ج۳،ص۱۹۸،پ۸، الاعراف:۸۴)
(لواطت کی ممانعت کا تفصیلی بیان کتاب ''جہنم کے خطرات'' میں پڑھیئے)

(عجائب القرآن مع غرائب القرآن صفحہ 113-109)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 25th, 2016, 5:36 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
قومِ عاد کی آندھی

قوم عاد مقام ''احقاف''میں رہتی تھی جو عمان و حضر موت کے درمیان ایک بڑا ریگستان ہے۔ ان کے مورثِ اعلیٰ کا نام عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح ہے۔ پوری قوم کے لوگ ان کو مورثِ اعلیٰ ''عاد''کے نام سے پکارنے لگے۔ یہ لوگ بت پرست اور بہت بداعمال و بدکردار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام کو ان لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا مگر اس قوم نے اپنے تکبر اور سرکشی کی وجہ سے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلا دیا اور اپنے کفر پر اڑے رہے۔ حضرت ہود علیہ السلام بار بار ان سرکشوں کو عذابِ الٰہی سے ڈراتے رہے، مگر اس شریر قوم نے نہایت ہی بے باکی اور گستاخی کے ساتھ اپنے نبی سے یہ کہہ دیا کہ:۔

اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَاکَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿70
ترجمہ کنزالایمان:۔کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ

ترجمہ کنزالایمان:۔کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے۔ انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو۔

آخر عذابِ الٰہی کی جھلکیاں شروع ہو گئیں۔ تین سال تک بارش ہی نہیں ہوئی۔ اور ہر طرف قحط و خشک سالی کا دور دورہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ لوگ اناج کے دانے دانے کو ترس گئے۔ اس زمانے کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی بلا اور مصیبت آتی تھی تو لوگ مکہ معظمہ جا کر خانہ کعبہ میں دعائیں مانگتے تھے تو بلائیں ٹل جاتی تھیں۔ چنانچہ ایک جماعت مکہ معظمہ گئی۔ اس جماعت میں مرثد بن سعد نامی ایک شخص بھی تھا جو مومن تھا مگر اپنے ایمان کو قوم سے چھپائے ہوئے تھا۔ جب ا ن لوگوں نے کعبہ معظمہ میں دعا مانگنی شروع کی تو مرثد بن سعد کا ایمانی جذبہ بیدار ہو گیا۔ اور اس نے تڑپ کر کہا کہ اے میری قوم تم لاکھ دعائیں مانگو، مگر خدا کی قسم اس وقت تک پانی نہیں برسے گا جب تک تم اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان نہ لاؤ گے۔ حضرت مرثد بن سعد نے جب اپنا ایمان ظاہر کردیا تو قوم عاد کے شریروں نے ان کو مار پیٹ کر الگ کردیا اور دعائیں مانگنے لگے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے تین بدلیاں بھیجیں۔ ایک سفید، ایک سرخ، ایک سیاہ اور آسمان سے ایک آواز آئی کہ اے قوم عاد!تم لوگ اپنی قوم کے لئے ان تین بدلیوں میں سے ایک بدلی کو پسند کرلو۔ ان لوگوں نے کالی بدلی کو پسند کرلیا اور یہ لوگ اس خیال میں مگن تھے کہ کالی بدلی خوب زیادہ بارش دے گی۔ چنانچہ وہ ابر سیاہ قوم عاد کی آبادیوں کی طرف چل پڑا۔ قوم عاد کے لوگ کالی بدلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم ! دیکھ لو عذابِ الٰہی ابر کی صورت میں تمہاری طرف بڑھ رہا ہے مگر قوم کے گستاخوں نے اپنے نبی کو جھٹلا دیا اور کہا کہ کہاں کا عذاب اور کیسا عذاب؟ ھٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا یہ تو بادل ہے جو ہمیں بارش دینے کے لئے آرہا ہے۔ (روح البیان،ج۳،ص۱۸۷تا۱۸۹،پ ۸، الاعراف:۷۰)

یہ بادل پچھم کی طرف سے آبادیوں کی طرف برا بربڑھتا رہا اور ایک دم ناگہاں اس میں سے ایک آندھی آئی جو اتنی شدید تھی کہ اونٹوں کو مع ان کے سوا ر کے اڑا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی تھی۔ پھر اتنی زور دار ہو گئی کہ درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ کر اڑا لے جانے لگی۔ یہ دیکھ کر قوم عاد کے لوگوں نے اپنے سنگین محلوں میں داخل ہو کر دروازوں کو بند کرلیا مگر آندھی کے جھونکے نہ صرف دروازوں کو اکھاڑ کر لے گئے بلکہ پوری عمارتوں کو جھنجھوڑ کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ سات رات اور آٹھ دن مسلسل یہ آندھی چلتی رہی۔ یہاں تک کہ قوم عاد کا ایک ایک آدمی مر کر فنا ہو گیا۔ اور اس قوم کا ایک بچہ بھی باقی نہ رہا۔جب آندھی ختم ہوئی تو اس قوم کی لاشیں زمین پر اس طرح پڑی ہوئی تھیں جس طرح کھجوروں کے درخت اکھڑ کر زمین پر پڑے ہوں چنانچہ ارشاد ربانی ہے:۔

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿6﴾سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الْقَوْمَ فِیۡہَا صَرْعٰی ۙ کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿7﴾فَہَلْ تَرٰی لَہُمۡ مِّنۡۢ بَاقِیَۃٍ ﴿8

ترجمہ کنزالایمان:۔اور رہے عاد وہ ہلاک کئے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے وہ ان پر قوت سے لگا دی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو بچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈنڈ(سوکھے تنے)ہیں گرے ہوئے تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو۔
(پ29،الحاقۃ:6تا8)

پھر قدرتِ خداوندی سے کالے رنگ کے پرندوں کا ایک غول نمودار ہوا۔ جنہوں نے ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ اور حضرت ہود علیہ السلام نے اس بستی کو چھوڑ دیا اور چند مومنین کو جو ایمان لائے تھے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ چلے گئے۔ اور آخرِ زندگی تک بیت اللہ شریف میں عبادت کرتے رہے۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۸۶،پ۸،الاعراف:۷۰)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 30th, 2016, 5:49 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شہر ''نینویٰ''کے باشندوں کی ہدایت کے لئے رسول بنا کر بھیجا تھا۔
نینویٰ:۔یہ موصل کے علاقہ کا ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے ان لوگوں کو ایمان لانے اور بت پرستی چھوڑنے کا حکم دیا۔ مگر ان لوگوں نے اپنی سرکشی اور تمرد کی وجہ سے اللہ عزوجل کے رسول علیہ السلام کو جھٹلادیا اور ایمان لانے سے انکار کردیا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں خبر دی کہ تم لوگوں پر عنقریب عذاب آنے والا ہے۔ یہ سن کر شہر کے لوگوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں کہی ہے۔ اس لئے یہ دیکھو کہ اگر وہ رات کو اس شہر میں رہیں جب تو سمجھ لو کہ کوئی خطرہ نہیں ہے اور اگر انہوں نے اس شہر میں رات نہ گزاری تو یقین کرلینا چاہیئے کہ ضرور عذاب آئے گا۔ رات کو لوگوں نے یہ دیکھا کہ حضرت یونس علیہ السلام شہر سے باہر تشریف لے گئے۔ اور واقعی صبح ہوتے ہی عذاب کے آثار نظر آنے لگے کہ چاروں طرف سے کالی بدلیاں نمودار ہوئیں اور ہر طرف سے دھواں اٹھ کر شہر پر چھا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر شہر کے باشندوں کو یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہی ہے تو لوگوں کو حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش و جستجو ہوئی مگر وہ دور دور تک کہیں نظر نہیں آئے۔ اب شہر والوں کو اور زیادہ خطرہ اور اندیشہ ہو گیا۔ چنانچہ شہر کے تمام لوگ خوف ِ خداوندی عزوجل سے ڈر کر کانپ اٹھے اور سب کے سب عورتوں، بچوں بلکہ اپنے مویشیوں کو ساتھ لے کر اور پھٹے پرانے کپڑے پہن کر روتے ہوئے جنگل میں نکل گئے اور رو رو کر صدقِ دل سے حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لانے کا اقرار و اعلان کرنے لگے۔ شوہر بیوی سے اور مائیں بچوں سے الگ ہو کر سب کے سب استغفار میں مشغول ہو گئے اور دربارِ باری میں گڑگڑا کر گریہ و زاری شروع کردی۔ جو مظالم آپس میں ہوئے تھے ایک دوسرے سے معاف کرانے لگے اور جتنی حق تلفیاں ہوئی تھیں سب کی آپس میں معافی تلافی کرنے لگے۔ غرض سچی توبہ کر کے خدا عزوجل سے یہ عہد کرلیا کہ حضرت یونس علیہ السلام جو کچھ خدا کا پیغام لائے ہیں ہم اس پر صدقِ دل سے ایمان لائے، اللہ تعالیٰ کو شہر والوں کی بے قراری اور مخلصانہ گریہ و زاری پر رحم آیا اور عذاب اٹھا لیا گیا۔ ناگہاں دھواں اور عذاب کی بدلیاں رفع ہو گئیں اور تمام لوگ پھر شہر میں آکر امن و چین کے ساتھ رہنے لگے۔
اس واقعہ کو ذکر کرتے ہوئے خداوند قدوس نے
قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ:۔ فَلَوْ لَا کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَاۤ اِیۡمٰنُہَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوۡنُسَؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا کَشَفْنَا عَنْہُمْ عَذَابَ الۡخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۹۸

