WWW.PAKLIGHT-SHARING.COM

ASIA & PAKISTAN NO 1 DIGITAL SATELLITE NETWORK FORUM
It is currently November 17th, 2017, 10:34 pm

All times are UTC + 5 hours


FULL FAST ALL HD/SD CLINE MGLINE VPS RECHARGE SKRILL/PAYPAL DOLLER AVAILABLE CALL 0301 8331640



PAK TIGER SUPER FAST SERVER CCCAM HD+SD CLINE PANEL,VPS,LOW RATES CALL GULAB 0301 8001309


HD/SD CCCAM SERVER DISHTV+VIDECOIN HD/SD+RELINCE HD/SD+SUNHD/SD+DIALOGE SD/HD PROVIDER CALL ABBAS 0301 833 1640


WE ARE THANKS TO RAMZAN KHOSA/MUDASAR/JOYAHMED/MUDASSARRAJA/MAHDIKHAN/ARIF TO START FREE SERVER IN OUR SITE


ABBAS 786 CALL 0301 833 1640

Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5, 6 ... 10  Next
Author Message
PostPosted: March 25th, 2016, 5:09 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times


';SALAM''';;;;;
حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائیوں نے جب اُن کو کنوئیں میں ڈال کر اپنے والد حضرت یعقوب علیہ السلام سے جا کر یہ کہہ دیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا تو حضرت یعقوب علیہ السلام کو بے انتہا رنج و قلق اور بے پناہ صدمہ ہوا۔ اور وہ اپنے بیٹے کے غم میں بہت دنوں تک روتے رہے اور بکثرت رونے کی وجہ سے بینائی کمزور ہو گئی تھی۔ پھر برسوں کے بعد جب برادران یوسف علیہ السلام قحط کے زمانے میں غلہ لینے کے لئے دوسری مرتبہ مصر گئے اور بھائیوں نے آپ کو پہچان کر اظہارِ ندامت کرتے ہوئے معافی طلب کی تو آپ نے انہیں معاف کرتے ہوئے یہ فرمایا کہ آج تم پر کوئی ملامت نہیں اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرما دے وہ ارحم الرٰحمین ہے۔
جب آپ نے اپنے بھائیوں سے اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کا حال پوچھا اور بھائیوں نے بتایا کہ وہ تو آپ کی جدائی میں روتے روتے بہت ہی نڈھال ہوگئے ہیں۔ اور ان کی بینائی بھی بہت کمزور ہو گئی ہے۔ بھائیوں کی زبانی والد ماجد کا حال سن کر حضرت یوسف علیہ السلام بہت ہی رنجیدہ اور غمگین ہوگئے پھر آپ نے اپنے بھائیوں سے فرمایا کہ:۔
اِذْہَبُوۡا بِقَمِیۡصِیۡ ہٰذَا فَاَلْقُوۡہُ عَلٰی وَجْہِ اَبِیۡ یَاۡتِ بَصِیۡرًا ۚ وَاۡتُوۡنِیۡ بِاَہۡلِکُمْ اَجْمَعِیۡنَ ﴿٪۹۳﴾ (پ۱۳،یوسف:۹۳)
ترجمہ کنزالایمان:۔میرا یہ کرتا لے جاؤ اسے میرے باپ کے منہ پر ڈالو ان کی آنکھیں کھل جائیں گی اور اپنے سب گھر بھر میرے پاس لے آؤ۔
چنانچہ برادران یوسف علیہ السلام اس کرتے کو لے کر مصر سے کنعان کو روانہ ہوئے۔ آپ کے بھائیوں میں سے یہودا نے کہا کہ اس کرتے کو میں لے کر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس جاؤں گا۔ کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کو کنوئیں میں ڈال کر اُن کا خون آلود کرتا بھی میں ہی اُن کے پاس لے کر گیا تھا۔ اور میں نے ہی یہ کہہ کر ان کو غمگین کیا تھا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو بھیڑیا کھا گیا۔ توچونکہ میں نے انہیں غمگین کیا تھا لہٰذا آج میں ہی یہ کرتا دے کر اور حضرت یوسف علیہ السلام کی زندگی کی خوشخبری سنا کر ان کو خوش کرنا چاہتا ہوں۔ چنانچہ یہودا اس پیراہن کو لے کر اَسّی کوس تک ننگے سر برہنہ پا دوڑتا ہوا چلا گیا۔ راستہ کی خوراک کے لئے سات روٹیاں اُس کے پاس تھیں مگر فرطِ مسرت اور جلد پہنچنے کے شوق میں وہ ان روٹیوں کو بھی نہ کھا سکا۔ اور جلد سے جلد سفر طے کر کے والد ِ محترم کی خدمت میں پہنچ گیا۔
یہودا جیسے ہی کرتا لے کر مصر سے کنعان کی طرف روانہ ہوا۔ کنعان میں حضرت یعقوب علیہ السلام کو حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو محسوس ہوئی اور آپ نے اپنے پوتوں سے فرمایا کہ:۔
اِنِّیۡ لَاَجِدُ رِیۡحَ یُوۡسُفَ لَوْ لَا اَنۡ تُفَنِّدُوۡنِ ﴿94﴾ (پ13،یوسف:94)
ترجمہ کنزالایمان:۔کہا بیشک میں یوسف کی خوشبو پاتا ہوں اگر مجھے یہ نہ کہو کہ سٹھ (بہک)گیا ۔

آپ کے پوتوں نے جواب دیا کہ خدا کی قسم آپ اب بھی اپنی اُس پرانی وارفتگی میں پڑے ہوئے ہیں بھلا کہاں یوسف ہیں اور کہاں اُن کی خوشبو؟ لیکن جب یہودا کرتا لے کر کنعان پہنچا اور جیسے ہی کرتے کو حضرت یعقوب علیہ السلام کے چہرے پر ڈالا تو فوراً ہی اُن کی آنکھوں میں روشنی آگئی۔ چنانچہ اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں فرمایا کہ:۔
فَلَمَّاۤ اَنۡ جَآءَ الْبَشِیۡرُ اَلْقٰىہُ عَلٰی وَجْہِہٖ فَارْتَدَّ بَصِیۡرًا ۚ قَالَ اَلَمْ اَقُلۡ لَّکُمْ ۚۙ اِنِّیْۤ اَعْلَمُ
مِنَ اللہِ مَا لَاتَعْلَمُوۡنَ ﴿96﴾ (پ13،یوسف:96)
ترجمہ کنزالایمان:۔پھر جب خوشی سنانے والا آیا اس نے وہ کرتا یعقوب کے منہ پر ڈالا اسی وقت اس کی آنکھیں پھر آئیں (دیکھنے لگیں )کہا میں نہ کہتا تھا کہ مجھے اللہ کی وہ شانیں معلوم ہیں جو تم نہیں جانتے۔
یہودا مصر سے حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا لے کر جیسے ہی کنعان کی طرف چلا۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کنعان میں بیٹھے ہوئے حضرت یوسف علیہ السلام کی خوشبو سونگھ لی۔ اس بارے میں حضرت شیخ سعدی علیہ الرحمۃ نے ایک بڑی ہی نصیحت آموز اور لذیذ حکایت لکھی ہے جو بہت ہی دلکش اور نہایت ہی کیف آور ہے۔
حکایت:
یکے پرسید ازاں گم کردہ فرزند کہ اے عالی گہر! پیر خرد مند

حضرت یعقوب علیہ السلام سے جن کے فرزند گم ہو گئے تھے، کسی نے یہ پوچھا کہ اے عالی ذات اور بزرگ عقلمند
زمصرش بوئے پیراہن شمیدی چرادر چاہِ کنعانش ندیدی

آپ نے مصر جیسے دور دراز مقام سے حضرت یوسف علیہ السلام کے کرتے کی خوشبو سونگھ لی۔ اور جب حضرت یوسف علیہ السلام کنعان ہی کی سرزمین میں ایک کنوئیں کے اندر تھے تو آپ کو اتنے قریب سے بھی اُن کی خوشبو محسوس نہیں ہوئی اس کی کیا وجہ ہے؟ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے یہ جواب دیا کہ

بگفتا حال ما برق جہان است د مے پیدا و دیگر دم نہان است
گہے برطارمِ اعلیٰ نشینم گہے برپشت پائے خود نہ بینم
یعنی ہم اللہ والوں کا حال کوندنے والی بجلی کی مانند ہے کہ دم بھر میں ظاہر اور دم بھر میں پوشیدہ ہوجاتی ہے۔ کبھی تو ہم لوگوں پر اللہ تعالیٰ کی صفاتِ نورانیہ کی تجلی ہوتی ہے تو ہم لوگ آسمانوں پر جا بیٹھتے ہیں اور ساری کائنات ہمارے پیش نظر ہوجاتی ہے اور کبھی جب ہم پراستغراق کی کیفیت طاری ہوتی ہے تو ہم لوگ خدا کی ذات و صفات میں ایسے مستغرق ہوجاتے ہیں کہ تمام ماسویٰ اللہ سے بے نیاز ہوجاتے ہیں۔ یہاں تک کہ ہم اپنی پشت پا کو بھی نہیں دیکھ پاتے۔ یہی وجہ ہے کہ مصر سے تو پیراہن یوسف علیہ السلام کو ہم نے سونگھ کر اس کی خوشبو محسوس کرلی۔ کیونکہ اس وقت ہم پر کشفی کیفیت طاری تھی مگر کنعان کے کنوئیں میں سے ہم کو حضرت یوسف کی خوشبو اس لئے محسوس نہ ہو سکی کہ اُس وقت ہم پر استغراقی کیفیت کا غلبہ تھا اور ہمارا یہ حال تھا کہ
میں کس کی لوں خبر، مجھے اپنی خبر نہیں

درس ہدایت:۔اس پورے واقعہ سے خاص طور پر دو سبق ملتے ہین:۔
الف :-یہ کہ اللہ والوں کے لباس اور کپڑوں میں بھی بڑی برکت اور کرامت پنہاں ہوتی ہے۔ لہٰذا بزرگوں کے لباس و پوشاک کو تبرک بنا کر رکھنا اور ان سے برکت و شفاء حاصل کرنا اور ان کو خداوند قدوس کی بارگاہ میں وسیلہ بنا کر دعاء مانگنا یہ مقبولیت اور حصولِ سعادت کا ایک بہت بڑا ذریعہ ہے۔
ب:-اللہ والوں کا حال ہر وقت اور ہمیشہ یکساں ہی نہیں رہتا بلکہ کبھی تو ان پر اللہ تعالیٰ کی تجلیات کے انوار سے ایسا حال طاری ہوتا ہے کہ اس وقت وہ سارے عالم کے ذرے ذرے کو دیکھنے لگتے ہیں اور کبھی وہ اللہ تعالیٰ کی تجلیات میں اس طرح گم ہوجاتے ہیں کہ تجلیوں کے مشاہدے میں مستغرق ہو کر سارے عالم سے بے توجہ ہوجاتے ہیں۔ اس وقت ان پر ایسی کیفیت طاری ہوجاتی ہے کہ ان کو کچھ بھی نظر نہیں آتا۔ یہاں تک کہ وہ اپنا نام تک بھول جاتے ہیں۔ تصوف کی یہ دو کشفی و استغراقی کیفیات ایسی ہیں جن کو ہر شخص نہیں سمجھ سکتا بلکہ ان کیفیات و احوال کو وہی لوگ سمجھ سکتے ہیں جو صاحب نسبت و اہل ادراک ہیں جن پر خود یہ احوال و کیفیات طاری ہوتی رہتی ہیں۔ سچ ہے
لذتِ مے نہ شناسی بخدا تا نہ چشی
اور اس حال و کیفیت کا طاری ہونا اس بات پر موقوف ہے کہ ذکر و فکر اور مراقبہ کے ساتھ ساتھ شیخ کامل کی باطنی توجہ سے دل کی صفائی اور انجلاء قلبی پیدا ہوجائے۔ سلطان تصوف حضرت مولانا رومی علیہ الرحمۃ نے اسی نکتے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا :۔

صد کتاب و صدورق در نار کُن روئے دل را جانب دلدار کُن

اور کسی دوسرے عارف نے یہ فرمایا کہ

از''کنز'' و''ہدایہ ''نہ تواں یافت خدارا
سی پارہ دل خواں کہ کتابے بہ ازیں نیست

یعنی خالی ''کنزالدقائق''و ''ہدایہ''پڑھ لینے سے خدا نہیں مل سکتا بلکہ دل کے سپارے کو پڑھو کیونکہ اس سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہے۔ مگر اس دور نفسانیت میں جب کہ تصوف کے عَلم برداروں نے اپنی بے عملی سے تصوف کے مضبوط و مستحکم محل کی اینٹ سے اینٹ بجا دی ہے اور محض جھاڑ پھونک اور شعبدہ بازیوں پر پیری مریدی کا ڈھونگ چلا رہے ہیں اور خالی رنگ برنگ کے کپڑوں اور نئی نئی تراش خراش کی پوشاکوں اور تسبیح و عصا کو شیخیت کا معیار بنا رکھا ہے۔ بھلا تصوف کی حقیقی کیفیات و تجلیات کو لوگ کب اور کیسے اور کہاں سے سمجھ سکتے ہیں؟ اس لئے اس بارے میں ارباب تصوف اس کے سوا اور کیا کہہ سکتے ہیں کہ
حقیقت خرافات میں کھو گئی یہ اُمت روایات میں کھو گئی

(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 132-128)


_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 30th, 2016, 5:08 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times