ترجمہ کنزالایمان:۔تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔
(پ۱۱،یونس:۹۸)

مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آجاتا ہے تو عذاب آجانے کے بعد ایمان لانا مفید نہیں ہوتا مگر حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب کی بدلیاں آجانے کے بعد بھی جب وہ لوگ ایمان لائے تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔
عذاب ٹلنے کی دعا:۔طبرانی شریف کی روایت ہے کہ شہر نینویٰ پر جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے اور حضرت یونس علیہ السلام باجود تلاش و جستجو کے لوگوں کو نہیں ملے تو شہر والے گھبرا کر اپنے ایک عالم کے پاس گئے جو صاحب ِ ایمان اور شیخِ وقت تھے اور ان سے فریاد کرنے لگے تو انہوں نے حکم دیا کہ تم لوگ یہ وظیفہ پڑھ کر
دعا مانگو یَاحَیُّ حِیْنَ لاَ حَیَّ و َیَاحَیُّ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَیَاحَیُّ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ چنانچہ لوگوں نے یہ پڑھ کر دعا مانگی تو عذاب ٹل گیا۔ لیکن مشہور محدث اور صاحب ِ کرامت ولی حضرت فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ شہر نینویٰ کا عذاب جس دعا کی برکت سے دفع ہوا وہ دعا یہ تھی کہ
اَللّٰھُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ عَظُمَتْ وَجَلَّتْ وَاَنْتَ اَعْظَمُ وَاَجَلُّ فَافْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ اَھْلُہٗ وَلاَ تَفْعَلْ بِنَا مَانَحْنُ اَھْلُہٗ
بہرحال عذاب ٹل جانے کے بعد جب حضرت یونس علیہ السلام شہر کے قریب آئے تو آپ نے شہر میں عذاب کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنی قوم میں تشریف لے جایئے۔ تو آپ نے فرمایا کہ کس طرح اپنی قوم میں جا سکتا ہوں؟ میں تو ان لوگوں کو عذاب کی خبر دے کر شہر سے نکل گیا تھا، مگر عذاب نہیں آیا۔ تو اب وہ لوگ مجھے جھوٹا سمجھ کر قتل کردیں گے۔ آپ یہ فرما کر اور غصہ میں بھر کر شہر سے پلٹ آئے اور ایک کشتی میں سوار ہو گئے یہ کشتی جب بیچ سمندر میں پہنچی تو کھڑی ہو گئی۔ وہاں کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ وہی کشتی سمندر میں کھڑی ہو جایا کرتی تھی جس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام سوار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ کشتی والوں نے قرعہ نکالا تو حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکلا۔ تو کشتی والوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا اور کشتی لے کر روانہ ہو گئے اور فوراً ہی ایک مچھلی آپ کو نگل گئی اور مچھلی کے پیٹ میں جہاں بالکل اندھیرا تھا آپ مقید ہو گئے۔ مگر اسی حالت میں آپ نے آیت کریمہ لَآ اِلٰہَ اِلآَّ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ

o(پ۱۷،الانبیاء:۸۷) کا وظیفہ پڑھنا شروع کردیا تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس اندھیری کوٹھڑی سے نجات دی اور مچھلی نے کنارے پر آکر آپ کو اُگل دیا۔ اس وقت آپ بہت ہی نحیف و کمزور ہوچکے تھے۔ خدا عزوجل کی شان کہ اُس جگہ کدو کی ایک بیل اُگ گئی اور آپ اُس کے سایہ میں آرام کرتے رہے پھر جب آپ میں کچھ توانائی آگئی تو آپ اپنی قوم میں تشریف لائے اور سب لوگ انتہائی محبت و احترام کے ساتھ پیش آ کر آپ پر ایمان لائے۔
(تفسیر الصاوی،ج۳،ص۸۹۳،پ۱۱، یونس:۹۸)

حضرت یونس علیہ السلام کی اس دردناک سرگزشت کو قرآن کریم نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے:۔
وَ اِنَّ یُوۡنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿139﴾ؕاِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوۡنِ ﴿140﴾ۙفَسَاہَمَ فَکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیۡنَ ﴿141﴾ۚفَالْتَقَمَہُ الْحُوۡتُ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿142﴾فَلَوْلَاۤ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیۡنَ ﴿143﴾ۙلَلَبِثَ فِیۡ بَطْنِہٖۤ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوۡنَ ﴿144﴾ۚؒفَنَبَذْنٰہُ بِالْعَرَآءِ وَ ہُوَ سَقِیۡمٌ ﴿145﴾ۚوَ اَنۡۢبَتْنَا عَلَیۡہِ شَجَرَۃً مِّنۡ یَّقْطِیۡنٍ ﴿146﴾ۚوَ اَرْسَلْنٰہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیۡدُوۡنَ ﴿147﴾ۚفَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿148﴾ (پ23،الصافات:139تا148)
ترجمہ کنزالایمان:۔اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اُگایا اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 30th, 2016, 9:44 pm 
Online
CO ADMIN
CO ADMIN
User avatar

Joined: January 19th, 2015, 9:50 am
Posts: 2717
Location: ==Tando AllahYar,SINDH== ٽنڊوالھيار سنڌ
Has thanked: 1974 times
Been thanked: 2148 times

. شھنشاه نقشبند حضرت امام رباني مجدد الف ثاني رحمت الله عليه جي هن قول کي پنهنجي ذهن ۽ سوچ جو محور بنايو وڃي ته هر ولي جي صورت سيرت ۽ ڪردارکي اوهان شريعت جي آيني ۾ ڏسو ۔
جيڪڏهن سندس قول فعل ۽ ڪردار اوهان کي شريعت جي داعري کان ٻاھر نظراچي ته هن کي ولي هرگزنه مڃو

_________________
IF YOU LIKE PRESS SAY THANKS

پنھنجن جو قدر کیو,
الاھی حیاتی کیتری آھی.


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 30th, 2016, 9:48 pm 
Online
CO ADMIN
CO ADMIN
User avatar

Joined: January 19th, 2015, 9:50 am
Posts: 2717
Location: ==Tando AllahYar,SINDH== ٽنڊوالھيار سنڌ
Has thanked: 1974 times
Been thanked: 2148 times

شھنشاه نقشبند حضرت امام رباني مجدد الف ثاني رحمت الله عليه جي هن قول کي پنهنجي ذهن ۽ سوچ جو محور بنايو وڃي ته هر ولي جي صورت سيرت ۽ ڪردارکي اوهان شريعت جي آيني ۾ ڏسو ۔
جيڪڏهن سندس قول فعل ۽ ڪردار اوهان کي شريعت جي داعري کان ٻاھر نظراچي ته هن کي ولي هرگزنه مڃو

_________________
IF YOU LIKE PRESS SAY THANKS

پنھنجن جو قدر کیو,
الاھی حیاتی کیتری آھی.


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 30th, 2016, 9:56 pm 
Online
CO ADMIN
CO ADMIN
User avatar

Joined: January 19th, 2015, 9:50 am
Posts: 2717
Location: ==Tando AllahYar,SINDH== ٽنڊوالھيار سنڌ
Has thanked: 1974 times
Been thanked: 2148 times

امام جعفرصادق فرماتے ھیں کہ مہمان جب گھرمیں داخل ھوتا ھے تو اپنےدامن میں نعمتیں لے کر آتا ھےاورجب گھرسے جاتا ھے توگھروالوںکی ھر پریشانی ساتھ لےجاتا ہے
یادرکھوکہ مہمان کی خدمت کرکےتم نےکسی پہ احسان نہیں کیا
بلکہ تمہارے گھرآکرمہمان نےتم پراحسان کیاھے.

_________________
IF YOU LIKE PRESS SAY THANKS

پنھنجن جو قدر کیو,
الاھی حیاتی کیتری آھی.


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 1st, 2016, 7:35 am 
Online
CO ADMIN
CO ADMIN
User avatar

Joined: January 19th, 2015, 9:50 am
Posts: 2717
Location: ==Tando AllahYar,SINDH== ٽنڊوالھيار سنڌ
Has thanked: 1974 times
Been thanked: 2148 times

. پاڻ ڪريمن صلي الله عليه وسلم جن جي ڪنهن اصحاب سڳوري جي وفات قرض جي حالت ۾ ٿيندي ھعي ته سھڻا سرڪار رحمت اللعالمين (صلي الله عليه وآله وسلم) ان جو قرض پاڻ ڪريم ادا ڪندا ھعا۔ اگر ساعين جن وقت بروقت رقم نه ھوندي ھعي ته سھڻا سرڪار صلي الله عليه وآله وسلم قرض کڻي فوتي اصحاب جو قرض ادا ڪندا هعا۔ سبحان الله قربان سھڻي جي شفقت ۽ شان تان۔
صلي الله تعالىٰ علي محمد۔

_________________
IF YOU LIKE PRESS SAY THANKS

پنھنجن جو قدر کیو,
الاھی حیاتی کیتری آھی.


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 4th, 2016, 7:32 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
آدم علیہ السلام کی تخلیق

اور جب اللہ تعالی نے کہا کہ میں اپنی عبادت کیلئے ایک اور مخلوق پیدا کرنا چاہتا ہوں جو میری عبادت کرےتو فرشتوں نے کہا اے اللہ آپ نے پہلے جنات کو بھی پیدا کیا تھا تو انہوں نے زمین پر فساد برپا کر دئیے اب آپ ایک اور مخلوق پیدا کرنا چاہتے ہیں، آپ کی عبادت کیلئے ہم ہیں نہ جو ہر وقت آپ کی تسبیح کرتے ہیں۔
یہ فرشتوں کا اعتراض نہیں تھا، بلکہ وہ اپنی بات کی وضاحت چاہتے تھے، کیونکہ جنات کی شرانگیزیاں وہ دیکھ چکے تھے
تو اللہ پاک نے فرمایا
اے فرشتو بے شک تم میں عبادت کرتے ہو لیکن میں جو مخلوق پیدا کروں گا وہ میری عبادت کے ساتھ ساتھ اپنے(دنیاوی) کام بھی کرے
اور پھر اللہ پاک نے حکم دیا جاؤ اور پوری زمین سے جتنی قسم کی مٹی ملے لے آؤ۔
ہم جانتے ہیں کہ زمین پر مختلف اقسام کی مٹی موجود ہے، جسے چکنی مٹی، کھاری مٹی، کہیں پے جلی ہوئی، سرخ مٹی وغیرہ
جب فرشتے مٹی لے آئے تو اللہ پاک نے اپنے ہاتھ سے آدم علیہ السلام کو بنایا،،جب آپ کا نمونہ تیار ہوگیا تو روایات کے مطابق آپ کا نمونہ(مجسمہ) چالیس سال تک پڑا رہااور جب سوکھ گیا تو شیطان جب بھی اس نمونے کے پاس سے گزرتا تو انگلی سے بجاتا تو ایسی آواز آتی جیسے مٹی کے برتن پر انگلی مارنے سے آتی ہے،آدم کا مجسمہ چونکہ اندر سے کھوکھلا تھا،تو ایک دن شیطان ہوا بن کر اندر گھس گیا اور پھر باہر نکل آیااور بولا اللہ پاک جو نئی مخلوق کو پیدا کرنے جارہا ہے وہ تو اندر سے بہت کھوکھلی ہے اور کبھی بھی ثابت قدم نہیں رہ سکے گی
اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کو اپنے ہاتو ں سے پیدا فرما یا تاکہ ابلیس بڑائی کا دعوہ نہ کرے۔اور جب وہ وقت آیا کہ اللہ تعالیٰ نے آدم ؑ کی تخلیق کا ارادہ فرمایا اور فرشتوں سے ارشاد فرمایا کہ جب میں اس میں روح ڈال دوں تو تم سب اسکو سجدہ کرنا۔
اور جب روح ڈالی گئی تو اسکو سر کی طرف سے ڈالا گیا۔اور حضرت آدمؑ کی آنکھیں کھلی اور انکو چھینک آ گئی۔فرشتوں نے کہا کہیئے الحمدللہ کہ سب تعریفیں اللہ کیلئے ہیں۔
آدمؑ نے کہا الحمدللہ تو اللہ تعالیٰ نے جواب میں کہا "یا رحمک اللہ"
آنکھیں کھلنے کے بعد آدم ؑ کی نظر سب سے پہلے جنت کے پھلوں پر پڑی تو وہ انکو جلدی میں توڑنے کیلئے اٹھے لیکن چونکہ ٹانگوں میں جان نہیں تھی اس لیئے گر پڑے۔
اسی لیئے اللہ پاک نے فرمایا!
(انسان تو جلد بازی کا بنا ہوا ہے --سورۃ الانبیاء 37/21 )
یعنی جلد بازی انسان کی فطرت میں شامل ہے۔
تخلیق کے بعد آدمؑ کا قد ساٹھ ہاتھ تھا.پھر اللہ پاک نے آدمؑ سے کہا اے آدم جاؤ اور فرشتوں کی اس جماعت کو سلام کرو اور سنو وہ کیا جوب دیتے ہیں اور پھر یہی سلام اور طریقہ کار تمہاری اولاد استمعال کرے گی۔
حضرت آدمؑ نے جاکر فرشتوں سے کہا,
السلام علیکم
اور فرشتوں نے جواب میں کہا,
وعلیکم السلام ورحمتہ اللہ یعنی جواب میں ورحمتہ اللہ کا اضافہ ہوگیا.
جس دن آدمؑ کی تخلیق ہوئی وہ جمعہ کا دن تھا۔اسی دن آدم ؑ کو جنت میں داخل کیا گیا اور اسی دن جنت سے نکالا گیا اور اسی دن ہی قیامت آئے گی حضرت آدم ؑ جمعہ کے دن عصر اور مغرب کے وقت کے دوران پیدا کیئے گئے.
آدمؑ کی تخلیق کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرشتوں کو حکم دیا کہ سجدے میں گر جاؤ۔تو سارے فرشتے سجدے میں گر گئے ماسوائے شیطان کے جوکہ غرور میں آگیا اور کافر و مردود قرار پایااور جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم ؑ کو سجدہ کرو تو وہ سب سجدے میں گر پڑے لیکن ابلیس نے سجدہ نہ کیا اور غرور میں آکر کافر بن گیا—(سورۃ البقرہ 34/2)
قصص الانبیاء،
بحوالہ سورۃ الانبیاء (تفسیر سورۃ النبیا)،سورۃ البقرہ
صحیح مسلم،صحیح البخاری،صحیح مسلم باب الجمع،