';SALAM''';;;;;
سورہ یوسف کا خلاصہ

اللہ تعالیٰ نے حضرت یوسف علیہ السلام کے قصہ کو ''احسن القصص'' یعنی تمام قصوں میں سب سے اچھا قصہ فرمایا ہے۔اس لئے کہ حضرت یوسف علیہ السلام کی مقدس زندگی کے اتار چڑھاؤ میں اور رنج و راحت اور غم و سرور کے مد و جزر میں ہر ایک واقعہ بڑی بڑی عبرتوں اور نصیحتوں کے سامان اپنے دامن میں لئے ہوئے ہے اس لئے ہم اس قصہ عجیبہ کا خلاصہ تحریر کرتے ہیں۔ تاکہ ناظرین اس سے عبرت حاصل کریں اور خداوند قدوس کی قدرتوں کا مشاہدہ کریں۔
حضرت یعقوب بن اسحٰق بن ابراہیم علیہم السلام کے بارہ بیٹے تھے جن کے نام یہ ہیں:۔
(۱)یہودا (۲)روبیل (۳)شمعون (۴)لاوی (۵)زبولون (۶)یسجر
(۷)دان (۸)نفتائی (۹)جاد (۱۰)آشر (۱۱)یوسف (۱۲)بنیامین
حضرت بنیامین حضرت یوسف علیہ السلام کے حقیقی بھائی تھے۔ باقی دوسری ماؤں سے تھے۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے تمام بھائیوں میں سب سے زیادہ اپنے باپ کے پیارے تھے اور چونکہ ان کی پیشانی پر نبوت کے نشان درخشاں تھے اس لئے حضرت یعقوب علیہ السلام ان کا بے حد اکرام اور ان سے انتہائی محبت فرماتے تھے۔ سات برس کی عمر میں حضرت یوسف علیہ السلام نے یہ خواب دیکھا کہ گیارہ ستارے اور چاند و سورج ان کو سجدہ کررہے ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے جب اپنا یہ خواب اپنے والد ماجد حضرت یعقوب علیہ السلام کو سنایا تو آپ نے ان کو منع فرما دیا کہ پیارے بیٹے!خبردار تم اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں سے مت بیان کردینا ورنہ وہ لوگ جذبہ حسد میں تمہارے خلاف کوئی خفیہ چال چل دیں گے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ ان کے بھائیوں کو ان پر حسد ہونے لگا۔ یہاں تک کہ سب بھائیوں نے آپس میں مشورہ کر کے یہ منصوبہ تیار کرلیا کہ ان کو کسی طرح گھر سے لے جا کر جنگل کے کنوئیں میں ڈال دیں۔ اس منصوبہ کی تکمیل کے لئے سب بھائی جمع ہو کر حضرت یعقوب علیہ السلام کے پاس گئے۔ اور بہت اصرار کر کے شکار اور تفریح کا بہانہ بنا کر ان کو جنگل میں لے جانے کی اجازت حاصل کرلی۔ اور ان کو گھر سے کندھوں پر بٹھا کر لے چلے۔ لیکن جنگل میں پہنچ کر دشمنی کے جوش میں ان کو زمین پر پٹخ دیا۔ اور سب نے بہت زیادہ مارا۔ پھر ان کا کرتا اتار کر اور ہاتھ پاؤں باندھ کر ایک گہرے اور اندھیرے کنوئیں میں گرا دیا۔ لیکن فوراً ہی حضرت جبریل علیہ السلام نے کنوئیں میں تشریف لا کر ان کو غرق ہونے سے اس طرح بچالیا کہ ان کو ایک پتھر پر بٹھا دیا جو اس کنوئیں میں تھا۔ اور ہاتھ پاؤں کھول کر تسلی دیتے ہوئے ان کا خوف و ہراس دور کردیا۔ اور گھر سے چلتے وقت حضرت یعقوب علیہ السلام نے حضرت یوسف علیہ السلام کا جو کرتا تعویذ بنا کر آپ کے گلے میں ڈال دیا تھا وہ نکال کر ان کو پہنا دیا جس سے اس اندھیرے کنوئیں میں روشنی ہوگئی۔

حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی آپ کو کنوئیں میں ڈال کر اور آپ کے پیراہن کو ایک بکری کے خون میں لت پت کر کے اپنے گھر کو روانہ ہو گئے اور مکان کے باہر ہی سے چیخیں مار کر رونے لگے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام گھبرا کر گھر سے باہر نکلے۔ اور رونے کا سبب پوچھا کہ تم لوگ کیوں رو رہے ہو؟ کیا تمہاری بکریوں کو کوئی نقصان پہنچ گیا ہے؟ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے دریافت فرمایا کہ میرا یوسف کہاں ہے؟ میں اس کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ تو بھائیوں نے روتے ہوئے کہا کہ ہم لوگ کھیل میں دوڑتے ہوئے دور نکل گئے اور یوسف علیہ السلام کو اپنے سامان کے پاس بٹھا کر چلے گئے تو ایک بھیڑیا آیا اور وہ اُن کو پھاڑ کر کھا گیا۔ اور یہ اُن کا کرتا ہے۔ ان لوگوں نے کرتے میں خون تو لگا لیا تھا لیکن کرتے کو پھاڑنا بھول گئے تھے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اشک بار ہو کر اپنے نورِ نظر کے کرتے کو جب ہاتھ میں لے کر غور سے دیکھا تو کرتا بالکل سلامت ہے اورکہیں سے بھی پھٹا نہیں ہے تو آپ ان لوگوں کے مکر اور جھوٹ کو بھانپ گئے۔ اور فرمایا کہ بڑا ہوشیار اور سیانا بھیڑیا تھا کہ میرے یوسف کو تو پھا ڑ کر کھا گیا مگر ان کے کرتے پر ایک ذرا سی خراش بھی نہیں آئی اور آپ نے صاف صاف فرما دیا کہ یہ سب تم لوگوں کی کارستانی اور مکر و فریب ہے۔ پھر آپ نے دکھے ہوئے دل سے نہایت درد بھری آواز میں فرمایا۔
فَصَبْرٌ جَمِیۡلٌ ؕ وَاللہُ الْمُسْتَعَانُ عَلٰی مَا تَصِفُوۡنَ ﴿18﴾ (پ12،یوسف:18)

حضرت یوسف علیہ السلام تین دن اس کنوئیں میں تشریف فرما رہے۔ یہ کنواں کھاری تھا۔ مگر آپ کی برکت سے اس کا پانی بہت لذیذ اور نہایت شیریں ہو گیا۔ اتفاق سے ایک قافلہ مدین سے مصر جا رہا تھا۔ جب اس قافلہ کا ایک آدمی جس کا نام مالک بن ذُعر خزاعی تھا، پانی بھرنے کے لئے آیا اور کنوئیں میں ڈول ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السلام ڈول پکڑ کر لٹک گئے مالک بن ذُعر نے ڈول کھینچا تو آپ کنوئیں سے باہر نکل آئے۔ جب اس نے آپ کے حسن و جمال کو دیکھا تو یٰبُشْرٰی ھٰذَا غُلاَمٌ کہہ کر اپنے ساتھیوں کو خوشخبری سنانے لگا۔ حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی جو اس جنگل میں روزانہ بکریاں چرایا کرتے تھے، برابر روزانہ کنوئیں میں جھانک جھانک کر دیکھا کرتے تھے۔ جب ان لوگوں نے آپ کو کنوئیں میں نہیں دیکھا تو تلاش کرتے ہوئے قافلہ میں پہنچے اور آپ کو دیکھ کر کہنے لگے کہ یہ تو ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے جو بالکل ہی ناکارہ اور نافرمان ہے۔ یہ کسی کام کا نہیں ہے۔ اگر تم لوگ اس کو خریدو تو ہم بہت ہی سستا تمہارے ہاتھ فروخت کردیں گے مگر شرط یہ ہے کہ تم لوگ اس کو یہاں سے اتنی دور لے جا کر فروخت کرنا کہ یہاں تک اس کی خبر نہ پہنچے۔ حضرت یوسف علیہ السلام بھائیوں کے خوف سے خاموش کھڑے رہے اور ایک لفظ بھی نہ بولے۔ پھر ان کے بھائیوں نے ان کو مالک بن ذعر کے ہاتھ صرف بیس درہموں میں فروخت کردیا۔

مالک بن ذعر ان کو خرید کر مصر کے بازار میں لے گیا۔ اور وہاں عزیز مصر نے ان کو بہت گراں قیمت دے کر خرید لیا اور اپنے شاہی محل میں لے جا کر اپنی ملکہ ''زلیخا'' سے کہا کہ تم اس غلام کو نہایت اعزاز و اکرام کے ساتھ اپنی خدمت میں رکھو۔ چنانچہ آپ عزیزِ مصر کے شاہی محل میں رہنے لگے۔ اور ملکہ زلیخا ان سے بہت محبت کرنے لگی بلکہ ان کے حسن و جمال پر فریفتہ ہو کر عاشق ہو گئی اور اس کا جوشِ عشق یہاں تک بڑھا کہ ایک دن ''زلیخا'' عشق و محبت میں والہانہ طور پر آپ کو پُھسلانے اور لبھانے لگی۔ اور آپ کو ہم بستری کی دعوت دینے لگی۔ آپ نے معاذ اللہ کہہ کر انکار فرمادیا۔ اور صاف کہہ دیا کہ میں اپنے مالک عزیزِ مصر کے ساتھ خیانت کر کے اس کے احسانوں کی ناشکری نہیں کرسکتا۔ اور آپ گھر میں سے بھاگ نکلے۔ تو ملکہ زلیخا نے دوڑ کر پیچھے سے آپ کا پیراہن پکڑ لیا۔ اور آپ کا پیراہن پیچھے سے پھٹ گیا۔ عین اسی حالت میں عزیز مصر مکان میں آگئے اور دونوں کو دیکھ لیا۔ تو زلیخا نے آپ پر تہمت لگادی۔ عزیزِ مصر حیران ہو گیا کہ ان دونوں میں سے کون سچا ہے۔ اتفاق سے مکان میں ایک چار ماہ کا بچہ پالنے میں لیٹا ہوا تھا۔ اس نے شہادت دی کہ اگر کرتا آگے سے پھٹا ہو تو یوسف علیہ السلام قصور وار ہیں اور اگر کرتا پیچھے سے پھٹا ہو تو زلیخا کی خطا ہے اور یوسف علیہ السلام بے قصور ہیں۔ جب عزیزِ مصر نے دیکھا تو کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔ فوراً عزیزِ مصر نے زلیخا کو خطا وار قرار دے کر ڈانٹا اور حضرت یوسف علیہ السلام سے یہ کہا کہ اس کا خیال و ملال نہ کیجئے۔ پھر زلیخا کے مشورہ سے عزیزِ مصر نے یوسف علیہ السلام کو قید خانہ میں بھجوا دیا۔ اس طرح اچانک حضرت یوسف علیہ السلام عزیزِ مصر کے شاہی محل سے نکل کر جیل خانہ کی کوٹھری میں چلے گئے۔ اور آپ نے جیل میں پہنچ کر یہ کہا کہ اے اللہ عزوجل! یہ قید خانہ کی کوٹھری مجھ کو اس بلا سے زیادہ محبوب ہے جس کی طرف زلیخا مجھے بلا رہی تھی۔ پھر آپ سات برس یا بارہ برس جیل خانہ میں رہے اور قیدیوں کو توحید اور اعمال صالحہ کی دعوت دیتے اور وعظ فرماتے رہے۔

یہ عجیب اتفاق کہ جس دن آپ قید خانہ میں داخل ہوئے اُسی دن آپ کے ساتھ بادشاہ مصر کے دو خادم ایک شراب پلانے والا، دوسرا باورچی دونوں جیل خانہ میں داخل ہوئے اور دونوں نے اپنا ایک ایک خواب حضرت یوسف علیہ السلام سے بیان کیا اور آپ نے اُن دونوں کے خوابوں کی تعبیر بیان فرما دی جو سو فیصدی صحیح ثابت ہوئی۔ اس لئے آپ کا نام معبر (تعبیر دینے والا)ہونا مشہور ہو گیا۔
اسی دوران مصر کے بادشاہ اعظم ریال بن ولید نے یہ خواب دیکھا کہ سات فربہ گایوں کو سات دبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات سوکھی بالیاں ہیں۔ بادشاہ اعظم نے اپنے درباریوں سے اس خواب کی تعبیر دریافت کی تو لوگوں نے اس خواب کو خواب پریشاں کہہ کر اس کی کوئی تعبیر نہیں بتائی۔ اتنے میں بادشاہ کا ساقی جو قید خانہ سے رہا ہو کر آگیا تھا، اس نے کہا کہ مجھے اس خواب کی تعبیر معلوم کرنے کے لئے جیل خانہ میں جانے کی اجازت دی جائے۔ چنانچہ یہ بادشاہ کا فرستادہ ہو کر قید خانہ میں حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس گیا اور بادشاہ کا خواب بیان کر کے تعبیر دریافت کی کہ سات دبلی گائیں سات موٹی گایوں کو کھا رہی ہیں اور سات ہری بالیاں ہیں اور سات سوکھی۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ سات برس مسلسل کھیتی کرو اور ان کے اناجوں کو بالیوں میں محفوظ رکھو۔ پھر سات برس تک سخت خشک سالی رہے گی، قحط کے ان سات برسوں میں پہلے سات برسوں کا محفوظ کیا ہوا اناج لوگ کھائیں گے اس کے بعد پھر ہریالی کا سال آئے گا۔