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 6th, 2016, 7:21 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
حضرت صالح علیہ السلام کی اونٹنی

حضرت صالح علیہ السلام قوم ثمود کی طرف نبی بنا کر بھیجے گئے۔ آپ نے جب قوم ثمود کو خدا (عزوجل)کا فرمان سنا کر ایمان کی دعوت دی تو اس سرکش قوم نے آپ سے یہ معجزہ طلب کیا کہ آپ اس پہاڑ کی چٹان سے ایک گابھن اونٹنی نکالیے جو خوب فربہ اور ہر قسم کے عیوب و نقائص سے پاک ہو۔ چنانچہ آپ نے چٹان کی طرف اشارہ فرمایا تو وہ فوراً ہی پھٹ گئی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت و تندرست اور خوب بلند قامت اونٹنی نکل پڑی جو گابھن تھی اور نکل کر اس نے ایک بچہ بھی جنا اور یہ اپنے بچے کے ساتھ میدانوں میں چرتی پھرتی رہی۔
اس بستی میں ایک ہی تالاب تھا جس میں پہاڑوں کے چشموں سے پانی گر کر جمع ہوتا تھا۔ آپ نے فرمایا کہ اے لوگو! دیکھو یہ معجزہ کی اونٹنی ہے۔ ایک روز تمہارے تالاب کا سارا پانی یہ پی ڈالے گی اور ایک روز تم لوگ پینا۔ قوم نے اس کو مان لیا پھر آپ نے قوم ثمود کے سامنے یہ تقریر فرمائی کہ:۔

یٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللہَ مَا لَکُمۡ مِّنْ اِلٰہٍ غَیۡرُہٗ ؕ قَدْ جَآءَتْکُمۡ بَیِّنَۃٌ مِّنۡ رَّبِّکُمْ ؕ ہٰذِہٖ نَاقَۃُ اللہِ لَکُمْ اٰیَۃً فَذَرُوۡہَا تَاۡکُلْ فِیۡۤ اَرْضِ اللہِ وَلَاتَمَسُّوۡہَا بِسُوۡٓءٍ فَیَاۡخُذَکُمْ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿73﴾ (پ8،الاعراف:73)

ترجمہ کنزالایمان:۔اے میری قوم اللہ کو پوجو اس کے سوا تمہارا کوئی معبود نہیں بے شک تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے روشن دلیل آئی یہ اللہ کا ناقہ ہے تمہارے لئے نشانی تو اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں کھائے اور اسے برائی سے ہاتھ نہ لگاؤ کہ تمہیں دردناک عذاب آئے گا۔

چند دن تو قوم ثمود نے اس تکلیف کو برداشت کیا کہ ایک دن اُن کو پانی نہیں ملتا تھا۔ کیونکہ اس دن تالاب کا سارا پانی اونٹنی پی جاتی تھی۔ اس لئے ان لوگوں نے طے کرلیا کہ اس اونٹنی کو قتل کرڈالیں۔
قدار بن سالف:۔چنانچہ اس قوم میں قدار بن سالف جو سرخ رنگ کا بھوری آنکھوں والا اور پستہ قد آدمی تھا اور ایک زنا کار عورت کا لڑکا تھا۔ ساری قوم کے حکم سے اس اونٹنی کو قتل کرنے کے لئے تیار ہو گیا۔ حضرت صالح علیہ السلام منع ہی کرتے رہے، لیکن قدار بن سالف نے پہلے تو اونٹنی کے چاروں پاؤں کو کاٹ ڈالا۔ پھر اس کو ذبح کردیا اور انتہائی سرکشی کے ساتھ حضرت صالح علیہ السلام سے بے ادبانہ گفتگو کرنے لگا۔ چنانچہ خداوند قدوس کا ارشاد ہے کہ:۔

فَعَقَرُوا النَّاقَۃَ وَعَتَوْا عَنْ اَمْرِ رَبِّہِمْ وَقَالُوۡا یٰصٰلِحُ ائْتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿77﴾ (پ8،الاعراف77)

ترجمہ کنزالایمان:۔ پس ناقہ کی کوچیں کاٹ دیں اور اپنے رب کے حکم سے سرکشی کی اور بولے اے صالح ہم پر لے آؤ جس کا تم وعدہ دے رہے ہو اگر تم رسول ہو۔

زلزلہ کا عذاب:۔قوم ثمود کی اس سرکشی پر عذابِِ خداوندی کا ظہور اس طرح ہوا کہ پہلے ایک زبردست چنگھاڑ کی خوفناک آواز آئی۔ پھر شدید زلزلہ آیا جس سے پوری آبادی اتھل پتھل ہو کر چکنا چور ہو گئی۔ تمام عمارتیں ٹوٹ پھوٹ کر تہس نہس ہو گئیں اور قوم ثمود کا ایک ایک آدمی گھٹنوں کے بل اوندھا گر کر مر گیا۔ قرآن مجید نے فرمایا کہ:۔
فَاَخَذَتْہُمُ الرَّجْفَۃُ فَاَصْبَحُوۡا فِیۡ دَارِہِمْ جٰثِمِیۡنَ ﴿78

ترجمہ کنزالایمان :۔ تو انہیں زلزلہ نے آلیا تو صبح کو اپنے گھروں میں اوندھے رہ گئے تو صالح نے ان سے منہ پھیرا۔(پ8،الاعراف:78)

حضرت صالح علیہ السلام نے جب دیکھا کہ پوری بستی زلزلوں کے جھٹکوں سے تباہ و برباد ہو کر اینٹ پتھروں کا ڈھیر بن گئی اور پوری قوم ہلاک ہو گئی تو آپ کو بڑا صدمہ اور قلق ہوا اور آپ کو قوم ثمود اور اُن کی بستی کے ویرانوں سے اس قدر نفرت ہو گئی کہ آپ نے اُن لوگوں کی طرف سے منہ پھیر لیا اور اُس بستی کو چھوڑ کر دوسری جگہ تشریف لے گئے اور چلتے وقت مردہ لاشوں سے یہ فرما کر روانہ ہو گئے کہ:۔

یٰقَوْمِ لَقَدْ اَبْلَغْتُکُمْ رِسَالَۃَ رَبِّیۡ وَنَصَحْتُ لَکُمْ وَلٰکِنۡ لَّاتُحِبُّوۡنَ النّٰصِحِیۡنَ ﴿۷۹﴾

ترجمہ کنزالایمان:۔اے میری قوم بے شک میں نے تمہیں اپنے رب کی رسالت پہنچا دی اور تمہارا بھلا چاہا مگر تم خیر خواہوں کے غرضی (پسند کرنے والے)ہی نہیں۔(پ۸،الاعراف:۷۹)

خلاصہ کلام یہ ہے کہ قوم ثمود کی پوری بستی برباد و ویران ہو کر کھنڈر بن گئی اور پوری قوم فنا کے گھاٹ اتر گئی کہ آج اُن کی نسل کا کوئی انسان روئے زمین پر باقی نہیں رہ گیا۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۸۸،پ۸،الاعراف:۷۳۔۷۷تا ۷۹ ملخصاً)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 10th, 2016, 12:31 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
فرعونیوں پر لگاتار 5 عذاب

جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کا عصا اژدہا بن کر جادوگروں کے سانپوں کو نگل گیا تو جادوگر سجدے میں گر کر ایمان لائے۔ مگر فرعون اور اس کے متبعین نے اب بھی ایمان قبول نہیں کیا۔ بلکہ فرعون کا کفر اور اس کی سرکشی اَور زیادہ بڑھ گئی اور اس نے بنی اسرائیل کے مومنین اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دل آزاری اور ایذا رسانی میں بھرپور کوشش شروع کردی اور طرح طرح سے ستانا شروع کردیا۔ فرعون کے مظالم سے تنگ دل ہو کر حضرت موسیٰ علیہ السلام نے خداوند قدوس کے دربار میں اس طرح دعا مانگی کہ''اے میرے رب! فرعون زمین میں بہت ہی سرکش ہو گیا ہے اور اس کی قوم نے عہد شکنی کی ہے لہٰذا تو انہیں ایسے عذابوں میں گرفتار فرمالے جو ان کے لئے سزا وار ہو۔ اور میری قوم اور بعد والوں کے لئے عبرت ہو۔''
(روح البیان،ج۳،ص۲۲۰،پ۹،الاعراف:۱۳۳)

حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا کے بعد اللہ تعالیٰ نے فرعونیوں پر لگاتار پانچ عذابوں کو مسلط فرما دیا وہ پانچوں عذاب یہ ہیں:۔
طوفان:۔ ناگہاں ایک ابر آیا اور ہر طرف اندھیرا چھا گیا پھر انتہائی زور دار بارش ہونے لگی۔ یہاں تک کہ طوفان آگیا اور فرعونیوں کے گھروں میں پانی بھر گیا۔ اور وہ اس میں کھڑے رہ گئے اور پانی ان کی گردنوں تک آگیا ان میں سے جو بیٹھا وہ ڈوب کر ہلاک ہو گیا۔ نہ ہل سکتے تھے نہ کوئی کام کرسکتے تھے۔ ان کی کھیتیاں اور باغات طوفان کے دھاروں سے برباد ہو گئے۔ سنیچر سے سنیچر تک مسلسل سات روز تک وہ لوگ اسی مصیبت میں مبتلا رہے اور باوجودیکہ بنی اسرائیل کے مکانات فرعونیوں کے گھروں سے ملے ہوئے تھے مگر بنی اسرائیل کے گھروں میں سیلاب کا پانی نہیں آیا اور وہ نہایت ہی امن و چین کے ساتھ اپنے گھروں میں رہتے تھے جب فرعونیوں کو اس مصیبت کے برداشت کرنے کی تاب و طاقت نہ رہی اور وہ بالکل ہی عاجز ہو گئے تو ان لوگوں نے حضرت موسیٰ علیہ السلام سے عرض کیا کہ آپ ہمارے لئے دعافرمایئے کہ یہ مصیبت ٹل جائے تو ہم ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو آپ کے پاس بھیج دیں گے۔ چنانچہ آپ نے دعا مانگی تو طوفان کی بلا ٹل گئی اور زمین میں ایسی سرسبزی اور شادابی نمودار ہوئی کہ اس سے پہلے کبھی بھی دیکھنے میں نہ آئی تھی۔ کھیتیاں بہت شاندار ہوئیں اور غلوں اور پھلوں کی پیداوار بے شمار ہوئی یہ دیکھ کر فرعونی کہنے لگے کہ یہ طوفان کا پانی تو ہمارے لئے بہت بڑی نعمت کا سامان تھا۔ پھر وہ اپنے عہد سے پھر گئے اور ایمان نہیں لائے اور پھر سرکشی اور ظلم و عصیان کی گرم بازاری شروع کردی۔

ٹڈیاں:۔ایک ماہ تک تو فرعونی نہایت عافیت سے رہے۔ لیکن جب ان کا کفر و تکبر اور ظلم و ستم پھر بڑھنے لگا تو اللہ تعالیٰ نے اپنے قہر و عذاب کو ٹڈیوں کی شکل میں بھیج دیا کہ چاروں طرف سے ٹڈیوں کے جھنڈ کے جھنڈ آگئے جو ان کی کھیتیوں اور باغوں کو یہاں تک کہ ان کے مکانوں کی لکڑیاں تک کو کھا گئیں اور فرعونیوں کے گھروں میں یہ ٹڈیاں بھر گئیں جس سے ان کا سانس لینا مشکل ہو گیا مگر بنی اسرائیل کے مومنین کے کھیت اور باغ اور مکانات ان ٹڈیوں کی یلغار سے بالکل محفوظ رہے۔ یہ دیکھ کر فرعونیوں کو بڑی عبرت ہو گئی اور آخر اس عذاب سے تنگ آکر پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے آگے عہد کیا کہ آپ اس عذاب کے دفع ہونے کے لئے دعا فرما دیں تو ہم لوگ ضرور ایمان لے آئیں گے اور بنی اسرائیل پر کوئی ظلم و ستم نہ کریں گے۔ چنانچہ آپ کی دعا سے ساتویں دن یہ عذاب بھی ٹل گیا اور یہ لوگ پھر ایک ماہ تک نہایت ہی آرام و راحت میں رہے۔ لیکن پھر عہد شکنی کی اور ایمان نہیں لائے۔ ان لوگوں کے کفر اور عصیان میں پھر اضافہ ہونے لگا۔ حضرت موسیٰ علیہ السلام اور مومنین کو ایذائیں دینے لگے اور کہنے لگے کہ ہماری جو کھیتیاں اور پھل بچ گئے ہیں وہ ہمارے لئے کافی ہیں۔ لہٰذا ہم اپنا دین چھوڑ کر ایمان نہیں لائیں گے۔

گھن:۔غرض ایک ماہ کے بعد پھر ان لوگوں پر ''قمل '' کا عذاب مسلط ہوگیا۔ بعض مفسرین کا بیان ہے کہ یہ گھن تھا جو ان فرعونیوں کے اناجوں اور پھلوں میں لگ کر تمام غلوں اور میوؤں کو کھا گیا اور بعض مفسرین نے فرمایا کہ یہ ایک چھوٹا سا کیڑا تھا، جو کھیتوں کی تیار فصلوں کو چٹ کر گیا اور ان کے کپڑوں میں گھس کر ان کے چمڑوں کو کاٹ کاٹ کر انہیں مرغ بسمل کی طرح تڑپانے لگا۔ یہاں تک کہ ان کے سر کے بالوں، داڑھی، مونچھوں، بھنوؤں، پلکوں کو چاٹ چاٹ کر اور چہروں کو کاٹ کاٹ کر انہیں چیچک رو بنا دیا۔ یہ کیڑے ان کے کھانوں، پانیوں اور برتنوں میں گھس جاتے تھے۔ جس سے یہ لوگ نہ کچھ کھا سکتے تھے نہ کچھ پی سکتے تھے۔ نہ لمحہ بھر کے لئے سو سکتے تھے۔ یہاں تک کہ ایک ہفتہ میں اس قہر آسمانی و بلاء ناگہانی سے بلبلا کر یہ لوگ چیخ پڑے اور پھر حضرت موسیٰ علیہ السلام کے حضور حاضر ہو کر دعا کی درخواست کرنے لگے اور ایمان لانے کا عہد دینے لگے چنانچہ آپ نے ان لوگوں کی بے قراری اور گریہ و زاری پر رحم کھا کر دعا کردی۔ اور یہ عذاب بھی رفع دفع ہو گیا۔ لیکن فرعونیوں نے پھر اپنے عہد کو توڑ ڈالا۔ اور پہلے سے بھی زیادہ ظلم و عدوان پر کمربستہ ہو گئے۔ پھر ایک ماہ کے بعدان لوگوں پر مینڈک کا عذاب نازل ہو گیا۔