قاصد نے واپس جا کر بادشاہ سے اُس کے خواب کی تعبیر بتائی تو بادشاہ نے حکم دیا کہ حضرت یوسف علیہ السلام کو جیل خانہ سے نکال کر میرے دربار میں لاؤ۔ قاصد رہائی کا پروانہ لے کر جیل خانہ میں پہنچا تو آپ نے فرمایا کہ پہلے زلیخا اور دوسری عورتوں کے ذریعہ میری بے گناہی اور پاک دامنی کا اظہار کرا لیا جائے اس کے بعد ہی میں جیل سے باہر نکلوں گا۔ چنانچہ بادشاہ نے اس کی تحقیقات کرائی تو تحقیقات کے دوران زلیخا نے اقرار کرلیا کہ میں نے خود ہی حضرت یوسف علیہ السلام کو پھسلایا تھا۔ خطا میری ہے۔ حضرت یوسف سچے اور پاک دامن ہیں۔ اس کے بعد بادشاہ نے حضرت یوسف علیہ السلام کو دربار میں بلا کر کہہ دیا کہ آپ ہمارے معتمد اور ہمارے دربار کے معزز ہیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے کہا کہ آپ زمین کے خزانوں کے انتظامی امور اور حفاظتی نظام کے انتظام پر میرا تقرر کردیں۔ میں پورے نظام کو سنبھال لوں گا۔ بادشاہ نے خزانے کا انتظامی معاملہ اور ملک کے نظام و انصرام کا پورا شعبہ آپ کے سپرد کردیا۔ اس طرح ملک مصر کی حکمرانی کا اقتدار آپ کو مل گیا۔
اس کے بعد آپ نے خزانوں کا نظام اپنے ہاتھ میں لے کر سات سال تک کھیتی کا پلان چلایا اور اناجوں کو بالیوں میں محفوظ رکھا۔ یہاں تک کہ قحط اور خشک سالی کا زور شروع ہو گیا تو پوری سلطنت کے لوگ غلے کی خریداری کے لئے مصر آنا شروع ہو گئے اور آپ نے غلوں کی فروخت شروع کردی۔

اسی سلسلے میں آپ کے بھائی کنعان سے مصر آئے۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے تو ان لوگوں کو دیکھتے ہی پہلی نظر میں پہچان لیا مگر آپ کے بھائیوں نے آپ کو بالکل ہی نہیں پہچانا۔ آپ نے ان لوگوں کو غلہ دے دیا اور پھر فرمایا کہ تمہارا ایک بھائی (بنیامین) ہے آئندہ اس کو بھی ساتھ لے کر آنا۔ اگر تم لوگ آئندہ اس کو نہ لائے تو تمہیں غلہ نہیں ملے گا۔
بھائیوں نے جواب دیا کہ ہم اُس کے والد کو رضامند کرنے کی کوشش کریں گے پھر حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے غلاموں سے کہا کہ تم لوگ ان کی نقدیوں کو ان کی بوریوں میں ڈال دو تاکہ یہ لوگ جب اپنے گھر پہنچ کر ان نقدیوں کو دیکھیں گے تو امید ہے کہ ضرور یہ لوگ واپس آئیں گے۔ چنانچہ جب یہ لوگ اپنے والد کے پاس پہنچے تو کہنے لگے کہ ابا جان! اب کیا ہو گا؟ عزیز مصر نے تو یہ کہہ دیا ہے کہ جب تک تم لوگ ''بنیامین'' کو ساتھ لے کر نہ آؤ گے تمہیں غلہ نہیں ملے گا۔ لہٰذا آپ ''بنیا مین'' کو ہمارے ساتھ بھیج دیں تاکہ ہم ان کے حصہ کا بھی غلہ لے لیں۔ اور آپ اطمینان رکھیں کہ ہم لوگ ان کی حفاظت کریں گے۔ اس کے بعد جب ان لوگوں نے اپنی بوریوں کو کھولا تو حیران رہ گئے کہ ان کی رقمیں اور نقدیاں ان کی بوریوں میں موجود تھیں۔ یہ دیکھ کر برادران یوسف نے پھر اپنے والد سے کہا کہ ابا جان! اس سے بڑھ کر اچھا سلوک اور کیا چاہے؟ دیکھ لیجئے عزیزِ مصر نے ہم کو پورا پورا غلہ بھی دیا ہے اور ہماری نقدیوں کو بھی واپس کردیا ہے لہٰذا آپ بلا خوف و خطر ہمارے بھائی ''بنیامین'' کو ہمارے ساتھ بھیج دیں۔

حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ میں ایک مرتبہ ''یوسف''کے معاملہ میں تم لوگوں پر بھروسا کرچکا ہوں تو تم لوگوں نے کیا کرڈالا، اب دوبارہ میں تم لوگوں پر کیسے بھروسا کرلوں؟ میں اس طرح ''بنیامین''کو ہرگز تم لوگوں کے ساتھ نہیں بھیجوں گا۔ لیکن ہاں اگر تم لوگ حلف اٹھا کر میرے سامنے عہد کرو تو البتہ میں اس کو بھیج سکتا ہوں۔ یہ سن کر سب بھائیوں نے حلف لے کر عہد کیا اور آپ نے ان لوگوں کے ساتھ ''بنیامین''کو بھیج دیا ۔
جب یہ لوگ عزیز مصر کے دربار میں پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے بھائی ''بنیامین''کو اپنی مسند پر بٹھا لیا۔ اور چپکے سے ان کے کان میں کہہ دیا کہ میں تمہارا بھائی ''یوسف'' ہوں۔ لہٰذا تم کوئی فکر و غم نہ کرو۔ پھر آپ نے سب کو اناج دیا اور سب نے اپنی اپنی بوریوں کو سنبھال لیا۔ جب سب چلنے لگے تو آپ نے ''بنیامین'' کو اپنے پاس روک لیا۔ اب برادرانِ یوسف سخت پریشان ہوئے۔ اپنے والد کے روبرو یہ عہد کر کے آئے تھے کہ ہم اپنی جان پر کھیل کر بنیامین کی حفاظت کریں گے اور یہاں ''بنیامین'' اُن کے ہاتھ سے چھین لئے گئے۔ اب گھر جائیں تو کیونکر اور یہاں ٹھہریں تو کیسے؟ یہ معاملہ دیکھ کر سب سے بڑا بھائی ''یہودا'' کہنے لگا کہ اے میرے بھائیو!سوچو کہ تم لوگ والد صاحب کو کیا کیا عہد و پیمان دے کر آئے ہو؟ اور اس سے پہلے تم اپنے بھائی یوسف کے ساتھ کتنی بڑی تقصیر کرچکے ہو۔ لہٰذا میں تو جب تک والد صاحب حکم نہ دیں اس زمین سے ہٹ نہیں سکتا۔ ہاں تم لوگ گھر جاؤ اور والد صاحب سے سارا ماجرا عرض کردو۔
چنانچہ یہودا کے سوا دوسرے سب بھائی لوٹ کر گھر آئے اور اپنے والد سے سارا حال بیان کیا۔ تو حضرت یعقوب علیہ السلام نے فرمایا کہ یوسف کی طرح بنیامین کے معاملہ میں بھی تم لوگوں نے حیلہ سازی کی ہے۔ تو خیر، میں صبر کرتا ہوں اور صبر بہت اچھی چیز ہے۔ پھر آپ نے منہ پھیر کر رونا شروع کردیا۔ اور کہا کہ ہائے افسوس!اور حضرت یوسف علیہ السلام کو یاد کر کے اتنا روئے کہ شدت غم سے نڈھال ہو گئے اور روتے روتے آنکھیں سفید ہو گئیں۔ آپ کی زبان سے یوسف علیہ السلام کا نام سن کر حضرت یعقوب علیہ السلام سے ان کے بیٹوں پوتوں نے کہا کہ اباجان!آپ ہمیشہ یوسف علیہ السلام کو یاد کرتے رہیں گے یہاں تک کہ لب ِ گور ہوجائیں یا جان سے گزر جائیں اپنے بیٹوں پوتوں کی بات سن کر آپ نے فرمایا کہ میں اپنے غم اور پریشانی کی فریاد اللہ عزوجل ہی سے کرتا ہوں اور میں جو کچھ جانتا ہوں وہ تم لوگوں کو معلوم نہیں۔ اے میرے بیٹو! تم لوگ جاؤ۔ اور یوسف اور اُس کے بھائی ''بنیامین'' کو تلاش کرو۔ اور خدا کی رحمت سے مایوس مت ہوجاؤ کیونکہ خدا کی رحمت سے مایوس ہوجانا کافروں کا کام ہے۔

چنانچہ برادران یوسف پھر مصر کو روانہ ہوئے اور جا کر عزیزِ مصر سے کہا کہ اے عزیزِ مصر! ہمارے گھر والوں کو بہت بڑی مصیبت پہنچ گئی ہے اور ہم چند کھوٹے سکے لے کر آئے ہیں۔ لہٰذا آپ بطورِ خیرات کے کچھ غلہ دے دیجئے اپنے بھائیوں کی زبان سے گھر کی داستان اور خیرات کا لفظ سن کر حضرت یوسف علیہ السلام پر رقت طاری ہو گئی اور آپ نے بھائیوں سے پوچھا کہ تم لوگوں کو یاد ہے کہ تم لوگوں نے یوسف اور اُس کے بھائی بنیامین کے ساتھ کیا کیا سلوک کیا ہے؟ یہ سن کر بھائیوں نے حیران ہو کر پوچھا کہ سچ مچ آپ یوسف علیہ السلام ہی ہیں؟ تو آپ نے فرمایا کہ ہاں۔ میں ہی یوسف ہوں۔ اور یہ بنیامین میرا بھائی ہے۔ اللہ تعالیٰ نے ہم پر بڑا فضل و احسان فرمایا ہے۔ یہ سن کر بھائیوں نے نہایت شرمندگی اور لجاجت کے ساتھ کہنا شروع کیا کہ بلاشبہ ہم لوگ واقعی بڑے خطاکار ہیں اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو ہم لوگوں پر بہت بڑی فضیلت بخشی ہے۔ بھائیوں کی شرمندگی اور لجاجت سے متاثر ہو کر آپ کا دل بھر آیا اور آپ نے فرمایا کہ آج میں تم لوگوں کو ملامت نہیں کروں گا۔ جاؤ میں نے سب کچھ معاف کردیا۔ اللہ تعالیٰ تمہیں معاف فرمائے۔ اب تم لوگ میرا یہ کرتا لے کر گھر جاؤ۔ اور ابا جان کے چہرے پر اس کو ڈال دو تو ان کی آنکھوں میں روشنی آجائے گی۔ پھر تم لوگ سب گھروالوں کو ساتھ لے کر مصر چلے آؤ۔

بڑا بھائی یہودا کہنے لگا کہ یہ کرتا میں لے کر جاؤں گا کیونکہ حضرت یوسف علیہ السلام کا کرتا بکری کے خون میں رنگ کر میں ہی اُن کے پاس لے گیا تھا۔ تو جس طرح میں نے اُنہیں وہ کرتا دے کر غمگین کیا تھا۔ آج یہ کرتا لے جا کر ان کو خوش کردوں گا۔ چنانچہ یہودا یہ کرتا لے کر گھر پہنچا اور اپنے والد کے چہرے پر ڈال دیا تو اُن کی آنکھوں میں بینائی آگئی۔ پھر حضرت یعقوب علیہ السلام نے تہجد کے وقت کے بعد اپنے سب بیٹوں کے لئے دعا فرمائی اور یہ دعا مقبول ہوگئی۔ چنانچہ آپ پر یہ وحی اتری کہ آپ کے صاحبزادوں کی خطائیں بخش دی گئیں ۔
پھر مصر کو روانگی کا سامان ہونے لگا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد اور سب اہل و عیال کو لانے کے لئے بھائیوں کے ساتھ دو سو سواریاں بھیج دیں تھیں۔ حضرت یعقوب علیہ السلام نے اپنے گھر والوں کو جمع کیا تو کل بہتر یا تہتر آدمی تھے جن کو ساتھ لے کر آپ مصر روانہ ہو گئے مگر اللہ تعالیٰ نے آپ کی نسل میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ جب حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں بنی اسرائیل مصر سے نکلے تو چھ لاکھ سے زیادہ تھے۔ حالانکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کا زمانہ حضرت یعقوب علیہ السلام کے مصر جانے سے صرف چار سو سال بعد کا زمانہ ہے۔ جب حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے اہل و عیال کے ساتھ مصر کے قریب پہنچے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے چار ہزار لشکر اور بہت سے مصری سواروں کو ساتھ لے کر آپ کا استقبال کیا اور صدہا ریشمی جھنڈے اور قیمتی پرچم لہراتے ہوئے قطاریں باندھے ہوئے مصری باشندے جلوس کے ساتھ روانہ ہوئے۔ حضرت یعقوب علیہ السلام اپنے فرزند ''یہودا'' کے ہاتھ پر ٹیک لگائے تشریف لا رہے تھے۔ جب ان لشکروں اور سواروں پر آپ کی نظر پڑی تو آپ نے دریافت فرمایا کہ یہ فرعونِ مصر کا لشکر ہے؟ تو یہودا نے عرض کیا کہ جی نہیں۔ یہ آپ کے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام ہیں جو اپنے لشکروں اور سواروں کے ساتھ آپ کے استقبال کے لئے آئے ہوئے ہیں آپ کو متعجب دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ عزوجل کے نبی ذرا سر اٹھا کر فضائے آسمانی میں نظر فرمایئے کہ آپ کے سرور و شادمانی میں شرکت کے لئے ملائکہ کا جمِ غفیر حاضر ہے جو مدتوں آپ کے غم میں روتے رہے ہیں۔ ملائکہ کی تسبیح اور گھوڑوں کی ہنہناہٹ اور طبل و بوق کی آوازوں نے عجیب سماں پیدا کردیا تھا۔