مینڈک:۔ان فرعونیوں کی بستیوں اور ان کے گھروں میں اچانک بے شمار مینڈک پیدا ہو گئے اور ان ظالموں کا یہ حال ہو گیا کہ جو آدمی جہاں بھی بیٹھتا اس کی مجلس میں ہزاروں مینڈک بھر جاتے تھے۔ کوئی آدمی بات کرنے یا کھانے کے لئے منہ کھولتا تو اس کے منہ میں مینڈک کود کر گھس جاتے۔ ہانڈیوں میں مینڈک، ان کے جسموں پر سینکڑوں مینڈک سوار رہتے۔ اٹھنے، بیٹھنے، لیٹنے کسی حالت میں بھی مینڈکوں سے نجات نہیں ملتی تھی۔ اس عذاب سے فرعونی رو پڑے اور پھر روتے گڑگڑاتے حضرت موسیٰ علیہ السلام کی بارگاہ میں دعا کی بھیک مانگنے کے لئے آئے اور بڑی بڑی قسمیں کھا کر عہد و پیمان کرنے لگے کہ ہم ضرور ایمان لائیں گے اور مومنین کو کبھی ایذاء نہیں دیں گے۔ چنانچہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی دعا سے ساتویں دن یہ عذاب بھی اٹھا لیا گیا مگر یہ مردود قوم راحت ملتے ہی پھر اپنا عہد توڑ کر اپنی پہلی خبیث حرکتوں میں مشغول ہوگئی۔ مومنین کو ستانے لگے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی توہین و بے ادبی کرنے لگے تو پھر عذابِ الٰہی نے ان ظالموں کو اپنی گرفت میں لے لیا اور ان لوگوں پر خون کا عذاب قہرالٰہی بن کر اتر پڑا

خون:۔ ایک دم بالکل اچانک ان لوگوں کے تمام کنوؤں، نہروں کا پانی خون ہو گیا تو ان لوگوں نے فرعون سے فریاد کی، تو اس سرکش نے کہا کہ یہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی جادوگری اور نظربندی ہے۔ یہ سن کر فرعونیوں نے کہا کہ یہ کیسی اور کہاں کی نظر بندی ہے؟ کہ ہمارے کھانے پینے کے برتن خون سے بھرے پڑے ہیں اور مومنین پر اس کا ذرا بھی اثر نہیں تو فرعون نے حکم دیا کہ فرعونی لوگ مومنین کے ساتھ ایک ہی برتن سے پانی نکالیں۔ مگر خدا کی شان کہ مومنین اسی برتن سے پانی نکالتے تو نہایت ہی صاف شفاف اور شیریں پانی نکلتا اور فرعونی جب اسی برتن سے پانی نکالتے تو تازہ خالص خون نکلتا۔ یہاں تک کہ فرعونی لوگ پیاس سے بے قرار ہو کر مومنین کے پاس آئے اور کہا کہ ہم دونوں ایک ہی برتن سے ایک ہی ساتھ منہ لگا کرپانی پئیں گے مگر قدرت خداوندی کا عجیب جلوہ نظر آتا۔ ایک ہی برتن سے ایک ساتھ منہ لگا کر دونوں پانی پیتے تھے مگر مومنین کے منہ میں جو جاتا وہ پانی ہوتا تھا اور فرعون والوں کے منہ میں جو جاتا وہ خون ہوتا تھا۔ مجبور ہو کر فرعون اور فرعونی لوگ گھاس اور درختوں کی جڑیں اور چھالیں چبا چبا کر چوستے تھے مگر اس کی رطوبت بھی ان کے منہ میں جا کر خون بن جاتی تھی۔
الغرض فرعونیوں نے پھر گڑگڑا کر حضرت موسیٰ علیہ السلام سے دعا کی درخواست کی۔ تو آپ نے پیغمبرانہ رحم و کرم فرما کر پھر ان لوگوں کے لئے دعائے خیر فرما دی تو ساتویں دن اس خونی عذاب کا سایہ بھی ان کے سروں سے اٹھ گیا۔ الغرض ان سرکشوں پر مسلسل پانچ عذاب آتے رہے اور ہر عذاب ساتویں دن ٹلتا رہا اور ہر دو عذابوں کے درمیان ایک ماہ کا فاصلہ ہوتا رہا مگر فرعون اور فرعونیوں کے دلوں پر شقاوت و بدبختی کی ایسی مہر لگ چکی تھی کہ پھر بھی وہ ایمان نہیں لائے اور اپنے کفر پر اڑے رہے اور ہر مرتبہ اپنا عہد توڑتے رہے۔ یہاں تک کہ اللہ تعالیٰ کے قہر و غضب کا آخری عذاب آگیا کہ فرعون اور اس کے متبعین سب دریائے نیل میں غرق ہو کر ہلاک ہو گئے اور ہمیشہ کے لئے خدا کی دنیا ان عہد شکنوں اور مردودوں سے پاک و صاف ہو گئی اور یہ لوگ دنیا سے اس طرح نیست و نابود کردیئے گئے کہ روئے زمین پر ان کی قبروں کا نشان بھی باقی نہیں رہ گیا۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۸۰۳،پ۹،الاعراف: ۱۳۳)

قرآن مجید نے ان مذکورہ بالا پانچوں عذابوں کی تصویر کشی ان الفاظ میں فرمائی ہے:۔
فَاَرْسَلْنَا عَلَیۡہِمُ الطُّوۡفَانَ وَالْجَرَادَ وَالْقُمَّلَ وَالضَّفَادِعَ وَالدَّمَ اٰیٰتٍ مُّفَصَّلٰتٍ ۟ فَاسْتَکْبَرُوۡا وَکَانُوۡا قَوْمًا مُّجْرِمِیۡنَ ﴿133﴾وَلَمَّا وَقَعَ عَلَیۡہِمُ الرِّجْزُ قَالُوۡا یٰمُوۡسَی ادْعُ لَنَا رَبَّکَ بِمَا عَہِدَ عِنۡدَکَ ۚ لَئِنۡ کَشَفْتَ عَنَّا الرِّجْزَ لَنُؤْمِنَنَّ لَکَ وَلَنُرْسِلَنَّ مَعَکَ بَنِیۡۤ اِسْرَآءِیۡلَ ﴿134﴾ۚفَلَمَّا کَشَفْنَا عَنْہُمُ الرِّجْزَ اِلٰۤی اَجَلٍ ہُمۡ بَالِغُوۡہُ اِذَا ہُمْ یَنۡکُثُوۡنَ ﴿135﴾فَانۡتَقَمْنَا مِنْہُمْ فَاَغْرَقْنٰہُمْ فِی الْیَمِّ بِاَنَّہُمْ کَذَّبُوۡا بِاٰیٰتِنَا وَکَانُوۡا عَنْہَا غٰفِلِیۡنَ ﴿136
(پ9،الاعراف:133تا136)

ترجمہ کنزالایمان:۔تو بھیجا ہم نے ان پر طوفان اور ٹڈی اور گھن (یاکلنی یا جوئیں)اور مینڈک اور خون جدا جدا نشانیاں تو انہوں نے تکبر کیا اور وہ مجرم قوم تھی اور جب ان پر عذاب پڑتا کہتے اے موسیٰ ہمارے لئے اپنے رب سے دعا کرو اس عہد کے سبب جو اس کا تمہارے پاس ہے بیشک اگر تم ہم پرسے عذاب اٹھا دو گے تو ہم ضرور تم پر ایمان لائیں گے اور بنی اسرائیل کو تمہارے ساتھ کردیں گے پھر جب ہم ان سے عذاب اٹھا لیتے ایک مدت کے لئے جس تک انہیں پہنچنا ہے جبھی وہ پھر جاتے تو ہم نے ان سے بدلہ لیا تو انہیں دریا میں ڈبو دیا اس لئے کہ ہماری آیتیں جھٹلاتے اور ان سے بے خبر تھے

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 11th, 2016, 7:23 am 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
آسمانی دستر خوان

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے حواریوں نے یہ عرض کیا کہ اے عیسیٰ بن مریم! کیا آپ کا رب یہ کرسکتا ہے کہ وہ آسمان سے ہمارے پاس ایک دستر خوان اتار دے؟ تو حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے فرمایا کہ اس طرح کی نشانیاں طلب کرنے سے اگر تم لوگ مومن ہو تو خدا سے ڈرو۔ یہ سن کر حواریوں نے کہا کہ ہم نشانی طلب کرنے کے لئے یہ سوال نہیں کر رہے ہیں بلکہ ہمارا مقصد یہ ہے کہ ہم شکم سیر ہو کر خوب کھائیں اور ہم کو اچھی طرح آپ کی صداقت کا علم ہوجائے تاکہ ہمارے دلوں کو قرار آجائے اور ہم اس بات کے گواہ بن جائیں تاکہ بنی اسرائیل کو ہماری شہادت سے یقین اور اطمینان کلی حاصل ہو جائے اور مومنین کا یقین اَور بڑھ جائے اور کفار ایمان لائیں۔

حواریوں کی اس درخواست پر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بارگاہِ خداوندی میں اس طرح دعا مانگی:۔
ترجمہ کنزالایمان:۔ اے رب ہمارے ! ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لیے عیدہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اورہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔
(پ۷،المائدۃ:۱۱۴)

حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی دعا پر اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ دستر خوان تو اتاردوں گا لیکن اس کے بعد بنی اسرائیل میں سے جو کفر کریگا میں اس کو ایسا عذاب دوں گا کہ تمام جہان والوں میں سے کسی کو ایسا عذاب نہیں دوں گا۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ کے حکم سے چند فرشتے ایک دستر خوان لے کر آسمان سے اترے جس میں سات مچھلیاں اور سات روٹیاں تھیں۔
(تفسیر جلالین،ص۱۱۱،پ۷،المائدۃ:۱۱۵)

حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ فرشتے دستر خوان میں روٹی اور گوشت لے کر آسمان سے زمین پر نازل ہوئے اور بعض روایتوں میں یہ بھی آیا ہے کہ تلی ہوئی ایک بہت بڑی مچھلی تھی جس میں کانٹا نہیں تھا اور اس میں سے روغن ٹپک رہا تھا اور اس کے سر کے پاس نمک اور دم کے پاس سرکہ تھا اور اس کے اردگرد قسم قسم کی سبزیاں تھیں اور پانچ روٹیاں تھیں۔ ایک روٹی کے اوپر روغن زیتون، دوسری پر شہد، تیسری پر گھی، چوتھی پر پنیر، پانچویں پر گوشت کی بوٹیاں تھیں۔ دستر خوان کے ان سامانوں کو دیکھ کر حضرت عیسیٰ علیہ السلام کے ایک حواری شمعون نے کہا جو تمام حواریوں کا سردار تھا، کہ اے روح اللہ! یہ دستر خوان دنیا کے کھانوں میں سے ہے یا آخرت کے۔ تو آپ نے فرمایا کہ یہ نہ تو دنیا کے کھانوں میں سے ہے نہ آخرت کے بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے تمہارے لئے اس کھانے کو ابھی ابھی ایجاد فرما کر بھیجا ہے۔
(تفسیر جمل علی الجلالین،ج۲،ص۳۰۴،پ۷،المائدۃ:۱۱۵)

پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو حکم دیا کہ خوب شکم سیر ہو کر کھاؤ۔ اور خبردار اس میں کسی قسم کی خیانت نہ کرنا۔ اور کل کے لئے ذخیرہ بنا کر نہ رکھنا۔ مگر بنی اسرائیل نے اس میں خیانت بھی کرڈالی اور کل کے لئے ذخیرہ بنا کر بھی رکھ لیا۔ اس نافرمانی کی وجہ سے اللہ تعالیٰ کا ان لوگوں پر یہ عذاب آیا کہ یہ لوگ رات کو سوئے تو اچھے خاصے تھے مگر صبح کو اٹھے تو مسخ ہو کر کچھ خنزیر اور کچھ بندر بن گئے پھر حضرت عیسیٰ علیہ السلام نے ان لوگوں کی موت کے لئے دعا مانگی تو تیسرے دن یہ لوگ مر کر دنیا سے نیست و نابود ہو گئے اور کسی کو یہ بھی نہیں معلوم ہوا کہ ان کی لاشوں کو زمین نگل گئی یا اللہ نے ان کو کیا کردیا۔

(تفسیر جمل علی الجلالین،ج۲،ص۳۰۴،پ۷،المائدۃ:۱۱۵)
اللہ تعالی نے اس عجیب اور عظیم الشان وا قعہ کا تذکرہ قرآن مجید کی سورئہ مائدہ میں فرمایا ہے۔ اور اسی واقعہ کی وجہ سے اس سورہ کا نام ''مائدہ'' رکھا گیا۔ ''مائدہ'' دسترخوان کو کہتے ہیں

قَالَ عِیۡسَی ابْنُ مَرْیَمَ اللہُمَّ رَبَّنَاۤ اَنۡزِلْ عَلَیۡنَا مَآئِدَۃً مِّنَ السَّمَآءِ تَکُوۡنُ لَنَا عِیۡدًا لِّاَوَّلِنَا وَاٰخِرِنَا وَ اٰیَۃً مِّنۡکَ ۚ وَارْزُقْنَا وَاَنۡتَ خَیۡرُ الرّٰزِقِیۡنَ ﴿114﴾قَالَ اللہُ اِنِّیۡ مُنَزِّلُہَا عَلَیۡکُمْ ۚ فَمَنۡ یَّکْفُرْ بَعْدُ مِنۡکُمْ فَاِنِّیۡۤ اُعَذِّبُہٗ عَذَابًا لَّاۤ اُعَذِّبُہٗۤ اَحَدًا مِّنَ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿115
(پ7،المائدۃ:114،115)

ترجمہ کنزالایمان:۔ عیسیٰ بن مریم نے عرض کی اے اللہ اے رب ہمارے ہم پر آسمان سے ایک خوان اتار کہ وہ ہمارے لئے عید ہو ہمارے اگلے پچھلوں کی اور تیری طرف سے نشانی اور ہمیں رزق دے اور تو سب سے بہتر روزی دینے والا ہے۔ اللہ نے فرمایا کہ میں اسے تم پر اتارتا ہوں پھر اب جو تم میں کفر کریگا تو بے شک میں اسے وہ عذاب دوں گا کہ سارے جہان میں کسی پر نہ کروں گا۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 14th, 2016, 1:06 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
حضرت ابراہیم علیہ السلام کا اعلانِ توحید

مفسرین کا بیان ہے کہ ''نمرود بن کنعان ''بڑا جابر بادشاہ تھا۔ سب سے پہلے اسی نے تاج شاہی اپنے سر پر رکھا۔ اس سے پہلے کسی بادشاہ نے تاج نہیں پہنا تھا یہ لوگوں سے زبردستی اپنی پرستش کراتا تھا کاہن اور نجومی اس کے دربار میں بکثرت اس کے مقرب تھے۔ نمرود نے ایک رات یہ خواب دیکھا کہ ایک ستارہ نکلا اور اس کی روشنی میں چاند، سورج وغیرہ سارے ستارے بے نور ہو کر رہ گئے۔ کاہنوں اور نجومیوں نے اس خواب کی یہ تعبیر دی کہ ایک فرزند ایسا ہو گا جو تیری بادشاہی کے زوال کا باعث ہو گا۔ یہ سن کر نمرود بے حد پریشان ہو گیا اور اس نے یہ حکم دے دیا کہ میرے شہر میں جو بچہ پیدا ہو وہ قتل کردیا جائے۔ اور مرد عورتوں سے جدا رہیں۔ چنانچہ ہزاروں بچے قتل کردیئے گئے۔ مگر تقدیراتِ الٰہیہ کو کون ٹال سکتا ہے؟ اسی دوران حضرت ابراہیم علیہ السلام پیدا ہو گئے اور بادشاہ کے خوف سے ان کی والدہ نے شہر سے دور پہاڑ کے ایک غار میں ان کوچھپا دیا اسی غار میں چھپ کر ان کی والدہ روزانہ دودھ پلا دیا کرتی تھیں۔ بعض مفسرین کا قول ہے کہ سات برس کی عمر تک اور بعضوں نے تحریر فرمایا کہ سترہ برس تک آپ اسی غار میں پرورش پاتے رہے۔
(واللہ تعالیٰ اعلم)
( روح البیان،ج۳،ص۵۹،پ۷،الانعام:۷۵)