جب باپ بیٹے دونوں قریب ہو گئے اور حضرت یوسف علیہ السلام نے سلام کا ارادہ کیا تو حضرت جبریل علیہ السلام نے کہا کہ آپ ذرا توقف کیجئے اور اپنے پدر بزرگوار کو اُن کے رقت انگیز سلام کا موقع دیجئے چنانچہ حضرت یعقوب علیہ السلام نے ان لفظوں کے ساتھ سلام کہا کہ ''اَلسَّلاَمُ عَلَیْکَ یَا مُذْھِبَ الْاَحْزَانِ'' یعنی اے تمام غموں کو دور کرنے والے آپ پر سلام ہو۔ پھر باپ بیٹوں نے نہایت گرمجوشی کے ساتھ معانقہ کیا اور فرط مسرت میں دونوں خوب روئے۔ پھر ایک استقبالیہ خیمہ میں تشریف لے گئے جو خوب مزین اور آراستہ کیا گیا تھا۔ وہاں تھوڑی دیر ٹھہر کر جب شاہی محل میں رونق افروز ہوئے تو حضرت یوسف علیہ السلام نے سہارا دے کر اپنے والد ِ محترم کو تختِ شاہی پر بٹھایا۔ اور اُن کے اردگرد آپ کے گیارہ بھائی اور آپ کی والدہ سب بیٹھ گئے اور سب کے سب بیک وقت حضرت یوسف علیہ السلام کے آگے سجدے میں گر پڑے۔ اُس وقت حضرت یوسف علیہ السلام نے اپنے والد ِ بزگوار کو مخاطب کر کے یہ کہا
یاَ بَتِ ہٰذَا تَاۡوِیۡلُ رُءۡیَایَ مِنۡ قَبْلُ ۫ قَدْ جَعَلَہَا رَبِّیۡ حَقًّا ؕ وَقَدْ اَحْسَنَ بِیۡۤ اِذْ اَخْرَجَنِیۡ مِنَ السِّجْنِ وَجَآءَ بِکُمۡ مِّنَ الْبَدْوِ مِنۡۢ بَعْدِ اَنۡ نَّزَغَ الشَّیۡطٰنُ بَیۡنِیۡ وَبَیۡنَ اِخْوَتِیۡ ؕ اِنَّ رَبِّیۡ لَطِیۡفٌ لِّمَا یَشَآءُ ؕ اِنَّہٗ ہُوَ الْعَلِیۡمُ الْحَکِیۡمُ ﴿۱۰۰﴾
ترجمہ کنزالایمان:۔ اے میرے باپ یہ میرے پہلے خواب کی تعبیر ہے بیشک اسے میرے رب نے سچا کیا اور بیشک اس نے مجھ پر احسان کیا کہ مجھے قید سے نکالا اور آپ سب کو گاؤں سے لے آیا بعد اس کے کہ شیطان نے مجھ میں اور میرے بھائیوں میں ناچاقی کرادی تھی بیشک میرا رب جس بات کو چاہے آسان کردے بیشک وہی علم و حکمت والا ہے۔ (پ۱۳،یوسف:۱۰۰ )
یعنی میرے گیارہ بھائی ستارے ہیں اور میرے باپ سورج اور میری والدہ چاند ہے اور یہ سب مجھ کو سجدہ کررہے ہیں۔ یہی آپ کا خواب تھا جو بچپن میں دیکھا تھا کہ گیارہ ستارے اور سورج و چاند مجھے سجدہ کررہے ہیں۔ یہ تاریخی واقعہ محرم کی دس تاریخ عاشورہ کے دن وقوع پذیر ہوا۔
(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 145-132)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: March 31st, 2016, 5:35 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times

';SALAM''';;;;;
حضرت یعقوب علیہ السلام کی وفات

اصحاب تواریخ کا بیان ہے کہ حضرت یعقوب علیہ السلام مصر میں اپنے فرزند حضرت یوسف علیہ السلام کے پاس چوبیس سال تک نہایت آرام و خوشحالی میں رہے۔ جب آپ کی وفات کا وقت قریب آیا تو آپ نے یہ وصیت فرمائی کہ میرا جنازہ ملک شام میں لے جا کر مجھے میرے والد حضرت اسحٰق علیہ السلام کی قبر کے پہلو میں دفن کرنا۔ چنانچہ آپ کی وفات کے بعد آپ کے جسم مقدس کو لکڑی کے صندوق میں رکھ کر مصر سے شام لایا گیا۔ ٹھیک اسی وقت آپ کے بھائی حضرت ''غیص'' کی وفات ہوئی اور آپ دونوں بھائیوں کی ولادت بھی ایک ساتھ ہوئی تھی۔ اور دونوں ایک ہی قبر میں دفن کئے گئے اور دونوں بھائیوں کی عمریں ایک سو سینتالیس برس کی ہوئیں۔ حضرت یوسف علیہ السلام اپنے والد اور چچا کو دفن فرما کر پھر مصر تشریف لائے اور اپنے والد ماجد کے بعد ۲۳ سال تک مصر پر حکومت فرماتے رہے۔ اس کے بعد آپ کی بھی وفات ہو گئی۔
(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 143)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 8th, 2016, 12:02 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times

';SALAM''';;;;;
چار مہینے کے بچے کی گواہی

حضرت یوسف علیہ السلام کو جب ان کے بھائیوں نے کنوئیں میں ڈال دیا تو ایک شخص جس کا نام مالک بن ذعر تھا جو مدین کا باشندہ تھا۔ ایک قافلہ کے ہمراہ اس کنوئیں کے پاس پہنچا اور اپنا ڈول کنوئیں میں ڈالا تو حضرت یوسف علیہ السلام نے اس ڈول کو پکڑ لیا اور مالک بن ذعر نے آپ کو کنوئیں میں سے نکال لیا تو آپ کے بھائیوں نے اُس سے کہا کہ یہ ہمارا بھاگا ہوا غلام ہے۔ اگر تم اس کو خرید لو تو ہم بہت ہی سستا تمہارے ہاتھ بیچ دیں گے۔ چنانچہ اُن کے بھائیوں نے صرف بیس درہم میں حضرت یوسف علیہ السلام کو بیچ ڈالا مگر شرط یہ لگا دی کہ تم اس کو یہاں سے اتنی دور لے جاؤ کہ اس کی خبر بھی ہمارے سننے میں نہ آئے۔ مالک بن ذعر نے ان کو خرید کر مصر کے بازار کا رخ کیا اور بازار میں ان کو فروخت کرنے کا اعلان کیا۔ ان دنوں مصر کا بادشاہ دیان بن ولید عملیقی تھا اور اس نے اپنے وزیراعظم قطفیر مصری کو مصر کی حکومت اور خزانے سونپ دیئے تھے اور مصر میں لوگ اس کو ''عزیز مصر'' کے خطاب سے پکارتے تھے۔ جب عزیز مصر کو معلوم ہوا کہ بازارِ مصر میں ایک بہت ہی خوبصورت غلام فروخت کے لئے لایا گیا ہے اور لوگ اس کی خریداری کے لئے بڑی بڑی رقمیں لے کر بازار میں جمع ہو گئے ہیں تو عزیز مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کے وزن برابر سونا، اور اتنی ہی چاندی، اور اتنا ہی مشک، اور اتنے ہی حریر قیمت دے کر خریدلیا اور گھر لے جا کر اپنی بیوی ''زلیخا''سے کہا کہ اس غلام کو نہایت ہی اعزاز و اکرام کے ساتھ رکھو۔ اس وقت آپ کی عمر شریف تیرہ یا سترہ برس کی تھی۔ ''زلیخا''حضرت یوسف علیہ السلام کے حسن و جمال پر فریفتہ ہو گئی اور ایک دن خوب بناؤ سنگھار کر کے تمام دروازوں کو بند کردیا اور حضرت یوسف علیہ السلام کو تنہائی میں لبھانے لگی۔ آپ نے معاذ اللہ کہہ کر فرمایا کہ میں اپنے مالک عزیز مصر کے احسان کو فراموش کر کے ہرگز اُس کے ساتھ کوئی خیانت نہیں کرسکتا۔ پھر جب خود زلیخا آپ کی طرف لپکی تو آپ بھاگ نکلے۔ اور زلیخا نے دوڑ کر پیچھے سے آپ کا پیراہن پکڑ لیا جو پھٹ گیا اور آپ کے پیچھے زلیخا دوڑتی ہوئی صدر دروازہ پر پہنچ گئی۔ اتفاق سے ٹھیک اسی حالت میں عزیز مصر مکان میں داخل ہوا۔ اور دونوں کو دوڑتے ہوئے دیکھ لیا تو زلیخا نے عزیز مصر سے کہا کہ اس غلام کی سزا یہ ہے کہ اس کو جیل خانہ بھیج دیا جائے یا اور کوئی دوسری سخت سزا دی جائے کیونکہ اس نے تمہاری گھر والی کے ساتھ برائی کا ارادہ کیا تھا۔ حضرت یوسف علیہ السلام نے فرمایا کہ اے عزیز مصر!یہ بالکل ہی غلط بیانی کررہی ہے۔ اس نے خود مجھے لبھایا اور میں اس سے بچنے کے لئے بھاگا تو اس نے میرا پیچھا کیا۔ عزیز مصر دونوں کا بیان سن کر حیران رہ گیا اور بولا کہ اے یوسف علیہ السلام میں کس طرح باور کرلوں کہ تم سچے ہو؟ تو آپ نے فرمایا کہ گھر میں چار مہینے کا ایک بچہ پالنے میں لیٹا ہوا ہے جو زلیخا کے ماموں کا لڑکا ہے۔ اس سے دریافت کرلیجئے کہ واقعہ کیا ہے؟ عزیز مصر نے کہا کہ بھلا چار ماہ کا بچہ کیا جانے اور وہ کیسے بولے گا؟ تو آپ نے فرمایا کہ اللہ تعالیٰ اس کو ضرور میری بے گناہی کی شہادت دینے کی قدرت عطا فرمائے گا کیونکہ میں بے قصور ہوں۔ چنانچہ عزیز مصر نے جب اُس بچے سے پوچھا تو اُس بچے نے باآوازِ بلند فصیح زبان میں یہ کہا کہ اِنۡ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ قُبُلٍ فَصَدَقَتْ وَہُوَ مِنَ الۡکٰذِبِیۡنَ ﴿26﴾وَ اِنْ کَانَ قَمِیۡصُہٗ قُدَّ مِنۡ دُبُرٍ فَکَذَبَتْ وَہُوَ مِنۡ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿27﴾ (پ12،یوسف:26،27)
ترجمہ کنزالایمان:۔گواہی دی اگر ان کا کرتا آگے سے چرا ہے تو عورت سچی ہے اور انہوں نے غلط کہا اور اگر ان کا کرتا پیچھے سے چاک ہوا تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچے۔
بچے کی زبان سے عزیز مصر نے یہ شہادت سن کر جو دیکھا تو ان کا کرتا پیچھے سے پھٹا ہوا تھا۔ تو اس وقت عزیز مصر نے حضرت یوسف علیہ السلام کی بے گناہی کا اعلان کرتے ہوئے یہ کہا:۔
اِنَّہٗ مِنۡ کَیۡدِکُنَّ ؕ اِنَّ کَیۡدَکُنَّ عَظِیۡمٌ ﴿28﴾یُوۡسُفُ اَعْرِضْ عَنْ ہٰذَا ٜ وَ اسْتَغْفِرِیۡ لِذَنۡۢبِکِ ۚۖ اِنَّکِ کُنۡتِ مِنَ الْخٰطِـِٕیۡنَ ﴿٪29﴾ (پ12،یوسف:28،29)
ترجمہ کنزالایمان:۔ بیشک یہ تم عورتوں کا چرتر(فریب)ہے بیشک تمہارا چرتر (فریب)بڑا ہے اے یوسف تم اس کا خیال نہ کرو اور اے عورت تو اپنے گناہ کی معافی مانگ بے شک تو خطا واروں میں ہے۔
(عجائب القرآن مع غرائب القرآن،صفحہ 128-126)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 10th, 2016, 5:31 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times

';SALAM''';;;;;

ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻈﺎﺭﮦ

ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺣﺴﯿﻦ ﻧﻈﺎﺭﮦ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﮐﺎ ﺟﺐ ﺍﺱ ﻇﺎﮨﺮﯼ ﺩﻧﯿﺎ ﺳﮯ ﭘﺮﺩﮦ ﻓﺮﻣﺎﻧﮯ ﮐﺎ ﻭﻗﺖ ﺁﯾﺎ ﺍﺱ ﻭﻗﺖ ﺁﭖ ﷺ ﮐﻮ ﺷﺪﯾﺪ ﺑﺨﺎﺭ ﺗﮭﺎ، ﺁﭖﷺ ﻧﮯ ﺣﻀﺮﺕِ ﺑﻼﻝ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﻮ ﺣﮑﻢ ﺩﯾﺎ ﮐﮧ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﻋﻼﻥ ﮐﺮﺩﻭ ﮐﮧ ﺟﺲ ﮐﺴﯽ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﮨﻮ ﻭﮦ ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺣﻖ ﻟﮯ ﻟﮯ۔ ﺟﺐ ﻣﺪﯾﻨﮯ ﮐﮯ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﻧﮯ ﯾﮧ ﺍﻋﻼﻥ ﺳُﻨﺎ ﺗﻮ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺁﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﻣﺪﯾﻨﮧ ﻣﯿﮟ ﮐﮩﺮﺍﻡ ﻣﭻ ﮔﯿﺎ، ﺳﺎﺭﮮ ﻟﻮﮒ ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺟﻤﻊ ﮨﻮﮔﺌﮯ، ﺻﺤﺎﺑۂ ﮐﺮﺍﻡ ﮐﯽ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮ ﺗﮭﮯ، ﺩﻝ ﺑﮯ ﭼﯿﻦ ﻭﺑﮯ ﻗﺮﺍﺭ ﺗﮭﺎ۔ ﭘﮭﺮ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻻﺋﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﻮ ﺍﺱ ﻗﺪﺭ ﺗﯿﺰ ﺑﺨﺎﺭ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭖ ﷺ ﮐﺎ ﭼﮩﺮۂ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺳﺮﺥ ﮨﻮﺍ ﺟﺎﺭﮨﺎ ﺗﮭﺎ۔ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺍﮮ ﻣﯿﺮﮮ ﺳﺎﺗﮭﯿﻮ ! ﺗﻤﮭﺎﺭﺍ ﺍﮔﺮ ﮐﻮﺋﯽ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻭﮦ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ ﺁﺝ ﮨﯽ ﻟﮯ ﻟﻮ، ﻣﯿﮟ ﻧﮩﯿﮟ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﺳﮯ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﺍﺱ ﺣﺎﻝ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﻮﮞ ﮐﮧ ﮐﺴﯽ ﺷﺨﺺ ﮐﺎ ﺣﻖ ﻣﺠﮫ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﻮ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺻﺤﺎﺑۂ ﮐﺮﺍﻡ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮭﻢ ﮐﺎ ﺩﻝ ﺗﮍﭖ ﺍُﭨﮭﺎ، ﻣﺴﺠﺪِ ﻧﺒﻮﯼ ﻣﯿﮟ ﺁﻧﺴﻮﺅﮞ ﮐﺎ ﺍﯾﮏ ﺳﯿﻼﺏ ﺑِﮧ ﭘﮍﺍ، ﺻﺤﺎﺑﮧ ﺭﻭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﻟﯿﮑﻦ ﺯﺑﺎﻥ ﺧﺎﻣﻮﺵ ﺗﮭﯽ، ﮐﮧ ﺍﺏ ﮨﻤﺎﺭﮮ ﺁﻗﺎ ﮨﻤﺎﺭﺍ ﺳﺎﺗﮫ ﭼﮭﻮﮌ ﮐﺮ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﮨﯿﮟ، ﺍﭘﻨﮯ ﺍﺻﺤﺎﺏ ﮐﯽ ﯾﮧ ﺣﺎﻟﺖ ﺩﯾﮑﮭﮑﺮ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﮐﮧ " ﺍﮮ ﻟﻮﮔﻮﮞ ﮨﺮ ﺟﺎﻧﺪﺍﺭ ﮐﻮ ﻣﻮﺕ ﮐﺎ ﻣﺰﮦ ﭼﮑﮭﻨﺎ ﮨﮯ " ﻣﯿﮟ ﺟﺲ ﻣﻘﺼﺪ ﮐﮯ ﺗﺤﺖ ﺍﺱ ﺩﻧﯿﺎ ﻣﯿﮟ ﺁﯾﺎ ﺗﮭﺎ ﻭﮦ ﭘﻮﺭﺍ ﮨﻮﮔﯿﺎ ﮨﻢ ﻟﻮﮒ ﮐﻞ ﻗﯿﺎﻣﺖ ﻣﯿﮟ ﻣﻠﯿﮟ ﮔﮯ، ﺍﯾﮏ ﺻﺤﺎﺑﯽ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﺋﮯ، ﺭﻭﺍﯾﺘﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﺍﻧﮑﺎ ﻧﺎﻡ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ، ﻋﺮﺽ ﮐﯿﺎ ﯾﺎ ﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ ﻣﯿﺮﺍ ﺣﻖ ﺁﭖ ﭘﺮ ﺑﺎﻗﯽ ﮨﮯ، ﺁﭖ ﺟﺐ ﺟﻨﮓِ ﺍُﺣﺪ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ ﺗﺸﺮﯾﻒ ﻟﮯ ﺟﺎﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ ﺗﻮ ﺁﭖ ﮐﺎ ﮐﻮﮌﺍ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻟﮓ ﮔﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﮟ ﺍﺳﮑﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﮨﻮﮞ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺣﻀﺮﺕ ﻋﻤﺮ ﺭﺿﯽ ﺍﻟﻠﮧ ﻋﻨﮧ ﮐﮭﮍﮮ ﮨﻮﮔﺌﮯ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﻮﮔﮯ؟ ﮐﯿﺎ ﺗﻢ ﺩﯾﮑﮭﺘﮯ ﻧﮩﯿﮟ ﮐﮧ ﺁﭖ ﷺ ﺑﯿﻤﺎﺭ ﮨﯿﮟ۔ ﺍﮔﺮ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﺎ ﮨﯽ ﭼﺎﮨﺘﮯ ﮨﻮ ﺗﻮ ﻣﺠﮭﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﻟﻮ ﻟﯿﮑﻦ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻧﮧ ﻟﻮ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ " ﺍﮮ ﻋﻤﺮ ﺍﺳﮯ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﯿﻨﮯ ﺩﻭ، ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﮨﮯ ﺍﮔﺮ ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍ ﻧﮧ ﮐﯿﺎ ﺗﻮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﯽ ﺑﺎﺭﮔﺎﮦ ﻣﯿﮟ ﮐﯿﺎ ﻣﻨﮫ ﺩﮐﮭﺎﺅﻧﮕﺎ، ﺍﺳﻠﺌﮯ ﻣﺠﮭﮯ ﺍﺳﮑﺎ ﺣﻖ ﺍﺩﺍﺀ ﮐﺮﻧﮯ ﺩﻭ، ﺁﭖ ﷺ ﻧﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﻨﮕﻮﺍﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﺣﻀﺮﺕ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﮐﻮ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺗﻢ ﻣﺠﮭﮯ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﮐﺮ ﺍﭘﻨﺎ ﺑﺪﻟﮧ ﻟﮯ ﻟﻮ۔ ﺣﻀﺮﺍﺕِ ﺻﺤﺎﺑﮧ ﯾﮧ ﻣﻨﻈﺮ ﺩﯾﮑﮫ ﮐﺮ ﺑﮯ ﺗﺤﺎﺷﮧ ﺭُﻭ ﺭﮨﮯ ﺗﮭﮯ، ﺣﻀﺮﺕ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﻧﮯ ﮐﮩﺎ ﮐﮧ ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮐﮯ ﺭﺳﻮﻝ ﷺ ﻣﯿﺮﯼ ﻧﻨﮕﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﺁﭘﮑﺎ ﮐُﻮﮌﺍ ﻟﮕﺎ ﺗﮭﺎ، ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﻧﮯ ﺍﭘﻨﺎ ﮐُﺮﺗﮧ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﺍُﺗﺎﺭ ﺩﯾﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﻟﻮ ﺗﻢ ﻣﯿﺮﯼ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭ ﻟﻮ، ﺣﻀﺮﺕِ ﻋُﮑﺎﺷﮧ ﻧﮯ ﺟﺐ ﺣﻀﻮﺭﷺ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﮐﻮ ﺩﯾﮑﮭﺎ ﺗﻮ ﮐﻮﮌﺍ ﭼﮭﻮﮌ ﺟﻠﺪﯼ ﺳﮯ ﺁﭖ ﷺ ﮐﯽ ﭘﯿﭩﮫ ﮐﻮ ﭼُﻮﻡ ﻟﯿﺎ ﺍﻭﺭ ﮐﮩﺎ ﯾﺎﺭﺳﻮﻝ ﺍﻟﻠﮧ " ﻓَﺪﺍﮎَ ﺍﺑِﯽ ﻭﺍُﻣﯽ " ﻣﯿﺮﯼ ﮐﯿﺎ ﻣﺠﺎﻝ ﮐﮧ ﻣﯿﮟ ﺁﭖ ﮐﻮ ﮐُﻮﮌﺍ ﻣﺎﺭﻭﮞ، ﻣﯿﮟ ﺗﻮ ﯾﮧ ﭼﺎﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﮐﮧ ﺁﭘﮑﯽ ﻣﺒﺎﺭﮎ ﭘﯿﭩﮫ ﭘﺮ ﻟﮕﯽ ﻣﮩﺮ ﻧﺒﻮّﺕ ﮐﻮ ﭼﻮﻡ ﮐﺮ ﺟﻨّﺖ ﮐﺎ ﺣﻘﺪﺍﺭ ﺑﻦ ﺟﺎﺅﮞ۔ ﯾﮧ ﺳﻦ ﮐﺮ ﺁﭖ ﷺ ﻣﺴﮑﺮﺍﺋﮯ ﺍﻭﺭ ﻓﺮﻣﺎﯾﺎ ﺗﻢ ﻧﮯ ﺟﻨّﺖ ﻭﺍﺟﺐ ﮐﺮﻟﯽ۔ ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺳﺒﺤﺎﻥ ﺍﻟﻠﮧ ! ﺍﮮ ﺍﻟﻠﮧ ﮨﻤﮯ ﺑﮭﯽ ﻧﺒﺊ ﮐﺮﯾﻢ ﷺ ﺳﮯ ﺳﭽﯽ ﻣﺤﺒﺖ ﮐﺎ ﺟﺰﺑﮧ ﻋﻄﺎ ﻓﺮﻣﺎ۔ ﺁﻣﯿﻦ ! ﺍﻟﺮﺣﯿﻖ ﺍﻟﻤﺨﺘﻮﻡ ﺻﻔﺤﮧ ﻧﻤﺒﺮ ۶۴۸

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 11th, 2016, 12:08 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times

';SALAM''';;;;;
دنیا کی سب سے قیمتی گائے

یہ بہت ہی اہم اور نہایت ہی شاندار قرآنی واقعہ ہے۔ اور اسی واقعہ کی وجہ سے قرآن مجید کی اس سورۃ کا نام ''سورہ بقرہ'' (گائے والی سورۃ)رکھا گیا ہے۔
اس کا واقعہ یہ ہے کہ بنی اسرائیل میں ایک بہت ہی نیک اور صالح بزرگ تھے اور ان کا ایک ہی بچہ تھا جو نابالغ تھا۔ اور ان کے پاس فقط ایک گائے کی بچھیا تھی۔ ان بزرگ نے اپنی وفات کے قریب اس بچھیا کو جنگل میں لے جا کر ایک جھاڑی کے پاس یہ کہہ کر چھوڑ دیا کہ یااللہ (عزوجل)میں اس بچھیا کو اس وقت تک تیری امانت میں دیتا ہوں کہ میرا بچہ بالغ ہوجائے۔ اس کے بعد ان بزرگ کی وفات ہو گئی اور بچھیا چند دنوں میں بڑی ہو کر درمیانی عمر کی ہو گئی اور بچہ جوان ہو کر اپنی ماں کا بہت ہی فرمانبردار اور انتہائی نیکوکار ہوا۔ اس نے اپنی رات کو تین حصوں میں تقسیم کررکھا تھا۔ ایک حصہ میں سوتا تھا، اور ایک حصہ میں عبادت کرتا تھا،اور ایک حصہ میں اپنی ماں کی خدمت کرتا تھا۔ اور روزانہ صبح کو جنگل سے لکڑیاں کاٹ کر لاتا اور ان کو فروخت کر کے ایک تہائی رقم صدقہ کردیتا اور ایک تہائی اپنی ذات پر خرچ کرتا اور ایک تہائی رقم اپنی والدہ کو دے دیتا۔
ایک دن لڑکے کی ماں نے کہا کہ میرے پیارے بیٹے! تمہارے باپ نے میراث میں ایک بچھیا چھوڑی تھی جس کو انہوں نے فلاں جھاڑی کے پاس جنگل میں خدا (عزوجل)کی امانت میں سونپ دیا تھا۔ اب تم اس جھاڑی کے پاس جا کر یوں دعا مانگو کہ اے حضرت ابراہیم و حضرت اسمعٰیل و حضرت اسحٰق (علیہم السلام)کے خدا! تو میرے باپ کی سونپی ہوئی امانت مجھے واپس دے دے اور اس بچھیا کی نشانی یہ ہے کہ وہ پیلے رنگ کی ہے۔ اور اس کی کھال اس طرح چمک رہی ہو گی کہ گویا سورج کی کرنیں اس میں سے نکل رہی ہیں۔ یہ سن کر لڑکا جنگل میں اس جھاڑی کے پاس گیا اور دعا مانگی تو فوراً ہی وہ گائے دوڑتی ہوئی آ کر اس کے پاس کھڑی ہوگئی اور یہ اس کو پکڑ کر گھر لایا تو اس کی ماں نے کہا۔ بیٹا تم اس گائے کو لے جا کر بازار میں تین دینار میں فروخت کرڈالو۔ لیکن کسی گاہک کو بغیر میرے مشورہ کے مت دینا۔ ان دنوں بازار میں گائے کی قیمت تین دینار ہی تھی۔ بازار میں ایک گاہک آیا جو درحقیقت فرشتہ تھا۔ اس نے کہا کہ میں گائے کی قیمت تین دینار سے زیادہ دوں گا مگر تم ماں سے مشورہ کئے بغیر گائے میرے ہاتھ فروخت کرڈالو۔ لڑکے نے کہا کہ تم خواہ کتنی بھی زیادہ قیمت دو مگر میں اپنی ماں سے مشورہ کئے بغیر ہرگز ہرگز اس گائے کو نہیں بیچوں گا۔ لڑکے نے ماں سے سارا ماجرا بیان کیا تو ماں نے کہا کہ یہ گاہک شاید کوئی فرشتہ ہو۔ تو اے بیٹا! تم اس سے مشورہ کرو کہ ہم اس گائے کو ابھی فروخت کریں یا نہ کریں۔ چنانچہ اس لڑکے نے بازار میں جب اس گاہک سے مشورہ کیا تو اس نے کہا کہ ابھی تم اس گائے کو نہ فروخت کرو۔ آئندہ اس گائے کو حضرت موسیٰ علیہ السلام کے لوگ خریدیں گے تو تم اس گائے کے چمڑے میں سونابھر کر اس کی قیمت طلب کرنا تو وہ لوگ اتنی ہی قیمت دے کر خریدیں گے۔

چنانچہ چند ہی دنوں کے بعد بنی اسرائیل کے ایک بہت مالدار آدمی کو جس کا نام عامیل تھا۔ اس کے چچا کے دونوں لڑکوں نے اس کو قتل کردیا۔ اور اس کی لاش کو ایک ویرانے میں ڈال دیا۔ صبح کو قاتل کی تلاش شروع ہوئی مگر جب کوئی سراغ نہ ملا تو کچھ لوگ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی خدمت میں حاضر ہوئے اور قاتل کا پتا پوچھا تو آپ نے فرمایا کہ تم لوگ ایک گائے ذبح کرو اور اس کی زبان یا دم کی ہڈی سے لاش کو مارو تو وہ زندہ ہو کر خود ہی اپنے قاتل کا نام بتا دے گا۔ یہ سن کر بنی اسرائیل نے گائے کے رنگ ،اس کی عمر وغیرہ کے بارے میں بحث و کرید شروع کردی۔ اور بالآخر جب وہ اچھی طرح سمجھ گئے کہ فلاں قسم کی گائے چاہے تو ایسی گائے کی تلاش شروع کردی یہاں تک کہ جب یہ لوگ اس لڑکے کی گائے کے پاس پہنچے تو ہو بہو یہ ایسی ہی گائے تھی جس کی ان لوگوں کو ضرورت تھی۔ چنانچہ ان لوگوں نے گائے کو اس کے چمڑے میں بھر کر سونا اس کی قیمت دے کر خریدا اور ذبح کرکے اس کی زبان یا دم کی ہڈی سے مقتول کی لاش کو مارا تو وہ زندہ ہو کر بول اٹھا کہ میرے قاتل میرے چچا کے دونوں لڑکے ہیں جنہوں نے میرے مال کے لالچ میں مجھ کو قتل کردیا ہے یہ بتا کر پھر وہ مر گیا۔ چنانچہ ان دونوں قاتلوں کو قصاص میں قتل کردیا گیا اور مرد صالح کا لڑکا جو اپنی ماں کا فرمانبردار تھا کثیر دولت سے مالا مال ہو گیا۔
(تفسیر الصاوی،ج۱،ص۷۵،پ۱،البقرۃ:۷۱)
اس پورے مضمون کو قرآن مجید کی مقدس آیتوں میں اس طرح بیان فرمایا گیا ہے

ترجمہ کنزالایمان:۔اور جب موسیٰ نے اپنی قوم سے فرمایا خدا تمہیں حکم دیتا ہے کہ ایک گائے ذبح کرو بولے کہ آپ ہمیں مسخرہ بناتے ہیں۔ فرمایا خدا کی پناہ کہ میں جاہلوں سے ہوں۔ بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ وہ ہمیں بتا دے گائے کیسی ۔ کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے نہ بوڑھی اور نہ اوسر بلکہ ان دونوں کے بیچ میں تو کرو جس کا تمہیں حکم ہوتا ہے۔ بولے اپنے رب سے دعا کیجئے ہمیں بتا دے اس کا رنگ کیاہے کہا وہ فرماتا ہے ، وہ ایک پیلی گائے ہے۔ جس کی رنگت ڈہڈہاتی دیکھنے والوں کو خوشی دیتی۔ بولے اپنے رب سے دعا کیجئے کہ ہمارے لئے صاف بیان کرے وہ گائے کیسی ہے بے شک گائیوں میں ہم کو شبہ پڑ گیا اور اللہ چاہے تو ہم راہ پاجائیں گے۔ کہا وہ فرماتا ہے کہ وہ ایک گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی کہ زمین جوتے اور نہ کھیتی کو پانی دے، بے عیب ہے جس میں کوئی داغ نہیں۔ بولے اب آپ ٹھیک بات لائے۔ تو اسے ذبح کیا اور ذبح کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔ اور جب تم نے ایک خون کیا تو ایک دوسرے پر اس کی تہمت ڈالنے لگے۔ اور اللہ کو ظاہر کرنا جو تم چھپاتے تھے۔ تو ہم نے فرمایا اس مقتول کو اس گائے کا ایک ٹکڑا مارو۔ اللہ یونہی مردے جلائے گا اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے کہ کہیں تمہیں عقل ہو۔
(پ۱،البقرۃ:۶۷تا۸۳)

درس ہدایت:۔اس واقعہ سے بہت سی عبرت انگیز اور نصیحت خیز باتیں اور احکام معلوم ہوئے ان میں سے چند یہ ہیں جو یاد رکھنے کے قابل ہیں:۔
(۱)خدا کے نیک بندوں کے چھوڑے ہوئے مال میں بڑی خیر و برکت ہوتی ہے۔ دیکھ لو کہ اس مرد صالح نے صرف ایک بچھیاچھوۤڑ کر وفات پائی تھی مگر اللہ تعالیٰ نے اس میں اتنی برکت عطا فرمائی کہ ان کے وارثوں کو اس ایک بچھیا کے ذریعے بے شمار دولت مل گئی۔
(۲)اس مرد صالح نے اولاد پر شفقت کرتے ہوئے بچھیا کو اللہ کی امانت میں سونپا تھا تو اس سے معلوم ہوا کہ اولاد پر شفقت رکھنا اور اولاد کے لئے کچھ مال چھوڑ جانا یہ اللہ والوں کا طریقہ ہے۔
(۳)ماں باپ کی فرماں برداری اور خدمت گزاری کرنے والوں کو خداوند کریم غیب سے بے شمار رزق کا سامان عطا فرما دیتا ہے۔ دیکھ لو کہ اس یتیم لڑکے کو ماں کی خدمت اور فرماں برداری کی بدولت اللہ تعالیٰ نے کس قدر صاحب ِ مال اور خوش حال بنادیا۔
(۴)خداوند قدوس کے احکام میں بحث اور کرید کرنا مصیبتوں کا سبب ہوا کرتا ہے۔ دیکھ لو بنی اسرائیل کو ایک گائے ذبح کرنے کا حکم ہوا تھا۔ وہ کوئی سی بھی ایک گائے ذبح کردیتے تو فرض ادا ہو جاتا مگر ان لوگوں نے جب بحث اور کرید شروع کردی کہ کیسی گائے ہو؟ کیسا رنگ ہو؟ کتنی عمر ہو؟ تو مصیبت میں پڑ گئے کہ انہیں ایک ایسی گائے ذبح کرنی پڑی جو بالکل نایاب تھی۔ اسی لئے اس کی قیمت اتنی زیادہ ادا کرنی پڑی کہ دنیا میں کسی گائے کی اتنی قیمت نہ ہوئی، نہ آئندہ ہونے کی امید ہے۔
(۵)جو اپنا مال اللہ تعالیٰ کی امانت میں سونپ دے اللہ تعالیٰ اس کی حفاظت فرماتا ہے اور اس میں بے حساب خیر و برکت عطا فرما دیتا ہے۔
(۶)جو اپنے اہل و عیال کو اللہ تعالیٰ کے سپرد فرما دے اللہ تعالیٰ اس کے اہل و عیال کی ایسی پرورش فرماتا ہے کہ جس کو کوئی سوچ بھی نہیں سکتا۔
(۷) امیرالمومنین حضرت علی رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے فرمایا کہ جو پیلے رنگ کا جوتا پہنے گا وہ ہمیشہ خوش رہے گا۔ اور اس کو غم بہت کم ہو گا۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ نے پیلی گائے کے لئے یہ فرمایا کہ ''تَسُرُّ النّٰظِرِیۡنَ ﴿۶۹﴾'' کہ وہ دیکھنے والوں کو خوش کردیتی ہے۔
(تفسیر روح البیان،ج۱،ص۱۶۰،پ۱،البقرۃ:۶۹، )
(۸)اس سے معلوم ہوا کہ قربانی کا جانور جس قدر بھی زیادہ بے عیب اور خوبصورت اور قیمتی ہواسی قدر زیادہ بہتر ہے۔ (واللہ تعالٰی اعلم)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 19th, 2016, 12:22 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times

';SALAM''';;;;;
حضرت یوسف علیہ السلام کی قبر

آپ کی وفات کے بعد آپ کے مقام دفن میں سخت اختلاف پیدا ہو گیا۔ ہر محلے والے حصولِ برکت کے لئے اپنے ہی محلہ میں دفن پر اصرار کرنے لگے۔ آخر اس بات پر سب کا اتفاق ہو گیا کہ آپ کو بیچ دریائے نیل میں دفن کیا جائے تاکہ دریا کا پانی آپ کی قبر منور کو چھوتا ہوا گزرے۔ اور تمام مصر والے آپ کے فیوض و برکات سے فیضیاب ہوتے رہیں۔ چنانچہ آپ کو سنگ مرمر کے صندوق میں رکھ کر دریائے نیل کے بیچ میں دفن کیا گیا۔ یہاں تک کہ چار سو برس کے بعد حضرت موسیٰ علیہ السلام نے آپ کے تابوت شریف کو دریا سے نکال کر آپ کے آباؤ اجداد کی قبروں کے پاس ملک شام میں دفن فرمایا۔ بوقت وفات آپ کی عمر شریف ایک سو بیس برس کی تھی اور آپ کے والد محترم حضرت یعقوب علیہ السلام نے ۱۴۷ برس کی عمر پائی۔ اور آپ کے دادا حضرت اسحٰق علیہ السلام کی عمر شریف ۱۸۰ سال کی ہوئی اور آپ کے پردادا حضرت ابراہیم خلیل اللہ علیہ السلام کی عمر شریف ۱۷۵ سال کی ہوئی
(روح البیان،ج۴،ص۳۲۴، پ۱۳، یوسف:۱۰۰)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 23rd, 2016, 5:14 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times

';SALAM''';;;;;
اُلٹ پلٹ ہوجانے والا شہر

یہ حضرت لوط علیہ السلام کا شہر ''سَدُوم''ہے۔ جو ملک شام میں صوبہ ''حِمْصْ'' کا ایک مشہور شہر ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام بن ہاران بن تارخ، یہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں۔ یہ لوگ عراق میں شہر ''بابل'' کے باشندہ تھے پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں سے ہجرت کر کے ''فلسطین'' تشریف لے گئے اور حضرت لوط علیہ السلام ملک شام کے ایک شہر ''اُردن'' میں مقیم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فرما کر ''سدوم'' والوں کی ہدایت کے لئے بھیج دیا۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۸۹،پ۸، الاعراف:۸۰)
شہر سدوم:۔شہر سدوم کی بستیاں بہت آباد اور نہایت سرسبز و شاداب تھیں اور وہاں طرح طرح کے اناج اور قسم قسم کے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے۔ شہر کی خوشحالی کی وجہ سے اکثر جابجا کے لوگ مہمان بن کر ان آبادیوں میں آیا کرتے تھے اور شہر کے لوگوں کو ان مہمانوں کی مہمان نوازی کا بار اٹھانا پڑتا تھا۔ اس لئے اس شہر کے لوگ مہمانوں کی آمد سے بہت ہی کبیدہ خاطر اور تنگ ہوچکے تھے۔ مگر مہمانوں کو روکنے اور بھگانے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی۔ اس ماحول میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا۔ اور ان لوگوں سے کہنے لگا کہ اگر تم لوگ مہمانوں کی آمد سے نجات چاہتے ہو تو اس کی یہ تدبیر ہے کہ جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ بدفعلی کرو۔ چنانچہ سب سے پہلے ابلیس خود ایک خوبصورت لڑکے کی شکل میں مہمان بن کر اس بستی میں داخل ہوا۔ اور ان لوگوں سے خوب بدفعلی کرائی اس طرح یہ فعلِ بد ان لوگوں نے شیطان سے سیکھا۔ پھر رفتہ رفتہ اس برے کام کے یہ لوگ اس قدر عادی بن گئے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی شہوت پوری کرنے لگے۔
( روح البیان،ج۳،ص۱۹۷،پ۸،الاعراف: ۸۴)

چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام نے ان لوگوں کو اس فعلِ بد سے منع کرتے ہوئے اس طرح وعظ فرمایا کہ:۔
اَتَاۡتُوۡنَ الْفَاحِشَۃَ مَا سَبَقَکُمۡ بِہَا مِنْ اَحَدٍ مِّنَ الْعٰلَمِیۡنَ ﴿80﴾اِنَّکُمْ لَتَاۡتُوۡنَ الرِّجَالَ شَہۡوَۃً مِّنۡ دُوۡنِ النِّسَآءِ ؕ بَلْ اَنۡتُمْ قَوْمٌ مُّسْرِفُوۡنَ ﴿81
ترجمہ کنزالایمان:۔اپنی قوم سے کہا کیا وہ بے حیائی کرتے ہو جو تم سے پہلے جہان میں کسی نے نہ کی تم تو مردوں کے پاس شہوت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے۔
(پ8،الاعراف:80،81)
حضرت لوط علیہ السلام کے اس اصلاحی اور مصلحانہ وعظ کو سن کر ان کی قوم نے نہایت بے باکی اور انتہائی بے حیائی کے ساتھ کیا کہا؟ اس کو قرآن کی زبان سے سنیئے:۔
وَمَاکَانَ جَوَابَ قَوْمِہٖۤ اِلَّاۤ اَنۡ قَالُوۡۤا اَخْرِجُوۡہُمۡ مِّنۡ قَرْیَتِکُمْ ۚ اِنَّہُمْ اُنَاسٌ یَّتَطَہَّرُوۡنَ ﴿82
ترجمہ کنزالایمان:۔ اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں۔(پ8،الاعراف:82