اس زمانے میں عام طور پر لوگ ستاروں کی پوجا کیا کرتے تھے۔ ایک رات آپ علیہ السلام نے زہرہ یا مشتری ستارہ کو دیکھا تو قوم کو توحید کی دعوت دینے کے لئے آپ نے نہایت ہی نفیس اور دل نشین انداز میں لوگوں کے سامنے اس طرح تقریر فرمائی کہ اے لوگو! کیا ستارہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ ستارہ ڈوب گیا تو آپ نے فرمایا کہ ڈوب جانے والوں سے میں محبت نہیں رکھتا۔ پھر اس کے بعد جب چمکتا چاند نکلا تو آپ نے فرمایا کہ کیا یہ میرا رب ہے؟ پھر جب وہ بھی غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ اگر میرا رب مجھے ہدایت نہ فرماتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں سے ہوتا۔ پھر جب چمکتے دمکتے سورج کو دیکھا تو آپ نے فرمایا کہ یہ تو ان سب سے بڑا ہے، کیا یہ میرا رب ہے؟ پھر جب یہ بھی غروب ہو گیا تو آپ نے فرمایا کہ اے میری قوم! میں ان تمام چیزوں سے بیزار ہوں جن کو تم لوگ خدا کا شریک ٹھہراتے ہو۔ اور میں نے اپنی ہستی کو اس ذات کی طرف متوجہ کرلیا ہے جس نے آسمانوں اور زمینوں کو پیدا فرمایا ہے۔
بس میں صرف اسی ایک ذات کا عابد اور پجاری بن گیا ہوں اور میں شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔ پھر ان کی قوم ان سے جھگڑا کرنے لگی تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ مجھ سے خدا کے بارے میں جھگڑتے ہو؟ اس خدا نے تو مجھے ہدایت دی ہے اور میں تمہارے جھوٹے معبودوں سے بالکل نہیں ڈرتا۔ سن لو! بغیر میرے رب کے حکم کے تم لوگ اور تمہارے دیوتا میرا کچھ بھی نہیں بگاڑ سکتے۔ میرا رب ہر چیز کو جانتا ہے۔ کیا تم لوگ میری نصیحت کو نہیں مانو گے؟ اس واقعہ کو مختصر مگر بہت جامع الفاظ میں قرآن مجید نے یوں بیان فرمایا ہے :۔
فَلَمَّا جَنَّ عَلَیۡہِ الَّیۡلُ رَاٰکَوْکَبًا ۚ قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَاۤ اُحِبُّ الۡاٰفِلِیۡنَ ﴿76﴾فَلَمَّا رَاَ الْقَمَرَ بَازِغًا قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَ قَالَ لَئِنۡ لَّمْ یَہۡدِنِیۡ رَبِّیۡ لَاَکُوۡنَنَّ مِنَ الْقَوْمِ الضَّآلِّیۡنَ ﴿77﴾فَلَمَّا رَاَ الشَّمْسَ بَازِغَۃً قَالَ ہٰذَا رَبِّیۡ ہٰذَاۤ اَکْبَرُ ۚ فَلَمَّاۤ اَفَلَتْ قَالَ یٰقَوْمِ اِنِّیۡ بَرِیۡٓءٌ مِّمَّا تُشْرِکُوۡنَ ﴿78﴾اِنِّیۡ وَجَّہۡتُ وَجْہِیَ لِلَّذِیۡ فَطَرَ السَّمٰوٰتِ وَالۡاَرْضَ حَنِیۡفًا وَّمَاۤ اَنَا مِنَ الْمُشْرِکِیۡنَ ﴿ۚ79
ترجمہ کنزالایمان:۔ پھر جب ان پر رات کا اندھیرا آیا ایک تارا دیکھا بولے اسے میرا رب ٹھہراتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا بولے مجھے خوش نہیں آتے ڈوبنے والے پھر جب چاند چمکتا دیکھا بولے اسے میرا رب بتاتے ہو پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اگر مجھے میرا رب ہدایت نہ کرتا تو میں بھی انہیں گمراہوں میں ہوتا پھر جب سورج جگمگاتا دیکھا بولے اسے میرا رب کہتے ہو۔ یہ تو ان سب سے بڑا ہے پھر جب وہ ڈوب گیا کہا اے قوم میں بیزار ہوں ان چیزوں سے جنہیں تم شریک ٹھہراتے ہو میں نے اپنا منہ اس کی طرف کیا جس نے آسمان و زمین بنائے ایک اسی کا ہو کر اور میں مشرکوں میں نہیں۔(پ7،الانعام:76تا79)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: May 15th, 2016, 4:45 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9077
Has thanked: 639 times
Been thanked: 6659 times

';SALAM''';;;;;
ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻈﺎﺭﮦ

ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﷺ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﺑﺨﺎﺭ ﺗﮭﺎ، ﺁﭖﷺ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕِ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺩﻭ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﻮ ﻭﮦ ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖ ﻟﮯ ﻟﮯ۔ ﺟﺐ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﺳُﻨﺎ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ، ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﺻﺤﺎﺑۂ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺗﮭﮯ، ﺩﻝ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﻭﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺗﯿﺰ ﺑﺨﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮۂ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﺮﺥ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮ ! ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮨﯽ ﻟﮯ ﻟﻮ، ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺻﺤﺎﺑۂ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮭﻢ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﮍﭖ ﺍُﭨﮭﺎ، ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﻼﺏ ﺑِﮧ ﭘﮍﺍ، ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺭﻭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﺑﺎﻥ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺗﮭﯽ، ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺁﻗﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﮑﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﭼﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ " ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮐﻞ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ، ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ، ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺎ ﻧﺎﻡ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ، ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﻖ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺟﺐ ﺟﻨﮓِ ﺍُﺣﺪ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﮌﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﻮﮔﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﷺ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﻟﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻧﮧ ﻟﻮ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ " ﺍﮮ ﻋﻤﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ، ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﻨﮫ ﺩﮐﮭﺎﺅﻧﮕﺎ، ﺍﺳﻠﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍﺀ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﻭ، ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﮯ ﻟﻮ۔ ﺣﻀﺮﺍﺕِ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﮧ ﺭُﻭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻨﮕﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﺎ ﮐُﻮﮌﺍ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐُﺮﺗﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻟﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﻟﻮ، ﺣﻀﺮﺕِ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺣﻀﻮﺭﷺ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﻮﮌﺍ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﮐﻮ ﭼُﻮﻡ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ " ﻓَﺪﺍﮎَ ﺍﺑِﯽ ﻭﺍُﻣﯽ " ﻣﯿﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﺎﻝ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭﻭﮞ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﻣﮩﺮ ﻧﺒﻮّﺕ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﮐﺮ ﺟﻨّﺖ ﮐﺎ ﺣﻘﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺟﻨّﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮐﺮﻟﯽ۔ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺳﭽﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺟﺰﺑﮧ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ۔ ﺁﻣﯿﻦ ! ﺍﻟﺮﺣﯿﻖ ﺍﻟﻤﺨﺘﻮﻡ ﺻﻔﺤﮧ ﻧﻤﺒﺮ ۶۴۸

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
Display posts from previous:  Sort by  
Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5  Next

All times are UTC + 5 hours


Related topics
 Topics   Author   Replies   Views   Last post 
There are no new unread posts for this topic. history about pakistan

tanweer786

1

104

May 15th, 2016, 9:42 pm

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. islamic history

Ateeque bagrani

0

70

October 9th, 2016, 7:37 am

Ateeque bagrani View the latest post

There are no new unread posts for this topic. NAT GEO STAR PLUS HISTORY

AHMED786

0

55

August 29th, 2016, 6:38 am

AHMED786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. islamic history

tanweer786

0

62

April 29th, 2016, 8:04 am

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. History 2 0n Measat 3A 91.5'E

AasifAli786

1

80

July 31st, 2015, 7:29 am

Razaullah View the latest post

 


Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 3 guests


You cannot post new topics in this forum
You cannot reply to topics in this forum
You cannot edit your posts in this forum
You cannot delete your posts in this forum

Search for:
Jump to:  
News News Site map Site map SitemapIndex SitemapIndex RSS Feed RSS Feed Channel list Channel list
Powered by phpBB® Forum Software © phpBB Group

phpBB SEO