جب قوم لوط کی سرکشی اور بدفعلی قابل ہدایت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آگیا۔ چنانچہ حضرت جبرائیل علیہ السلام چند فرشتوں کو ہمراہ لے کر آسمان سے اتر پڑے۔ پھر یہ فرشتے مہمان بن کر حضرت لوط علیہ السلام کے پاس پہنچے اور یہ سب فرشتے بہت ہی حسین اور خوبصورت لڑکوں کی شکل میں تھے۔ ان مہمانوں کے حسن و جمال کو دیکھ کر اور قوم کی بدکاری کا خیال کر کے حضرت لوط علیہ السلام بہت فکرمند ہوئے۔ تھوڑی دیر بعد قوم کے بدفعلوں نے حضرت لوط علیہ السلام کے گھر کا محاصرہ کرلیا اور ان مہمانوں کے ساتھ بدفعلی کے ارادہ سے دیوار پر چڑھنے لگے۔ حضرت لوط علیہ السلام نے نہایت دل سوزی کے ساتھ ان لوگوں کو سمجھانا اور اس برے کام سے منع کرنا شروع کردیا۔ مگر یہ بدفعل اور سرکش قوم اپنے بے ہودہ جواب اور برے اقدام سے باز نہ آئی۔ تو آپ اپنی تنہائی اور مہمانوں کے سامنے رسوائی سے تنگ دل ہوکر غمگین و رنجیدہ ہو گئے۔ یہ منظر دیکھ کر حضرت جبریل علیہ السلام نے فرمایا کہ اے اللہ عزوجل کے نبی آپ بالکل کوئی فکر نہ کریں۔ ہم لوگ اللہ تعالیٰ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں جو ان بدکاروں پر عذاب لے کر اترے ہیں۔ لہٰذا آپ مومنین اور اپنے اہل و عیال کو ساتھ لے کر صبح ہونے سے قبل ہی اس بستی سے دور نکل جائیں اور خبردار کوئی شخص پیچھے مڑ کر اس بستی کی طرف نہ دیکھے ورنہ وہ بھی اس عذاب میں گرفتار ہوجائے گا۔ چنانچہ حضرت لوط علیہ السلام اپنے گھر والوں اور مومنین کو ہمراہ لے کر بستی سے باہر نکل گئے۔ پھر حضرت جبریل علیہ السلام اس شہر کی پانچوں بستیوں کو اپنے پروں پر اٹھا کر آسمان کی طرف بلند ہوئے اور کچھ اوپر جا کر ان بستیوں کو الٹ دیا اور یہ آبادیاں زمین پر گر کر چکنا چور ہو کر زمین پر بکھر گئیں۔ پھر کنکر کے پتھروں کا مینہ برسا اور اس زور سے سنگ باری ہو ئی کہ قوم لوط کے تمام لوگ مر گئے اور ان کی لاشیں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئیں۔ عین اس وقت جب کہ یہ شہر الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ حضرت لوط علیہ السلام کی ایک بیوی جس کا نام ''واعلہ'' تھا جو درحقیقت منافقہ تھی اور قوم کے بدکاروں سے محبت رکھتی تھی اس نے پیچھے مڑ کر دیکھ لیا اور یہ کہا کہ ''ہائے رے میری قوم''یہ کہہ کر کھڑی ہو گئی پھر عذابِ الٰہی کا ایک پتھر اس کے اوپر بھی گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی۔ چنانچہ قرآن مجید میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے کہ:۔
فَاَنۡجَیۡنٰہُ وَاَہۡلَہٗۤ اِلَّا امْرَاَتَہٗ ۫ۖ کَانَتْ مِنَ الْغٰبِرِیۡنَ ﴿83﴾وَاَمْطَرْنَا عَلَیۡہِمۡ مَّطَرًا ؕ فَانۡظُرْکَیۡفَ کَانَ عَاقِبَۃُ الْمُجْرِمِیۡنَ ﴿٪84
ترجمہ کنزالایمان:۔تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی اور ہم نے اُن پر ایک مینہ برسایا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔(پ8،الاعراف:83،84
جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے وہ کنکروں کے ٹکڑے تھے۔ اور ہر پتھر پر اُس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۹۱،پ۸،الاعراف:۸۴)
درس ہدایت:۔اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ لواطت کس قدر شدید اور ہولناک گناہ کبیرہ ہے کہ اس جرم میں قوم لوط کی بستیاں الٹ پلٹ کر دی گئیں اور مجرمین پتھراؤ کے عذاب سے مر کر دنیا سے نیست و نابود ہو گئے۔
منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مرتبہ ابلیس لعین سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر کون سا گناہ ناپسند ہے؟ تو ابلیس نے کہا کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یہ گناہ ناپسند ہے کہ مرد، مرد سے بدفعلی کرے اور عورت، عورت سے اپنی خواہش پوری کرے۔ اور حدیث میں ہے کہ عورت کا اپنی فرج کو دوسری عورت کی فرج سے رگڑنا یہ ان دونوں کی زنا کاری ہے جو گناہ کبیرہ ہے۔
( روح البیان،ج۳،ص۱۹۸،پ۸، الاعراف:۸۴)
(لواطت کی ممانعت کا تفصیلی بیان کتاب ''جہنم کے خطرات'' میں پڑھیئے)

(عجائب القرآن مع غرائب القرآن صفحہ 113-109)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 25th, 2016, 5:36 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times

';SALAM''';;;;;
قومِ عاد کی آندھی

قوم عاد مقام ''احقاف''میں رہتی تھی جو عمان و حضر موت کے درمیان ایک بڑا ریگستان ہے۔ ان کے مورثِ اعلیٰ کا نام عاد بن عوص بن ارم بن سام بن نوح ہے۔ پوری قوم کے لوگ ان کو مورثِ اعلیٰ ''عاد''کے نام سے پکارنے لگے۔ یہ لوگ بت پرست اور بہت بداعمال و بدکردار تھے۔ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر حضرت ہود علیہ السلام کو ان لوگوں کی ہدایت کے لئے بھیجا مگر اس قوم نے اپنے تکبر اور سرکشی کی وجہ سے حضرت ہود علیہ السلام کو جھٹلا دیا اور اپنے کفر پر اڑے رہے۔ حضرت ہود علیہ السلام بار بار ان سرکشوں کو عذابِ الٰہی سے ڈراتے رہے، مگر اس شریر قوم نے نہایت ہی بے باکی اور گستاخی کے ساتھ اپنے نبی سے یہ کہہ دیا کہ:۔

اَجِئْتَنَا لِنَعْبُدَ اللہَ وَحْدَہٗ وَنَذَرَ مَاکَانَ یَعْبُدُ اٰبَآؤُنَا ۚ فَاۡتِنَا بِمَا تَعِدُنَاۤ اِنۡ کُنۡتَ مِنَ الصّٰدِقِیۡنَ ﴿70
ترجمہ کنزالایمان:۔کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ

ترجمہ کنزالایمان:۔کیا تم ہمارے پاس اس لئے آئے ہو کہ ہم ایک اللہ کو پوجیں اور جو ہمارے باپ دادا پوجتے تھے۔ انہیں چھوڑ دیں تو لاؤ جس کا ہمیں وعدہ دے رہے ہو اگر سچے ہو۔

آخر عذابِ الٰہی کی جھلکیاں شروع ہو گئیں۔ تین سال تک بارش ہی نہیں ہوئی۔ اور ہر طرف قحط و خشک سالی کا دور دورہ ہو گیا۔ یہاں تک کہ لوگ اناج کے دانے دانے کو ترس گئے۔ اس زمانے کا یہ دستور تھا کہ جب کوئی بلا اور مصیبت آتی تھی تو لوگ مکہ معظمہ جا کر خانہ کعبہ میں دعائیں مانگتے تھے تو بلائیں ٹل جاتی تھیں۔ چنانچہ ایک جماعت مکہ معظمہ گئی۔ اس جماعت میں مرثد بن سعد نامی ایک شخص بھی تھا جو مومن تھا مگر اپنے ایمان کو قوم سے چھپائے ہوئے تھا۔ جب ا ن لوگوں نے کعبہ معظمہ میں دعا مانگنی شروع کی تو مرثد بن سعد کا ایمانی جذبہ بیدار ہو گیا۔ اور اس نے تڑپ کر کہا کہ اے میری قوم تم لاکھ دعائیں مانگو، مگر خدا کی قسم اس وقت تک پانی نہیں برسے گا جب تک تم اپنے نبی حضرت ہود علیہ السلام پر ایمان نہ لاؤ گے۔ حضرت مرثد بن سعد نے جب اپنا ایمان ظاہر کردیا تو قوم عاد کے شریروں نے ان کو مار پیٹ کر الگ کردیا اور دعائیں مانگنے لگے۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے تین بدلیاں بھیجیں۔ ایک سفید، ایک سرخ، ایک سیاہ اور آسمان سے ایک آواز آئی کہ اے قوم عاد!تم لوگ اپنی قوم کے لئے ان تین بدلیوں میں سے ایک بدلی کو پسند کرلو۔ ان لوگوں نے کالی بدلی کو پسند کرلیا اور یہ لوگ اس خیال میں مگن تھے کہ کالی بدلی خوب زیادہ بارش دے گی۔ چنانچہ وہ ابر سیاہ قوم عاد کی آبادیوں کی طرف چل پڑا۔ قوم عاد کے لوگ کالی بدلی کو دیکھ کر بہت خوش ہوئے۔ حضرت ہود علیہ السلام نے فرمایا کہ اے میری قوم ! دیکھ لو عذابِ الٰہی ابر کی صورت میں تمہاری طرف بڑھ رہا ہے مگر قوم کے گستاخوں نے اپنے نبی کو جھٹلا دیا اور کہا کہ کہاں کا عذاب اور کیسا عذاب؟ ھٰذَا عَارِضٌ مُمْطِرُنَا یہ تو بادل ہے جو ہمیں بارش دینے کے لئے آرہا ہے۔ (روح البیان،ج۳،ص۱۸۷تا۱۸۹،پ ۸، الاعراف:۷۰)

یہ بادل پچھم کی طرف سے آبادیوں کی طرف برا بربڑھتا رہا اور ایک دم ناگہاں اس میں سے ایک آندھی آئی جو اتنی شدید تھی کہ اونٹوں کو مع ان کے سوا ر کے اڑا کر کہیں سے کہیں پھینک دیتی تھی۔ پھر اتنی زور دار ہو گئی کہ درختوں کو جڑوں سے اکھاڑ کر اڑا لے جانے لگی۔ یہ دیکھ کر قوم عاد کے لوگوں نے اپنے سنگین محلوں میں داخل ہو کر دروازوں کو بند کرلیا مگر آندھی کے جھونکے نہ صرف دروازوں کو اکھاڑ کر لے گئے بلکہ پوری عمارتوں کو جھنجھوڑ کر ان کی اینٹ سے اینٹ بجادی۔ سات رات اور آٹھ دن مسلسل یہ آندھی چلتی رہی۔ یہاں تک کہ قوم عاد کا ایک ایک آدمی مر کر فنا ہو گیا۔ اور اس قوم کا ایک بچہ بھی باقی نہ رہا۔جب آندھی ختم ہوئی تو اس قوم کی لاشیں زمین پر اس طرح پڑی ہوئی تھیں جس طرح کھجوروں کے درخت اکھڑ کر زمین پر پڑے ہوں چنانچہ ارشاد ربانی ہے:۔

وَ اَمَّا عَادٌ فَاُہۡلِکُوۡا بِرِیۡحٍ صَرْصَرٍ عَاتِیَۃٍ ۙ﴿6﴾سَخَّرَہَا عَلَیۡہِمْ سَبْعَ لَیَالٍ وَّ ثَمٰنِیَۃَ اَیَّامٍ ۙ حُسُوۡمًا ۙ فَتَرَی الْقَوْمَ فِیۡہَا صَرْعٰی ۙ کَاَنَّہُمْ اَعْجَازُ نَخْلٍ خَاوِیَۃٍ ۚ﴿7﴾فَہَلْ تَرٰی لَہُمۡ مِّنۡۢ بَاقِیَۃٍ ﴿8

ترجمہ کنزالایمان:۔اور رہے عاد وہ ہلاک کئے گئے نہایت سخت گرجتی آندھی سے وہ ان پر قوت سے لگا دی سات راتیں اور آٹھ دن لگاتار تو ان لوگوں کو ان میں دیکھو بچھڑے ہوئے گویا وہ کھجور کے ڈنڈ(سوکھے تنے)ہیں گرے ہوئے تو تم ان میں کسی کو بچا ہوا دیکھتے ہو۔
(پ29،الحاقۃ:6تا8)

پھر قدرتِ خداوندی سے کالے رنگ کے پرندوں کا ایک غول نمودار ہوا۔ جنہوں نے ان کی لاشوں کو اٹھا کر سمندر میں پھینک دیا۔ اور حضرت ہود علیہ السلام نے اس بستی کو چھوڑ دیا اور چند مومنین کو جو ایمان لائے تھے ساتھ لے کر مکہ مکرمہ چلے گئے۔ اور آخرِ زندگی تک بیت اللہ شریف میں عبادت کرتے رہے۔
(تفسیر الصاوی،ج۲،ص۶۸۶،پ۸،الاعراف:۷۰)

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
PostPosted: April 30th, 2016, 5:49 pm 
Offline
Site Admin
Site Admin
User avatar

Joined: May 23rd, 2015, 7:38 pm
Posts: 9079
Has thanked: 640 times
Been thanked: 6668 times

';SALAM''';;;;;
حضرت یونس علیہ السلام مچھلی کے پیٹ میں

حضرت یونس علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے شہر ''نینویٰ''کے باشندوں کی ہدایت کے لئے رسول بنا کر بھیجا تھا۔
نینویٰ:۔یہ موصل کے علاقہ کا ایک بڑا شہر تھا۔ یہاں کے لوگ بت پرستی کرتے تھے اور کفر و شرک میں مبتلا تھے۔ حضرت یونس علیہ السلام نے ان لوگوں کو ایمان لانے اور بت پرستی چھوڑنے کا حکم دیا۔ مگر ان لوگوں نے اپنی سرکشی اور تمرد کی وجہ سے اللہ عزوجل کے رسول علیہ السلام کو جھٹلادیا اور ایمان لانے سے انکار کردیا۔ حضرت یونس علیہ السلام نے انہیں خبر دی کہ تم لوگوں پر عنقریب عذاب آنے والا ہے۔ یہ سن کر شہر کے لوگوں نے آپس میں یہ مشورہ کیا کہ حضرت یونس علیہ السلام نے کبھی کوئی جھوٹی بات نہیں کہی ہے۔ اس لئے یہ دیکھو کہ اگر وہ رات کو اس شہر میں رہیں جب تو سمجھ لو کہ کوئی خطرہ نہیں ہے اور اگر انہوں نے اس شہر میں رات نہ گزاری تو یقین کرلینا چاہیئے کہ ضرور عذاب آئے گا۔ رات کو لوگوں نے یہ دیکھا کہ حضرت یونس علیہ السلام شہر سے باہر تشریف لے گئے۔ اور واقعی صبح ہوتے ہی عذاب کے آثار نظر آنے لگے کہ چاروں طرف سے کالی بدلیاں نمودار ہوئیں اور ہر طرف سے دھواں اٹھ کر شہر پر چھا گیا۔ یہ منظر دیکھ کر شہر کے باشندوں کو یقین ہو گیا کہ عذاب آنے والا ہی ہے تو لوگوں کو حضرت یونس علیہ السلام کی تلاش و جستجو ہوئی مگر وہ دور دور تک کہیں نظر نہیں آئے۔ اب شہر والوں کو اور زیادہ خطرہ اور اندیشہ ہو گیا۔ چنانچہ شہر کے تمام لوگ خوف ِ خداوندی عزوجل سے ڈر کر کانپ اٹھے اور سب کے سب عورتوں، بچوں بلکہ اپنے مویشیوں کو ساتھ لے کر اور پھٹے پرانے کپڑے پہن کر روتے ہوئے جنگل میں نکل گئے اور رو رو کر صدقِ دل سے حضرت یونس علیہ السلام پر ایمان لانے کا اقرار و اعلان کرنے لگے۔ شوہر بیوی سے اور مائیں بچوں سے الگ ہو کر سب کے سب استغفار میں مشغول ہو گئے اور دربارِ باری میں گڑگڑا کر گریہ و زاری شروع کردی۔ جو مظالم آپس میں ہوئے تھے ایک دوسرے سے معاف کرانے لگے اور جتنی حق تلفیاں ہوئی تھیں سب کی آپس میں معافی تلافی کرنے لگے۔ غرض سچی توبہ کر کے خدا عزوجل سے یہ عہد کرلیا کہ حضرت یونس علیہ السلام جو کچھ خدا کا پیغام لائے ہیں ہم اس پر صدقِ دل سے ایمان لائے، اللہ تعالیٰ کو شہر والوں کی بے قراری اور مخلصانہ گریہ و زاری پر رحم آیا اور عذاب اٹھا لیا گیا۔ ناگہاں دھواں اور عذاب کی بدلیاں رفع ہو گئیں اور تمام لوگ پھر شہر میں آکر امن و چین کے ساتھ رہنے لگے۔
اس واقعہ کو ذکر کرتے ہوئے خداوند قدوس نے
قرآن مجید میں یوں ارشاد فرمایا ہے کہ:۔ فَلَوْ لَا کَانَتْ قَرْیَۃٌ اٰمَنَتْ فَنَفَعَہَاۤ اِیۡمٰنُہَاۤ اِلَّا قَوْمَ یُوۡنُسَؕ لَمَّاۤ اٰمَنُوۡا کَشَفْنَا عَنْہُمْ عَذَابَ الۡخِزْیِ فِی الْحَیٰوۃِ الدُّنْیَا وَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿۹۸

ترجمہ کنزالایمان:۔تو ہوئی ہوتی نہ کوئی بستی کہ ایمان لاتی تو اس کا ایمان کام آتا ہاں یونس کی قوم جب ایمان لائے ہم نے ان سے رسوائی کا عذاب دنیا کی زندگی میں ہٹا دیا اور ایک وقت تک انہیں برتنے دیا۔
(پ۱۱،یونس:۹۸)

مطلب یہ ہے کہ جب کسی قوم پر عذاب آجاتا ہے تو عذاب آجانے کے بعد ایمان لانا مفید نہیں ہوتا مگر حضرت یونس علیہ السلام کی قوم پر عذاب کی بدلیاں آجانے کے بعد بھی جب وہ لوگ ایمان لائے تو ان سے عذاب اٹھا لیا گیا۔
عذاب ٹلنے کی دعا:۔طبرانی شریف کی روایت ہے کہ شہر نینویٰ پر جب عذاب کے آثار ظاہر ہونے لگے اور حضرت یونس علیہ السلام باجود تلاش و جستجو کے لوگوں کو نہیں ملے تو شہر والے گھبرا کر اپنے ایک عالم کے پاس گئے جو صاحب ِ ایمان اور شیخِ وقت تھے اور ان سے فریاد کرنے لگے تو انہوں نے حکم دیا کہ تم لوگ یہ وظیفہ پڑھ کر
دعا مانگو یَاحَیُّ حِیْنَ لاَ حَیَّ و َیَاحَیُّ یُحْیِ الْمَوْتٰی وَیَاحَیُّ لاَ اِلٰہَ اِلاَّ اَنْتَ چنانچہ لوگوں نے یہ پڑھ کر دعا مانگی تو عذاب ٹل گیا۔ لیکن مشہور محدث اور صاحب ِ کرامت ولی حضرت فضیل بن عیاض علیہ الرحمۃ کا قول ہے کہ شہر نینویٰ کا عذاب جس دعا کی برکت سے دفع ہوا وہ دعا یہ تھی کہ
اَللّٰھُمَّ اِنَّ ذُنُوْبَنَا قَدْ عَظُمَتْ وَجَلَّتْ وَاَنْتَ اَعْظَمُ وَاَجَلُّ فَافْعَلْ بِنَا مَا اَنْتَ اَھْلُہٗ وَلاَ تَفْعَلْ بِنَا مَانَحْنُ اَھْلُہٗ
بہرحال عذاب ٹل جانے کے بعد جب حضرت یونس علیہ السلام شہر کے قریب آئے تو آپ نے شہر میں عذاب کا کوئی اثر نہیں دیکھا۔ لوگوں نے عرض کیا کہ آپ اپنی قوم میں تشریف لے جایئے۔ تو آپ نے فرمایا کہ کس طرح اپنی قوم میں جا سکتا ہوں؟ میں تو ان لوگوں کو عذاب کی خبر دے کر شہر سے نکل گیا تھا، مگر عذاب نہیں آیا۔ تو اب وہ لوگ مجھے جھوٹا سمجھ کر قتل کردیں گے۔ آپ یہ فرما کر اور غصہ میں بھر کر شہر سے پلٹ آئے اور ایک کشتی میں سوار ہو گئے یہ کشتی جب بیچ سمندر میں پہنچی تو کھڑی ہو گئی۔ وہاں کے لوگوں کا یہ عقیدہ تھا کہ وہی کشتی سمندر میں کھڑی ہو جایا کرتی تھی جس کشتی میں کوئی بھاگا ہوا غلام سوار ہوجاتا ہے۔ چنانچہ کشتی والوں نے قرعہ نکالا تو حضرت یونس علیہ السلام کے نام کا قرعہ نکلا۔ تو کشتی والوں نے آپ کو سمندر میں پھینک دیا اور کشتی لے کر روانہ ہو گئے اور فوراً ہی ایک مچھلی آپ کو نگل گئی اور مچھلی کے پیٹ میں جہاں بالکل اندھیرا تھا آپ مقید ہو گئے۔ مگر اسی حالت میں آپ نے آیت کریمہ لَآ اِلٰہَ اِلآَّ اَنْتَ سُبْحٰنَکَ اِنِّیْ کُنْتُ مِنَ الظّٰلِمِیْنَ

o(پ۱۷،الانبیاء:۸۷) کا وظیفہ پڑھنا شروع کردیا تو اس کی برکت سے اللہ تعالیٰ نے آپ کو اس اندھیری کوٹھڑی سے نجات دی اور مچھلی نے کنارے پر آکر آپ کو اُگل دیا۔ اس وقت آپ بہت ہی نحیف و کمزور ہوچکے تھے۔ خدا عزوجل کی شان کہ اُس جگہ کدو کی ایک بیل اُگ گئی اور آپ اُس کے سایہ میں آرام کرتے رہے پھر جب آپ میں کچھ توانائی آگئی تو آپ اپنی قوم میں تشریف لائے اور سب لوگ انتہائی محبت و احترام کے ساتھ پیش آ کر آپ پر ایمان لائے۔
(تفسیر الصاوی،ج۳،ص۸۹۳،پ۱۱، یونس:۹۸)

حضرت یونس علیہ السلام کی اس دردناک سرگزشت کو قرآن کریم نے ان لفظوں میں بیان فرمایا ہے:۔
وَ اِنَّ یُوۡنُسَ لَمِنَ الْمُرْسَلِیۡنَ ﴿139﴾ؕاِذْ اَبَقَ اِلَی الْفُلْکِ الْمَشْحُوۡنِ ﴿140﴾ۙفَسَاہَمَ فَکَانَ مِنَ الْمُدْحَضِیۡنَ ﴿141﴾ۚفَالْتَقَمَہُ الْحُوۡتُ وَ ہُوَ مُلِیۡمٌ ﴿142﴾فَلَوْلَاۤ اَنَّہٗ کَانَ مِنَ الْمُسَبِّحِیۡنَ ﴿143﴾ۙلَلَبِثَ فِیۡ بَطْنِہٖۤ اِلٰی یَوْمِ یُبْعَثُوۡنَ ﴿144﴾ۚؒفَنَبَذْنٰہُ بِالْعَرَآءِ وَ ہُوَ سَقِیۡمٌ ﴿145﴾ۚوَ اَنۡۢبَتْنَا عَلَیۡہِ شَجَرَۃً مِّنۡ یَّقْطِیۡنٍ ﴿146﴾ۚوَ اَرْسَلْنٰہُ اِلٰی مِائَۃِ اَلْفٍ اَوْ یَزِیۡدُوۡنَ ﴿147﴾ۚفَاٰمَنُوۡا فَمَتَّعْنٰہُمْ اِلٰی حِیۡنٍ ﴿148﴾ (پ23،الصافات:139تا148)
ترجمہ کنزالایمان:۔اور بیشک یونس پیغمبروں سے ہے جب کہ بھری کشتی کی طرف نکل گیا تو قرعہ ڈالا تو دھکیلے ہوؤں میں ہوا پھر اسے مچھلی نے نگل لیا اور وہ اپنے آپ کو ملامت کرتا تھا تو اگر وہ تسبیح کرنے والا نہ ہوتا ضرور اس کے پیٹ میں رہتا جس دن تک لوگ اٹھائے جائیں گے پھر ہم نے اسے میدان پر ڈال دیا اور وہ بیمار تھا اور ہم نے اس پر کدو کا پیڑ اُگایا اور ہم نے اسے لاکھ آدمیوں کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ تو وہ ایمان لے آئے تو ہم نے انہیں ایک وقت تک برتنے دیا۔

_________________
SoKhey Paton Ki Tarh BikHrey Hain
Hum To.....
Kisi Ne Sametta To Bhe Sirf Jalaney
K Liye.....


Top
 Profile  
 
Display posts from previous:  Sort by  
Post new topic Reply to topic  [ 92 posts ]  Go to page Previous  1, 2, 3, 4, 5, 6 ... 10  Next

All times are UTC + 5 hours


Related topics
 Topics   Author   Replies   Views   Last post 
There are no new unread posts for this topic. History of the Computer

aftabbagrani

1

74

November 27th, 2015, 10:47 pm

Diljaley View the latest post

There are no new unread posts for this topic. history about pakistan

tanweer786

1

126

May 15th, 2016, 9:42 pm

tanweer786 View the latest post

There are no new unread posts for this topic. islamic history

Ateeque bagrani

0

91

October 9th, 2016, 7:37 am

Ateeque bagrani View the latest post

There are no new unread posts for this topic. Measat_3A 91.5E $ HISTORY-HD

skylink

0

73

October 24th, 2016, 11:03 am

skylink View the latest post

There are no new unread posts for this topic. NAT GEO STAR PLUS HISTORY

AHMED786

0

80

August 29th, 2016, 6:38 am

AHMED786 View the latest post

 


Who is online

Users browsing this forum: No registered users and 2 guests


You cannot post new topics in this forum
You cannot reply to topics in this forum
You cannot edit your posts in this forum
You cannot delete your posts in this forum

Search for:
Jump to:  
News News Site map Site map SitemapIndex SitemapIndex RSS Feed RSS Feed Channel list Channel list
Powered by phpBB® Forum Software © phpBB Group

phpBB SEO